14 ذوالحجۃ الحرام, 1441 ہجری

: : :
(PST)

استاذ کے ادب کے فوائد

Tue, 23 Jun , 2020
43 days ago

مشہور قول ہے کہ ’’جس نے معالج کی عزت نہ کی وہ شفا سے محروم رہا اور جس نے استاذکی عزت نہ کی، وہ علم سے محروم رہ گیا۔‘‘ بلاشبہ، اسلام میں معلّم (استاذ) کی بڑی قدرومنزلت ہے۔ امام الانبیاء، خاتم النبیّین، سیّد المرسلین، رحمۃ للعالمین، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رسالت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلّم کا منصب عطا فرمایا گیا۔ چناںچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اِنما بعثت معلما‘‘ ترجمہ: میں بطور معلّم (استاد) مبعوث کیا گیا ہوں۔ (ابنِ ماجہ)

سیّدنا جابر بن عبداللہسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے مشکلات میں ڈالنے والا اور سختی کرنے والا بناکر نہیں، بلکہ معلّم اور آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’میں تمہارے لیے باپ کی حیثیت رکھتا ہوں کہ تمہیں علم و حکمت سِکھاتا ہوں۔‘‘ استاذ کا درجہ باپ کے برابر ہے۔حضور نبی کریمؐ کا ارشاد ہے کہ ’’تیرے تین باپ ہیں، ایک وہ تیرے دنیا میں آنے کا باعث بنا، یعنی والد، دوسرا وہ، جس نے تجھے اپنی بیٹی دی، یعنی سسر اور تیسرا وہ، جس نے تجھے علم و آگہی سے نوازا، یعنی استاذ۔‘‘

امیرالمومنین سیّدنا عمر فاروقؓ سے پوچھا گیا ’’آپ اتنی عظیم الشان اسلامی سلطنت کے خلیفہ ہیں، کیا اس کے باوجود آپ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے؟‘‘ فرمایا! ’’کاش! میں ایک معلّم ہوتا۔‘‘ امیرالمومنین سیّدنا علی مرتضیٰ کا قول ہے کہ’’ جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا، میں اسے استاد کا درجہ دیتا ہوں۔‘‘

استاذ کا مرتبہ و مقام:

علم کا حقیقی سرچشمہ اللہ رب العزت ہے کہ جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو علم کی بِناء پر فرشتوں پر برتری دی اور پھر انبیاء کے ذریعے انسانوں کو عِلم کے زیور سے آراستہ کیا۔ نبی آخرالزماں جب منصبِ رسالت پر فائز ہوئے، تو اللہ جل شانہ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت جبرائیل کے ذریعے جو پہلی وحی نازل فرمائی، وہ پڑھنے ہی سے متعلق تھی۔ فرمایا۔ ترجمہ: ’’پڑھو اپنے رب کے نام سے، جس نے (عالم کو) پیدا کیا، جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں، جس کا اسے علم نہ تھا۔ (سورۃ العلق۔ 14:96)

اسلام سے قبل عربوں میں لکھنا پڑھنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔بعثتِ نبوت کے وقت پورے عرب میں صرف17افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ حضور نے عِلم کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کی ترویج و اشاعت پر خصوصی توجّہ فرمائی۔ مدینہ ہجرت فرماتے ہی مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ مسجد کے صحن میں درس و تعلیم کے لیے ایک چبوترے کی تعمیر فرمائی، جو ’’صفّہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ دنیائے اسلام کی پہلی درس گاہ قرار پائی، جہاں صحابہ کرام اجمعین نے حضور سے قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرکے دنیا کی تاریکی کو اسلامی تعلیمات کی روشنی سے منور فرمایا۔ اصحابِ صفّہ، دن رات خدمتِ دین اور حصولِ علم میں مصروف رہتے۔اللہ کے نبی بنفسِ نفیس ان اصحاب کو درس و تعلیم دیتے اور ان کی تربیت فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔‘‘ ایک اور حدیث میں فرمایا کہ ’’میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ ہے، جس نے علم حاصل کیا اور پھر اسے پھیلایا۔‘‘ (بیہقی)

غزوئہ بدر میں جو قیدی لکھنا پڑھنا جانتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہدیہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’جو قیدی دس مردوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے، تو اسے آزاد کردیا جائے گا۔‘‘ شریعتِ اسلامی میں معلّم (استاذ) کا مقام و مرتبہ نہ صرف بہت اعلیٰ و بلند ہے، بلکہ اس کے فرائضِ منصبی کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔

استاذکا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے شاگرد اس کا ادب و احترام کریں، اس کے ساتھ عزت، عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئیں۔ اس کا کہنا مانیں اور جو تعلیم وہ دے، اس پر عمل پیرا ہوں۔ استاذ روحانی باپ ہوتا ہے، اس کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے، جتنا ایک باپ کا اولاد پر۔ ماں باپ اگر اس کے دنیا میں آنے کا ذریعہ بنتے ہیں، تو استاد اسے اچھی اور باعزت زندگی جینے کا ڈھنگ سکھاتا ہے۔ اسے علم کے زیور سے آراستہ کرکے اس کی اخلاقی تربیت کرتا ہے