تربیت انسانی شخصیت کی تعمیر و تکمیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اور مؤثر تربیت وہی ہوتی ہے جو دل و دماغ دونوں پر اثر ڈالے۔ نبی کریم  ﷺ کی حیاتِ طیبہ اس پہلو سے بھی ایک کامل نمونہ ہے کہ آپ نے نہ صرف قول سے بلکہ عمل، مثال اور تشبیہات کے ذریعے بھی لوگوں کی اصلاح اور تربیت فرمائی۔ آپ ﷺ کی گفتگو عام فہم، سادہ اور بامقصد ہوتی اور آپ اکثر گہرے مفاہیم کو واضح کرنے کے لیے تشبیہات کا سہارا لیتے تاکہ بات دل نشین ہو جائے اور سننے والا نہ صرف سمجھے بلکہ اس پر عمل بھی کر سکے۔ آئیے چند ایسی احادیث ملاحظہ ہوں جن میں حضور ﷺ نے تشبیہات سے تربیت فرمائی ہے:

(1)جنت ودوزخ کے قریب ہونا: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللہ عَنْہُ قَال: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْجَنَّۃُ اَقْرَبُ اِلٰی اَحَدِکُمْ مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِکَ ترجمہ: حضرت سَیِّدُنَاعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیم ﷺ نے ارشادفرما یا: جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتیوں کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور اسی طرح جہنم بھی ۔ (فیضان ریاض الصالحین ج2 ص226 ، 227 مترجم مکتبۃ المدینہ )

شرحِ حدیث:مذکورہ حدیث پاک میں بندے سے جنت و دوزخ کے قُرب کو جوتیوں کے تسمے سے تشبیہ دے کر بیان کیا گیا ہے۔اور اس تسمے سے مراد جوتیوں کے اگلے حصے میں بنی ہوئی وہ جگہ ہے جس میں آدمی اپنی انگلیاں داخل کرتا ہے جس طرح جوتیوں کا تسمہ بندے سے بہت قریب ہوتا ہے اسی طرح جنت ودوزخ بھی بندے سے بہت قریب ہیں۔(فیضان ریاض الصالحین ج2 ص226 ، 227 مترجم مکتبۃ المدینہ )

(2)شیطان آدمی کا بھیڑیا: عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ

روایت ہے حضرت معاذا بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو لازم پکڑو۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج1 ، ح184 )

شرحِ حدیث: یہاں تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج1 ، ح184 )

(3ِ)آگ سے بچانا: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ

حضرتِ سَیِّدُنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ (مسلم کتاب الفضائل باب الشفقۃ علی امتہ ۔۔۔الخ ،ص1254، ح2285)

(4) اعمال میں جلدی کرنا: عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ:یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا

حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُسےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے بدلے بیچے گا۔ ‘‘(صحیح مسلم، کتاب الایمان ،باب الحث علی المبادرۃ۔۔۔الخ،ص73، ح118)

(5) عالم کی فضیلت: وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيّ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا عَابِدٌ وَالآخَرُ عَالِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِي عَلٰی أَدْنَاكُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَأَهْلَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ حَتَّى الْنَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، وَحَتَّى الْحُوتَ لَيُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ

روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوارخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب العلم ،ج1،ص34،ح202)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین