مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
1 year ago

مطالعہ کی تعریف:

لغت میں مطالعہ کا معنیٰ یہ ہے کہ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا ۔(اردو لغت ، 215/18)

جبکہ اصطلاح میں :

بذریعہ تحریر مصنف و مؤلف کی مزاد سمجھنا مطالعہ کہلاتا ہے (ابجدالعلوم 218 )

مطالعہ سے جی نہیں بھرتا : علامہ عبدالرحمن ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میں 6 سال کی عمر میں مدرسہ میں داخل ہوا سات سال کی ابھی عمر تھی کہ میں جامع مسجد کے سامنے میدان میں چلا جایا کرتا تھا وہاں کسی مداری یا شعبدہ باز کے حلقے میں کھڑا ہوکر تماشہ دیکھنے کے بجائے محدث کے درس میں شریک ہوتا وہ حدیث کی سیرت کی جو بات کہتے وہ مجھے زبانی یاد ہو جاتی گھر آکر اس کو لکھ لیتا دوسرے لڑکے دریائے دجلہ کے کنارے کھیلا کرتے تھے اور میں کسی کتاب کے اوراق لے کر کسی طرف نکل جاتا اور الگ بیٹھ کر مطالعہ میں مشغول ہو جاتا ۔

میں اساتذہ اور بچیوں کے حلقوں میں حاضری دینے میں اس قدر جلدی کرتا کے دوڑنے کی وجہ سے میری سانس پھولنے لگتی تھی صبح شام اس طرح گزرتی کہ کھانے کا کوئی انتظام نہ ہوتا (علم و علماء کی اہمیت صفحہ-28 )

آپ رحمۃ اللہ تعالی مزید فرماتے ہیں میری طبیعت کتابوں کے مطالعہ سے کسی طرح سیر نہیں ہوتی جب کسی نئی کتاب پر نظر پڑ جاتی تو ایسا لگتا کہ کوئی خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے ۔ اگر میں اپنے مطالعے کے بارے میں حق بیان کرتے ہوئے یہ کہوں کہ میں نے زمانے طالب علمی میں بیس ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے تو میرا مطالعہ زیادہ ہوگا ۔مجھے ان کتابوں کے مطالعہ سے سلف کے حالات و اخلاق ان کا قوت حافظہ، ذوق عبادت اور علوم نادرہ کا ایسا علم حاصل ہوا جو ان کتابوں کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتا تھا (قیمۃ الزمن عند العلماء صفحہ 62 )

اے عاشقان /عاشقات رسول صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : اپنے بزرگان دین علیہم الرحمۃ دین کا جذبہ مطالعہ سماعت فرمایا گھر ہو یا مدرسہ خلوت ہو یا جلوت ان حضرات کے مطالعہ میں کمی نہیں ہوتی تھی ان کے اسی جذبے کی وجہ سے آج دنیا انہیں یاد کرتی ہے ان کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھتی اور دعائیں دیتی ہے کیونکہ علم دین کا اتنا بڑا سرمایہ ان کے ذریعے ہم تک پہنچا۔مزید ذوق مطالعہ بڑھانے کے لیے ملاحظہ فرمائیے ۔

بزرگانِ دین کے ارشادات :

حضرت سیدنا امام ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا حافظے کی دوا کیا ہے ؟آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کتب کا مطالعہ کرتے رہنا حافظے کی مضبوطی کے لیے بہترین دوا ہے (جامع بیان العلم ،ص ١-۵)

کسی دانا کا قول ہے :جس کی بغل میں ہر وقت کتاب نہ ہو اس کے دل میں حکمت ودانائی راسخ نہیں ہوسکتی (تعلیم المتعلم صفحہ 116 )

علماء کرام رحمھم اللہ السلام فرماتے ہیں کہ کتب فقہ مطالعہ کرنا قیام اللیل یعنی رات میں نفل نماز پڑھنے سے بہتر ہے (در مختار جلد 1 صفحہ 101 )

مطالعہ سے چونکہ علم حاصل ہوتا معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان صاحب علم بنتا ہے اس لئے شیطان اسے روکتا اور سستی دلاتا ہے ۔ مطالعہ کا شوق دل میں اجاگر کرنے اس کی عادت بنانے اور اس پر استقامت پانے کے لئے مطالعہ کرنے کے چند فوائد ملاحظہ فرمائیے ۔

مطالعہ کرنے کے فائدے :

ایمان کی پختگی :

مطالعہ کرنے سے ایمان کی مضبوطی حاصل ہوتی ہے کیونکہ عقائد کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کے مطالعہ سے کئی باریکیوں کا علم ہوتا ہے اور انسان محتاط ہونے کے ساتھ ایمان کی فکر بھی ہر وقت پیش نظر رکھتا ہے

علم میں ترقی :

مطالعہ سے علم بڑھتا ہے یاد رہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہےحدیث پاک میں ہے ہے بے شک علم سیکھنے سے آتا ہے ۔(کنزالایمان جلد 1 صفحہ 14 ،حدیث ٢٩٢٥٢) اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ بھی ہے ۔

عقل و شعور میں اضافہ :

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزت سمیٹتا ہے اور بے شعور کے حصے میں اکثر ناکامی اور ذلت آتی ہے لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ اور تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہی مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے ۔

ذہنی نشاط اور تازگی : مطالعہ نگاہوں میں تیزی اور ذہن و دماغ کو تازگی عطا کرتا ہے جس طرح ایک اچھا دوست ہمیں پرلطف باتوں دلچسپ نکات اور حیرت میں ڈالنے والے حقائق بتا کر تروتازہ کردیتا ہے جس سے طبیعت میں ایک نئی روح اور نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح کتاب بھی ایک اچھے رفیق و ساتھی جیسا کردار ادا کرتی ہے ، افسوس دینی کتب کا مطالعہ کرنے کا شوق دم توڑتا چلا جارہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں دینی اعتبار سے جہالت عام ہے ۔

مطالعہ کرنے کے 14عاداب:

اللہ کی رضا اور حصول ثواب کی نیت سے مطالعہ کریں

مطالعہ شروع کرنے سے پہلے حمدوصلوۃ پڑھنے کی عادت بنائیں

صبح کے وقت مطالعہ کرنا بہت مفید ہے کیونکہ عموما اس وقت نیند کا غلبہ نہیں ہوتا اور ذہن زیادہ کام کرتا ہے

شوروغل سے دور پرسکون جگہ پر بیٹھ کر مطالعہ کریں

اگر جلد بازی یا ٹینشن کی حالت میں پڑھیں گے مثلا کوئی آپ کو پکارے اور آپ پڑھے جارہے ہیں یا استنجا کی حاجت ہے اور آپ مسلسل مطالعہ کیے جا رہے ہیں ایسے وقت میں آپ کا ذہن کام نہیں کرے گا اور غلط فہمی کا امکان بڑھ جائے گا

کسی بھی ایسے انداز پر جس سے آنکھوں پر زور پڑے مثلا بہت مدھم یا زیادہ تیز روشنی میں یا چلتےچلتے یا چلتی گاڑی میں یا لیٹے لیٹے یا کتاب پر جھک کر مطالعہ کرنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہیں

کوشش کریں کہ روشنی اوپر کی جانب سے آ رہی ہوں پچھلی طرف سے آنے میں بھی حرج نہیں جبکہ تحریر پر سایہ نہ پڑھتا ہوں مگر سامنے سے آنا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے

مطالعہ کرتے وقت ذہن حاضر اور طبیعت تروتازہ ہونی چاہیے

صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ زبان سے بھی پڑھیں کہ اس طرح یاد رکھنا زیادہ آسان ہے

وقفے وقفے سے آنکھوں اور گردن کی ورزش کر لیجئے کیونکہ کافی دیر تک مسلسل ایک ہی جگہ دیکھتے رہنے سے آنکھیں تھک جاتی اور بعض اوقات گردن بھی دکھ جاتی ہے

ایک بار مطالعہ کرنے سے سارا مضمون یاد رہ جانا بہت دشوار ہے فی زمانہ میں ہاضمے بھی کمزور حافظے بھی کمزور لہذا دینی کتب و رسائل کا بار بار مطالعہ کریں

اگر کوئی بات خوب غور و خوض کے بعد بھی سمجھ میں نہ آئے تو کسی اہل علم سے بے بلاجھجھک پوچھ لیجئے ،دوران مطالعہ بارہا ایسی باتیں آتی ہیں جو ہمارے لئے بالکل نئی ہوتی ہیں اور ہم انہیں یاداشت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں اس کے لیے ایک الگ رجسٹر بنانا اور مختصر الفاظ لکھ کر صفحہ نمبر کے ساتھ اس بات کو محفوظ لینا بھی فائدہ مند ہے ۔

بعض اوقات یاد کرنے والا مواد زیادہ ہوتا ہے ایسی صورت میں سب کا سب یاد کرلینا بھی ممکن نہیں ہوتا اسی طرح کبھی کسی کتاب کا مکمل مطالعہ کرکے اس مضامین کو ذہن میں محفوظ رکھنا بھی مطلوب ہوتا ہے تو اس طرح کے مواد کو یاداشت میں برقرار رکھنے کے لئے روزانہ تھوڑا تھوڑا مطالعہ کریں استقامت کے ساتھ اسے جاری رکھنا یاداشت کے لیے اہم ترین ہے (حافظہ کیسے مضبوط ہو صفحہ 17 )

امیراہلسنت اور مطالعہ :

امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ اس قدر منہمک ہو کر یعنی توجہ کے ساتھ مطالعہ فرماتے ہیں کہ بارہا یعنی کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ کتاب گھر یعنی مکتب کے اسلامی بھائیوں میں سے کوئی اسلامی بھائی کسی مسئلہ کے حل کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن مطالعہ میں مصروف ہونے کی وجہ سے آپ کو اس کے آنے کی خبر نہ ہوئی اور کچھ دیر بعد اتفاق نگاہ اٹھائی تو اسلامی بھائی نے اپنا مسئلہ عرض کیا آپ نے نہ صرف خود مطالعے کا شوق رکھتے ہیں بلکہ اپنے مریدین و متوسلین محبین کو بھی دینی کتب کے مطالعہ کی ترغیب دلاتے رہتے ہیں (امتحان کی تیاری کیسے کریں صفحہ-23 )

الحمداللہ عزوجل آپ دامت برکاتہم العالیہ کو کثرت مطالعہ اور اکابر علماءکرام کی وجہ سے مسائل شرعیہ اور تصوف و اخلاق پر دسترس حاصل ہے حضرت مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق بہارشریعت کے بارے مطالعہ کے لئے آپ دامت برکاتہم العالیہ کے شوق کا عالم دید ہے ۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے فتاوی کے عظیم الشان مجموعہ فتاویٰ رضویہ کا مطالعہ کا خاص علمی شغف ہے اور امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب بالخصوص احیاء العلوم کو آپ اپنے زیر مطالعہ رکھتے ہیں ۔

مطالعہ کے لئے وقت :

فرض کریں ایک شخص کی عمر 65 سال ہے اور وہ اپنی تعلیم سے فارغ ہوکر پچیس سال کی عمر میں مطالعہ شروع کریں تو وہ چالیس سال مطالعہ کرے گا اور اس مدت میں وہ روز صرف بارہ منٹ میں چار صفحات کے مطالعہ کے ذریعے 57600 صفحات پڑھنے میں کامیاب ہوجائے گا اور اگر ایک کتاب کے سو صفحات شمار کریں تو ٥٧٦ کتابوں کا مطالعہ ہو جائے گا تو آپ بھی روزانہ بارہ منٹ مطالعہ کرنے کی نیت فرمالیں ۔