عبدالمنان
(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی حیاتِ
طیبہ انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ کی
تعلیمات صرف اقوال تک محدود نہ تھیں، بلکہ آپ نے اپنے عمل، حکمت، اور بہترین اسلوبِ بیان کے ذریعے لوگوں کی تربیت
فرمائی۔ ان میں سے ایک مؤثر طریقہ تشبیہات کا استعمال تھا، جس سے آپ نے پیچیدہ باتوں کو آسان، عام فہم اور دل نشین
انداز میں لوگوں کے ذہن نشین فرمایا۔
(1) صحابہ کرام کی اطاعت : جیسا کہ حبیب خدا ﷺ نے ارشاد
فرمایا: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ
فَبِأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمْ اِهْتَدَيْتُمْ یعنی میرے صحابہ
ستاروں کی مانند ہیں، تم اُن میں سے جس کسی کی بھی اقتدا کرو گے فلاح و ہدایت پا جاؤ گے۔ ( مشكاۃ المصابيح، كتاب المناقب، باب مناقب الصحابہ ، 414/2
حدیث نمبر 2018)
(2)گمشدہ خزانہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ
تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرار قلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث
نزول سکینہ ، فیض گنجینہ ﷺ نے فرمایا کہ
حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے لہذا مومن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ (سنن ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ
على العبادة ، رقم 2692، ج4، ص314)
(3)حب جاہ کا علاج: جان لیجئے ! جو جاہ و مرتبہ کی
محبت میں مبتلا ہو جائے تو اس کا سارا مقصد حب جاہ اور اس میں مزید اضافہ کی طلب ہی
رہ جاتی ہے اور وہ مخلوق کے دلوں کا شکاری
بن جاتا ہے اور یہ چیز اسے ریا اور نفاق کی
طرف لے جاتی ہے، نبی کریم، رؤوف رحیم ﷺ نے اسے (یعنی مال و جاہ کی محبت کو ) دو
خونخوار بھیڑیوں سے تشبیہ دی جو بکریوں کے ریوڑ میں ہوتے ہیں۔ (جامع الترمذی،
ابواب الزهد، باب ما ذئبان جائعان الخ، الحديث 2376 ، ص 1890)
(4)رزق کا ملنا : حضرتِ سَیِّدُنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم ﷺ کو یہ
فرماتے ہوئے سنا: ’’ ا گرتم اللہ
عَزَّ وَجَلَّ پر ایسا توکل کرو جس طرح
اُس پر توکل کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ضرور رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ
صبح بھوکے پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں ۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:2 ، حدیث نمبر:79 )
اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر
عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami