رضوان
مقبول قادری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
پیارے آقا ، آخری نبی ، محمد عربی ﷺ کے
مختلف انداز تربیت میں تشبیہات سے تربیت فرمانا فصیح و بلیغ انداز ہے ، جسے کلام عرب میں بہت اہمیت حاصل ہے، یہ حضور اکرم ، خاتم الانبیاء و المرسلین ﷺ کا
حکمت بھرا انداز جس کا فہم آسان ہوتا ہے، جس کی مثالیں کثیر احادیث میں موجود ہے ، جن احادیث میں سے چند درجہ ذیل پڑھتے ہیں:
(1) مدینہ پاک کی فضیلت پر چار احادیث مبارکہ:
(۱) حضرت جابر رضى الله عنہ نے فرمایا کہ ایک اعرابی
نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام پر بیعت کی،
دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجیے! تین بار
اس نے یہی کہا آپ ﷺ نے
انکار کیا پھر فرمایا: الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ
طَيِّبُهَا یعنی کہ مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ میل کچیل کو
دور کر کے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔ (صحیح بخاری/کتاب: عمرہ کا بیان/باب: مدینہ
برے آدمی کو نکال دیتا ہے/حدیث نمبر: 1783/صفحہ:665 /جلد: 2/ مکتبہ: ت البغا)
( ٢) حضرت زید بن ثابت رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی ﷺ نے فرمایا: إِنَّهَا طَيْبَةُ يَعْنِي
الْمَدِينَةَ وَإِنَّهَا تَنْفِي الْخَبَثَ کَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ
الْفِضَّةِ یعنی کہ یہ طیبہ
ہے یعنی مدینہ اور یہ مدینہ میل کچیل کو اس طرح دور کرتا ہے جیسے کہ چاندی کے میل
کو آگ دور کرتی ہے۔(صحیح مسلم/کتاب: حج کا بیان/باب: مدینہ منورہ کا خبیث چیزوں سے
پاک۔۔۔الخ/حدیث نمبر: 1383/صفحہ: 121/ جلد: 4/ مکتبہ: طبع الترکیہ)
( ٣)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: مَنْ
أَرَادَ أَهْلَ هَذِهِ الْبَلْدَةِ بِسُوئٍ يَعْنِي الْمَدِينَةَ أَذَابَهُ
اللَّهُ کَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ یعنی کہ جو آدمی اس شہر مدینہ والوں کو تکلیف دینے کا
ارادہ کرے گا تو اللہ اسے ایسے پگھلا دے گا جیسے کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔(صحیح
مسلم/کتاب: حج کا بیان/باب: مدینہ والوں کو تکلیف پہچانے کی۔۔۔۔الخ/حدیث
نمبر:1386/صفحہ: 121/جلد: 4/مکتبہ: طبع الترکیہ)
( ٤) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ
الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا یعنی (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اس طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ
سمٹ کر اپنے بل میں آ جایا کرتا ہے۔ (صحیح بخاری،کتاب: عمرہ کا بیان/ باب: اس بارے
میں کہ ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا۔/حدیث نمبر:1777/صفحہ: 663/جلد: 2/مکتبہ: ت
البغا)
(2) مسجد سے محبت کرنے کی فضیلت: حضرت ابوہریرہ رضى الله عنه
فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ
لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ كَمَا
يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ یعنی جو
مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا
خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے
خوش ہوتے ہیں ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب: مساجد اور جماعت کا بیان،باب:
مسجد میں بیٹھے رہنا الخ،حدیث نمبر: 800،صفحہ:
203 )
(3) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت : حضرت ابو موسیٰ اشعری رضى
الله عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ کَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَی
سَائِرِ الطَّعَامِ یعنی
کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے
کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔ (شمائل ترمذی،کتاب: حضورِ اقدسﷺ کے سالن کا ذکر،باب:
حضورِ اقدس ﷺ کے سالن کا ذکر،حدیث نمبر: 176/صفحہ: 146)
(4) کسی کو قرض دینے کی فضیلت: حضرت براء بن عازب رضى الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: کوئی شخص کسی کو کچھ دراہم قرض
دے، یا کچھ دودھ قرض دے، یا تنگ دست کو ہدیہ دے اس کو اتنا ثواب ملے گا جیسے غلام
آزاد کرنا۔(ابن ابی شیبہ،کتاب: خرید و فروخت کے مسائل و احکام،باب: قرض اور عطیہ دینے
پر ثواب کا بیان،حدیث نمبر: 23667،صفحہ:302 ،جلد: 12)
(5) رب تعالیٰ کا دیدار : حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروری ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند
تھا اور فرمایا:
إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا
الْقَمَرَ لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا
تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَصَلَاةٍ قَبْلَ غُرُوبِ
الشَّمْسِ فَافْعَلُوا
یعنی کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی
طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل
نہیں ہوگی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب
ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کرلو۔(صحیح بخاری،کتاب: توحید کا بیان،باب:
اللہ تعالیٰ کا قول کہ اس دن بعض چہرے ۔۔۔الخ،حدیث نمبر: 6997،صفحہ: 2703،جلد: 6، مکتبہ:ت
البغا )
(6) شیطان کا انسانی جسم میں گردش کرنا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِنَّ
الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ شیطان ابن آدم (انسان) کے بدن میں اسی طرح دوڑتا
ہے جس طرح خون رگوں میں گردش کرتا ہے ۔ (سنن ابوداؤد،کتاب: سنت کا بیان، باب: مشرکوں کی نابالغ اولاد کا بیان، حدیث
نمبر: 4719، صفحہ: 367،جلد:4)
(7) اہل جنت کا ایک دوسرے کو دیکھنا:حضرت سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَائَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ کَمَا
تَرَائَوْنَ الْکَوْکَبَ فِي السَّمَاءِ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالاخانے اس طرح دیکھیں گے کہ جس طرح
تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔ (صحیح مسلم،کتاب: جنت اس کی نعمتیں اور اہل
جنت کا بیان،باب: جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا الخ،حدیث نمبر:2830،صفحہ: 144،جلد:8 ،مکتبہ:
ط الترکیہ)
(8) دوزخ کا سب سے ہلکا عذاب: حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ أَهْوَنَ
أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ کَمَا يَغْلِ
الْمِرْجَلُ مَا يَرَی أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا وَإِنَّهُ
لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا
یعنی دوزخ والوں میں سب سے ہلکا
عذاب اس آدمی کو ہوگا جس کو آگ کی دو جوتیاں تسموں سمیت پہنائی جائیں گی جس سے اس
کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ جس طرح ہانڈی میں پانی جوش سے کھولتا ہے وہ سمجھ رہا ہوگا
کہ اسے سب سے سخت عذاب دیا گیا ہے حالانکہ اسے سب سے ہلکا عذاب دیا گیا ہوگا۔ (صحیح
مسلم،کتاب: ایمان کا بیان،باب: دوزخ والوں سے سب سے ہلکے عذاب کے بیان میں،حدیث
نمبر: 364،صفحہ:135 ،جلد: 1/مکتبہ: ط الترکیہ)
(9) روزے کی فضیلت: حضرت مطرف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے
پاس آیا تو انہوں نے (میری ضیافت کے لیے) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں،
تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:
الصَّوْمُ
جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ
روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ
تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے ۔ (سنن نسائی،کتاب: روزوں سے متعلقہ احادیث،باب:
حضرت ابوامامہ کی حدیث الخ،حدیث نمبر:
2107،صفحہ:477 ، جلد: 2)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ کریم ان احادیث کو سمجھنے
اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریم خاتم الانبیاء و
المرسلین ﷺ
Dawateislami