اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اس دنیا میں بھیج کر انسانیت کا سلسلہ شروع فرمایا پھر جب انسانوں کی ہدایت اور تربیت کے لیے یکے بعد دیگرے کئی انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا اور سب سے آخر میں ہمارے پیارے آقا حضرت سیدنا محمد مصطفی ﷺ کو بھیجا ، آپ ﷺ اس امت کے لیے مربی اور معلم بن کر تشریف لائے ، آپ ﷺ نے مسلمانوں کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی حتی کہ سمجھانے کے لیے بعض اوقات مثالوں کا استعمال فرماتے تاکہ بات اچھی طرح مخاطب کے ذہن میں پختہ ہو جائے ،اس مضمون میں چند ایسی احادیث ذکر کی جاتی ہیں جن میں نبی اکرم ﷺ نے مثالوں کے ساتھ تربیت فرمائی ہے:

(1) وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلّٰى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَلُ الْقَلْبِ كَرِيشَةٍ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ ظَهْرَالْبَطْنِ رَوَاهُ أَحْمَدُ

روایت ہے ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: دل کی مثال اس پر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہروباطن الٹیں پلٹیں۔ (احمد)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:103)

(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ قَصْرٍ أُحْسِنَ بُنْيَانُهٗ تُرِكَ مِنْهُ مَوْضِعُ لَبِنَةٍ، فَطَافَ بِهِ النُّظَّارُ، يَتَعَجَّبُوْنَ مِنْ حُسْنِ بُنْيَانِهٖ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِي الرُّسُلُ وَفِي رِوَايَةٍ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں: فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ میری اور دوسرے نبیوں کی مثال اس محل کی سی ہے جس کی تعمیر بہت اچھی کی گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی دیکھنے والے اس کے گرد چکر لگاتے تھے اور اچھی تعمیر سے تعجب کرتے تھے سوائے اس اینٹ کے تو میں نے ہی اس اینٹ کی جگہ پُر کردی مجھ پر انبیاء ختم کردئیے گئے اور مجھ پر رسول ختم کردیئے گئے ایک روایت میں ہے کہ وہ آخری اینٹ میں ہی ہوں اور نبیوں میں آخری نبی ہوں۔ (مسلم و بخاری) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5745)

(3) عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ (بخاری،کتاب الاطعمۃ،باب ذکر الطعام،۳/ ۵۳۵،حدیث:۵۴۲۷۔)

ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:7 ، حدیث نمبر:995)

(4) قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

فرمایا رسول الله ﷺ نے: بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا کچھ میل رہے گا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ مٹاتا ہے۔ (مسلم،بخاری۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1،حدیث نمبر:565 )

(5) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ الصَّائِم الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللّٰهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللہ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی سی ہے جو دن کا روزہ دار ، رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا ہو، نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتی کہ اﷲ کی راہ کا مجاہد لوٹ آوے۔ (مسلم،بخاری۔ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3788 )

ان احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوچکی کہ نبی اکرم ﷺ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت اس سہل انداز میں فرماتے تھے کہ ہر ہر بات احسن انداز میں ذہن نشین ہو جاتی ۔

اللہ پاک ہم سب کے قلوب و اذہان کو انوار احادیث سے منور فرمائے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ