محمد عادل (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کراچی ، پاکستان)
اسلامی تعلیمات میں تربیت کا
مقصد انسان کی شخصیت کو فکری، اخلاقی اور عملی لحاظ سے سنوارنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے
تربیتِ اُمت کے لیے مختلف اسالیب اپنائے، جن میں ایک نہایت مؤثر طریقہ تشبیہات اور
مثالوں کے ذریعے تعلیم دینا ہے۔ آپ ﷺ نے
سادہ مگر گہری مثالوں کے ذریعے ایمان، اخلاق، اعمال، دعوت اور معاشرتی نظام کے
اصول واضح فرمائے۔ آپ ﷺ سامعین کے علم، فہم اور معاشرتی پس منظر کو مدنظر رکھتے
ہوئے ایسی مثالیں دیتے جو ان کی زبان اور ذہن کے قریب ہوتیں یہ اسلوب نہ صرف اس
زمانے کے عرب معاشرے کے لیے مانوس تھا بلکہ آج بھی نصیحت کو دل میں اتارنے کا بہترین
ذریعہ ہے۔
تشبیہ سے مراد ہے کسی چیز یا کیفیت
کو اس جیسی کسی اور چیز سے مثال دے کر بیان کرنا، تاکہ بات واضح ہو جائے اور ذہن میں
نقش ہو جائے۔
تشبیہ کے فوائد:(1) مشکل اور گہری بات آسان ہو جاتی ہے۔
(2) سامع کی دلچسپی بڑھتی ہے۔
(3) نصیحت ذہن میں دیر تک رہتی ہے۔
(4) عمل پر آمادگی پیدا ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے
کثرت سے مثالیں بیان کی ہیں مثلاً سورہ بقرہ میں ہے:
ترجمۂ کنزالعرفان: ان لوگوں
کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کی طرح ہے جس نے سات
بالیاں اگائیں ،ہر بالی میں سو دانے ہیں اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے
لئے چاہے اور اللہ وسعت والا، علم والا ہے۔ (پ3، البقرۃ: 261)
اور سورہ حشر میں ان تشبیہات کا
مقصد بھی بیان فرما دیا: وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ(۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اور یہ مثالیں لوگوں کے لیے
ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں۔(پ28، الحشر:21)
رسول اللہ ﷺ کا اسلوبِ بیان بھی
قرآن کے اس اسلوب سے ہم آہنگ تھا، اس لیے آپ ﷺ کثرت سے تشبیہات دے کر تربیت
فرماتے۔ مثلا:
(1) ایمان اور مؤمن کی مثال: مَثَلُ
الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ شَجَرَةٍ خَضْرَاءَ لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَلَا يَتَحَاتُّ
(صحیح بخاری جلد2 کتاب الادب
صفحہ: 521 حدیث: 6122) آپ ﷺ نے فرمایا: مومن کی مثال اس سرسبز درخت کی ہے جس کے
پتے نہیں جھڑتے۔
مومن ہمیشہ نفع بخش ہوتا ہے۔
(2) نیک و بد صحبت کی مثال: مَثَلُ
الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ
فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ
وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ
يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً (صحیح بخاری جلد2 کتاب الذبائح صفحہ: 407 حدیث: 5534)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اچھی اور بری صحبت کی
مثال مشک والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے جس کے پاس
مشک ہے وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے
طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا ( کم از کم ) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو
محظوظ ہو سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلا دے گا یا تمہیں اس کے
پاس سے ایک ناگوار بدبو آئےگی۔
صحبت اثر رکھتی ہے، لہٰذا اچھی صحبت اختیار کرنی
چاہیے۔
(3) دعوتِ حق اور نبی کا کردار: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ
اللهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ
اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ
يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ
ترجمہ :حضرتِ سَیِّدُنا جابر
رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشادفرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص
اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ (صحیح بخاری جلد2 کتاب الرقاق صفحہ: 598 حدیث:
6483)
اس حدیث میں نبی ﷺ کی شفقت اور
امت کی غفلت کا بیان۔
Dawateislami