عبد الرحمن امجد (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! آقا ﷺ وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ
تعالیٰ کے احکام ہم تک پہنچانے میں گزار دی، کبھی نرمی کے ساتھ سمجھایا، کبھی
مثالوں کے ذریعے دلوں کو جیتا، اور کبھی ایمان کو جگانے والے الفاظ سے امت کے سینوں
کو منور فرمایا، ان میں ایک آقا علیہ السلام کا تشبیہ کے ذریعے سمجھانا
بھی ہے اور تشبیہ کہتے ہیں: ایک چیز کو
دوسری چیز کے مشابہ قرار دینا۔ آئیے اس کے
متعلق چند ا حادیث پڑھیے:
(1)حب جاہ کا انجام: عَنِْ
کَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ اُرْسِلَا فِيْ
غَنَمٍ بِاَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ المَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ
لِدِيْنِهِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَا کَعب بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ” دو بھوکے بھیڑیے اگر بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ
دیئے جائیں تو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال و دولت کی حِرْص اور حبِّ جاہ
انسان کے دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ “(فیضان
ریاض الصالحین، جلد:4،حدیث نمبر:485)
(2) دلوں کا سکون قرآن سے ہے: عَنِ
ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الَّذِي لَيْسَ في جَوْ فِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ
كَالبَيْتِ الْخَرِبِ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ
عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا:”جس کے سینےمیں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے۔“(فیضان ریاض
الصالحین، جلد:7،حدیث نمبر:1000)
ویران
گھر سے تشبیہ دینے سے مراد:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت
مُفتِی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: گھر کی آبادی انسان و سامان سے ہے،
دل کی آبادی قرآن سے،باطن یعنی روح کی آبادی ایمان سے تو جسے قرآن بالکل یاد نہ
ہو یا اگرچہ یاد تو ہو مگر کبھی اس کی تلاوت نہ کرے یا اس کے خلاف عمل کرے اس کا
دل ایسا ہی ویران ہے جیسے انسان و سامان سے خالی گھر۔ (فیضان ریاض الصالحین،
جلد:7،حدیث نمبر:1000)
آباد وہ ہی دل ہےکہ جس میں تمہاری یاد ہے
جو یاد سے غافل ہوا ویران ہے برباد ہے
(3) پانچوں نمازوں کے فضیلت: عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الصَّلَوَاتِ
الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ
كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” پانچوں نمازوں کی مثال اس بھری ہوئی نہر کی
طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس
سے گزر رہی ہو اور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4، حدیث نمبر:429)
اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ
نماز انسان کے ظاہر کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح کرتی ہیں جیسا
کہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جس طرح بار بار غسل کرنا آدمی کے جسم سے میل
کچیل کو دُور کر دیتا ہے اسی طرح پانچ وقت کی نماز پڑھنا باطن سے میل کچیل کو ختم
کر دیتا ہے ۔ ‘‘ (فیضان ریاض الصالحین، جلد:4، حدیث نمبر:429)
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ
وسائل بخشش میں لکھتے ہیں:
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
(4) نا حق کی حمایت کا انجام: وَعَنِ
ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ نَصَرَ قَوْمَهٗ عَلٰى غَيْرِ الْحَقِّ
فَهُوَ كَالْبَعِيرِ الَّذِي رَدٰى فَهُوَ يُنزَعُ بِذَنَبِه رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابن مسعود سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرماتے ہیں کہ جو اپنی قوم کی ناحق
پر مدد کرے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جو گڑھے میں گر گیا تو اسے اس کی دم سے اوپر
کھینچا جاوے۔(مشکوٰۃ المصابیح،جلد:2،باب المفاخرۃ والعصبیۃ، فصل ثانی،صفحہ: 432،
حدیث نمبر: 4684)
اس فرمان عالی میں فاسق قوم کو
گرے اونٹ سے تشبیہ دی گئی جس طرح کنویں میں گرے اونٹ کو دم سے پکڑ کر نہیں نکال جا سکتا ویسے ہی فاسق و بدکار ذلیل قوم ایسی تعریفوں سے
عزت نہیں پاسکتے اگر تم انہیں عزت دینا چاہتے ہو تو ان کو گناہوں سے روکو راہ راست
پر لگاؤ۔(مشکوٰۃ المصابیح،جلد:2،باب المفاخرۃ والعصبیۃ، فصل ثانی،صفحہ: 432، حدیث
نمبر: 4684)
اللہ کریم ہم سب کو حضور کی تعلیمات
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami