اسلام ایک
کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی دونوں اصلاح کا درس دیتا
ہے۔اسلام میں اخلاص،سچائی اور امانت داری کو بنیادی اخلاقی اصول قرار دیا گیا ہے
جبکہ نفاق کو ایک نہایت خطرناک اخلاقی اور روحانی بیماری بتایا گیا ہے۔نفاق دراصل
دل کی ایسی خرابی ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن میں تضاد پیدا کر دیتی ہے۔ منافق
بظاہر مسلمان اور نیک دکھائی دیتا ہے لیکن اسکے دل میں اخلاص اور ایمان نہیں ہوتا۔
اسی وجہ سے
قرآن مجید میں منافقین کا ذکر بار بار آیا ہے اور ان کے انجام کے بارے میں بھی نبی
کریم ﷺ نے منافقین کی علامات بیان فرمائی ہیں تاکہ مسلمان اس خطرناک بیماری سے بچ
سکے۔
نفاق کا لغوی
اعتبار سے مطلب دوغلا پن یا ظاہر و باطن کا اختلاف ہے۔شریعت کی اصطلاح میں نفاق اس
کیفیت کو کہتے ہیں کہ انسان ظاہر میں اسلام کا اظہار کرے مگر دل میں ایمان نہ رکھتا
ہو۔
علمائے کرام
نے نفاق کی دو بڑی اقسام بیان کی ہیں:
نفاق
اعتقادی: یہ
وہ نفاق ہے جس میں انسان بظاہر میں مسلمان ہوتا ہے لیکن دل سے ایمان نہیں
لاتا۔ایسا شخص حقیقت میں مسلمان نہیں بلکہ کافر ہوتا ہے۔قرآن میں ایسے لوگوں کے
لیے سخت عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے۔
نفاق
عمل: اس
میں انسان کا عقیدہ تو درست ہوتا ہے مگر اس کے اعمالِ منافقین جیسے ہوتے ہیں، مثلا
جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا اور جھگڑے میں گالی گلوچ کرنا
وغیرہ۔
اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشادِ فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ
الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
احادیث
مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے تو وعدہ
خلافی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
ارشاد فرمایا:
منافق اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اللہ ہی اسے دھوکے میں ڈال دیتا
ہے۔
نفاق
کے نقصانات: نفاق
انسان کی روحانی اور اخلاقی زندگی کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے چند اہم
نقصانات درج ذیل ہیں:
نفاق انسان کو
اللہ کی ناراضی کا مستحق بنا دیتا ہے۔یہ انسان کے دل کو تاریک کر دیتا ہے۔منافق
شخص معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اس کے قول اور فعل میں تضاد ہونے کی وجہ سے
معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے۔ نفاق انسان کو اخلاص اور تقویٰ سے دور کر دیتا ہے۔
اگر انسان
اپنے دل کی اصلاح کرے اور اخلاص اختیار کرے تو وہ نفاق جیسی بیماری سے محفوظ رہ
سکتا ہے۔
زین
العابدین( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ سادھوکی، لاہور،پاکستان)
اِخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں
محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز
قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (البینہ:5)
اِس آیت مبارکہ میں اِخلاص کے ساتھ شرک ونفاق سے دور رہ
کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بندگی کرنے اور
تمام دینوں کو چھوڑ کر خالص اسلام کے متبع (پیروکار)ہو کر نماز قائم کرنے اور
زکوٰۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
(1) اللہ کی رضامندی کا سبب:وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ فَارَقَ الدُّنْيَا عَلَى الإِخْلاصِ للَّهِ وَحْدَهُ لَا
شَرِيكَ لَهُ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَأتى الزَّكَاةَ فَارَقَهَا وَاللَّهُ عَنْهُ
رَاضِ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا سے اس حالت میں رخصت ہوا ہو وہ اخلاص کے
ساتھ اللہ تعالی کے ایک ہونے پر ایمان رکھتا ہو کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ
نماز قائم کرتا ہو وہ ز کوۃ ادا کرتا ہو اور وہ دنیا سے الگ رہتا ہو تو اللہ تعالیٰ
اس سے راضی ہو جاتا ہے۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 31 )
(2)رشد وہدایت والے کون:وَرُوِيَ عَنْ لَوْبَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طُوْبِي لِلْمُخْلِصِينَ أَوْلِئِكَ مَصَابِيحُ
الْهُدَى تَنْحَلَّى عَنْهُمْ كُلُّ فِتْنَةٍ ظُلَمَاءَ حضرت
ثوبان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخلاص
والے لوگوں کے لیے خوشخبری ہے کیونکہ وہ لوگ رشد و ہدایت کے چراغ ہیں، جن کے سبب
ہر فتنہ کی تاریکی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص
32)
(3) امت کی مدد کا سبب:وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
أَنَّهُ ظَنَّ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مِنْ دُونِهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ
الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفَهَا
بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ
وَاخْلاصِهِمْ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ وَهُوَ فِي الْبُخَارِي
وَغَيْرِهِ دُوْنِ ذِكْرِ الْإِخْلَاصِ
حضرت مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے والد گرامی رضی
اللہ عنہ کے حوالہ سے بیان کیا، ایک دفعہ انہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ ان لوگوں پر
فضیلت رکھتے ہیں جو کم درجہ کے ہیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک
اللہ تعالی اس امت کی مدد اس کے کمزور لوگوں کی دعاؤں، نمازوں اور اخلاص کے سبب
فرمائے گا۔ (الترغیب والترہیب جلد 1 کتاب الایمان ص 33 )
(4) عمل قلیل کے نفع بخش بننے کا سبب:وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ حِيْنَ بُعِثَ
إِلَى الْيَمَنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي القَالَ أَخْلِصْ دِينَكَ يَكْفِكَ الْعَمَلُ الْقَلِيلُ رَوَاهُ الْحَاكِم من طَرِيقَ
عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زُحْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عِمْرَانَ وَقَالَ صَحِيحُ
الْإِسْنَادِ كَذَا قَالَ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا جانے لگا توانہوں نے عرض
کیا یارسول اللہ مجھے کوئی ہدایت ارشاد فرمائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم اپنے دین کو خالص کر لو تو عمل قلیل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(الترغیب والترہیب
جلد نمبر 1 کتاب الایمان ص 32)
مخلص بننے کے طریقے میں سے یہ بھی ہے کہ یہ نیت درست کی
جائے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے جب تک نیت خالص نہ ہوگی عمل میں اخلاص پیدا
نہیں ہوگا کیونکہ نیت کے خالص ہونے کا نام ہی تو اخلاص ہے ۔اللہ تعالی سے دعا ہے
کہ ہمیں ان حدیث پر عمل کرتے ہوئے آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ نبی
الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔
عامر
فرید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی، لاہور،پاکستان)
اخلاص کی تعریف: اخلاص یہ ہے کہ ارادے
کے ساتھ صرف اللہ ﷺ کے لیے عبادت کی جائے یعنی وہ عبادت کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل
کرے کوئی اور مقصد نہ ہو، نہ تو مخلوق کے لیے بناوٹ ہو نہ لوگوں سے تعریف کی خواہش
ہو اور نہ ہی لوگوں سے تعریف کروانے کی محبت ہو بلکہ اللہ ﷺ کے قرب کے علاوہ کوئی
دوسری بات پیش نظر نہ ہو۔ یہ کہنا بھی درست ہے کہ مخلوق کی نگاہوں سے اپنے فعل کو
پاک رکھنے کا نام اخلاص ہے۔(رسالہ قشیریہ صفحہ 379 مطبوعہ امام اعلی حضرت)
(1)اخلاص اللہ کے رازوں میں سے راز ہے :نبی
اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے اخلاص کے بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے؟آپ نے فرمایا
میں نے اپنے رب سے اخلاص کے بارے میں پوچھا کہ یہ کیا ہے تواللہ ﷺ نے فرمایا: سِرٌّ مِنْ سِرِى إِسْتَوْدَعْتُهُ قَلب من أَحْبَبْتُهُ
مِنْ عِبَادِی یہ میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں نے اس بندے
کے دل میں رکھا ہے جسے میں محبت کرتا ہوں ۔(رسالہ قشیریہ صفحہ 380 مطبوعہ امام اعلی
حضرت)
(3)ہدایت کے چراغ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک مجلس میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا:
اخلاص والوں کے لیے خوشخبری ہے۔ یہ لوگ ہدایت کے چراغ ہیں اور انہی کی بدولت تار یک
فتنے چھٹ جاتے ہیں۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 8)
(4)اخلاص اور قبولیت ملے ہوئے ہیں: حضرت
عبد الواحد بن زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قبولیت اخلاص کے ساتھ ملی ہوئی ہے ،
ان دونوں کے درمیان کوئی جدائی نہیں۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 10)
(5)دین اور علم کی نشانیاں: حضرت
ربیع بن انس رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: دین کی نشانی اللہ پاک کے لیے اخلاص ہے
جبکہ علم کی نشانی اللہ پاک کا خوف ہے۔(اخلاص و نیت لابن ابی الدنیا صفحہ 9)
محمد
عثمان رضا(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی،پاکستان)
شریعت مطہرہ نے جہاں ہمیں عبادات کا حکم دیا اور منہجِ
عبادات کو ہمارے لیے بیان کیا وہیں ایک ایسے امر کی طرف ہماری رہنمائی کی جو تمام
عبادات و اعمال میں مشترک ہے اور اس کو خاص اہمیت بھی حاصل ہے کہ جس کے بغیر وہ
اعمال و عبادات بے معنی و بے کار ہوجاتے ہیں ۔جی ہاں اس چیز کو اخلاص کے نام سے
تعبیر کیا جاتا ہے۔
خلاص کی لغوی و اصطلاحی تعریف :اخلاص
کا لغوی معنی بے لوثی و نیک نیتی ہے ۔جبکہ اصطلاحی تعریف متعدد کتب میں مختلف
الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے جن کا مفہوم ایک ہی درس دیتا ہے کہ صرف خالص اللہ
تعالی کے لیے عمل کرنا۔
یعنی اللہ کے سوا ہر چیز سے اپنی نگاہ پھیرنا اخلاص
کہلاتا ہے ۔(ماخوذ منہاج العابدین صفحہ نمبر 216)
اسی طرح اور بھی کئی صوفیاء نے اخلاص کی تعریف کو اپنی
اپنی کتب میں مختلف الفاظ کےساتھ ذکر فرمایا جن کا مفہوم ایک ہی ہے۔
اخلاص
کی اہمیت: کتب احادیث میں کئی ایک احادیث سے اخلاص کی اہمیت نمایاں
طور پر معلوم ہوتی ہے کہ اعمال کے لیے اخلاص کتنا ضروری ہے: ذیل
میں چند احادیث پیش کرتا ہوں:
(1) حضورﷺ
نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی صرف اس عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے کیا
جائے اور صرف اس کی رضامندی مقصود ہو۔(سنن نسائی: ۳۱۴۲)
(2) حضرت
تمیم داری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :دین تو بس خلوص و خیرخواہی
کا نام ہے صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! کس سے؟ آپ ﷺ نے
فرمایا :اللہ تعالی سے، اس کی کتاب سے، اس کے رسول سے، مسلمانوں کے حکام سے اور
عوام الناس سے۔(سنن نسائی: ۴۲۰۲)
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال و عبادات کی
قبولیت کا دارومدار ان میں اخلاص کی شمولیت پر ہے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال میں
خواہ وہ دنیوی ہوں یا اخروی صرف رضائے الٰہی کی طرف توجہ رکھیں ۔
اب ان احادیث سے ترہیب حاصل کرتے ہیں جن میں اخلاص کی ضد
ریاکاری کی ہولناکی بیان کی گئی ہے کہ جس طرح اخلاص سے اعمال قبولیت کا شرف پاتے ہیں
اسی طرح ریاکاری سے بڑے بڑے اعمال بے فائدہ و بے مول ہوجاتے ہیں۔
(1)نبی کریم
ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک شہید، عالم اور سخی کو بلایا جائے گا مگر ان کے
اعمال ریاکاری پر مبنی ہونے کی وجہ سے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(اخرجہ مسلم
۱۹۰۵ :ماخوذ منہاج العابدین
صفحہ نمبر:214)
(2) وکیع
نے سفیان سے اور انھوں نے سلمہ بن کُہیل روایت کی انھوں نے کہا:میں نے حضرت جندب
علقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:"جو شخص (لوگوں کو)سناتاہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں (سب کو)
سنوائےگا اور جو (اپناعمل)لوگوں کو دکھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں لوگوں کو
دکھائےگا۔"(صحیح مسلم :۷۴۷۷)
مذکورہ احادیث سے ریاکاری پر مبنی اعمال کی ہلاکت و
بربادی معلوم ہوتی ہے اسی طرح ایک حدیث میں ریاکاری کو شرک اصغر بھی کہا گیا ہےلہذا
جب بغیر اخلاص کے اعمال کا کوئی مول نہیں تو ایک عقلمند شخص کبھی بھی محنت و مشقت
سے کیے ہوئے اعمال کو ریاکاری کے سبب ضائع نہیں کرے گا ۔
اخلاص اعمال کی روح ہے جو کہ جسم میں موجود روح کی مانند
ہے جیسے بغیر روح کے جسمِ انسانی بے حس و مردہ ہوجاتا ہے یوں ہی بغیر اخلاص کے
اعمال بھی بےکار و ضائع ہوجاتے ہیں لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال و
افعال میں اپنی نیت کا مرکز خالص رب ذو الجلال کو بنائے اور اسکی رحمت کا طلبگار
رہےاور اسکی بارگاہِ عالیہ میں اپنے عبادات ناقصہ کے شرفِ قبولیت کے حصول کے لیے
ہمیشہ عاجزانہ طور پر دعاگو رہے۔
اللہ پاک ہمیں عبادات میں اخلاص عطا فرمائے آمین۔
فاحد
علی عطاری(درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی ،لاہور،پاکستان)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اخلاص وہ نورِ قلب ہے جس کے
بغیرہم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ نہیں پاسکتے عمل چاہے کتنا ہی بڑا
کیوں نہ ہو اگر اس کے پیچھے نیت پاک نہ ہو تو وہ بے وزن رہ جاتا ہے ۔
آئیے اخلاص کی
اہمیت کے بارے میں فرامین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1) اخلاص ایک راز ہے:حضرت سیدنا
حسن بصری علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے
ارشاد فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس
کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں۔(احیاء العلوم مترجم، جلد
نمبر :5باب نمبر :2 اخلاص اس کی فضیلت صفحہ نمبر: 256)
(2) تھوڑا عمل بھی کافی ہے: حضور
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ
سے فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو گے اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا۔
( احیاءالعلوم مترجم،جلد نمبر: 5 باب نمبر: 2 اخلاص کی فضیلت٫ صفحہ نمبر: 256)
(3) حکمت کے چشمے: حدیث پاک میں ہے جو
بندہ 40 دن خالص رضا الہی کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر حکمت
کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(الزہد لا بن المبارک: با ب فضل ذکر اللہ ٫صفحہ نمبر
359، حدیث نمبر:1014)
(4) مومن کا دل خیالت نہیں کرتا:حدیث
پاک میں آیا تین باتیں ایسی ہیں جن پر بندہ مومن کا دل خیانت نہیں کرتا (1) خالص
اللہ عزوجل کے لیے عمل کرنا(2) حکمرانوں کی خیر خواہی اور( 3) مسلمانوں کی جماعت
کو لازم پکڑنا۔(سنن ابن ماجہ،کتاب و سنہ،باب من بلغ علما٫ جلد: 1صفہ نمبر:151،حدیث
نمبر:230)
(5) اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمانا:مصطفی
جان رحمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل نے اس امت کی
ان کے ناتوانوں ان کی دعا٫ اخلاص اور نماز کے ذریعے مدد فرمائی ہے ۔
(نسائی٫ کتاب الجہاد ٫ باب الاستنصار ٫صفحہ نمبر:518 حدیث
نمبر:3175)
آج کے دور میں جب دکھاوا اور ریاکاری عام ہو چکی ہے ۔اخلاص
وہ صفت ہے جو انسان کی زندگی میں سادگی سکون اور برکت پیدا کرتی ہےاگر ہم اپنے ہر
عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنے کی نیت بنالیں تو ہمارے دلوں سے بےچینی حسد
اور مقابلے کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اپنا ہر عمل
اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پارہ 30 ،البینہ: 5)
اس آیت مبارکہ میں لوگوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ اللہ کی
بندگی کریں۔ بیشک ہم مسلمان ہیں اور ہمارا تو فرض ہے کہ ہم اللہ ہی کی عبادت کریں
اسی پر ایمان لائیں۔اللہ پاک کی بندگی سے مراد اس کی عبادت کو اخلاص کے ساتھ اداء
کرنا ہے۔
اخلاص کیا ہے؟ اخلاص کا مطلب کہ کوئی
بھی نیک عمل کو اللہ عزوجل کے لیے ہی کرنا۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ
تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
اخلاص سے متعلق اقوالِ بزرگانِ دِین کا مطالعہ کیجئے:حضرت
سیدنا سہل تستری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اخلاص یہ ہے کہ بندے
کا ٹھہرنا اور حرکت کرنا سب خالصتاً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہو۔حضرت سیدنا ابو
عثمان نیشاپوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اخلاص یہ ہے کہ فقط خالق
کی طرف ہمیشہ متوجہ رہنے کی وجہ سے مخلوق کو دیکھنا بھول جائے۔‘‘ حضرت سیدنا جنید
بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ
اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی نہ
جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف
مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘
فرمایا: ’’جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر
کوئی اس کی تعریف کرے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ29تا33)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ ‘‘ تو خاتَمُ
الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی
کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک نسخہ میں ہے : ’’ وہی راہ خدا عَزَّ
وَجَلَّ کا مجاہد ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ
…الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)
حضور نبی پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ
نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس
کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی
ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے
جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال الخ،الحدیث:
۵۴،ص۷)
ان سب احادیث کو اس لیے ذکر کیا گیا کہ ہم سب کا اللہ
پاک کی عبادت کرنے میں دل لگے اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے کی توفیق عطاء ہو۔ بیشک
اخلاص کے بغیر ہماری نیکیاں کچھ بھی نہیں ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم سب سے جتنا
ہو سکے مخلص ہو کر اللہ پاک کی عبادت کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
محمد
عرفان ابرہیم ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی، کراچی ،پاکستان)
اخلاص دینِ اسلام کی اساس ہے۔ بندہ جب کوئی نیک عمل کسی
ریا، دکھاوے یا دنیاوی مفاد کے بغیر صرف اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے تو وہی عمل
اللہ کے دربار میں مقبول ہوتا ہے۔ قرآن و حدیث میں اخلاص کی اہمیت متعدد مقامات پر
وضاحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ذیل میں اس موضوع پر ایک مدلل اور حوالہ جات کے ساتھ تحریر
پیشِ خدمت ہے۔
اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا ہر عمل صرف اور صرف
اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ نہ اس میں لوگوں کی تعریف شامل ہو، نہ دنیاوی شہرت ۔ دل کی
نیت پاک ہو تو چھوٹا عمل بھی عظمت رکھتا ہے، اور نیت خراب ہو تو بڑا عمل بھی بے
وقعت رہ جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے،
اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، حدیث 1)یہ حدیث اس بات
کی روشن دلیل ہے کہ نیت ہی عمل کی اصل قدر و قیمت ہے۔
اخلاص کے بغیر عمل کا انجام:ریاکاری
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ اگر کوئی شخص عبادت اس لیے کرے کہ لوگ اسے
نیک سمجھیں، تو یہ عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ
تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس سے اس کی رضا مطلوب
ہو۔ (سنن نسائی، حدیث 3140)یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ کے حضور وہی عمل بلند
درجے پر ہے جس کے پیچھے ظاہری فائدہ نہ ہو، محض رضائے الٰہی مقصود ہو۔
اخلاص کی فضیلت:اخلاص انسان کی روح کو
پاک کرتا ہے، عبادت میں لذت پیدا کرتا ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کرتا ہے۔ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:تین چیزیں ایسی ہیں جن میں کسی دل میں کھوٹ نہیں رہتا: اللہ کے لیے
اخلاص، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے خیرخواہی، اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ
رہنا۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث 230)اس حدیث میں اخلاص کو ایمان کی وہ بنیاد قرار دیا گیا
ہے جس سے دل پاک رہتا ہے۔
اخلاص کے اثرات:عمل میں برکت: چھوٹا سا
کام بھی بڑا اجر لے جاتا ہے۔زندگی میں سکون: اخلاص دل کو مطمئن کرتا ہے، کیونکہ
بندہ صرف اللہ کی رضا دیکھتا ہے۔عمل کی حفاظت: ریاکار کے عمل قیامت کے دن بکھرے
غبار کی مانند ہوگے، مگر مخلص کے عمل کو دوام حاصل ہے۔قبولیّتِ دعا: مخلص انسان کی
دعا جلد قبول ہوتی ہے، جیسا کہ اصحابِ غار کی مشہور حدیث میں واضح ہے۔
اخلاص پیدا کرنے کے طریقے:
نیت کو بار بار چیک کریں کہ میں یہ کام کس لیے کر رہا
ہوں؟اللہ سے دل کی صفائی اور اخلاص کی دعا کرتے رہیں۔لوگوں کی تعریف سے بے نیاز رہیں۔عمل
کو چھپانے کی کوشش کریں، خاص طور پر صدقہ و خیرات۔
اللہ کی عظمت کے تصور کو دل میں تازہ رکھیں۔اخلاص ہر
عبادت، ہر خدمت اور ہر نیکی کا روحانی جوہر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کو بار بار اس
حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا کہ نیت درست ہو تو عمل عظیم بن جاتا ہے، اور نیت میں کھوٹ
ہو تو عمل بے فائدہ رہتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی نیت کو
خالص رکھے اور ہر عمل میں صرف اللہ کی خوشنودی تلاش کرے۔ یہی اخلاص بندے کو دنیا و
آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔
رضوان
مقبول قادری(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
مدینہ جوہر ٹاؤن ،لاہور،پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو! نیکی کا نور اسی وقت دلوں کو منور
کرتا ہے جب اس کی بنیاد خلوص پر رکھی جائے۔
اِخلاص کی تعریف: کسی بھی نیک عمل میں محض رضائے الٰہی حاصل کرنے کا
اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ! کثیر احادیث میں اخلاص کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اخلاص کے
ساتھ عمل کرنے کے فضائل بیان ہوئے ہیں ، ان میں سے" 5 "احادیث درج ذیل ہیں
:
(1)حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے، نبی اکرم ص ﷺ نے ارشادفرمایا:
ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ
لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ
جَمَاعَتِهِمْ، فَإِنَّ الدَّعْوَةَ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ جس
مسلمان میں یہ تین اوصاف ہوں اس کے دل میں کبھی کھوٹ نہ ہو گا:(1) اس کا عمل خالص
اللہ تعالیٰ کے لئے ہو۔ (2)وہ آئمہ مسلمین کے لئے خیر خواہی کرے۔ (3)اور مسلمانوں
کی جماعت کو لازم پکڑ لے۔ (ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی الحث علی تبلیغ
السماع، ۴ / ۲۹۹، الحدیث:
۲۶۶۷)
(2)حضرت سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا، بِدَعْوَتِهِمْ،
وَصَلَاتِهِمْ، وَإِخْلَاصِهِمْاللہ
تعالیٰ اس امت کے کمزور لوگوں کی دعاؤں ، ان کی نمازوں اور ان کے اخلاص کی وجہ سے
اِس امت کی مدد فرماتا ہے۔ (نسائی، کتاب الجہاد، الاستنصار بالضعیف، ص۵۱۸، الحدیث: ۳۱۷۵)
(3)حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب
تاجدارِ رسالت ص ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو انہوں نے عرض کی:یا رسولَ اللہ ! مجھے
کوئی وصیت کیجئے۔ رسولُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے دین میں اخلاص رکھو ،تمہا
را تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔ (مستدرک، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، الحدیث: ۷۹۱۴)
(4)حضرت عبدالله بن عمر رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ ایک
مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص سے پوچھا:
فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَا رَسُولَ
اللَّهِ مَا فَعَلْتُ قال: فقال له جبريل عليه السلام: قد فعل، وَلَكِنْ غُفِرَ
لَه بِالْإِخْلَاصِکہ تم نہ یہ کام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! نہیں،
اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، نبی کریم ﷺ
نے فرمایا کہ جبريل علیہ السلام نے عرض کیا: وہ کام اس نے کیا تھا لیکن اخلاص کے
ساتھ " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔(مسند احمد،
کتاب مرویات عبد اللہ بن عمر، باب مرویات عبد اللہ بن عمر، ۹ / ۲۶۳، الحدیث: ۵۷۱۴)
(5)حضرت عبدالله بن عبد الرحمن بن ابزی فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ جب صبح ہوتی تو یہ دعا فرماتے: أَصْبَحْنَا عَلَی فِطْرَۃِ الإِسْلامِ ، وَکَلِمَۃِ الإِخْلاصِ ،
وَدِینِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ ، وَمِلَّۃِ أَبِینَا إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا ،
وَمَا کان مِنَ الْمُشْرِکِینَ ہم نے صبح کی فطرتِ اسلام پر، اور اخلاص سے
بھرے کلمہ پر، اور ہمارے نبی محمد ﷺ کے دین پر، اور ہمارے والد حضرت ابراہیم کی
ملت حنیفہ پر، اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے۔(ابن ابی شیبہ، کتاب الدعاء، باب ما یستحب
أن یُدعی بہ صباحاً، ۱۴ / ۴۸۶، الحدیث:
۲۹۸۸۶)
اے عاشقانِ رسول! اخلاصِ نیت وہ عظیم دولت ہے جس کے بغیر
بڑے سے بڑا عمل بھی وزن نہیں رکھتا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر نیکی سے قبل، درمیان
اور بعد میں اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہیں، اور دعا کریں کہ اللہ پاک ہمیں ریاکاری،
دکھاوے اور شہرت پسندی سے بچا کر ہر عمل صرف اپنی رضا کے لیے کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔الٰہی! ہمیں اخلاص کی حقیقی دولت نصیب فرما۔ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
نفاق
یعنی (منافقت) کی تعریف: زبان سے مسلمان ہونے کا دعوی کرنا اور
دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق
عملی کہلاتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219)
نفاق (منافقت)
ایک خطرناک بیماری ہے اس مرض اور بیماری میں مبتلا رہتے ہوئے بھی آدمی اس مرض اور
بیماری کا احساس نہیں کر پاتا عام طور پر لوگ اس سے نا واقف ہوتے ہیں نفاق و
منافقت ایک ایسی بیماری ہیں جو انسان کو پستی کی اخری حد تک پہنچا دیتی ہے نفاق
انسان کی حق بینی اور حق پرستی کی صلاحیت کو فنا کر دیتا ہے۔ عربی زبان میں نفاق
کو نفق کہتے ہیں اور اس سرنگ کو جس کے دو دہانے ہوں اور نافقاء جنگلی چوہے کے بل
کو کہتے ہیں جس میں ایک طرف داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف نکل جاتا ہے اس سے نفاق
ماخذ ہے جس کے معنی ہیں دین میں ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل
جانا۔ (امثال الحدیث، ص 219)
نفاق سے انسان
کا نور بصیرت سلب ہو جاتا ہے یہ وجہ ہے کہ صحابہ کرم کثرت سے نفاق سے پناہ مانگتے
تھے۔ حضرت ابن ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہم نے 30 صحابہ کرام علیہم
الرضوان سے ملاقات کی ان میں سے ہر ایک کو اپنے متعلق نفاق سے خوفزدہ پایا۔ حضرت
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نفاق کی طرف سے صرف منافق ہی مطمئن ہو سکتا
ہے اور اسے چوکنا رہنا مومن کی صفت ہے۔
قرآن پاک میں
ارشاد باری ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ
مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
صدر الافاضل
محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ منافق کا عذاب کافر کے
عذاب سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے
بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مغالطہ دینا اور سلام کے ساتھ استہزاء
کرنا آسکا شیوہ رہا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 219، 220)
فرمان مصطفی ﷺ:
چار علامتیں جس شخص میں ہوں گی وہ خالص منافق ہوگا ان میں سے ایک علامت ہوئی تو اس
شخص میں نفاق کی ایک علامت پائی گئی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب امانت دی جائے
تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب
جھگڑا کرے تو گالی بکے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
نفاق
اعتقادی و عملی کے بعض اسباب: بندہ جب صحیح طریقے سے عقائد فرائض و
واجبات کا علم حاصل نہیں کرتا تو شیطان دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتا ہے جس
سے بندہ نفاق جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
اسلام ایک
ایسا دین ہے جو سچائی اخلاص اور دیانت داری کی تعلیم دیتا ہے اس کے برعکس نفاق ایک
ایسی بری صفت اور عادت ہے جو انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے جیسے
ایک کھوکلا بانس ہوتا ہے۔ اس کے اعمال کام نہیں آتے اور اس کے تمام کے تمام اعمال
جو اس نے کیے ہوتے ہیں وہ سب ضائع ہو جاتے ہیں نفاق کا مطلب ہے کہ انسان بظاہر کچھ
اور ہو اور اندر سے کچھ اور ہو یعنی اس کا باطن ظاہر کے برعکس ہو یعنی زبان سے
ایمان اور اچھائی کا دعوی کرنا مگر دل سے ایمان اور اچھائی کا دعوی نہ کرتا ہو اور
اس کے ظاہر کے خلاف خیالات ہوں۔
اسلام میں
نفاق کو سخت ناپسند کیا گیا ہے اور اسے ایک بری اخلاقی برائی اقرار دیا گیا ہے اس
کے متعلق بہت سی وعیدیں قرآن پاک میں بھی نازل ہوئی ہیں، احادیث مبارکہ میں بھی
حضور اکرم ﷺ کی زبانی منقول ہے، قرآن پاک میں ایک جگہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء:
142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں
اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا
دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
ایک اور مقام
پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ
النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء:
145) ترجمہ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز
ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
صدر الافاضل
حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت مبارکہ
کے تحت فرماتے ہیں: منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہار
اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو
مغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ استہزا کرنا اس کا شیوہ رہا ہے نفاق کے زبان سے
دعوی اسلام کرنا دل میں اسلام سے انکار یہ بھی خالص کفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لیے
جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں کچھ لوگ اس صفت کے
اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفر باطنی پر قرآن ناطق ہوا نیز نبی کریم ﷺ نے
وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرمایا کہ یہ منافق ہے اب اس زمانہ میں کسی خاص
شخص کو نیت قطع کے ساتھ منافق نہیں کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے سامنے جو دعوی اسلام
کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو منافی ایمان ہے نہ
صادر ہو، البتہ نفاق کے ایک شاخ زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ
کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعوی اسلام کے ساتھ ضروریات دین کا انکار
بھی ہے۔ (بہار شریعت، 1/182، حصہ: 1)
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں: وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب
وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں
خیانت کرتا ہے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
علامہ نووی
رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ یہ تین خصلت نفاق کی ہیں اور
ان تین خصلتوں والا منافق کے مشابہ ہے اور ان کے اخلاق سے متخلق ہے کیونکہ نفاق کا
معنی ہے باطن کے خلاف ظاہر کرنا اور جو شخص کسی سے جھوٹ بولتا ہے یا اس سے وعدہ کی
خلاف کرتا ہے یا اس کی امانت میں خیانت کرتا ہے وہ اس سے نفاق کرتا ہے کیونکہ وہ
اپنے باطن کے خلاف ظاہر کرتا ہے پس وہ صرف اس شخص سے نفاق کر رہا ہے یہ مطلب نہیں
ہے کہ وہ اسلام میں منافق ہے اور اس کے ساتھ نفاق کر رہا ہے جس شخص میں ان تین
خصلتوں کا غلبہ ہو وہ منافق ہوگا نہ وہ جس میں کبھی کبھی یہ خصلتیں پائی جائیں وہ
مراد نہیں ہے۔ (نعمۃ الباری، 1/232)
ایک دوسرے قسم
نفاق کی نفاق عملی بھی ہے نفاق عملی سے مراد یہ ہے کہ انسان دل سے مسلمان ہو لیکن
اس کے بعض اعمال اور عادت منافقوں جیسی ہوں یہ اعتقادی نفاق (یعنی دل سے کافر ہو
اور ظاہر میں مسلمان بننا) سے مختلف ہوتا ہے نفاق عملی بہت بڑی اخلاقی برائی ہے
اور اسلام میں اس کی سخت مذمت کی گئی ہے نفاق عملی اس وقت ہوتا ہے جب کسی شخص میں
ایسی عادات پیدا ہو جائیں جو منافقوں کی پہچان سمجھی جاتی ہیں جیسے جھوٹ بولنا
وعدہ خلافی کرنا امانت میں خیانت کرنا جو پیچھے حدیث میں ہم نے بیان کی ہے ایسا
شخص مسلمان رہتا ہے مگر اس کے یہ صفات و خصلتیں گناہگار بناتی ہیں۔
اسلام میں اس
عمل کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ معاشرے میں بے اعتمادی اور فساد
پیدا کرتا ہے نفاق عملی کے ہماری زندگی میں بہت زیادہ نقصانات پیدا ہوتے ہیں جیسا
کہ اس سے لوگوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے معاشرے میں بدگمانی اور فساد پیدا
ہو جاتا ہے آخرت میں سخت مواخذے کا سبب بن سکتا ہے۔
نفاق عملی کی
مثال یوں ہے کہ جیسا کہ کوئی شخص نماز پڑھتا ہو اور جب وہ لوگوں کے سامنے نماز ادا
کرتا ہے تو بہت ہی اچھے انداز اور اس کے حقوق و واجبات کو اچھے طریقے سے ادا کرتا
ہے کیونکہ لوگ اس کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کو دیکھنے کے لیے اپنی نماز
کو خوب اچھے طریقے سے ادا کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے جبکہ وہ تنہا ہوتا ہے
یعنی تنہائی میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کی یعنی نماز کی کوئی پرواہ نہیں کرتا اس
کے حقوق واجبات شرائط کا کچھ بھی خیال نہیں کرتا اور یہ ریاکاری کے طور پر عمل
کرتا ہے اور یہ سب کچھ دکھاوا ہوتا ہے۔
قرآن پاک میں
بھی اس کی مذمت کی گئی ہے، ایک جگہ ارشاد ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ
قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا
قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ 5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان:
بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے
مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ
کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
یعنی جو شخص
نماز صرف دکھاوے کے لیے پڑھے اور دل میں اخلاص نہ ہو تو یہ منافقانہ عمل شمار ہوتا
ہے۔
نفاق سے بچنے
کے لیے ایک حکایت ملاحظہ ہو چنانچہ امام محمد ابن سرین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص
سے اس کا حال دریافت کیا تو وہ بڑی مایوسی سے بولا اس کا حال کیا ہوگا جس پر 500
درہم قرض ہو بال بچوں والا ہو مگر پلے کچھ نہ ہو آپ یہ سن کر گھر تشریف لائے اور
ایک ہزار درہم لا کر اس کو پیش کرتے ہوئے فرمایا 5 سو درہم سے اپنا قرض ادا کر دو
مزید 5 سو اپنے گھر والوں پر خرچ کر لو اس کے بعد آپ نے اپنے دل میں عہد کیا کہ آئندہ
کسی کا حال دریافت نہیں کروں گا۔
امام غزالی
فرماتے ہیں: امام ابن سیرین نے یہ عہد اس لیے کیا کہ اگر میں نے کسی کا حال پوچھا
اور اس نے اپنی پریشانی بتائی پھر اگر میں نے اس کی مدد نہیں کی تو میں پوچھنے کے
معاملے میں منافق ٹھہروں گا۔
نفاق کی وجہ
سے انسان کا کردار کمزور ہو جاتا ہے ایک منافق شخص نہ تو اللہ کے سامنے سچا ہوتا
ہے اور نہ ہی لوگوں کے ساتھ مخلص ہوتا ہے اس کے دل میں ہمیشہ خوف اور بےسکونی سی
رہتی ہے کیونکہ وہ ہر وقت اپنی حقیقت کو لوگوں سے چھپاتا ہے اور اس کے برعکس وہ
شخص جو سچا ہوتا ہے اور مخلص ہوتا ہے اپنی ہر نیت میں اپنے ہر قول و فعل میں وہ
شخص عزت اور سکون حاصل کر لیتا ہے۔
اخلاص یعنی ہر عمل کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
انجام دینا، دینِ اسلام کا بنیادی اور اہم ترین تقاضا ہے۔ کسی بھی نیکی، عبادت یا
خدمت میں اگر اخلاص نہ ہو تو وہ عمل ظاہری طور پر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کے
ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ احادیثِ نبویہ میں اخلاص کی بارہا تاکید کی گئی ہے۔
اس حدیث سے واضح
ہوتا ہے کہ ہر عمل کی قبولیت کا انحصار نیت اور اخلاص پر ہے۔ جب نیت خالص ہو تو
چھوٹا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے، اور ریاکاری و دکھاوے کے ساتھ کیا گیا بڑا عمل بھی
بیکار ہو جاتا ہے۔
ہر مخلوق رب
تعالی کی تسبیح بزبان قال کرتی ہے، رب تعالی فرماتا ہے : " وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ "
دوسری جگہ فرماتا ہے : " قَدْ
عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ"۔ حق یہ ہے کہ ہر چیز کو
رب تعالی کی معرفت حاصل ہے اور وہ بزبان قال نہ کہ فقط حال سے تسبیح کرتی ہے اولیاء
اللہ ان تسبیحوں کو سنتے ہیں، صحابہ کرام کھاتے وقت لقمے کی تسبیح سنتے تھے حتی کہ
سبزہ کی تسبیح کی برکت سے عذاب قبر میں تخفیف ہوتی ہے۔
یعنی شکر کا ستون ہے یا شکر کی چوٹی ہے جس کے بغیر شکر
مکمل نہیں ہو تا۔ (از مرقات) لا الہ الا اللہ سے مراد پورا کلمہ ہے ، اخلاص سے
مراد ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور
آخرت میں دوزخ سے رہائی پاتا ہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے، بمعنی خلوص نیت یعنی یہ
کلمہ اگر خصوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے کہ اس کا ثواب اس کی عظمت ان تمام چیزوں
کو بھر دیتی ہے یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے کہ ہماری کوتاہ نظریں ان آسمان زمین تک
ہی محدود ہیں ، ورنہ رب تعالی کی کبریائی کے مقابل آسمان و زمین کی کیا حقیقت ہے یہ
ایسے ہے جیسے رب تعالی نے فرمایا کہ "لَهُ
مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ " حالانکہ اس کی
ملکیت آسمان و زمین میں محدود نہیں ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 3،
حدیث نمبر : 2322)
لا احتساب حسب سے بنا، بمعنی گمان کرنا اور سمجھنا،
احتساب کے معنی ہیں ثواب طلب کرنا یعنی جس روزہ کے ساتھ ایمان اور اخلاص جمع ہو
جائیں اسکا نفع تو بے شمار ہے۔ دفع ضرر یہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ، حقوق اللہ
معاف ہو جاتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہندؤوں کے برت (روزہ) اور کافروں کے
اپنے دینی روزوں کا کوئی ثواب نہیں کہ وہاں ایمان نہیں اور جو شخص بیماری کے علاج
کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلب ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں کہ وہاں احتساب نہیں۔
اخلاص وہ نور ہے جو انسان کے اعمال کو روشن کر دیتا ہے
اور اسے اللہ کی رضا کے قریب کر دیتا ہے۔ احادیث کی روشنی میں یہ حقیقت اجاگر ہوتی
ہے کہ جو عمل صرف اللہ کے لیے کیا جائے، وہی آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہر عبادت، خدمت یا نیکی میں اپنی نیت کو خالص رکھیں اور ہر عمل سے پہلے
دل میں یہ سوال ضرور کریں: "کیا یہ صرف اللہ کے لیے ہے؟"۔ اللہ تعالیٰ
ہمیں ہر عمل میں اخلاص عطا فرمائے اور ریاکاری سے بچنے کی توفیق دے، آمین۔
دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں وفد کی آمد،
باہمی تعلیمی تعاون پر اہم گفتگو
دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی دعوتِ اسلامی
اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک
اہم ملاقات کا انعقاد کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ(دعوتِ اسلامی) کے چند
اراکین نے دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے یونیورسٹی کے
وائس چانسلر ڈاکٹر دانش اقبال عطاری سے خصوصی ملاقات کی۔
ملاقات کے اہم نکات:
٭باہمی تعاون کا فروغ:دونوں اداروں کے درمیان مختلف شعبوں میں علمی و انتظامی
تعاون بڑھانے پر اتفاق٭تعلیمی سرگرمیاں: مستقبل میں منعقد ہونے والی تعلیمی
تقریبات، کانفرنسز اور ورکشاپس میں دونوں ڈیپارٹمنٹس کی مشترکہ شرکت پر کلام٭اکیڈمک ڈویلپمنٹ:
طلبہ اور اساتذہ کی تعلیمی و تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے نئے منصوبوں اور
اقدامات پر تبادلہ خیال۔
Dawateislami