عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں

بد شگونی لینا عالمی بیماری ہے، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں سے ایسی ایسی بد شگونیاں لیتے ہیں کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ” لَیسَ مِنَّا مَن تَطَیَّرَ وَلَا تُطُیِّرَ لَہ “ یعنی جس نے بد شگونی لی اور جس کیلیے بد شگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں ۔

شگون:شگون کا معنی ہے ” فال لینا “ یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز، وقت کو اپنے حق میں اچھا یا برا سمجھنا۔

شگون کی اقسام :اس کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہی: (1)برا شگون لینا۔(2)اچھا شگون لینا۔

علامہ قرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ اپنی تفسیر قرطبی میں نقل کرتے ہیں اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔( بدشگونی، ص 10)

حکم :امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ الطریقۃُ المحمدیۃ میں لکھتے ہیں : بد شگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہلکھتے ہیں : اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے اور بدفالی لینا حرام ہے۔( بد شگونی ،ص 12)

عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں

1. ماہِ صفر کو منحوس جاننا:نحوست کے وہمی تصورات کے شکار لوگ ماہِ صفر کو مصیبتوں کے اترنے کا مہینہ سمجھتے ہیں خصوصاً اسکی ابتدائی 13 تاریخیں جن کو ” تیرہ تیزی “ کہا جاتا ہے کو بہت منحوس تصور کیا جاتا ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: لَا صَفَرَیعنی صفر کچھ نہیں۔( بدشگونی، ص55)

2. شوال میں شادی نہ کرنا:شریعت نے کسی موسم یا مہینے میں نکاح کرنے سے منع نہیں کیا لیکن کچھ نادان لوگ مخصوص دنوں اور مہینوں میں شادی کرنےکو منحوس سمجھتے ہیں، ان کو یہ وہم ہوتا ہے کہ ان دنوں جو شادیاں ہوتی ہیں ان سے میاں بیوی کے تعلقات اچھے نہیں ہوتے اور ان میں وہ الفت اور محبت نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے ،کچھ علاقوں میں شوال کو بھی انہی مہینوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔

اس بات کے رد پر دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہُ عنہا نے فرمایا: پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مجھ سے نکاح بھی شوال میں کیا اور زفاف بھی، تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی کون سی بیوی مجھ سے زیادہ محبوب تھی۔مراۃُ المناجیح میں ہے:مقصد یہ ہے کہ میرا نکاح بھی شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو زیادہ محبوب تھی، اگر یہ نکاح اور رخصتی مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی محبوب کیوں ہوتی۔ علمائے کرام فرماتے ہیں:کہ شوال میں شادی مستحب ہے۔( بد شگونی، ص 61،62)

3. لڑکیوں کی پیدائش:بیٹاہو یا بیٹی، انسان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے بیٹا اللہ کی نعمت اور بیٹی اللہ کی رحمت ہے مگر بعض نادان لوگ تلے اوپر بیٹیاں ہونے کی صورت میں ان کی امی کو طرح طرح کے طعنے، طلاق کی دھمکی دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات اس دھمکی کوعملی تعبیر بھی دے دی جاتی ہے اور اس پر یہ بھی ظلم کہ بیٹیوں کو ہی منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔ امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ سے سوال ہوا:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کےتیسری لڑکی ہوئی، اس سے نہایت پریشان ہے، اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تیسری لڑکی اچھی نہیں ہوتی تیسرا لڑکا اچھا اور نصیب والا ہوتا ہے زید نے ایک صاحب سے دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ یہ سب باتیں عورتوں کی بنائی ہوئی ہیں اگر تم کو وہم ہو تو صدقات کردو، اور 1 گائےیا 7 بکریاں قربانی کردواور توشہ شہنشاہ بغداد کردو اللہ بتصدق سرکار غوثیت ہر بلا سے محفوظ رکھے گا۔

اعلیٰ حضرت نے جواب دیا:یہ محض باطل اور زنانےاوہام اورخیالات شیطانیہ ہیں ان کی پیروی حرام ہے۔تصدق اور توشہ سرکار ابد قرار بہت اچھی بات ہے مگراس نیت سے کہ اس کی نحوست دفع ہو جائے جا ئز نہیں کہ اس میں اس کی نحوست مان لینا ہوا اور یہ شیطان کا ڈالا ہوا وہم تسلیم کر لینا ہوا۔( بد شگونی،ص72)

حدیثِ پاک میں ہے :بیٹیوں کو برا مت کہو، میں بھی بیٹیوں والا ہوں، بےشک بیٹیاں تو محبت کرنے والی، غمگسار اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔ (بد شگونی، ص74)

4. کالی بلی اور بلی کا رونا:لوگوں کا رات کے وقت بلی کے رونے یا کتے کے رونے کواور کالی بلی کے راستے کو کاٹ جانے کو منحوس سمجھنا۔(بدشگونی، ص 16)

5. گرہن سے جڑےتوہمات:گرہن کے وقت حاملہ عورت کو کمرے کے اندر رہنےاور سبزی وغیرہ نہ کاٹنے کی ہدایت کرنا کہ بچہ کسی پیدائشی نقص کے بغیر پیدا ہو۔یونہی گرہن کے وقت حاملہ عورت کو سلا ئی سے منع کرنا کہ اس سے بچے کے جسم پر غلط اثر پڑتا ہے۔

مغربی ملک میں رہنے والی دنیاوی تعلیم یافتہ خاتون سورج گرہن سے چند زور پہلے سخت پریشان تھی کیونکہ ان کے ہاں پہلے بچہ کی ولادت ہونے والی تھی اور اس سے محض چند روز قبل بچے پر سورج گرہن کے ممکنہ اثرات کا خوف اس تشویش میں مبتلا کئے ہوئے تھا کہ اس نے اپنے ڈاکٹر کو محض یہ پوچھنے کے لیے فون کیا کہ آیا بچے کو سورج گرہن کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا اس کی ولادت سے پہلے ممکن ہے؟ ڈاکٹر نے اسے دلاسا دیتے ہوئے سمجھایا کہ اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور گرہن کے اثرات کی حقیقت توہمات سے زیادہ نہیں ہے۔(بد شگونی ص، 79)


عورتوں میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں

اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ ہی عقائد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ انسانوں کو صرف اللہ پاک کے خیر و شر اور نفع و نقصان کے مالک ہونے کی بھی آگاہی دی۔ دور جہالت میں لوگ شرک و کفر کے ساتھ توہمات میں بھی پھنسے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایسے وقت میں انسانوں کو اسلام کی پیاری تعلیمات سے نوازا، عقیدہ توحید کی عظمت دل و دماغ میں راسخ کی اور تمام بدعقیدگیوں سے ہٹا کر صرف اللہ پاک کی مبارک ذات کے ساتھ جوڑا۔ اسلام سے پہلے لوگ طرح طرح کی خرافات میں مبتلا تھے جن میں بدشگونی لینا اور فال نکالنا بھی شامل تھا۔ اسلام نے ان تمام بدعقیدگیوں کا خاتمہ کیا اور اپنی خوبصورت تعلیمات سے نوازا جن میں کسی بھی قسم کی بدشگونی اور وہم کی گنجائش نہیں ہے۔

شگون کے لغوی معنی فال لینا ہے یعنی کسی بھی جاندار اور بے جان چیز کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا۔ اس کی دو اقسام ہیں ایک بد شگون لینا اور دوسری اچھا شگون لینا۔ علامہ محمد بن احمد انصاری قُرطبی رحمۃُ اللہِ علیہ تفسیر قُرطبی میں فرماتے ہیں کہ اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ ہو اُس کے بارے میں کوئی بات سُن کر دلیل پکڑنا جبکہ بات اچھی ہو۔ شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام مکمل کرے اور اگر کوئی بُری بات سُنے تو اس طرف توجہ نہ دے۔

بدشگونی لینا شرعاً منع ہے جبکہ اچھا شگون لینا مستحب ہے۔ بدشگونی اور نیک فال میں یہی بنیادی فرق ہے۔ نیک فال لینا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت ہے اور اس سے دل کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مراۃُ المناجیح میں ہے کہ نیک فال لینے میں اللہ پاک سے امید ہے اور بدشگونی لینا منع ہے کیونکہ اس میں اللہ پاک سے نااُمیدی ہے۔ اُمید اچھی ہے اور نااُمیدی بری، ہمیشہ اپنے رَب سے اُمید رکھو۔ (مراۃُ المناجیح، 6/255)

زمانۂ جاہلیت کی بدعقیدگیاں آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جس کی وجہ قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات سے دوری اور ناواقفیت ہے۔ خصوصاً عورتوں میں آج بھی عجیب قسم کی توہُّم پرستیاں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ بے دینی کا شکار ہیں۔ بعض عورتیں بہت سی اچھی چیزوں کو بھی برا سمجھتی ہیں۔ عورتوں میں پائی جانے والی چند بد شگونیاں حسبِ ذیل ہیں:

1. اکثر عورتیں بدھ کے دن کو برا سمجھتی ہیں۔

2. بعض عورتیں کہتی ہیں کہ جس دن گھر میں کوا بولے اُس دن مہمان لازمی آتے ہیں۔

3. بعض عورتیں مانتی ہیں کہ کسی کو سیدھا جھاڑو مارا تو اُس کا جسم سوکھ جائے گا۔

4. صبح سویرے جھگڑا ہوا یا کوئی زخم پہنچا تو شام تک ایسے ہی نقصان پہنچتا رہے گا۔

5. سیدھی آنکھ پھڑکنا کسی مصیبت کے آنے کی دلیل سمجھی جاتی ہے۔

یہ اور اس طرح کی دیگر بد عقیدگیوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے ورنہ ایمان کی جڑیں کھوکھلی ہو جائیں گی۔ 


مضمون:عورتوں میں پائی جانے والی 5 بدشگونیاں

کسی شخص،جگہ،چیز یا وقت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔چنانچہ حدیث پاک ہے۔

رسول اکرم،نور مجسم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھا یا برا شگون لینے کے لیے پرندہ اڑانا،بدشگونی لینا اور طرق(یعنی کنکر پھینک کر یا ریت میں لکیر کھینچ کر فال نکالنا) شیطانی کاموں میں سے ہے۔ (ابوداود،کتاب الطب،باب فی الخط وزجرالطیرع 4\22 حدیث،3907)

مفسر شہیر حکیم امت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:اسلام میں نیک فال لینا جائز ہے، بدفالی،بدشگونی لینا حرام ہے۔ (تفسیر نعیمی،9\119)

شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز،شخص،عمل ،آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا برا سمجھنا۔اگر اچھا سمجھا تو اچھا شگون یا نیک فال ہے اور اگر برا سمجھا تو بدشگونی ہے۔

نیک فال لینا مستحب ہے جبکہ بدفالی یا بدشگونی لینا شیطانی کام ہے۔

زندگی کے بہت سے معاملات میں عورتیں بہت سے کاموں میں بدشگونی کا شکار ہوتی ہیں جن میں سے 5 بدشگونیاں درج ذیل ہیں جو عورتوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔

1:- دلہن کا چھت پر جانا:-

شادی کے قریب وقت میں دلہن کو چھت پر بلکل نہیں جانے دیا جاتا یہ سمجھا جاتا ہے کہ چھت پر جانے سے دلہن کو آفات اور بلاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

2:- خالی قینچی چلانا:-

اکثر عورتیں یہ سمجھتی کہ اگر کسی نے خالی قینچی چلائی تو گھر میں جھگڑا ہو گا یا جس نے خالی قینچی چلائی وہ ضرور کسی سے لڑائی کریں گی۔

3:- سورج گرہن کو منحوس سمجھنا:-

سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہو گا تو اس کا ہاتھ یا پاؤں کٹا یا چرا ہوا ہو گا۔

4:-خالی جھولا نہ جھلاؤ:-

اس میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ نومولود بچے کو نقصان ہو گا یا بچے کی پیدائش نہیں ہو گی۔

5:- چمچہ یا ہنڈیا چاٹنا:-

یہ بھی تصور پایا جاتا ہے کہ اگر لڑکی چمچہ یا ہنڈیا چاٹ لے تو اس کی شادی پر ضرور بارش ہو گی یا اولے پڑیں گے۔

ایسی ھی اور بھی بہت سی بدشگونیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں جیسے:- بچوں کو جھاڑو سے نہ مارو کہ پتلا ھو جائے گا، مہمان کی رخصتی کے بعد گھر میں جھاڑو دینے کو منحوس سمجھنا،آنکھ پھڑکنا کہ کوئی مصیبت آئے گی،دودھ گر گیا تو کوئی پریشانی آئے گی،کسی اور کا کنگھا استعمال کرنے سے دونوں میں جھگڑا ہوتا ہے، رات کو آئینہ دیکھنے سے چہرے پر جھریاں پڑتی ہیں، مغرب کی اذان کے وقت تمام لائیٹیں روشن کر دینی چاہئیں ورنہ بلائیں اترتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

یہ سب صرف وہمی خیالات ہوتے ہیں شریعت میں ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہیں۔کسی چیز کو منحوس قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں یہ تو غیر مسلموں کا طریقہ ہے۔ اچھا شگون لینے سے اللہ پاک کے رحم و کرم سے اچھائی اور بھلائی کی امید ہوتی ہے جبکہ بدشگونی سے ناامیدی پیدا ہوتی ہے۔


معزز قارئین! دینِ اسلام اپنے ماننے والوں کو ایسی زندگی گذارنے کا درس دیتا ہے جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کی پاسداری ہو. نیز ایک مسلمان کی ذاتی اور معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے بھی رہنمائی کرتا ہے. اسلام کی روشن تعلیمات اور چمکتے اصولوں کا ایک بہترین پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام میں کسی شخص،چیز، جگہ یا وقت کو منحوس جاننے کا کوئی تصور نہیں یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔

میرے آقا اعلی حضرت رحمۃُ اللہِ علیہ نے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا:شرعِ مطہّر میں اس(بدشگونی) کی کچھ اصل نہیں،لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے. شریعت میں حکم ہے: جب کوئی شگونِ بد گمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔ (بدشگونی،ص 8)

شگون کے معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز، شخص، وقت وغیرہ کو اپنے حق میں اچھا یا برا سمجھنا. اچھا سمجھا جائے تو اسے اچھا شگون لینا کہتے ہیں اور اگر برا سمجھا جائے تو اسے بدشگونی لینا کہتے ہیں.حدیثِ مبارکہ میں ہے: جس نے بدشگونی لی اور جس کیلیے بدشگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں۔ (المعجم الکبیر، 162/18، حدیث:355)دینِ اسلام میں بدشگونی لینا حرام ہے جبکہ نیک فال لینا جائز و مستحب ہے۔

بدشگونی لینے جیسی فضولیات میں اگر چہ مرد بھی پیچھے نہیں رہتے لیکن عموماً اس طرح کے معاملات میں عورتیں آگے آگے ہوتی ہیں. عورتوں میں پائی جانے والی چند بدشگونیوں پر نظر ڈالتے ہیں اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ ان کی کوئی اصل نہیں:

1. اگر شادی شدہ عورت الٹی چادر اوڑھ لے تو اس کی ساس مر جائے گی۔

2. سر کے نیچے لگائے جانے والے تکیہ پر اگر کوئی پاؤں رکھ دے تو وہ تکیہ لگانے والے کے سر میں درد ہوجائے گا۔

3. ایک گلاس میں پانی تھا اور اس پر غلطی سے کسی کا پاؤں لگ گیا تو اس پانی کو ” ٹھوکر لگا پانی “ کا نام دیا جائے گا اور اب اس پانی پینے والے کا گلا خراب ہوجائے گا۔

4. اگر کسی گھر میں بلی روئے تو اس گھر میں کسی کی وفات ہوجائے گی۔

5. مریض کی چارپائی پر کوئی شخص کُہنی (elbow) ٹکا کر نہ بیٹھے ورنہ مریض کی طبیعت مزید بگڑ جائے گی۔

اللہ پاک ہمیں اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ان فضولیات سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربَّ العالمین


بد شگونی کی تعریف:

شگون کا معنیٰ ہے ” فال لینا “ یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، اسی وجہ سے برا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔

شگون کی قسمیں:

بنیادی طور پر شگون کی دو قسمیں ہیں۔1۔برا شگون لینا، 2۔ اچھا شگون لینا۔

علامہ محمد بن احمد الانصاری رحمۃُ اللہِ علیہ نقل کرتے ہیں:اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی پائے تکمیل تک پہنچائے اور جب برا کام سنے تو اس کی طرف توجہ نہ دے۔

اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ ۚوَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ ؕاَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱)

ترجمہ کنز الایمان:تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسی اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ(مُقَدَّر) کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں ۔(پ 9، اعراف:131)

مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:"جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت(قحط سالی وغیرہ) آتی تھی تو حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بدشگونی لیتے تھے، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہر ہوئے ہیں، تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔"

حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے بدشگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔

بد شگونی کا حکم:

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یااچھا شگون لینا مستحب ہے۔

میٹھی میٹھی اسلامی بہنو! نہ چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات انسان کے دل میں برے شگون کا خیال آ ہی جاتا ہے، اس لئے کسی شخص کے دل میں بدشگونی کا خیال آتے ہی اسے گناہگار قرار نہیں دیا جائے گا، کیونکہ محض دل میں برا خیال آ جانے کی بنا پر سزا کا حقدار ٹھہرا نے کا مطلب کسی انسان پر اس کی طاقت سے زائد بوجھ ڈالنا ہے اور یہ بات شرعی تقاضے کے خلاف ہے۔

بد شگونی کے 5 اسباب و علاج :

1۔بدشگونی کا پہلا سبب اسلامی عقائد سے لاعلمی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ انسان تقدیر پر ان معنوں میں اعتقاد رکھے کہ ہر بھلائی اور برائی اللہ نے اپنے علمِ ازلی کے موافق مقدر فرما دی ہے، جیسا ہونے والا تھا، جو جیسا کرنے والا تھا، اپنے علم سے جانا اور وہی لکھ دیا۔

2۔بد شگونی کا سبب عورتوں میں توکل کی کمی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ جب بھی کوئی بدشگونی دل میں آئے تو ربّ پر توکل کریں، اِنْ شَاء َاللہ بدشگونی کا خیال دل سے جاتا رہے گا۔

3۔بدشگونی کا تیسرا سبب بد فالی کی وجہ سے کام سے رُک جانا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ جب کسی کام میں بدفالی نکلے تو اسے کرگزریں اور اپنے دل میں اس خیال کو جگہ نہ دیجئے۔

4۔بد شگونی کا چوتھا سبب اس کی ہلاکت خیزیوں اور نقصانات سے بے خبری ہے کہ بندہ جب کسی چیز کے نقصان سے ہی باخبر نہیں ہے تو اس سے بچے گا کیسے؟ اس کا علاج یہ ہے کہ انسان بدشگونی کی ہلاکتوں کو پڑھے، ان پر غور کرے اور ان سے بچنے کی کوشش کرے۔

عورتوں میں بدشگونی سے چند نقصانات:

بدشگونی دینی و دنیاوی دونوں اعتبار سے خطرناک ہے، یہ عورت کو وسوسوں کی دلدل میں اتار دیتی ہے، چنانچہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے ڈرنے لگتی ہے، وہ اپنی پرچھائی سے بھی خوف کھاتی ہے، اس وہم میں مبتلا ہوتی ہے کہ دنیا کی ساری بدبختی و بدنصیبی اسی کے گرد جمع ہو چکی ہے اور دوسرے لوگ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں، ایسی عورتیں اپنے پیاروں کو بھی وہمی نگاہوں سے دیکھتی ہیں، جس سے دل میں کُدورت(یعنی دشمنی) پیدا ہوتی ہے۔

٭بد شگونی کی شکار عورتوں کا اللہ پاک پر اعتماد اور توکل کمزور ہوجاتا ہے۔

٭اللہ پاک کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔

٭تقدیر پر ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔

٭بدشگونی کی شکار عورتوں کے لئے شیطانی وسوسوں کا دروازہ کھلتا ہے۔

٭بد شگونی کی وجہ سے اگر رشتے توڑ دیئے جائیں تو آپس کی ناچاقیاں جنم لیتی ہیں۔

٭جو عورتیں اپنے اوپر بدفالی کا دروازہ کھول لیتی ہیں، انہیں ہر چیز منحوس نظر آنے لگتی ہے۔

٭کسی کے گھر پر کوئی اُلّو کی آواز سن لی تو اعلان کر دیتی ہے کہ اس گھر کا کوئی فرد مرنے والا ہے۔

٭نئی دلہن کے ہاتھ سے اگر کوئی چیزگر کر ٹوٹ جائے تو اسے منحوس قرار دیتی ہیں، اور بات بات پر اس کی دل آزاری کرتی ہیں۔

5۔بدشگونی کا پانچواں سبب روز مرہ کے معمولات میں وظائف شامل نہ ہونا ہے، اس کا علاج اعلی حضرت، امام اہلسنت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان کچھ یوں ارشاد فرماتے ہیں:"بدشگونی کے خطرے، وسوسے جب کبھی پیدا ہوں، ان کے واسطے قرآن کریم و حدیث شریف سے چند مختصر نافع(فائدہ دینے والی) دعائیں لکھتا ہوں، انہیں ایک ایک بار آپ اور آپ کے گھر والے پڑہیں، اگر دل پختہ ہوجائے اور وہ وہم جاتا رہے تو بہتر، ورنہ جب وہ وسوسے پیدا ہوں، تو ایک بار پڑھ لیں اور یقین کیجئے کہ اللہ اور رسول کے وعدے سچے اور شیطان ملعون کا ڈرانا جھوٹا، اللہ کی مدد سے وہ وہم ختم ہو جائے گا اور اصلاً کبھی کسی طرح نقصان نہ پہنچے گا اور وہ دعایہ ہے:لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا ۚهُوَ مَوْلٰىنَا ۚوَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱)

ترجمہ کنز الایمان: ہمیں نہ پہنچے گا مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دیا وہ ہمارا مولیٰ ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔(پ 10، التوبہ:51)


عورتوں میں پائی جانے والی 5 بد شگونیاں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:مجھ پردُرودپاک پڑھناپُل صراط پر نور ہے، جو روزِ جمعہ مجھ پر 80 بار درود پاک پڑھے، اُس کے اسّی سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اسلام میں بدشگونی لینا جائز نہیں، بد فالی اور بدشگونی لینا حرام ہے، اسلام میں نیک شگون لینا جائز ہے، حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی علیہ رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: بدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔

اچھا شگون یہ ہے جس کام کا ارادہ کیاہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سُن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے، جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بدشگونی ہے، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہواور اپنا کام خوشی خوشی پایہ تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا کلام سنے تو اس کی طرف توجّہ نہ دے اور نہ ہی اس کے سبب سے کام سے رُکے۔

بدشگونی:

شگون کامعنی ہے"فال لینا"، یعنی کسی چیز ، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُرا سمجھنا، (اسی وجہ سے بُرا فال لینے کو بدشگونی کہتے ہیں۔)

مفہومِ حدیث:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے بدشگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔

عورتوں میں پائی جانے والی بدشگونیاں:

عام طور پر عورتوں میں زیادہ بدشگونی لینے کا رجحان پایا جاتا ہے، مثلاً

1۔سامنے سے کالی بلی گزر جائے تو کہتی ہیں کہ اب کام نہیں ہوگا یا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

2۔اگر گھر کی چھت یا دیوار پر کوّا بیٹھ کر بولے تو کہا جاتا ہے، آج گھر میں مہمان آئیں گے۔

3۔اگر نئی نویلی دلہن سے کچھ ٹوٹ جائے تو اسے منحوس کہا جاتا ہے۔

4۔صبح سویرے کام کرنے سے پہلے کوئی حادثہ پیش آئے تو کہا جاتا ہے، آج کا دن بہت بُرا گزرے گا۔

5۔کسی ملازم سے کوئی کام خراب ہو جائے تو اس کو منحوس قرار دے دیا جاتا ہے۔

6۔کسی کے گھر یا گاؤں میں اُلّو بول پڑے تو کہتے ہیں، یہ گاؤں یا گھر ویران ہونے والے ہیں۔

عام طور پر پہلی دو بدشگونیاں زیادہ لی جاتی ہیں، بدشگونی لینا اسلام میں جائز ہی نہیں ہے، لہذا ہمیں اس سے بچنا چاہئے، اگر کسی کے دل میں کوئی بدشگونی آئے بھی، تو فوراً اس خیال کو دور کر دینا چاہئے، اوراد و وظائف کا معمول بنائیں، اللہ پر توکّل رکھیں، اس بات پر یقین رکھیں کہ جو اللہ نے تقدیر میں لکھا ہے وہی ہوگا، بدشگونی کا اثر نہیں ہوگا، اسلامی عقائد پر اپنا اعتقاد رکھیں۔اللہ پاک ہمیں بدشگونی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ پاک پر ہمارا توکّل مضبوط ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


اللہ پاک نے انسان کو دو باطنی قوتوں کا مجموعہ بنایا ہے، ایک عقل اور دوسری شہوت، پھر ان دونوں قوتوں کے کچھ مددگار مقرر فرمائے ہیں، پہلی قوت کے مددگار حضراتِ انبیاء، فرشتے اور نیک لوگ ہیں، دوسری قوت کے مددگار شیطان، نفس اور بُرے لوگ ہیں، انسان اگر عقل کی بات مانتا ہے تو وہ اسے تقویٰ و پرہیزگاری کی طرف لے جاتی ہے اور اگر شہوت و خواہش کے پیچھے چلتا ہے تو وہ اسے فسق و فجور کی جانب لے جاتی ہے۔

پہلی چیز کو اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری سے تعبیر کیا جاتا ہے اور دوسری بات کو اس کی نافرمانی و گناہ کہا جاتا ہے، جس طرح اطاعت بالاتفاق عمدہ وپسندیدہ ہے، اسی طرح گناہ بھی بُرا و ناپسندیدہ ہے، اطاعت انسان کو دنیا و آخرت میں عزت و عظمت سے سرفراز کرتی ہے، جبکہ گناہ اسے ذلت و رسوائی کے گہرے گڑھے میں پہنچا دیتی ہے، یہ واضح ہے کہ جب تک گناہوں کی پہچان نہ ہوگی، ان سے بچنا مشکل ہے، لہذا ان کی پہچان بہت زیادہ ضروری ہے، خاص طور پر آج کے زمانے میں کہ جہاں ہر سُو گناہوں کی بھرمار ہے، جھوٹ، غیبت، حسد، تکبر وغیرہ گناہوں کو گویا گناہ ہی نہیں سمجھا جاتا، ان ہی میں سے ایک بدشگونی ہے، بدشگونی سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز، شخص، عمل یا آواز یا وقت کو اپنے حق میں برا سمجھنا۔"اس کے متعلق دو فرامینِ مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ملاحظہ ہوں:جس نے بد شگونی لی اور جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 285تا286)اور فرمایا بدشگونی لینا شرک ہے۔(76 کبیرہ گناہ، ص192)

حضرت امام محمد آفندی رومی برکلی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:بد شگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مستحب ہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ 286)

بعض عورتوں میں درج ذیل بدشگونیاں پائی جاتی ہیں :

1۔کنواری لڑکی کے میت کو غسل دینے سے اس کو آسیب کا مسئلہ ہو جائے گا۔

2۔کنواری لڑکی اعتکاف کرے تو اس پر جنات کے اثرات ہو جائیں گے۔معاذاللہ

3۔تجہیزوتکفین سے بچے ہوئے سامان کو استعمال کرنے سے نحوست آتی ہے۔

4۔شیشہ ٹوٹے، تو کچھ بُرا ہونے والا ہے۔

5۔اگر کتا روئے یا بلی چھت پر آ کر بولے تو اس گھر میں یا آس پاس میں کہیں کوئی فوت ہونے والا ہے۔

بدشگونی انسان کی دنیاوی زندگی کے لئے بھی خطرناک ہے کہ اس سے حوصلے پست ہوجاتے ہیں اور وہ ہرچھوٹی بڑی چیز سے ڈرنے لگتا ہے، یہاں تک کہ اپنے سائے سے بھی، اس کا سکون برباد ہو جاتا ہے، اسے لگتا ہے کہ ساری بدنصیبی میرے اردگرد جمع ہو چکی ہے اور باقی سکون سے زندگی گزار رہے ہیں، اس کی وجہ سے انسان ذہنی و قلبی طور پر ناکارہ ہو جاتا ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی انسان کے دل میں بعض اوقات بُرے شگون کا خیال آ ہی جاتا ہے، اس لئے کسی شخص کے دل میں بدشگونی کا خیال آتے ہی اسے گنہگار نہیں قرار دیا جائے گا، اگر کسی نے بدشگونی کا خیال دل میں آتے ہی اسے جھٹک دیا تو اس پر کچھ الزام نہیں، لیکن اگر اس نے بد شگونی کی تاثیر کا اعتقاد رکھا اور اس اعتقاد کی وجہ سے اس کام سے رک گیا تو گناہ گار ہوگا۔اللہ ہمیں بدشگونی اور دیگر باطنی بیماریوں سے شفا دے کر ہماری مغفرت فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم


دن کے گیارہ بجے تھے،  گھر کے دروازے کی بیل بجی، رخشندہ بیگم نے دروازہ کھولا، رضیہ اندر داخل ہوئی اور بولی:سلام! بی بی جی

رخشندہ بیگم:وعلیکمُ السلام

رضیہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی، رخشندہ بیگم کچن میں کام کر رہی تھی، مگر رخشندہ بیگم نے محسوس کیا کہ آج رضیہ بُجھی بُجھی سی ہے۔

رخشندہ بیگم:کیا ہوا خیریت تو ہے؟

رضیہ بولی:بی بی جی! جو میری سہیلی کی شادی ہوئی تھی نا، اُس کے سُسر کا انتقال ہوگیا، اب اُس کو گھر والے منحوس کہہ رہے ہیں، بات بات پر تنگ کر رہے ہیں، اتنے میں رخشندہ بی بی کچن سے کمرے میں آگئیں اور کہا: وہ تو شادی سے پہلے بیمار تھے نا!

رضیہ بولی: جی بی جی!

رخشندہ بیگم بولی:کسی شخص کو منحوس قرار دینے میں اس کی سخت دل آزاری ہے، موت کا ایک وقت مقرر ہے، یہ تو بد شگونی ہے اور بدشگونی حرام ہے۔

رضیہ: بی بی جی! بد شگونی کیا ہے؟

رخشندہ بیگم:ہمارے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے بد شگونی لینے والوں سے بیزاری کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے: لَیْسَ مِنَّا مَنْ تَطَیَّرَ وَلَا تُطُیَّرَ لَہٗ۔یعنی جس نے بدشگونی لی یا جس کے لئے بدشگونی لی گئی، وہ ہم میں سے نہیں(یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، 18/162، حدیث 355، فیض القدیر، 3/288، تحت الحدیث 3256، ماخوذ از بدشگونی ،ص 19)

رخشندہ بیگم: بدشگونی عالمی بیماری ہے،عورتوں میں بھی بدشگونی رائج ہے:

1۔نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص انتقال کر جائے۔

2۔ یا کسی عورت کے صرف بیٹیاں ہی پیدا ہوں، تو اس پر منحوس ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔

3۔حاملہ عورت کو میّت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر بُرا اثر پڑے گا۔

4۔جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں۔

5۔سورج گرہن کے وقت حاملہ عورت چُھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ کٹایا چِرا ہوگا۔

رخشندہ بیگم:دیکھو رضیہ!شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا شگون یا بُرا شگون سمجھنا، اس کی بنیادی دو قسمیں ہیں:

برا شگون۔

اچھا شگون۔

علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی تفسیرِ قرطبی میں نقل کرتے ہیں کہ اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا ہو، اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا، یہ اس وقت ہے جب کلام اچھا ہو، اگر برا ہو تو بد شگونی، شریعت نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ انسان اچھا شگون لے کر خوش ہو اور اپنا کام خوشی خوشی تکمیل تک پہنچائے اور جب بُرا سُنے تو اس طرف توجہ نہ کرے اور نہ ہی اس کے سبب اپنے کام سے رُکے۔

اچھے شگون کی مثال یہ ہے کہ ہم کسی کام کو جا رہے ہیں، کسی بزرگ کی زیارت ہوگئی تو اسے اپنے لئے باعثِ خیر و برکت سمجھنا اور یہ مستحب ہے۔

برے شگون کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص سفر کے ارادے سے نکلا، لیکن راستے میں کالی بلی راستہ کاٹ کر گزر گئی، اب اس شخص نے یقین کرلیا کہ اس کی نحوست کی وجہ سے مجھے سفر میں ضرور کوئی نقصان اٹھانا پڑے گا اور سفر سے رُک گیا، تو سمجھ لیجئے کہ وہ شخص بدشگونی میں مبتلا ہوگیا ہے۔ عموماً ہمارے معاشرے میں کوؤں کی کائیں کائیں کرنے سے بد شگو نی (بری فال) لیتے ہیں، کبھی بلی کے رونے کو منحوس سمجھتے ہیں تو کبھی رات کا وقت کتے کے رونے کو، مُرغی دن کے وقت اذان دے تو بد فالی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔مغرب کے وقت دروازے میں نہیں بیٹھنا چاہئے، کیونکہ بلائیں گزرتی ہیں، بچہ سویا ہوا ہے، اس کے اوپر سے کوئی پھلانگ کر گزر جائے تو بچے کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔امام ابو الحسن علی بن محمد ماوردی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: جان لو! بدشگونی سے زیادہ فکر کو نقصان پہنچانے والی اور تدبیر کو بگاڑنے والی کوئی شے نہیں۔(ادب الدنیا والدین، ص4، ماخوذ از بدشگونی، ص 19)


انسانی وجود بہت ساری صلاحیتوں، خوبیوں، قابلیتیوں کاجامع ہے ساتھ ساتھ انسانوں میں خامیوں، برائیوں کا وجود بھی ہوتا ہے۔ اس دنیا میں چونکہ اکثر لوگ علم کی روشنی سے دور ہیں اور انسانوں کا حصول علم کی طرف شوق کا نہ ہونا، انسانوں میں برائیوں اور خامیوں کا سبب ہیں ۔لیکن اس طوفان کو دور کرنے کے ذرائع بھی موجود ہیں۔

سب سے پہلے ان تمام چیزوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے اور ان کے بارے میں معلومات کا ہونا ضروری ہے۔ آپ کے ہاتھ میں موجود "ماہانہ فیضان مدینہ" ان تمام امور میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس میں آپ بہت سارے موضوعات کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

ابھی ہم اسی انسانی برائیوں میں سے بد شگونی کے بارے میں پڑھیں گے۔

شگون کا لغوی معنی ہےفال لینا یعنی کسی چیز ،شخص ،عمل ،آواز یا وقت کو اپنے حق میں برا سمجھنا ۔ ان کی بنیادی دو قسمیں ہیں :1) برا شگون 2 ) اچھا شگون

علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمتہ اللہ علیہ تفسیر قرطبی میں فرماتے ہیں:" اچھا شگون یہ ہے کہ جس کام کا ارادہ کیا اس کے بارے میں کوئی کلام سن کر دلیل پکڑنا۔ یہ اس وقت ہے کہ جب کلام اچھا ہو ۔اگر برا ہو تو بدشگونی ہے۔(الجامع الاحکام القرآن للقرطبی 8/132)

بد شگونی لینا حرام اور نیک فال لینا مستحب ہے۔(الطریقۃ المحمدیہ ، 2/17،24)

اب آئیے عورتوں میں پائی جانے والی بدشگونیاں کی 5 مثال پڑھتے ہیں:

1) حاملہ عورت کو میت کے قریب نہ آنے دینا کہ بچے پر برا اثر پڑے گا ۔

2) خالی برتن یا چمچ آپس میں ٹکرائے تو گھر میں جھگڑا ہوگا۔

3) سورج گرھن کے وقت حاملہ عورت چھری سے کوئی چیز نہ کاٹے کہ بچہ پیدا ہوگا تو اس کا ہاتھ یا پاؤ کٹا یا ٹیرا ہوگا۔

4) دودھ پیتے بچے کے بالوں میں کنگھی کی جائے تو اس کے دانت ٹیرھے نکلتے ہیں۔

5) بچہ سویا ہوا ہو اس کے اوپر کوئی پھلانگ جائے یعنی گزر جائے تو اس کا قد چھوٹا رہ جاتا ہے۔


بدشگونی کی تعریف : شگون کا معنی ہےفال لینا اور کسی چیز ،شخص ،عمل ،آواز یا وقت کو اپنے حق میں برا سمجھنا بد شگونی ہے۔

پیارے پیارے اسلامی بھائیوں بد شگونی نہ آج کی ایجاد کردہ کوئی چیز اور نہ ہی چودہ سال پہلے کی بلکہ یہ تو پہلی قوموں سے چلتا آ رہا ہے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی پارہ 4 سورۃ الاعراف آیت نمبر 131 کے تحت لکھتے ہیں: جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت آتی تھی تو حضرت موسی علیہ سلام اور ان کے ساتھی مومنین سے بد شگونی لیتے تھے۔ کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ظاہر ہوئے ہیں تب سے ہم پر مصیبت بلائیں آنے لگیں۔

حدیث میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے:" جس نے بد شگونی لی اور جس کے لیے بدشگونی لی گئی ہے وہ ہم میں سے نہیں"۔

بد شگونیاں :

1۔ اُلّو کی آواز سن لینے کے بعد بدشگونی لیتے ہیں کہ کوئی مرنے والا ہے یا خاندان میں جھگڑا ہونے والا ہے۔

2۔ نئی دلہن کے ہاتھوں اگر کوئی چیز گر کر ٹوٹ جائے تو اس کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اور بات بات پر اس کی دل آزاری کی جاتی ہے۔

3۔ اگر نئی ماسی کوئی چیز گرا دے یا توڑ دے تو اسے منحوس قرار دے کر نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔

4۔ حاملہ عورت کو میت کے قریب نہیں آنے دیتے کہ بچے پر برا اثر پڑے گا۔

5۔ جوانی میں بیوہ ہو جانے والی عورت کو منحوس جانتے ہیں

6۔ نئی نویلی دلہن کے گھر آنے پر خاندان کا کوئی شخص فوت ہو جائے یا کسی عورت کی صرف بیٹیاں پیدا ہو تو اس پر منحوس کا لیبل لگ جاتا ہے۔


دور جاہلیت میں اہل عرب مختلف قسم کی باطل رسم و رواج اور بری عادتوں میں مبتلا تھے انہیں میں سے ایک بدشگونی بھی ہے جسے یہ اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے اور اسی کے مطابق عمل کرتے تھے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور جاہلیت کے تمام شرکیہ عقائد ،فاسد خیالات وتوہمات کو ختم کرکے ہمیں دین کامل اور درست عقائد عطا فرمائے۔

بد شگونی کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے بد شگونی لی اور جس کیلئے بد شگونی لی گئی وہ ہم سے نہیں(یعنی ہمارے طریقے پرنہیں)۔(المعجم الکبیر،162/18،حديث:355)

افسوس....! اسلامی تعلیمات سے دوری کی بناء پر آج یہ (بد شگونی) ہمارے معاشرے میں اس قدر جڑ پکڑ چکی ہے کہ کوئی بھی ان سے باہر نہیں خاص کر عورتوں میں اس کا بڑا رجحان ہے۔

پرانی عورتوں میں یہ آن (بد شگونی) کے نام سے جانی جاتی ہے اور ان میں یہ بات تو بہت زیادہ مشہور ہے کہ یہ آن(بد شگونی) اِس خاندان میں ہے تو فلاں آن(بد شگونی) اُس خاندان میں۔

بد شگونی:۔کسی چیز، شخص، عمل، آواز یا وقت کو اپنے حق میں برا سمجھنا بد شگونی (آن) کہلاتا ہے۔(مطبوعہ مکتبۃ المدينہ بد شگونی،صفحہ:10 مفہوما)

بہر حال لا علمیت کی وجہ سے عورتوں میں بہت سی بد شگونیاں پائی جاتی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

حاملہ عورت کا نہر پار کرنا : مختلف قوموں اور برادریوں میں کئی قسم کی بد شگونیاں پائی جاتی ہیں مگر بعض قوموں میں تو یہ مشہور ہے کہ حاملہ عورت وضع حمل تک کوئی نہر پار نہیں کرے گی(یعنی اس راستہ سے نہیں جائے گی جس میں نہر آتی ہو)اس سے عورتیں یہ بد شگونی لیتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بچہ کو نقصان ہوگا یا پھر ضائع ہوجائے گا حالانکہ یہ بہت عجیب بات ہے کیونکہ بد شگونی کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔

چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔بد فالی کوئی چیز نہیں اور فال اچھی چیز ہے۔ لوگوں نے عرض کی! فال کی چیز ہے؟ فرمایا: "ا چھا کلمہ جو کسی سے سنے"۔

(بخاری، کتاب الطب، باب الطیرة،36/4، حديث:5754)

2۔حاملہ کا میت کے قریب جانا: جہاں معاشرے میں دیگر بد شگونیاں پائی جاتی ہیں وہیں ایک یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ حاملہ عورت کو میت کے قریب جانے نہیں دیا جاتا کہ بچہ پر اس سے برا اثر پڑے گا۔بھلا....! میت بھی کسی جان کو نقصان پہنچا سکتی ہے؟

3۔اولاد کے مرنے پر نتھ(لونگ) اتارنا: وہمی گھرانوں کے بارے میں یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ جب کسی عورت کے اولاد پیدا ہوتے ہی بقضاءِ الہی مرجائے تو ان کے مرنے کی وجہ نتھ کو ٹہرا کر یہ نتھ اتار دیتی ہیں۔بھلا...! کسی کی موت کا تعلق نتھ سے کیسے ہوسکتا ہے؟ حالانکہ زندگی اور موت تو اللہ تعالی کے دست قدرت میں ہے۔

4۔ حاملہ عورت اور چاند گرہن :بعض توہم پرست گھروں میں چاند گرہن والی رات حاملہ کی خاص حفاظت کی جاتی ہے اور انکا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر یہ سوئی یا چھری سے کوئی کام کرے تو بچہ کا کوئی عضو کٹا ہوا ہوگا یا ناقص ہوگا۔

5۔ کثرت بیٹی :آج بھی اکثر لوگ اہل عرب کی طرح اپنی بیٹیوں کو منحوس اور برا سمجھتے ہیں اور بیٹوں کو بیٹیوں پر اہمیت دیتے ہیں اس قدر انکی سوچ پست ہوچکی ہے کہ بیٹی کی پیدائش پر انکے چہرے خوشیوں کی کرنیں بکھیرنے کے بجائے رنج و غم کے آثار پیش کرتے نظر آتے ہیں اور انہیں طرح طرح کی تکالیف پہنچانے میں ذرا سی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے جبکہ بیٹی تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔اور بیٹی کیونکر منحوس ہوسکتی ہے؟ حالانکہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم بھی خود بیٹیوں والے تھے۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :بیٹیوں کو برا مت کہو، میں بھی بیٹیوں والا ہوں۔ بے شک بیٹیاں تو بہت محبت کرنے والیاں، غمگسار اور بہت زیادہ مہربان ہوتی ہیں۔"

(مسند الفردوس للدیلمی، 415/2، حديث:7556)

ماہنامہ فیضان مدینہ کے معزز قارئین...!

دیکھا آپ نے ہمارے معاشرے میں کیسی کیسی برائیاں اور بد فالیاں پائی جاتی ہیں اگر آپ بھی کسی قسم کی بد فالی کا شکار ہیں تو خدارا...! ایسی سوچ کو ختم کریں کیونکہ یہ ذہنی سکون کے لیے زہر قاتل اور دل شکستگی (depression) کا سبب ہے۔

کریں نہ تنگ خیالاتِ بَد کبھی،کردے

شُعُور و فکر کو پاکیزگی عطا یا ربّ

(وسائل بخشش،ص93)


بد شگونی کی تعریف: شگون کے معنی ہیں فال لینا یعنی کسی چیز ،شخص ،عمل ،آواز یا وقت کو اپنے حق میں اچھا یا بُراسمجھنا

اسلام اور بد شگونی: اسلام میں بد شگونی کا کوئی تصور نہیں بلکہ دین اسلام نے اسے ناجائز وحرام قرار دیا ہے چناچہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے : فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان: تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لیے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسی اور اس کے ساتھ والوں سے بدشگونی لیتے سن لو ان کے نصیبہ(مُقَدَّر) کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں ۔( پ9،اعراف 131)

مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت (قحط سالی )وغیرہ آتی تھی تو حضرت موسی علیہ السلام اور ان کے ساتھ مؤمنین سے بد شگونی لیتے تھے کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہر ہوئے ہیں تب سے ہمارے اوپر مصیبتیں ،بلائیں آنے لگیں۔

(تفسیر نعیمی پارہ 9 الاعراف ،تحت الآیہ :131 ج9ص117 )

حضور پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! ليس منا من تطير ولا تطير له (یعنی جس نے بدشگونی لی اور جس کے لیے بد شگونی لی گئی وہ ہم میں سے نہیں)

(المعجم الکبیر ،18/162،حديث355،داراحياء التراث1422ھ )

بدشگونی کے عقائد کے حامل لوگ کچھ چیزوں ،واقعات یاعلامات کو اپنے لیے منحوس یانقصان دہ سمجھتے ہیں اورمنفی خیالات کاشکار ہوکر اپنی خوشیاں اور سکون برباد کردیتے ہیں ،کہنےکو تو ہم سائنسی دور میں رہتےہیں جہاں ہر واقعے اورنظریہ کے دلائل اور حقائق تلاش کیے جاتے ہیں مگر اس کے باجود دنیا کی ترقی یافتہ اقوام میں بھی بدشگونی عام ہے،اکثر عورتیں اس مرض کا شکار نظر آتی ہیں طرح طرح کےکاموں سے بدشگونی لے لیتی ہیں جیساکہ : مثالیں: (1) اگر حاملہ عورت میت کے قریب جائے تو اس سے بچے کی صحت پر بُرا اثر پڑتاہے(2)عصر کے بعدگھر میں جھاڑو لگانے سے بلائیں نازل ہوتی ہیں (3)خالی برتن آپس میں ٹکڑانا گھر میں لڑائی جھگڑے کاسبب ہے (4)حاملہ عورت سورج گرہن کے وقت چاقو کااستعمال کرے تو بچہ لنگڑالولا پیداہوگا (5)سوئےہوئے بچےکے اوپر سےچھلانگ لگانے سے بچے کا قد چھوٹارہ جاتاہےوغیرہ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور بہنو! مذکورہ بدشگونیوں کے علاوہ بھی کئی بدشگونیاں عورتوں میں پائی جاتی ہیں اس کی ایک وجہ کم علمی اوردینی احکام سے ناواقفیت ہے ،لہذا ہمیں اپنے خیالات کو مثبت رکھنا چاہیے اور علمِ دین سیکھناچاہیے تاکہ اس طرح کے منفی خیالات سے بچاجاسکے ۔