مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
1 year ago

مطالعہ کے لغت کے اعتبار سے کئی معانی ہیں۔

۱۔ کسی چیز کو اس سے واقفیت حاصل کرنے کی غرض سے دیکھنا۔۲۔غور۔۳۔ توجہ دھیان۴۔ کتاب بینی ۔

۵۔ مشاہدہ

جب کہ اصطلاح میں اس کی یہ تعریف ہے کہ بذریعہ تحریر مصنف یا مؤلف کی کلام کی مراد سمجھانا مطالعہ کہلاتا ہے۔لفظ مطالعہ جس لفظ سے بنا ہے علامہ غلام نصیر الدین نے اس لحاظ سے دلچسپ نکتے ذکر کیے ہیں۔

۱۔ مطالعہ کا مادہ طلوع سے ہے اور طلوع پردہ غیب سے عالم ظہور میں آنے کو کہتے ہیں اس لیے کہا جاتا ہے کی طلعت الشمس یعنی سورج عالم غیب عالم ظہور میں طلوع ہوا، اور مطالعہ باب مفاعلہ سے ہے، اور مفاعلہ میں جانبین سے برابر کے علم کو کہا جاتاہے اب مطالعہ کا یہ معنی ہوا کہ ادھر طالب نے اپنی پوری توجہ کتاب کی طرف مبذول کی اور ادھر کتاب نے طالب کو اپنے فیوض و برکات سے نوازا اب دونوں کے مابین گہری دوستی ہوگئی۔

مدینہ۔مطالعہ ایمان کی مضبوطی اور پختگی کا باعث ہے تو مگر یہ اس وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحید ور سالت کی شمع مزید روشن ہوجائیں اس لیے جب کوئی شخص ایمان کو اور نور نواز نے والی معتبر و مستند کتب جیسے کہ تمہید الایمان بہار شریعت کا پہلا حصہ جا الحق، حافظ ملت عبدالعزیز محدث مبارک پوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا رسالہ المصباح الجدید بنام حق و باطل کافرق کے مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کو پختگی ملتی ہے، اور اس کے نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلما ن بنتا ہے۔

مطالعہ حصولِ معرفت کا ذریعہ ہے یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مطالعے سے آغاز کرتا ہے پھر کائنات کے مطالعہ مشاہدہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس پر درجہ بدرجہ کائنات کے سربستہ رازوں کے پردے کھلتے چلے جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ انسان معرفتِ نفس و جہاں سے ترقی کرتے کرتے معرفتِ باری تعالیٰ کے راستوں کو حاصل کرلیتا ہے گویا کہ مطالعہ معرفت کے لیے سیڑھی کا کام کرتا ہے۔معرفتِ الہی اور نفس کو بیکار بنانے کے لیے احیا العلوم کا مطالعہ بے حد مفید ہے۔

مدینہ، مطالعہ سے عقل وشعور میں اضافہ ہوتا ہے باشعور انسان ہمیشہ کا میابیوں اور عزتیں سمیٹا ہے اور بے شعور کے حصے اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہا کیا بولنا ہے اور کیا کیا کرنا ہے، یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول وفعل ادا کرتا ہے، اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت ہی نہیں، لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ و تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت ہے۔

مطالعہ انسان کو مختلف قوموں کے حالات اور ان کے تہذیب و ثقافت وغیرہ سے آگاہی بخشتا ہے اس آگاہی کے تناظر مین انسان اپنی دیگر تہذیبوں کا تقابل کرتا ہے اور وجہ ترجیح تلاش کرتا ہے اب یا تو اپنے تہزیب پر مزید پختہ ہوجاتا ہے یا پھر اسے خیر باد کہہ کر دوسری طرف تہذیب کو اختیار کرلیتا ہے۔