مبشر
حسین ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
رسول اللہ ﷺ نے اس امت کی ہر طرح سے ہر طریقے سےتربیت
فرمائی ہے انہیں میں سے ایک طریقہ تشبیہات کا بھی ہے اور یہ ایسا طریقہ ہے کہ اس
سے مشکل سے مشکل بات بھی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے تو اسی تشبیہات میں چند ایک ملاحظہ فرمائیں ۔
پہلی حدیث مبارکہ نماز پڑھنے کی ترغیب کے متعلق
ہےنہر کے ساتھ تشبیہ دینا، حدیث: وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ
أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا هَلْ يَبْقٰى مِنْ دَرَنهٖ
شَيْءٌ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنهٖ
شَيْءٌ قَالَ: فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ
بِهِنَّ الْخَطَايَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ ترجمہ: روایت ہے ابوھریرہ سےفرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے
بتاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے دروازہ پرنہرہو کہ اس میں روزانہ پانچ دفعہ نہائے کیا
کچھ میل رہے گا لوگوں نے عرض کیا کہ بالکل میل نہ رہے گافرمایا یہ پانچ نمازوں کی
مثال ہے کہ الله ان کی برکت سے گناہ
مٹاتا ہے (مسلم،بخاری) (مشکوٰۃ المصابیح حدیث،565)
دوسری حدیث مبارکہ قرآن پاک پڑھنے اور نہ پڑھنے والے مومن اور منافق کے درمیان تشبیہ دینا، حدیث: عَنْ
اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيْ رَضِيَ الله عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ الله
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَاُالْقُرْآنَ
مَثَلُ الْاُتْرُجَّةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ
الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَاُ القُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ لَارِيْحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَاُ
الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ رِيْحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِيْ لاَ يَقْرَاُ
الْقُرْاٰنَ كَمَثَلِِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيْحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
ترجمہ: حضرت سَیِّدُناابو موسٰی
اَشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ حُضورِ انور ﷺ نے ارشاد فرمایا:”قرآن پڑھنے
والے مومن کی مثال نارنگی کی طرح ہے جس کی
خوشبو بھی اچھی اور ذائقہ بھی عمدہ ہےاور
قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی
طرح ہے جس کی خوشبو نہیں لیکن ذائقہ میٹھا ہے۔قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال پھول
کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہےاورقرآن نہ پڑھنے والے منافق کی
مثال اندرائن کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی نہیں اور ذائقہ کڑوا ہے۔“(مشکوٰۃ المصابیح،حدیث،995)
تیسری حدیث مبارکہ مومن اور کافر کو کھیت کے ساتھ
تشبیہ دینا ،حدیث: عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ خَامَةِ الزَّرْعِ يَفِيءُ وَرَقُهُ
مِنْ حَيْثُ أَتَتْهَا الرِّيحُ تُكَفِّئُهَا فَإِذَا سَكَنَتْ اعْتَدَلَتْ
وَكَذَلِكَ الْمُؤْمِنُ يُكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ
الْأَرْزَةِ صَمَّاءَ مُعْتَدِلَةً حَتَّى يَقْصِمَهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ،ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن کی مثال کھیت کے نرم پودے کی سی
ہے کہ جدھر ہوا چلتی ہے تو اس کے پتے ادھر جھک جاتے ہیں اور جب ہوا رک جاتی ہے تو پتے بھی برابر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح مومن آزمائشوں میں بچایا جاتا ہے
لیکن کافر کی مثال شمشاد کے سخت درخت جیسی ہے کہ ایک حالت پر کھڑا رہتا ہے یہاں تک
کہ اللہ جب چاہتا ہے اسے اکھاڑ دیتا ہے۔
اسی طرح تشبیہ کی اور بھی سینکڑوں
مثالیں موجود ہیں جس میں حضور ﷺ نے اس امت کی تربیت فرمائی ہے۔ اللہ پاک ہمیں
ان کو پڑھنے کی پڑھ کر سمجھنے کی اور سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami