محمد
واسق (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
بے شک نبی کریم ﷺ اپنی
امت کے لیے اسوہ حسنہ ہیں اور نبی کریم ﷺ نے امت کی تعلیم کے لیے ہر اس طریقے کو اختیار
فرمایا ہے جو آسان ہو اور صحابہ کرام اور بعد
میں آنے والے لوگ اس کو آسانی سے سمجھ کر
اس پر عمل پیرا ہو سکیں، انہیں طریقوں میں
سے ایک خوبصورت طریقہ نبی کریم ﷺ کا تشبیہات
کے ذریعے تربیت دینا ہے کہ ایسے انداز سے تربیت دینے میں بات احسن طریقے سے مخاطب
کو سمجھ میں آ جاتی ہے۔
تشبیہ کا لغوی معنی کسی چیز کو دوسری چیز کے
مشابہ قرار دینا ،تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمانے کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ
ہوں
(1) مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی طرح: عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،
قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ
وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مِثْلُ الْمُسْلِمِ، فَأَخْبِرُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ
فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا
النَّخْلَةُ، فَلَمَّا قَالُوا: مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں
جھڑتے، وہ مسلمان کی مانند ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ صحابہ جنگل کے درختوں کی
طرف سوچا ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں
آیا کہ وہ کھجور ہے، لیکن انہوں نے کچھ کہا نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 61)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح
کھجور تر و تازہ رہتی ہے اس طرح مومن بھی تروتازہ رہتا ہے۔
(2) برے اور اچھے ساتھی کی مثال: عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّمَا
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ، كَحَامِلِ الْمِسْكِ،
وَنَافِخِ الْكِيرِفَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ
تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ
الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: نیک
اور بد ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے اور بھٹی دھونکنے والے جیسی ہے ، کستوری
والا یا تو تجھے کچھ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا کم از کم اس کی خوشبو
پا لے گا جبکہ بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے
کپڑے جلا دے گا، یا اس کی بدبو تجھے پہنچے
گی۔ (صحیح البخاری، حدیث: 2101)
یہ حدیث صحبت کی اہمیت پر دلالت
کرتی ہے کہ اگر نیک صحبت ہوگی تو نیکی کی
طرف رغبت ہوگی اور اگر بری صحبت ہوگی تو برائی کی طرف رغبت ہوگی۔
(3) علم نہ سیکھنے والے کی مثال: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:مَثَلُ مَا بَعَثَنِي
اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَ
مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ
الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ
بِهَا النَّاسَ وَأَصَابَ طَائِفَةً
مِنْهَا أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: جو علم
اور ہدایت اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے بارش ایک زمین پر
پڑی۔ کچھ زمین زرخیز تھی، پانی جذب کیا اور گھاس اگائی؛ کچھ نے پانی محفوظ رکھا جس
سے لوگ فائدہ اٹھاتے رہےاور کچھ زمین بنجر تھی، نہ پانی روکا نہ کچھ اگایا۔(صحیح
البخاری، حدیث: 79)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ علم حاصل کرنے
والا کو خود کو بھی نفع دیتا ہے اور دوسروں کو بھی نفع دیتا ہے اور علم حاصل نہ
کرنے والا وہ خود کو بھی نفع نہیں دیتا اور دوسروں کو بھی نفع نہیں دیتا۔
(4) منافق اور مؤمن کی مثال: نبیِّ کریم ﷺ نے
فرمایا: مؤمن کی مثال نرم سبز پودے کی طرح
ہے، جسے ہوائیں جھکاتی اور اٹھاتی رہتی ہیں (یعنی آزمائشیں آتی رہتی ہیں)جبکہ
کافر کی مثال سیدھے مضبوط درخت جیسی ہے، جو ایک دم ہی کٹ جاتا ہے۔ (صحیح البخاری،
حدیث: 5644)
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مومنین پہ آزمائشیں آتی
رہتی ہیں جبکہ کافر کے پاس چونکہ ایمان کی دولت نہیں ہوتی تو اسے دائمی عذاب کے ساتھ موت آتی ہے۔
احادیث کو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ
بات معلوم ہوئی کہ تشبیہ کلام کو کس قدر موثر بنا دیتی ہے لہذا اساتذہ کو چاہیٔے
کہ وہ اپنے طلبہ کرام کو اپنے کلام میں والدین کو چاہیٔے کہ وہ اپنے اولاد کو اپنی
نصیحت میں تشبیہ دے کر سمجھائیں تاکہ وہ کلام
ان کے ذہنوں میں موثر انداز سے بیٹھ جائے
اور وہ اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔
Dawateislami