رسول اللہ  ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز نہایت موثر جامع اور حکمت پر مبنی تھا آپ ﷺ لوگوں کی ذہنی فہم و ادراک اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بات فرماتے ، آپ مثالیں اور تشبیہ دے کر بات سمجھاتے تاکہ سننے والا نہ صرف بات یاد رکھے بلکہ اسے اپنے دل و دماغ میں بٹھا لے۔ تشبیہات کے ذریعے آپ ﷺ مشکل باتوں کو آسان اور گہری حکمتوں کو عام فہم انداز میں بیان کرتے بالکل ایسے ہی جیسے کوئی ماہر استاد اپنے شاگرد کو عملی مثال دے کر سمجھا جاتا ہے، انداز بیان ہی لوگوں کے دلوں کو متاثر کرتا ہے اور ان کی تربیت میں گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے :

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی مثال نہیں ۔ ( مراۃ المنا جیح، شرح مشکاۃ مثابیح جلد 4 حدیث نمبر 3018)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں یہ پتہ چلا ہے کہ ہمیں کسی کو دیکھ کر اس سے وہ چیز واپس طلب نہیں کرنی چاہیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص اس کتے کی طرح ہے۔ اللہ ہمیں ہمیشہ دینے والوں میں سے بنائے کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اللہ ہم پر نوبت نہ لائے ۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے: حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے سینے میں قرآن نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد 7 حدیث نمبر 1000)

پیارے اسلامی بھائیو ! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کے دل میں قرآن پاک نہیں وہ ویران گھر کی طرح ہے جیسے کہ ویران گھر میں جالے لگ جاتے ہیں اسی طرح جب انسان کے دل میں قرآن پاک نہیں ہوتا تو انسان کے دل میں بھی شیطان قبضہ کر لیتا ہے پھر وہ دل شیطان کے قبضے سے چلتا ہے نہ کہ اس انسان کے کہنے پر ۔

اللہ تعالی ہمیں قرآن پاک سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین