اللہ کے  آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے لوگوں کو اللہ کی توحید کی طرف بلانے اور اپنی امت کی دنیا و آخرت میں کامیابی کے لیے نہایت مؤثر اور قابل رشک تربیت فرمائی۔آپ ﷺ کی تربیت کے مبارک اندازوں میں سے ایک انداز یہ بھی تھا کہ آپ مثال اور تشبیہ کے ذریعے بات سمجھاتے۔ تشبیہ ہمیشہ ایسی چیز سے دی جاتی جو یا تو پہلے وقوع پذیر ہو چکی ہو یا جس کا پیش آنا یقینی ہو، تاکہ سننے والے پر اس کا اثر زیادہ ہو اور نصیحت دل میں اتر جائے۔

(1) حضور ﷺ کی پیروی میں ہی نجات ہے: وَعَنْ أَبِيْ مُوسٰى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِي اللہ بِهٖ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتٰى قَوْمًا، فَقَالَ: يَا قَوْمِ! إِنِّي رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْعُرْيَانُ،فَالنَّجَاءَ النَّجَاءَ، فَأَطَاعَهٗ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهٖ فَأَدْلَجُوْا،فَانْطَلَقُوْا عَلٰى مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَكَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِي فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهٖ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَكَذَّبَ مَا جِئْتُ بِهٖ مِنَ الْحَقِّ

روایت ہے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی ﷺ نے کہ میری اورجو کچھ مجھےاللہ نے دے کر بھیجا اس کی کہاوت اس شخص کی سی ہے جس نے کسی قوم کے پاس آکر کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے، میں کھلا ڈرانے والا ہوں، بچو بچو، کہ اس کی قوم سے ایک ٹولہ نے اس کی بات مان لی اور اندھیرے منہ اٹھے اور بروقت نکل گئے تو بچ گئے اور ان کے ایک ٹولہ نے جھٹلا دیا وہ اسی جگہ رہے پھر سویرے ہی لشکر ان پر ٹوٹ پڑا انہیں ہلاک کرکے تہس نہس کر دیا یہ ہی اس کی مثال ہے جس نے میری اطاعت کی تو میرے لائے ہوئے کی اتباع کی اور اس کی جس نے میری نافرمانی کی اورمیرے لائے ہوئے حق کو جھٹلادیا۔(مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 1 ، کتاب الایمان ، باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا ، صفحہ 28 حدیث 140)

پتا چلا کہ جس نے نبی ﷺ کی ہدایت مانی، وہ بچ گیا جس نے انکار کیا، وہ تباہ ہوا۔

(2) فرقوں میں بٹو ایک ہی راستہ تھامو : وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي كَمَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمُّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذٰلِكَ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيْلَ تَفَرَّقَتْ عَلٰی اِثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلٰى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةٍ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، قَالُوا: وَمن هِيَ يَا رَسُولَ الله قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وأَصْحَابِي

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ میری امت پر بعینہ ویسے حالات آئیں گے جیسے بنی اسرائیل پر آئے جیسے جوتی کی جوتی سے برابری حتی کہ اگرکسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ زنا کیا تو میری امت میں بھی وہ ہوگا جو ایسا کرے گا، یقیناً بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ ج آئے گی سوا ایک ملت کے ، لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ وہ ایک کون فرقہ ہے؟ فرمایا : وہ جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ۔(مشکوٰۃ المصابیح، جلد 1 ، کتاب الایمان ، باب قرآن و سنت کو مضبوطی سے پکڑنا ، صفحہ 31 ،حدیث 162)

اس حدیث میں ہمیں غیب کی خبر دینے والے نبی ﷺ نے پہلے ہی بتا دیا کہ امت میں انتشار اور درجنوں فرقے بنیں گے، لیکن نجات صرف اسی کو ملے گی جو میرے اور میرے صحابہ کے راستے پر ہوگا۔ آج کے دور میں بھی اصل دین پر قائم رہنا ہی بچاؤ ہے۔

(3) صبح مومن ،شام کافر : عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ:یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت ﷺ نے ارشادفرمایا: (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے بدلے بیچے گا۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:87)

اس حدیث میں ہمیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ایک زمانے میں اتنے فتنے ہوں گے کہ لوگ صبح مؤمن اور شام کافر ہو جائیں گے، دین دنیا کے لالچ میں بیچا جائے گا۔

اللہ پاک ہم سب کو حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے راستے پر چلنے اور ثابت قدم رہنے اور فتنوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین