رحمتِ دو عالم، معلمِ کامل، حضرت محمد مصطفیٰ  ﷺ کی ذاتِ اقدس نہ صرف انسانیت کے لیے سراپا ہدایت ہے بلکہ آپ کا اسلوبِ تربیت بھی ہر جن و انس کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کا اندازِ گفتگو، دل نشین حکمتوں سے مزین اور فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ ہوتا۔ آپ ﷺ نے دعوت و تربیت کے لیے جو طریقے اختیار فرمائے، ان میں ایک نہایت پُراثر اور مؤثر انداز (تشبیہات کے ذریعے تربیت دینا) بھی ہے۔

تشبیہ دینا، ایک ایسا فطری و فکری وسیلہ ہے جو خشک باتوں میں روح پھونک دیتا ہے، اور مشکل مفاہیم کو عام فہم انداز میں واضح کر دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جب بھی کسی پیچیدہ حقیقت کو سمجھانا چاہا، تو موقع و محل کے مطابق ایک جامع، مختصر مگر بلیغ مثال پیش فرما کر دلوں پر اثر ڈال دیا۔ یہی وہ اسلوب ہے جو آج بھی تعلیم و تربیت کی دنیا میں بہترین اور لازوال تصور کیا جاتا ہے۔ آئیے اب کچھ ایسی احادیث مبارکہ ملاحظہ کرتے ہیں جن میں حضور اکرم ﷺ نے تشبیہات کے ذریعے تربیت فرمائی:

(1) ویران گھر کی طرح: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد7 ، حدیث نمبر:1000 )

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے، دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد7 ، حدیث نمبر:1000 )

آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یادہے

(2) شیطان آدمی کا بھیڑیا: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُترجمہ:روایت ہے حضرت معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔احمد(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:184)

(3) دین کو نقصان پہنچانے والی شے: عَنِْ کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑدیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال ودولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ، انسا ن کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ،حدیث نمبر: 485)

رسولِ کریم ﷺ کا مثالوں کے ذریعے تربیتی اسلوب آج بھی ہمارے لیے رشد و ہدایت کا چراغ ہے۔ آپ کی ہر مثال میں حکمت کا سمندر اور فہم کا نور پوشیدہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان روشن تعلیمات سے سبق لے کر اپنی زندگی کو سیرتِ نبوی کے مطابق سنواریں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین