انسانی عقل کا تقاضا ہے کہ جب بھی کسی انسان کو مثال کے ذریعے یا کسی چیز کے ساتھ تشبیہ دے کر بات سمجھائی جائے تو وہ جلدی بات کو سمجھ جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی ان مبلغین اور واعظین کو سننے کی زیادہ جستجو ہوتی ہے جو مثال سنا کر یا تشبیہ دے کر بات کو سمجھانا جانتے ہیں۔  کیونکہ طریقۂ کار سید المبلغین، حضور نبی کریم ﷺ کا ہے کہ آپ ﷺ نے کئی مقامات پر مثالوں اور تشبیہات کے ذریعے اپنے صحابۂ کرام، اہلِ بیتِ اطہار اور تمام امتِ مسلمہ کی تربیت فرمائی۔ ان میں سے چند احادیث ملاحظہ ہوں:

ہدایت کے تارے: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، اور میری اہلِ بیت کشتیٔ نوح کی طرح ہیں، تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے۔ (مرآۃ المناجیح، شرح مشکاة المصابیح، جلد 8، حدیث نمبر: 6018)

کیسی نفیس مثال ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کو ”ہدایت کے تارے“ فرمایا اور اپنی اہلِ بیت کو "کشتیٔ نوح"۔ سمندر کا مسافر کشتی اور تاروں دونوں کا محتاج ہوتا ہے۔ پتا چلا کہ اگر کوئی اہلِ بیت کو اپنا لے اور صحابہ کو چھوڑ دے تو وہ بندہ بھی ناکام ہے، اور جو صحابہ کو اپنا لے اور اہلِ بیت کو چھوڑ دے، تو وہ بھی ناکام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صحابہ اور اہلِ بیت دونوں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔

نماز میں سجدے کی تربیت: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ ترجمہ: سجدے میں اعتدال اختیار کرو، اور کوئی شخص اپنی دونوں کہنیاں اس طرح نہ پھیلائے جیسے کتا پھیلائے۔ (صحیح مسلم، حدیث: 493)

نماز میں جلدی کرنے والوں کی حضور ﷺ نے کتنے پیارے انداز سے تربیت فرمائی۔ فرمایا کہ نماز کو چُوزے کی چونچ مارنے کی طرح نہ پڑھو، جس طرح جلدی جلدی چُوزا چونچ مارتا ہے، اس طرح جلدی جلدی نماز نہ پڑھو۔

ہمیں حضور ﷺ نے نماز محبت، اطمینان اور سکون سے پڑھنے کا ارشاد فرمایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم نماز محبت، اطمینان اور سکون سے پڑھیں۔

اچھی اور بری صحبت: قال رسول الله ﷺ: إِنَّمَا مَثَلُ الجَلِيسِ الصَّالِحِ، والجَلِیسِ السُّوءِ، كَحَامِلِ المِسْكِ، وَنَافِخِ الكِيرِ، فَحَامِلُ المِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً

ترجمہ:نیک دوست اور بُرے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک (عطر) بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی جھونکنے والا:مشک والا تمہیں خوشبو دے گا یا تم اس سے خرید لو گے یا کم از کم اُس کی خوشبو پا لو گے اور لوہار کی بھٹی والا یا تو تمہارے کپڑے جلا دے گا یا اُس کی بدبو تمہیں تکلیف دے گی۔(بخاری: 2101، مسلم: 2628)

زندہ اور مردہ کون؟ عن أبی موسیٰ رضي الله عنه قال: قال رسولُ الله ﷺ: إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَذْكُرُ رَبَّهُ، وَالَّذِي لَا يَذْكُرُ رَبَّهُ، مَثَلُ الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ترجمہ: جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 6407)

اللہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے تربیتی انداز سے سیکھنے، سمجھنے اور دوسروں کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری زبانوں میں بھی تاثیر پیدا فرمائے۔آمین یا رب العالمین