عامر
فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور
،پاکستان)
اللہ رب العزت نے نبی کریم محمد
ﷺ کو انسانوں کی ہدایت اصلاح اور تربیت کے لیے مبعوث فرمایا، اور آپ ﷺ کو ایسی
حکمت عطا فرمائی جو ہر زمانے ہر قوم اور ہر عقل کو متاثر کرتی ہے۔ آپ ﷺ کا انداز
تربیت نہایت حکیمانہ فطرت کے مطابق اور سامع کی ذہنی استعداد کے مطابق ہوتا تھا۔
ان ہی طریقوں میں سے ایک عظیم طریقہ ”تشبیہات“ کا استعمال تھا۔تشبیہ ایک ادبی اور
تعلیمی فن ہے جس کے ذریعے کسی بات کو مؤثر اور قابل فہم بنانے کے لیے کسی مشابہ چیز
سے مثال دی جاتی ہے۔
(1)دنیا کی مثال :روایت ہے حضرت معاذ بن جبل رضی
اللہ تعالی عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے
جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے تم گھاٹیوں سے بچو جماعت مسلمین اور عوام کو
لازم پکڑو۔
خلاصۂ تشبیہ یہ ہے کہ دنیا ایک
جنگل ہے جس میں ہم لوگ مثل بکریوں کے ہیں،شیطان بھیڑیا ہے جو ہر وقت ہماری تاک میں
ہے،جو جماعت مسلمین سے الگ رہا شیطان کے شکار میں آگیا۔(مشکاۃ المصابیح، جلد اول کتاب ایمان حدیث 184)
(2)سیاہ خضاب کی حرمت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما راوی، حضور علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آخر
زمانےمیں کچھ لوگ سیاہ خضاب کریں گے جیسا کہ کبوتروں کے پوٹے وہ جنت کی خوشبو نا
سونگیں گے۔(فتاوی رضویہ جلد 23 مکتبہ رضا فاونڈیشن صفحہ 496 )
اس حدیث کے تحت امام اہلسنت اعلی حضرت فرماتے ہیں : جنگلی کبوتروں کے سینے اکثر سیاہ نیلگوں ہوتے ہیں
نبی پاک ﷺ نے ان کے بالوں اور داڑھیوں کو ان سے تشبیہ دی ۔(فتاوی
رضویہ جلد 23 مکتبہ رضا فاونڈیشن صفحہ 496 )
حضرت سیدنا عطا بن بیمار رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار دو عالم شاہ بنی آدم، رسول اکرم نور
مجسم ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اتنے میں
ایک شخص آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔ ہمارے میٹھے مدنی آقا ﷺ نے اس کی طرف اس انداز پر اشارہ کیا جس سے صاف
ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ اس کو بال درست کرنے کا فرما رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے
کہ کوئی شخص بالوں کو اس طرح بکھیر کر آتا
ہے گویا کہ وہ شیطان ہے۔ ( رہنمائے جدول صفحہ 209 ،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(3)علم نجوم کا علم: روایت ہے حضرت ابن عباس سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس نے علم نجوم کا حصہ حاصل کیا اس نے
جادو کا حصہ حاصل کیا جس نے اسے بڑھایا
اتنا ہی اسے بڑھایا ۔
مفتی احمد یار خان نعیمی اس حدیث
کے تحت فرماتے ہیں : علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے
علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار
کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:4598)
(4)بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی پر
حق: روایت ہے حضرت سعید ابن العاص
سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ چھوٹے بھائی پر بڑے بھائی کا حق ایسا
ہے جیسے باپ کا حق اولاد پر ۔۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:4946)
مفتی احمد یار خان نعیمی اس
احادیث کے تحت فرماتے ہیں : یعنی بڑے بھائی کا حق اس قسم کا ہے جس قسم کا
حق باپ کا اپنی اولاد پر ہے،یہاں تشبیہ نوعیت میں ہے مقدار حق مراد نہیں۔( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:4946)
ان پانچوں احادیث میں تشبیہات
کے ذریعے عملی زندگی کے بنیادی اصول ،ادب ،طہارت دین داری اور خاندانی تعلقات کو
انتہائی مؤثر انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتیں کہ ایک مسلمان نہ صرف عبادت گزار
بلکہ کردار گفتار لباس، معاشرت اور عقیدے میں بھی مکمل آئین اسلام پر کاربند ہو۔
Dawateislami