علم حدیث کی اہمیت

Sun, 19 Apr , 2020
1 year ago

حجیتِ حدیث :

اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال کی پیروی کا حکم دیاہے ، چنانچہ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔

(سورة الحشر:7)

ضرورتِ حدیث:

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معیشت کے اصول اور مبادیات اجمالا بیان فرمائے ہیں، جن کی تفسیر و تشریح احادیث نبویہ کے بغیر ممکن نہیں ہے نیز احکام کی عملی صورت بیان کرنے کے لیے اسوۂ رسول کی ضرورت ہے۔ صلوة ، زکوة، تیمم اور حج یہ محض الفاظ ہیں، لغت عربی ان الفاظ کے وہ معنی نہیں بتاتی جوشرع میں مطلوب ہیں، پس اگر احادیثِ رسول موجود نہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن کریم کے معانی شرعیہ متعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔ (کتاب تذکرہ المحدثین، ص ۲۴)

مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے افعال کی اتباع قیامت تک کے مسلمانوں پر واجب ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ بعد کے لوگوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے احکام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کا کس ذریعہ سے علم ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمارے لیے نمونہ بنایا ہے، پس جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے سامنے نہ ہو ہم اپنی زندگی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں کیسے ڈھال سکیں گے؟

اورجب کہ ہمیں اسوۂ رسول پر اطلاع صرف احادیث سے ہی ممکن ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس طرح صحابہ کے لیے بنفس نفیس حضور اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ذات ہدایت تھی، اسی طرح ہمارے لیے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث ہدایت ہیں۔(کتاب تذکرة المحدثین،ص ۲۵)

رشد و ہدایت:

اللہ تعالیٰ نے رشد و ہدایت کے لیے صرف قرآن کو کافی قرار نہیں دیا، بلکہ قرآن کے احکام کے ساتھ رسول کے احکام کی اطاعت اور آپ کے افعال کی اتباع کو بھی لازم قرار دیا ہے، اور قرآن کے احکام کو جاننے کے لیے احادیث کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

احادیث شریفہ کو اگر معتبر نہ مانا جائے تو نہ صرف یہ کہ حضور کی دی ہوئی، ہدایت سے ہم محروم ہوں گے، بلکہ قرآن کریم کی دی ہوئی ہدایت سے بھی ہم مکمل مستفید نہیں ہوسکیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے قرآن نازل فرمایا، لیکن اس کے معانی کا بیان اور اس کے احکام کی تعلیم حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سپرد کردی چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

ترجمہ :ہم نے آپ کی طرف ذکر ( قرآن کریم) نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کو بیان کریں کہ ان کی طرف کیا احکام نازل کیے گئے ہیں۔(سورہ النحل ۴۴)

وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ

تَرجَمۂ کنز الایمان: اور تمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے۔( سورہ البقرہ ۱۲۹)

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جس طرح معانی قرآن کے مبین اور معلم ہیں اسی طرح آپ بعض احکام کے شارع بھی ہیں، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس حیثیت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا ہے:

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو حرام کرتے ہیں۔

(سورہ الاعراف ۱۵۷)