انسانی فہم و ادراک  کے لیے تشبیہات ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ قرآن مجید میں بھی حقائق کو سمجھانے کے لیے بارہا تشبیہات اور تمثیلات کا استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ یہ دل پر زیادہ گہرا اثر ڈالتی ہیں اور بات کو ذہن نشین کرنے میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے بھی تربیتِ امت کے لیے اس مؤثر انداز کو اختیار فرمایا۔ آپ ﷺ کی احادیث میں جابجا ایسی تشبیہات موجود ہیں جن کے ذریعے آپ نے نہایت سادہ مگر جامع انداز میں اہم اخلاقی، دینی اور معاشرتی امور کو واضح فرمایا۔

تشبیہات کا مقصد:رسول اللہ ﷺ کا مقصد تشبیہات کے ذریعے بات کو صرف سمجھانا ہی نہیں تھا بلکہ سامعین کے دلوں میں اثر پیدا کرنا، جذبات کو ابھارنا اور ان کے ذہنوں میں وہ بات نقش کر دینا تھا تاکہ وہ اس پر عمل کر سکیں۔ آپ ﷺ کی تشبیہات مختصر مگر پر اثر ہوتیں، جنہیں سننے والا آسانی سے یاد رکھ سکتا تھا۔

تشبیہی انداز کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے :

(1) نماز کی اہمیت: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ بار اس میں غسل کرے، تو کیا اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟" صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "نہیں، کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی پانچ وقت کی نمازوں کی مثال ہے، اللہ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث نمبر 528، صفحہ 255، دارالسلام، ریاض)

(2) مؤمن کی مثال: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے، تم اس کے کسی بھی حصے سے فائدہ حاصل کرو، وہ نفع ہی دیتا ہے۔" (صحیح بخاری، کتاب العلم، حدیث نمبر 61، صفحہ 45، دارالسلام، ریاض)

(3) علم کے بغیر عبادت کی مثال: نبی ﷺ نے فرمایا: "علم کے بغیر عبادت کرنے والے کی مثال اس شخص جیسی ہے جو اندھیرے میں تیر چلائے، جو صحیح جگہ پر نہیں لگتا۔" (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 7947، جلد 8، صفحہ 235، دار الحرمین)

(4) اسلام کی مضبوطی: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اسلام کی رسی کی گرہیں ایک ایک کر کے کھلتی جائیں گی، جب ایک گرہ کھلے گی تو لوگ اگلی کو تھامے رکھیں گے، سب سے پہلے حکومت کی گرہ کھلے گی اور سب سے آخر میں نماز کی۔" (مسند احمد بن حنبل، حدیث نمبر 22882، جلد 5، صفحہ 251، دارالفکر)۔

تشبیہات کا یہ اسلوب آج کے دور میں بھی تعلیم و تبلیغ کے میدان میں نہایت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ جب بات کسی مثال کے ساتھ بیان کی جاتی ہے تو وہ صرف ذہن ہی نہیں بلکہ دل کو بھی متاثر کرتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو نہ صرف علم سکھایا بلکہ ان کے دلوں کو بھی فتح کیا اور اس کے لیے آپ نے نہایت سادہ، مگر فکر انگیز مثالیں استعمال فرمائیں۔ یہ اسلوب ہر معلم، خطیب، والدین اور داعی کے لیے ایک رہنما اصول ہونا چاہیے تاکہ تعلیم کو صرف معلومات کا انبار بنانے کی بجائے حقیقی تربیت کا ذریعہ بنایا جا سکے۔

اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین