مطالعہ کے فوائد

Tue, 31 Mar , 2020
1 year ago

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ارشاد ہوا۔

اے ابراہیم ! میں علیم ہوں، ہر علیم کو دوست رکھتا ہوں یعنی علم میری صفت ہے اور جو میری اس صفت (علم) پڑھے وہ میرا محبوب ہے۔(جامع بیان العلم وفضلہ ، ص ۷۰۔ حدیث ۲۱۲)

مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟

حصولِ علم ِ دین کے لیے مطالعہ انتہائی ضروری ہے کہ اچھی اور دینی معلومات سے بھرپور کتب کا مطالعہ نظرو فکر کی درستگی اور حصولِ علم کا بہترین ذریعہ ہے۔

۲۔ جیسا کہ شیخِ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:

مطالعہ علمِ دین کی جان ہے، اور مطالعہ سے اتنا علم حاصل ہوگا ، گویا جس کی انتہا نہیں۔

سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ تعالٰی ع لیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشادِ گرامی ہے۔

انما العلمہ بالتعلمہ ، یعنی علم سیکھنے سے ہی آتا ہے۔(بخاری کتاب العلم، باب العلم قبل القول والعمل ص ۹۱)

لہذا جس علم سے ہر وقت واسطہ پڑتا ہے اس کی مثال غذا کی طرح ہے کہ جس طرح ہے کہ جس طرح ایک انسان کے لیے غذا لازمی ہے، اسی طرح جس علم سے اس کا تعلق ہے اسے سیکھنے اور اس پر عمل کر نے کے لیے مطالعہ ضروری ہے، کیونکہ عمل کی کیفیت جاننے سے پہلے اس کا علم ہونا بھی ضروری ہے، جیسا کہ حضرت سیدنا شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں۔

عمل سے پہلے علم ضروری ہے کیونکہ عمل کے فرض ہونے کی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنا بھی فرض ہوجاتا ہے۔(قوت القلوب ، الفضل الحادی والثلاثون ۱۰/۲۲۹ )

مطالعہ کے فوائد و منافع

مطالعہ کے تمام فوائد کو احاطہ تحریرمیں لانا ممکن نہیں، البتہ ان کثیر فوائد میں سے چند تحریر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی قدر مطالعہ کے لیے رغبت و تحریک پیدا کی جاسکے۔

ایمان کی پختگی

مطالعہ ایمان کی مضبوطی و پختگی کا باعث ہے، مگر یہ اسی وقت ہوگا جب کسی کتاب کو پڑھنے کے بعد ایمان کو تازگی ملے اور انسان کے دل میں موجود توحیدو رسالت کی شمع مزید روشن ہوجائیں،

اگر کوئی شخص ایمان کو ترقی و نور عطا کرنے والی مستند کتب کا مطالعہ کرتا ہے تو ایمان کی پختگی ملتی ہے، اوراس کی نورانیت میں اضافہ ہوتا ہے، اور مطالعہ کرنے والا حقیقی مسلمان بنتا ہے۔

علم میں ترقی :

مطالعہ سے علم بڑھتا ہے، یاد رہے کہ علم سیکھنے ہی سے آتا ہے ، اس کے حصول کے لیے کوشش کرنی پڑتی ہے، اور سیکھنے کا ایک بہترین ذریعہ مطالعہ ہے

علم کی برکتیں بے شمار ہیں۔

علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نقل فرماتے ہیں۔

علم کے علاوہ حضور نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کسی چیز میں اضافہ کی دعا کا حکم نہیں دیا گیا۔

(فیض القدیر ج ۲، ص ۱۶۸، تحت الحدیث ۱۵۰۴)

معرفت کا حصول

مطالعہ حصولِ معرفت کا ذریعہ ہے، یہ حقیقت ہے کہ انسان کتاب کے مطالعہ سے آغاز کرتا ہے، اور پھر کائنات کے مطالعہ ( مشاہدہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر اس پر درجہ بدرجہ کائنات کے سربستہ رازوں کے پردے کھلتے چلے جاتے ہین اور ایک وقت آتا ہ ے کہ انسان معرفتِ نفس و جہاں سے ترقی کرتے کرتے معرفت باری تعالیٰ کے راستوں تک رسائی حاصل کرلیتا ہے گویا مطالعہ معرفت کے لیے سیڑھی کا کام کرتا ہے۔

عقل و شعور میں اضافہ

مطالعہ سے عقل و شعور میں اضافہ ہوتا ہے ، باشعور انسان ہمیشہ کامیابیاں اور عزتیں سمیٹتا ہے، اور بے شعورکے حصہ میں اکثر ناکامی و ذلت آتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ باشعور انسان یہ سیکھ جاتا ہے کہ کہاں کیا بولنا اور کیا کرنا ہے یعنی عاقل انسان سوچ سمجھ کر قول و فعل ادا کرتا ہے، اور بے شعور کو سوچنے سمجھنے کی نوبت ہی نہیں آتی، لہذا شعور کی بیداری میں جہاں دیگر عوامل جیسے مشاہدہ، تجربہ کردار ادا کرتے ہیں وہیں مطالعہ بھی بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔

مطالعہ کا مقصد

انسان کے ہر کام کے ساتھ اس کی کوئی نہ کوئی غرض یا مقصد وابستہ ہوتا ہے اسی طرح مطالعہ و کتب بینی سے بھی اس کی کئی اغراض اور مقاصد جڑے ہوئے ہوتے ہیں، جن مقاصد کے تحت انسان مطالعہ کرتا ہے،

مطالعہ کا ایک مقصد علم حاصل کرنا ہے، جہاں مطالعہ انسان کی شخصیت کو ترقی کی بلند منزلوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے وہیں یہ حصولِ علم کا بھی وسیلہ ہے اور علم وہ نور ہے کہ جو شے اس کے دائرے میں آجاتی ہے وہ منکشف و ظاہر ہوجاتی ہے۔

چالیس سال تک مطالعہ

کوشش کیجئے کہ کتاب ہر وقت ساتھ رہے کہ جہاں موقع ملے کچھ نہ کچھ مطالعہ کرلیا جائے اور کتاب کی صحبت بھی میسر رہے۔

حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں،

مجھ پر چالیس سال اس حال میں گزرے ہیں کہ سوتے جاگتے کتاب میرے سینے پر رہتی ہے۔

(جامع بیان العلم وفضلہ ، ۲/۳۶۰ ، الرقم : ۲۳۳۶)

کامیاب مبلغ بننے کے لیے ۔

کامیاب مبلغ بننے کے لیے بھی مطالعہ بے حد ضروری ہے، مطالعہ کرکے تیار کرنے والے مبلغ کا بیان زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب کہ بغیر مطالعے کے بیان کرنے والے مبلغ سے غلطی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، لہذا مکتبہ المدینہ سے جو بھی کتاب یا رسالہشائع ہو پہلی فرصت میں خرید کر مطالعہ کی عادت بنانی چاہیے۔

مطالعہ سےمبلغ کو ہی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس طرح تیار کردہ بیان سننے والوں پر بھی جادو کی طرح اثر کرتا ہے، اور سامعین کے کردار میں نمایاں تبدیلی لاتا ہے ۔

بس ے الوگو!

تم لوگ علما کی مجالس سے جدائی اختیار نہ کرو کیونکہ روئے زمین پر اللہ پاک نے علما کی مجالس سے زیدہ معزز کوئی شے پیدا نہ فرمائی۔

سنتوں پر عمل کا جذبہ پانے کے لیے

سنتوں پر عمل کا جذبہ پانے کے لیے بھی مطالعہ ضروری ہے کہ مطالعہ سے حضور صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے حسنِ اخلاق اچھی زندگی گزارنے کا سلیقہ، شجاعت، صبر وتحمل، صداقت و امانت ، عقل و فہم، عدالت وفقاہت جودو سخا اور حمت و شفقت جیسے اوصاف کا علم حاصل ہوتا ہے۔

مدنی پھول

کتب بینی فقط بیان تیار کرنے کے لیے نہیں بلکہ اگر ذوقِ مطالعہ کے لیے ہو تو بہت فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

حاصل مطالعہ:

سارا دن محنت و مشقت کرنے کے بعد کوئی مزدور اپنی اجرت نہیں چھوڑتا کیونکہ اس نے اپنا خون پسینہ ایک کرکے اپنی زندگی کا ایک قیمتی دن اس مشقت کی نذر کیا ہوتا ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص مطالعہ میں صرف ہونے والے اپنے وقت ، ذہنی مشقت، قلبی توجہ اور غور و فکر کا احساس رکھتا ہوگا تو وہ ضرور اس سے حاصل ہونے والے فوائد کو محفوظ کرے گا۔

مطالعہ سے حاصل ہونے والے فائدے کو ہم حاصلِ مطالعہ سے تعبیر کرتے ہیں۔

حاصل مطالعہ کو محفوظ کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں، پہلی یہ کہ قوتِ حافظ مضبوط رہے تو ذہن میں محفوظ کرلیا جائے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو پھر اسے اپنے پاس لکھ لیا جائے اور یہ دوسری ہی زیادہ مفید ہے۔

آخری باتیں

مطالعہ کیجئے، مطالعہ کیجئے اور بس مطالعہ کیجئے

مطالعہ ، ذہن کو کھولتا ہے نتائج سے باخبر کرتا ہے دانائی کی باتوں پر مطلع ہونے میں مدد دیتا ہے، فصیح اللسان بناتا ہے، غور و فکر کی صلاحیت بڑھاتا ہے علم کو پختہ کرتا ہے، اور شبہات ختم کرتا ہے، تنہا شخص کا غم دور کرتا ہے، غور و فکر کرنے والے کے لیے دلچسپی کا سامان ہے، اور مسافر کے لیے اندھیری رات کا چراغ ہے۔

جو نورِ علمی چاہیے تو کیجئے مطالعہ

ہاں معرفت بھی چاہیے تو کیجئے مطالعہ

نظر بھی ہو وسیع تر دماغ بھی ہو تیز تر

بھلے بُرے میں فرق اور کام کا سلیقہ بھی

اپنے نکتہ سنجی چاہیے تو کیجئے مطالعہ

معارف کتاب اور سیرت رسول سے

جو رہنمائی چاہیے تو کیجئے مطالعہ