20 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

استاد کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
48 days ago

عربى مقولہ ہے:  الادب شجر والعلم ثمر فکیف تجدون الثمر بدون الشجر ترجمہ ۔ادب درخت ہے اور علم پھل ہے، پھر تم بغىر درخت کے پھل کىسے حاصل کرسکتے ہو؟

اسلام مىں استاد کا مقام:

اسلام مىں استاد کو روحانى باپ کا درجہ حاصل ہے اور استاد کى تعظىم با پ سے بڑھ کر ہے کہا جاتا ہے: باپ پدر گِل (جسم کا باپ) ہوتا ہے اور استاد بدر دل (دل کا باپ) ہوتا ہے۔

اُستاد کا ادب:

استاد کا ادب تعمىلِ علم کے لىے بنىاد ہے اور بے ادب علم کى نعمت سے محروم رہتا ہے ، جب کہ ادب کو تھامنے والے فلاح و کامرانى کى ان بلندىوں پر پہنچ جاتے ہىں کہ ان کا نام آسمان ہدایت مىں چمکتے ہوئے ستاروں کى طرح تا ابد افشاں رہتا ہے اور اس کى روحانى تعلىمات سے اىک عالم مىں یاب ہوتا ہے۔کسى عربى شاعر نے کہا:

ما وصل من وصل الاىالحرمة

وما سقط من سقط الا بترک الاحرمة

ىعنى ، جس نے جو کچھ پاىا ادب و احترام کرنے کى وجہ سے پاىا اور جس نے جو کچھ کھوىا وہ ادب و احترام نہ کرنے کے سبب ہى کھوىا۔ (کامىاب طالب علم کون؟ ص ۵۵)

ادب تعلىم کا جوہر ہے، زىور ہے جوانى کا

وہى شاگرد ہىں جو خدمت ِاستاد کرتے ہىں

استاد کے ادب کرنے کے فوائد :

ىہى ادب تھا جس سے شىر خدا على المرتضى کرم اللہ تعالىٰ وجہہ الکرىم کو دروازہ علم کے لقب ِباکمال سے سرفراز کىا ، آپ رضى اللہ تعالىٰ عنہ فرماتے ہىں: جس نے مجھے اىک حرف سکھاىا مىں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے ، چاہے تو آزاد کردے اور چاہے تو غلام بنا کر رکھے۔ (راہِ علم ص ۲۹)

ىہى ادب تھا جس کى وجہ سے صحابى رسول حضرت عبداللہ بن عباس رضى اللہ تعالىٰ عنہ کو امام المفسرىن، حبر الامة (امت کے بہت بڑے عالم) اور بحرا لعلم ( علم کا سمندر) کا لقب عطا ہوا۔

امام شعبى نے رواىت کىا کہ حضرت زىد بن ثابت رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے اىک جنازے پر نماز پڑھى ، پھر سوارى کا خچر لاىا گىا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے آگے بڑھ کر رکاب تھام لى ىہ دىکھ کر حضرت زىد رضى اللہ تعالىٰ عنہ نے فرماىا، اب رسول اللہ صلى اللہ تعالىٰ علیہ وسلم کے چچا کے بىٹے آپ ہٹ جائىں، اس پر حضرت ابن عباس رضى اللہ تعالىٰ عنہ سے فرماىا: علما و اکابر کى اسى طرح عزت کرنى چاہىے۔ (جامع البىان العلم وفضلىت صفحہ ۱۱۶)

ىہى ادب تھا جس نے امام ابوحنىفہ رحمۃ اللہ تعالىٰ علیہ کو امام اعظم، فقىہ اعظم اور سرا ج الامة، جىسے القابات سے ملقب کىا، آپ رحمۃ اللہ تعالىٰ علیہ زندگى بھر اپنے استادِ محترم سىدنا امام حماد علیہ الرحمۃ کے مکان عظمت نشان کى طرف پاؤں پھىلا کر نہىں لىٹے حالانکہ آپ رضى اللہ عنہ کے مکان کى شان اور استادِ محترم کے مکانِ عظىم الشان کے درمىان تقرىبا سات گلىاں تھىں۔ (الخىرات الحسان ص ۸۲۰)

ىہى ادب تھا جس نے حضرت سىدنا امام فخر الدىن ارسا بندی علیہ الرحمۃکو مرو شہر مىں رئىس الائمہ کے مقام پر فائز کىا، سلطانِ وقت آپ کا بے حد ادب و احترام کىا کرتا تھا ، آپ رحمۃاللہ علیہ فرماىا کرتے تھے۔

مجھے ىہ منصب اىسے استاد کى خدمت کرنے کى وجہ سے ملا ہے کہ مىں اپنے استاد کى خدمت کىا کرتا تھا ىہاں تک کہ مىں نے ان کا تىن سال تک کھانا پکاىا اور استاد کى عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مىں نے کبھى بھى اس مىں سے کچھ نہ کھاىا۔(ّماخوذ از راہ علم ، ص ۳۱، مطبوعہ مکتبہ المدىنہ )

ادب استاد ِدینى کا مجھے آقا عطا کردو

دل و جاں سے کروں ان کى اطاعت ىارسول اللہ