محبوب مصطفیٰ (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو
اللہ تبارک و تعالی نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور حضور علیہ الصلاۃ
والسلام کو امت کے لیے رہنما بنا کر بھیجا تو آپ ﷺ نے
اپنی امت کی کئی طرح سے تربیت فرمائی ان میں سے ایک تشبیہات کے ساتھ اپنی امت کی
تربیت فرمائی:
(1) وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی
الله علیہ وسلم نے کہ شکر گزار کھانے والا صابر روزہ دار کی طرح ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6، کتاب الاطعمہ،حدیث نمبر4022صفحہ نمبر 46
مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ )
(2) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ الصَّائِم
الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللّٰهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ
حتّٰى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.ترجمہ: فرمایا رسولﷲ ﷺ نے اﷲ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس کی
سی ہے جو دن کا روزہ دار، رات کو آیات الٰہی کی تلاوت کرنے والا
ہو نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے حتی کہ اﷲ کی راہ کا مجاہد لوٹ آوے۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ,
کتاب الجہاد ،حدیث نمبر:3613،صفحہ نمبر 459 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(3) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَائِدُ فِي
هِبَتِهٖ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهٖ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس
سے فرماتے ہیں فرمایا رسولُ اللہ ﷺ نے دے کر واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے
کرکے چاٹ لے اس سے بدتر ہمارے پاس کوئی
مثال نہیں۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:4 ، باب العطایا، حدیث
نمبر:2886 صفحہ نمبر:405 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(4) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ
رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ، قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا
إِلَى ثُدِيِّهِمَا، وَتَرَاقِيهِمَا،فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ
بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنهُ، وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ
قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ بِمَكَانِهَا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے
کہ کنجوس اور سخی کی کہاوت ان دو شخصوں کی سی ہے جن پر لوہے کی دو زرہ ہوں جنہوں
نے ان کے دونوں ہاتھ ان کے پستانوں اور گلے سے باندھ دیئے ہوں سخی جب خیرات کرنے
لگے تو زرہ پھیل جائے اور کنجوس جب خیرات کا ارادہ بھی کرے تو زرہ اور تنگ ہوجائے
اور ہر کڑی اپنی جگہ چمٹ جائے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ،باب الانفاق وکراھیت الاحادیث حدیث
نمبر:1768، صفحہ نمبر 81 مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ)
(5) عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اَوْقَدَ نَاراً
فَجَعَلَ الجَنَادِبُ والفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيْهَا وَهُوَ يَذُبُّهُنَّ عَنْهَا
وَاَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَاَنْتُمْ تَفَلَّتُوْنَ مِنْ يَدَيَّ.ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ُسے مروی ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: ’’ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہےجس نے آگ جلائی تو ٹڈیاں اور پروانے
اس میں گرنے لگےاور وہ شخص اُنہیں آگ میں گرنے سے بچاتا ہےاورمیں بھی تمہیں تمہاری کمر سے پکڑ کر آگ (میں گرنے) سےبچاتا ہوں اور
تم میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو ۔ ‘‘ (مسلم
،کتاب الفضائل،باب الشفقت علی امتہ ۔۔الخ ،ص 1254،حدیث:2285)
Dawateislami