رب کریم نے حضور اکرم ﷺ کو پوری کائنات کے لیے کامل ترین اسوہ حسنہ بنا
کر مبعوث فرمایا ، اللہ رب العزت نے اپنے حبیب کریم ﷺ کے کردار کو قرآن کریم میں کچھ اس انداز میں بیان فرمایا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ
حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔(پ21، الاحزاب :21)
اس لیے نبی کریم ﷺ کی حیات
مبارکہ کا ہر پہلو رشد اور ہدایت تعلیم اور تربیت کا آئینہ دار ہے، کریم آقا ﷺ نے اپنے اصحاب کی تربیت کے لیے
مختلف اسلوب اور حکمتوں کو اختیار فرمایا تاکہ ان کے اذہان میں یہ بات پختہ ہو
جائے ۔انہی حکمتوں اور اسلوبوں میں تشبیہ تمثیل نہایت اہم اور جاذب توجہ طریقہ کار ہے ، حضور ﷺ نے معنی اور مفاہیم کو آسان
انداز میں سمجھایا سامعین کی توجہ کو برقرار رکھنے کے لیے اپنے الفاظ کو تین مرتبہ
دہراتے اور تشبیہات کا استعمال فرماتے یہ طریقہ کار صرف الفاظ تک محدود
نہ ہوتا بلکہ اس میں ان اصحاب کے قلب اور روح کی اصلاح ان کے کردار کی تعمیر اور
عقائد کی پختگی کو وہ فائدہ پہنچایا کہ جس سے رہتی دنیا تک لوگ مستفید ہوتے رہیں
گے ۔
آج کے اس سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے دور میں
نبی کریم ﷺ کے طرز تربیت کو بہترین نمونہ اور درس و تدریس
کا کامیاب طریقہ مانا جاتا ہے ۔زیر نظر تحریر میں اسی طریقے کا جائزہ لیں گے کہ نبی
کریم ﷺ نے کس طرح تشبیہات و تمثیلات سے اپنی امت کی فکری اور روحانی تربیت فرمائی:
دانائی کی تشبیہ: رسول اللہ ﷺ نے حکمت و دانائی کی اہمیت سمجھانے کے لیے اسے گمشدہ خزانے سے تشبیہ
دی اور فرمایا: حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ
ہے لہذا مومن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ۔ ( سنن الترمذی 4 / 314 حدیث
2696 )
اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ
تعالی عنہما کی شان و عظمت کو بیان کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے انہیں تاروں سے
تشبیہ دی فرمایا میرے صحابہ تاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو
گے ہدایت پا جاؤ گے ۔( مشکوٰۃ المصابیح 2/ 414 حدیث 6018 )
عالم کی موت کی تشبیہ: نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : جو اللہ تعالی کی رضا کے لیے علم
کے جستجو میں نکلتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیتا ہے
اور فرشتے اس کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اور
آسمانوں کے فرشتے اور سمندر کی مچھلیاں اس کے لیے استغفار کرتی ہے اور عالم کو
عابد پر اتنی فضیلت حاصل ہے جتنی چودھویں رات کے چاند کو آسمان کے سب سے چھوٹے
ستارے پر اور علماء انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہے ، بے شک انبیاء کرام علیہم
السلام درہم و دینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ نفوس قدسیہ علیہم السلام تو علم
کا وارث بناتے ہیں لہذا جس نے علم حاصل کیا اس نے اپنا حصہ لے لیا اور عالم کی موت
ایک ایسی آفت ہے جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا
اور ایک ایسا خلا ہے جس سے پُر نہیں کیا جا سکتا (گویا کہ )وہ ایک ستارہ تھا جو
ماند پڑ گیا ایک قبیلے کی موت ایک عالم کی موت سے زیادہ آسان ہے ۔ ( شعب الایمان
2/ 263 رقم 1699 )
ظلم کی تشبیہ: سرکار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ظلم قیامت کے دن اندھیرا ہوگا۔ ( سنن الترمذی3/ 415
،حدیث 2037)
محافل علم کی تشبیہ: رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم جنت کی کیاریوں سے گزرا کرو
تو اس میں سے خوب چن لیا کرو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا یا رسول
اللہ ﷺ جنت کی کیاریاں کون سی ہے ؟فرمایا علم کی محفل ہے۔( المعجم الکبیر 11 /78
الحدیث 11158 )
نمازکی نہر کے ساتھ تشبیہ: اسی طرح ایک موقع پر نماز پنجگانہ کی تربیت تمثیلی اسلوب سے فرمائی
کہ چنانچہ مشہور صحابی حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو
فرماتے سنا: تم کیا خیال رکھتے ہو کہ اگر
تمہارے میں سے کسی کے دروازے کے سامنے نہر ہو اور وہ ہر روز پانچ ٹائم اس میں غسل
کرے تو بھلا کیا اس کے جسم پر میل بچے گا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا اس کے بدن پر
کچھ میل نہ رہے گا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے کہ اللہ
کریم ان کے سبب گناہوں کو مٹا دیتا ہے ( صحیح البخاری 1/ 196 حدیث 528 )
علم پر نہ عمل کرنے والے کی مثال: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: علم حاصل کرنے کے بعد اس
سے بیان نہ کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خزانہ جمع کرتا ہے پھر اس میں سے
کچھ بھی خرچ نہیں کرتا ۔( المعجم ، الاوسط 1/ 2024 الحدیث 689)
اسی طرح بہت سارے واقعات اس
حوالے سے کتب میں ملتے ہیں کہ جن میں رسول اکرم ﷺ نے بارہا اپنے اصحاب کی تربیت
مثالوں سے اور ان کو پختہ کرنے کےلئے تشبیہات کا استعمال فرمایا ۔
Dawateislami