یوں تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا ہر فرمان ہر کام ہر
قول ہر فعل حکمت سے بھرپور ہے حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اقوال کے ذریعے
افعال کے ذریعے اپنے کام کے ذریعے زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فرمائی ،اخلاص ہو
،تقوی ہو، پرہیزگاری ہو، خانگی زندگی ہو، معاشرتی زندگی ہو ،معاشی زندگی ہو،
کاروباری لحاظ سے ہو ،ہر لحاظ سے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے امتیوں کی
رہنمائی فرمائی اسی طرح آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ احادیث مبارکہ جن میں مخلص
رہنے،اخلاص اپنانے کا بیان ہوا ان میں سے 4 فرامین کو ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)وَعَنِ
ابْنِ عُمَرَ أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ،
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ
الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ،
وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ
اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌترجمہ:روایت
ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد
لله کلمہ شکر ہے اورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا
بھردیتا ہے اور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا
بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد نمبر: 3 باب :اللّٰہ تعالی کے ناموں کا بیان حدیث نمبر:2322)
(2)وَعَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ
لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان
و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں
ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو
شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں
گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد نمبر: 3 باب: روزے کا بیان حدیث نمبر:
1958)
(3) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ
بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا:"اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے
ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول الاصل، السادس جلد نمبر: 1صفحہ
نمبر:44 حدیث نمبر: 45)
(4) حضور نبی پاک صاحب لولاک سیاح افلاک صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے
وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کے لیے ہےاور جس کی ہجرت دنیا پانے اور عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہو گی
تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ۔(صحیح البخاری کتاب الایمان
باب: ما جاء ان الاعمال جلد نمبر: 1 ،حدیث نمبر:54،صفحہ نمبر: 7)
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو احادیث مبارکہ
میں پڑھا اخلاص کے بارے میں، عبادات میں اخلاص کے بارے میں، نماز روزہ کے بارے میں
اخلاص ،پھر نیت کے بارے میں اخلاص تو اللہ تعالی ہمیں اپنے اندر اخلاص پیدا کرنے کی
توفیق عطا فرمائے اور ان احادیث مبارکہ سے اخلاص کے پہلوؤں کو حاصل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین بجاہ نبی الکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
اسلامی تعلیمات میں اخلاص کو ایک بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ
وہ بنیاد ہے جو ہر نیک عمل کو قدر و منزلت عطا کرتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اس بات
کو بار بار بیان کیا کہ اعمال کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ جو عمل اللہ
تعالیٰ کے لیے خالص نیت کے ساتھ کیا جائے، وہی اس کے نزدیک اہمیت رکھتا ہے۔ اخلاص
انسان کے دل اور کردار کو پاکیزہ بناتا ہے اور اسے سچے ایمان کی طرف لے جاتا ہے۔
اگر عبادت میں خالص نیت شامل نہ ہو تو وہ بظاہر بڑا ہونے کے باوجود بے فائدہ ہو
جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی چھوٹا عمل بھی خالص نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ مقبول
ہوجاتا ہے۔
آئیے، کچھ احادیث و آیات کے ذریعے اس کی اہمیت کو سمجھنے
کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ایمان اور اخلاص کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف
کر دیے جاتے ہیں۔ اور جو رمضان کی راتوں میں ایمان و اخلاص کے ساتھ قیام کرے، اس
کے بھی پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔ اور جو شبِ قدر میں خالص نیت کے ساتھ عبادت
کرے، اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔" (مرآۃ المناجیح جلد 3، حدیث
1958)
حضرت ابن عمرسے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "سبحان
اللہ تمام مخلوق کی عبادت ہے، الحمد للہ شکر کا کلمہ ہے، لا الہ الا اللہ اخلاص کا
کلمہ ہے، اللہ اکبر آسمان و زمین کے درمیانی فاصلے کو بھر دیتا ہے، اور جب بندہ
'لاحول ولا قوۃ الا باللہ' کہتا ہے تو رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ مطیع ہوگیا
اور اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا۔" (مرآۃ المناجیح جلد 3، حدیث 2322)
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے
اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا
دین ہے۔ (سورۃ البینہ، آیت 5)
آیت واحادیث سے
واضح ہوتا ہے کہ اخلاص ہر عمل کی سچائی اور قبولیت کی اصل بنیاد ہے۔ جس عمل میں نیت
خالص نہ ہو، وہ خواہ کتنا بڑا ہو، اس میں وزن باقی نہیں رہتا۔ اور جو عمل اللہ
تعالیٰ کے لیے کیا جائے، وہی قدر پاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی
نیت کو درست رکھے، اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق کرے اور دل میں ہر قسم کے
دکھاوے سے بچتا رہے۔ اخلاص ہی ایمان کی قوت اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے ہر عمل میں خالص نیت عطا فرمائے، ریاکاری سے محفوظ رکھے اور
ہمارے اعمال کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
محمد
عمر رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،
پاکستان)
اخلاص کی اہمیت یہ ہے کہ یہ تمام اعمال کی قبولیت کی بنیاد
ہے، اعمال کی روح ہے، اور دنیا و آخرت میں کامیابی، اللہ کی محبت، درجات کی بلندی
اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر عمل بے روح ہوتا ہے اور ریاکاری
(دکھاوے) کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے انسان اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ناکام ہو
جاتا ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کہ کسی بھی عمل میں نیت صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، اس
میں دکھاوا، شہرت، یا دنیاوی لالچ شامل نہ ہو۔
(1) گناہ بخش دیئے جاتے ہیں :حضرت
ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص
سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان
و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب
قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
(2) رازوں میں سے ایک راز ہے:حضرت سیدنا
حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اخلاص میرے
رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں نے اپنے محبوب بندوں کے دل میں ودیعت رکھتا ہوں
۔(فردوس الاخبار ،2/145،حدیث:4539)
(3) دنیا چھوڑی دی:حضرت سیدنا
انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقا دو جہاں سرور معصوم حسن اخلاق کے پیکر
نبیوں کے تاجور محبوب رب اکبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے
اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے مخلص ہونے کی حالت میں دنیا چھوڑی اور نمائز قائم کی
اور زکوۃ ادا کی تو اس نے اس حال میں دنیا چھوڑی کہ اللہ عزوجل اس سے راضی تھا ۔(المستدرک
،کتاب التفسیر، باب خطبۃ النبی فی حجتہ الوداع ،حدیث 3330،ج 3، ص 65)
(4) دین کا مخلص ہونا :حضرت سیدنا
ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی
عنہ نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ
نصیحت فرمائیے نبی مکرم نور مجسم رسول اکرم شہنشاہ بنی آدم صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی تمہیں کفایت کرے گا ۔(المستدرک،
کتاب الرقائق ،حدیث 7914،ج 5، ص 435)
(5) ہدایت کے چراغ:حضرت سیدنا
سبحان رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر تمام نبیوں کے سرور دو
جہاں کے تاجور سلطان بحروبر صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا
مخلصین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر
تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔(الترغیب و الترہیب کتاب البعث واھوال یوم القیمہ باب الترتیب
فی الاخلاص الخ ،حدیث 5،ج 1 ،ص 23)
عبدالرحمن
عطاری (درجہ رابعہ جامعۃالمدینہ فیضان رضا چوہنگ،لاہور، پاکستان )
اخلاص (Impartiality) عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے کسی عمل کو محض اللہ تعالیٰ کی
رضا اور خوشنودی کے لیے سرانجام دینا۔ یہ ایمان کی روح اور ہر نیک عمل کی قبولیت کی
بنیادی شرط ہے۔ اگر عمل بظاہر کتنا ہی اچھا ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو، تو وہ بے
وزن ہو جاتا ہے۔یہاں احادیث کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے:
(1)عمل کی
قبولیت کا دار و مدار:تمام اعمال کا دار و مدار صرف اور صرف نیت پر ہے۔ اخلاص
نیت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے۔امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اِنَّمَا
الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَاِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَّا نَوَىٰ، فَمَنْ
كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ اِلَى اللّٰهِ
وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ اِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا اَوْ امْرَاَةٍ
يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ اِلَى مَا هَاجَرَ اِلَيْهِ۔
ترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو
وہی ملے گا جو اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، تو
اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف مانی جائے گی، اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا
کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہوگی، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس
کے لیے اس نے ہجرت کی۔(صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۱)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عمل کی شکل نہیں، بلکہ باطنی نیت
(اخلاص) ہی اس کے اجر کا تعین کرتی ہے۔
(2)شرک خفی
(ریاء) سے نجات:اخلاص، ریاکاری (دکھاوا) کا تریاق ہے۔ ریاکاری ایک ایسا "شرک
خفی" ہے جو اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کے بارے میں فیصلہ کیا
جائے گا، ان میں ایک شہید ہوگا۔ اسے لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں
یاد کرائے گا۔ وہ اقرار کرے گا۔ اللہ پوچھے گا: 'تو نے ان نعمتوں میں کیا عمل کیا؟وہ
کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔اللہ فرمائے گا: تو
نے جھوٹ کہا! تو نے تو اس لیے جہاد کیا تاکہ لوگ تجھے بہادر کہیں، اور وہ کہا گیا۔پھر
عالم اور سخی کو لایا جائے گا اور ان دونوں کو بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ
ان کے اعمال میں ریاکاری تھی، اور وہ چاہتے تھے کہ لوگ انہیں عالم اور فیاض کہیں۔(صحیح
مسلم، حدیث نمبر: ۱۹۰۵)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ عظیم اعمال (جہاد، علم،
سخاوت) بھی، اگر خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ ہوں تو وہ آخرت میں وبال بن جاتے ہیں۔
(3) قلیل
عمل اجر میں بڑھ جاتا ہے:بسا اوقات، اخلاص کی وجہ سے ایک
چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑے اجر کا باعث بن جاتا ہے، جبکہ دکھاوے والا بڑا عمل ضائع
ہو جاتا ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور
تمہاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں (اخلاص) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا
ہے۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۵۶۴)
یہ حدیث اخلاص کے مقام کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کی نظر میں
ظاہری شان و شوکت اور عمل کی کثرت نہیں، بلکہ دل کی اخلاص والی کیفیت زیادہ اہمیت
رکھتی ہے۔
اخلاص دراصل اپنے عمل کو دنیاوی مفادات (جیسے: تعریف،
شہرت، مال و دولت) سے پاک کر کے صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے مختص کر دینا ہے۔
احادیث کی روشنی میں، اخلاص عمل کی قبولیت کی کنجی ہے اور ریاکاری سے نجات کا واحد
ذریعہ ہے۔ ایک مومن کو ہر وقت اپنی نیت کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ اس کے تمام
اعمال (عبادت، کاروبار، تعلیم، خدمت خلق) اللہ کے ہاں مقبول ہو سکیں۔
اخلاص اسلام کی بہت ہی پیاری چیز ہے جو ہمیں سب سے زیادہ
آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے آپ صلی اللہ تعالی علیہ
وسلم اخلاص کے ساتھ ہر کام کو سر انجام دیتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ جب بھی کام
کرے خالص اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرے۔
لہذا ہر کام میں اخلاص ضروری ہے ۔اگر ریاکاری کی
نیت ہو تو بیکار ہے ، ثواب کی بجائے الٹا گناہ ہوگا آج ہم اخلاص کی اہمیت کے بارے
میں حدیث کی روشنی میں پڑھتے ہیں :
وَعَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ
لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِترجمہ:ابوہریرہ
بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے
روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، جو شخص ایمان و اخلاص اور
ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے (نماز تراویح کا اہتمام کرے) تو اس کے سابقہ
گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اور جو شخص ایمان و اخلاص اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں
قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح،کتاب: روزوں کا بیان
،باب: روزوں کا بیان،حدیث نمبر: 1958)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ تو خاتَمُ الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ایک نسخہ
میں ہے : وہی راہ خدا عَزَّوَجَلَّ کا
مجاہد ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ الخ،الحدیث : ۴۹۲۰،ص۱۰۱۸)
ّسیِّدُ
المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت
سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی
عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے ۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶، ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا
فرمانِ عالیشان ہے : ’’ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ‘‘ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
مذکورہ احادیث میں اخلاص کی اہمیت کے بارے میں معلوم ہوا
ان احادیث میں ایک بات یہ ثابت ہوئی کہ ہر کام اخلاص کے ساتھ سچی نیت کے ساتھ کرنا
چاہیے انسان اگر سچی نیت کرے کسی اچھے کام کے لیے اگر وہ نہ کرے تو اس کے لیے پھر
بھی نیکی ہے لہذا ہر کام میں اخلاص ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہمیں حضور صلی اللہ تعالی
علیہ والہ وسلم کہ زندگی کے مطابق سنت پر عمل کرتےہوئے زندگی گزارنی ہو گی۔ اللہ
تعالی ہمیں سنت پرعمل کرنے اور ہر کام کو اخلاص کے ساتھ، سچی نیت کے ساتھ کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
اسلام میں نیت اور اخلاص کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ تمام
عبادات، اخلاق اور معاملات کی بنیاد اخلاص ہے، یعنی ہر عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
کے لیے کیا جائے۔ اگر عمل کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، لیکن اس میں اخلاص نہ ہو تو وہ
اللہ کے ہاں مردود ہے۔
(1) اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے:حضرت
عمر بن خطاب سے روایت ہےإِنَّمَا
الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى
ترجمہ: ’’اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت
کی۔‘‘ (صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
(2) اللہ صرف دلوں کو دیکھتا ہے:نبی کریم
ﷺ نے فرمایا: "إِنَّ اللهَ لا
يَنظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَجْسَادِكُمْ، وَلَكِنْ يَنظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ
وَأَعْمَالِكُمْ" ترجمہ: ’’اللہ تمہاری صورتوں اور جسموں کو نہیں دیکھتا،
بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2564)
(3) ریا کاری عمل کو ضائع کر دیتی ہے:نبی ﷺ نے فرمایا:أخوف ما أخاف على أمتي الشرك الأصغر،
قالوا: وما الشرك الأصغر يا رسول الله قال: الرياء ترجمہ:
’’مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ چھوٹا شرک ہے۔ صحابہ نے
پوچھا: وہ کیا ہے؟ فرمایا: ریاکاری۔‘‘(مسند احمد: 23630، صحیح) (4) قیامت کے دن اخلاص کے بغیر
اعمال رد ہو جائیں گے:نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جن تین
افراد کا حساب ہوگا، ان میں ایک عالم، دوسرا مجاہد اور تیسرا سخی ہوگا، لیکن چونکہ
ان کے اعمال دکھاوے کے لیے تھے، اس لیے ان کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح
مسلم: 1905)
اخلاص وہ خفیہ عبادت ہے جسے صرف اللہ جانتا ہے۔ اس کے بغیر
عبادات، خیرات، جہاد، علم دین اور وعظ سب بے کار ہو جاتے ہیں۔ مسلمان کا ہر قول و
فعل اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے۔ نیت کی درستگی ہی اخلاص کی علامت ہے۔
اخلاص کی تعریف :اخلاص یہ ہے کہ بندہ نیک اعمال صرف اور صرف اللہ پاک
کی رضا اور خوشنودی کے لیے کرے۔( مرقاة المفاتيح ، ج 1 جس (486)
30برس کی نَمازیں قضا کیں:ایک بُزُرْگ رَحْمَۃُ اللہِ
تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میں نے30برس کی نَمازیں قَضا کیں، وجہ اِس کی یہ ہوئی کہ میں ہمیشہ ہر نَماز پہلی
صَف میں با جماعت ادا کرتا رہا۔ 30برس کے بعد کسی مجبوری کے سبب تاخیر ہو گئی اور
مجھے دوسری صَف میں جگہ ملی، اِس سے مجھے
شرمندَگی محسوس ہوئی کہ آج لوگ کیا کہیں گے ! یہ خیال آنے کے سبب میں جان گیا کہ
جب لوگ مجھے پہلی صَف میں دیکھتے تھے تو اِس سے مجھے خوشی ہوتی تھی اوریہ بات میرے
دل کی راحت کاباعِث تھی۔ (ورنہ مجھے
شرمندَگی ہوتی ہی کیوں ، کہ آج لوگ کیا کہیں گے! توگویا 30برس سے میں لوگوں کو دکھانے کیلئے پہلی صَف میں نَماز پڑھتا رہا
ہوں! ) (اِحیاءُ الْعُلوم، ج5، ص108،
بِتَصَرُّفٍ )
آئیے ایسی چند احادیث ذکر کرتے ہیں جس میں حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے اخلاص کی اہمیت ذکر فرمائی :
(1) فرمانِ مصطفى ﷺ :اے لوگو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے
اخلاص کے ساتھ عمل کرو۔( سنن الدار قطنی، الحدیث: 130، ج 1، ص 73)
اسی طرح جو عمل اخلاص سے خالی ہو تو اسکا انجام بیان
کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
(2) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولِ اکرم ص ﷺ نے ارشاد فرمایا:بے شک جہنم میں ایک وادی
ہے جس سے جہنم روزانہ چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے،اللہ تعالیٰ نے یہ وادی اُمتِ
محمدیہ کے ان ریاکاروں کے لئے تیار کی ہے جو قرآنِ پاک کے حافظ،راہِ خدامیں صدقہ
کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے گھر کے حاجی اور راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں نکلنے والے
ہوں گے (لیکن یہ سارے کام صرف ریاکاری کیلئے کررہے ہوں گے۔ (معجم الکبیر، الحسن عن
ابن عباس، 12 / 136، الحدیث :128.3)
عمل اگرچہ کم ہو لیکن اخلاص کے ساتھ ہو تو کافی ہے جیسا
کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
(3) حضور نبی کریم علیہ افْضَلُ الصَّلوةِ وَالتَّسْلِيم
نے حضرت مُعَادُ بن جَبَل رَضِی اللَّهُ تَعَالَى عَنہ سے فرمایا: اخلاص کے ساتھ
عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نوادر الاصول، الاصل
السادس، 1 / 44، حدیث: 45)(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ26)
نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی ہوئی توفیق سے اگر کوئی نیکی
کا موقع نصیب ہو بھی جائے تو اُسے زیورِ اِخلاص سے مُزیَّن کیجئے۔ اللہُ تَعَالٰی بوسیلۂ مصطَفٰے ص ﷺ آپ کو اور
آپ کے صدقے مجھ گنہگار وں کے سردارکو اپنا مُخلِص بندہ بنائے۔ اٰمین۔
(4)فرمانِ مصطَفٰے ص ﷺ : جو بندہ چالیس دن خالِص اللہُ
تَعَالٰی کے لیے عمل کرے اللہُ تَعَالٰی حکمت کے چشمے اُس کے دل سے اس کی زُبان پر
ظاہِر کر دیتا ہے۔ (اَلتَّرغِیب
وَالتَّرہِیب ، ج1، ص24، حدیث: 13) (شیطان کے بعض ہتھیار صفحہ 24)
(5) فرمانِ مصطَفٰے ص ﷺ : آدَمی کا ایسی جگہ نَفْل
نَماز پڑھنا جہاں لوگ اسے نہ دیکھتے ہوں، لوگوں کے سامنے ادا کی جانے والی 25 نَمازوں کے برابر ہے۔ (جَمْعُ الْجَوامِع، ج5، ص83، حدیث: 13620) عنوان کے مطابق نہیں (شیطان کے بعض ہتھیار صفحہ 26)
محمد
نواز(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
(1)روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں
فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے
اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں
عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص
کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ، حدیث نمبر:1958)
(2)روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ آپ نے فرمایاسبحان الله
ساری مخلوق کی عبادت ہےاورالحمد لله کلمہ شکر ہےاورلا الہ الا الله اخلاص کا کلمہ
ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا ہےاور جب بندہ کہتا
ہےلاحول ولا قوۃ الا بالله تورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع ہوگیا اور اپنے
کو میرے سپردکردیا۔
شرح:لاالہ الا الله سے مراد پورا کلمہ ہے،اخلاص سے مراد
ہے چھٹکارا اور رہائی یعنی اس کلمہ طیبہ کی برکت سے بندہ دنیا میں کفر سے اور آخرت
میں دوزخ سے رہائی پاتاہے یا اخلاص ریاء کا مقابل ہے،بمعنی خلوص نیت یعنی یہ کلمہ
اگر خلوص نیت سے پڑھا جائے تو مفید ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:3 ،
حدیث نمبر:2322)
(3)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، رسول ُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا
: جس نے اس رات میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالیٰ
اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے ۔(بخاری شریف کتاب الایمان باب قیام لیلۃ
القدر من الایمان جلد 1 حدیث نمبر35)
(4)حضر ت حمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے، (حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے) فرمایا: میں نے نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’
بے شک میں وہ کلمہ جانتاہوں جسے کوئی بندہ دل سے حق سمجھ کرکہتاہے تواللہ تعالیٰ
اسے آگ پرحرام قرار دے دیتا ہے، تو (یہ سن کر) حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:میں تمہیں بتاتاہوں کہ وہ کون ساہے ،وہ کلمہ اخلاص ہے
جواللہ تعالیٰ نے نبی ٔرحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور
آپ کے اَصحاب پرلازم کیاہے اوروہی پرہیز گاری کا کلمہ ہے جس کی ترغیب اللہ تعالیٰ
کے محبوب نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے
چچاابوطالب کوموت کے وقت دلائی،اوروہ اس بات کی شہادت دیناہے کہ اللہ تعالیٰ کے
سواکوئی معبود نہیں ۔
(درمنثور، الفتح، تحت الآیۃ: 26، 7 / 536)
عبد
الرحیم عطاری(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور،پاکستان)
پیارے اسلامی بھائیو ! نیک اعمال میں اخلاص اپنانا بہت
اہمیت کا حامل ہے ،امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: رِیاکاری سے
بچتے ہوئے اِخلاص کے ساتھ نیک اَعمال کرنے کی عادت بنائیے کہ مُخلص شخص ہزار(1000)
پَردوں میں چھپ کر بھی نیک کام کرے، اللہ پاک اسے لوگوں میں مشہور فرما دیتا ہے۔(امیرِ
اہلِ سنت کی 786 نصیحتیں ص:34)
اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی احادیث میں
اخلاص کی اہمیت کو بیان فرمایا ہے۔آئیے ہم بھی اخلاص کے متعلق چند احادیث پڑھنے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1) تھوڑا عمل کافی ہے:حضرت سیدنا
ابو عمران رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ
نے یمن کی طرف بھیجے جاتے وقت عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم!
مجھے کچھ نصحت فرمائیے۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجَسَّم،رسول اکرم،شہنشاہِ بنی آدم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے دین میں مخلص ہو جاؤ تھوڑا عمل بھی
تمہیں کفایت کرے گا۔ (مستدرک،کتاب الرائق،رقم 7914، ج5،ص435)
(2)مدد الہی کا ذریعہ:حضرت
سیدنا مَسعَد بن صَعب اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب میں
نے یہ گمان کیا کہ مجھے دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان پر کچھ فضیلت حاصل ہے تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:اس امت کے کمزور لوگوں کی
دعاؤں،نمازوں اور اخلاص کے سبب اس امت کی مدد کی جاتی ہے۔(نسائی،کتاب الجھاد،باب
الانتصا،ج6ص45بتغیر قلیل)
(3) ہدایت کے چراغ:حضرت سیدنا
ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر،تمام نبیوں کے
سَرْوَر،دو جہاں کے تاجْوَر،سلطانِ بَحروبَر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا: مخلصین (اخلاص کرنے والوں) کے لیے خوشخبری ہے کہ وہی ہدایت کے چراغ ہیں
انہی کی وجہ سے آزمائش کی ہر تاریکی چھٹ جاتی ہے ۔(الترغیب و الترہیب،کتاب البعث
واھوال یوم القیامۃ،باب الترغیب فی الاخلاص الخ،رقم5،ج1،ص23)
(4) اللہ کا راز:حضرت سیدنا حسن بَصْرِی
علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد
فرمایا: اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:اَلْاِخْلَاصُ
سِرٌّ مِّنْ سِرِّیْ اِسْتَوْدَعْتُہُ قَلْبَ مَنْ اَحْبَبْتُہُ مِنْ عِبَادِیْ
یعنی اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں
ودیعت رکھتا ہوں۔(فردوس الاحبار،145/2،حدیث:4539)
(5) حکمت کے چشمے:نبی کریم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:مَا مِنْ
عَبْدٍ یَخْلُصُ لِلّٰہِ الْعَمَلِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا اِلَّا ظَھَرَتْ یَنَابِیْعُ
الْحِکْمَۃِ مِنْ قَلْبِہٖ عَلٰی لِسَانِہٖ یعنی
جو بندہ 40 دن خالص رضائے الہی کے لئے عمل کرتا ہے تو اس کے دل سے اس کی زبان پر
حکمت کے چشمے جاری ہو جاتے ہیں۔(الزھد لابن المبار،باب فضل ذکر اللہ،ص359،حدیث:1014)
میرا
ہر عمل بس تیرے واسطے ہو کر اخلاص ایسا
عطا یاالہی
اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ ہر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے آمین بجاہ النبی الآمین ﷺ۔
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے، اور
نیت کی بنیاد "اخلاص" پر رکھی گئی ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے ہر عمل صرف اللہ
کی رضا کے لیے کرنا، دکھاوے، ریاکاری یا دنیاوی فائدے کے لیے نہیں۔
(1)نیت کا معیار: حضرت عمر بن خطاب رضی
اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر
ہے، اور ہر انسان کو وہی ملے گا جس کی اُس نے نیت کی۔(صحیح بخاری، باب : كيف كان
بدء الوحي إلي رسول الله صلى الله علیہ وسلم ، حديث نمبر: 1)
یہ حدیث اخلاص کی بنیاد ہے۔ ہر عبادت، خدمت، علم، صدقہ، یہاں
تک کہ روزمرہ کے کام بھی اگر خالص اللہ کے لیے ہوں، تو عبادت بن جاتے ہیں۔
(2) اللہ تعالیٰ صرف دل کو دیکھتا ہے: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تمہاری شکل و صورت اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ
تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔(صحیح مسلم، كتاب البر والصلة والاداب ، باب
تحريم الظلم المسلم، حديث نمبر 2564)
(3) حضرت ابو امامہ باہلی سے روایت ہے کہ نبی پاک صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ صرف وہ عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی کے لیے
کیا جائے اور جس میں صرف اس کی رضا مطلوب ہو۔(سنن نسائی، كتاب الجهاد، من غزا
يلتمس الاجر والذكر، حديث نمبر 3140)
ان احادیث کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ اخلاص دین کی روح
ہے۔ کسی بھی عمل کو اللہ کے ہاں قبول کرانے کے لیے لازم ہے کہ وہ خالصتاً اللہ کی
رضا کے لیے ہو۔ ورنہ وہ عمل دنیا میں تو قابلِ تعریف ہو سکتا ہے، مگر آخرت میں بے
وزن ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اسلام میں تمام اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت اور
اخلاص پر ہے۔ اگر نیت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو چھوٹا سا عمل بھی عظیم درجہ
رکھتا ہے، اور اگر نیت میں ریاکاری یا دنیا طلبی شامل ہو، تو بظاہر بڑا عمل بھی
اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ
کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (البینہ:5)
وَعَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ
صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ
ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا
تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ. وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا
وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله
صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایمان و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ
بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس
کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت
کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔(مسلم،بخاری)
( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 3 حدیث نمبر(1958)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ
أَنَّهٗ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰهِ هِيَ صَلَاةُ الْخَلَائِقِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ
كَلِمَةُ الشُّكْرِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ كَلِمَةُ الإخْلَاصِ، وَاللّٰهُ
أَكْبَرُ تَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: لَا
حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: أَسْلَمَ
وَاسْتَسْلَمَ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ
آپ نے فرمایاسبحان الله ساری مخلوق کی عبادت ہے اورالحمد لله کلمہ شکر ہے اورلا
الہ الا الله اخلاص کا کلمہ ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کی فضا بھردیتا
ہےاور جب بندہ کہتا ہےلاحول ولا قوۃ الا باللهتورب تعالٰی فرماتا ہے میرا بندہ مطیع
ہوگیا اور اپنے کو میرے سپردکردیا۔(رزین) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد
3 حدیث (2323)
نبی کریم ﷺ کی
تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ہر عمل کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم ریاکاری، شہرت یا دنیاوی فائدے سے بچتے ہوئے ہر عمل خالص اللہ کے لیے کریں،
تاکہ وہ عمل بروزِ قیامت ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بن سکے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ اپنے تمام ظاہری و باطنی اعمال کو خالصتاً اللہ کے لیے کرے، تاکہ وہ دنیا و
آخرت میں کامیاب ہو سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق
عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم.
ساجد
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان )
اخلاص ایسی نعمت ہے کہ جس کو بھی نصیب ہوئی وہ دنیا و
آخرت میں کامیاب ہوگیا ، اگر دیکھا جائے تو مخلص آدمی کو لوگ بھی پسند کرتے ہیں
اور اسکی عزت کرتے ہیں اور اللہ پاک بھی اخلاص کے ساتھ کی گئی عبادت کو پسند
فرماتا ہے جبکہ محض دکھاوے اور ریاکاری کیلئے کی گئی عبادت کو پسند نہیں کرتا اور
اس صورت میں آدمی نہ صرف اجر و ثواب سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ گنہگار بھی ہوجاتا
ہے ،حالانکہ مومن کی تو شان ہی یہ ہے کہ وہ ہر عمل اللہ پاک کی رضا حاصل کرنے کے لیے
کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ تو نے مجھے اپنی عبادت کرنے کی توفیق
عطا فرمائی اسلام میں اخلاص کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور احادیث مبارکہ میں اخلاص کے
فضائل بیان کئے گئے ہیں اور اس کے برعکس محض دکھاوے اور ریاکاری کیلئے کیے گئے
اعمال پر وعیدیں بھی احادیث میں میں وارد ہیں :
(1) عمل کا خالص ہونا :امیر
المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کے فرائض کی ادائیگی
،حرام اشیاء سے اجتناب اور اللہ تعالیٰ کے ہاں نیت کا سچا( خالص) ہونا بہترین عمل
ہے ۔(فیضانِ ریاض الصالحین، جلد اول ،نیت اور اخلاص کا بیان ،صفحہ 32 ،مکتبۃ المدینہ)
(2)مخلص کا تھوڑا عمل بھی زیادہ ہے :حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تورات شریف اللہ پاک کا فرمان لکھا ہے کہ جس عمل
سے میری رضا مطلوب ہو وہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے میرے غیر کا قصد کیا گیا
ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے ۔ (فیضانِ ریاض الصالحین،جلد اول،صفحہ 32،مکتبۃ المدینہ)
(3)مخلص کامیاب ہوگیا :حضرت
سیدنا ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ملائکہ اللہ عزوجل کے بندوں میں سے
کسی بندے کے عمل کو زیادہ سمجھتے ہوئے لے جارہے ہونگے یہاں تک کہ اللہ عزوجل اپنی
سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ وہاں پہنچ جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ انکی طرف وحی
فرمائے گا کہ تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر معمور ہو اور میں اسکے دل سے باخبر ہوں
میرا یہ بندہ میرے لیے عمل کرنے میں مخلص نہیں تھا لھٰذا اسے سجین( ساتوں زمین کے
نیچے ایک مقام کا نام ہے جو شیطان اور اسکے لشکروں کا ٹھکانہ ہے) میں سے لکھ دو اسی
طرح فرشتے ایک بندے کے عمل کو کم اور حقیر جانتے ہوئے لے جارہے ہوں گے یہاں تک کہ
اللہ عزوجل اپنی سلطنت میں جہاں چاہے گا وہ فرشتے وہاں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ
انکی طرف وحی فرمائے گا تم میرے بندے کے عمل لکھنے پر معمور ہو اور میں اس کے دل
سے باخبر ہوں میرا یہ بندہ میرے لیے عمل کرنے میں مخلص ہے لھذا اسے علّیّین (علّیّین
ساتویں آسمان میں عرش کے نیچے ایک مقام کا نام ہے یہ نیک لوگوں کا ٹھکانہ ہے) میں
سے لکھ دو۔(فیضانِ ریاض الصالحین ، جلد اول ، اخلاص و نیت کا بیان ،صفحہ29)
(4)خالص عمل ہی قبول ہوں گے :تاجدار
مدینہ منورہ سلطان مکہ مکرمہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بروز قیامت کچھ
مُہر بند صحیفے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نصب ( پیش)کیے جائیں گے ، تو اللہ تعالیٰ
فرشتوں سے فرمائے گا یہ چھوڑ دو اور یہ قبول کر لو ، فرشتے عرض کریں گے ،یا رب
العالمین تیری عزت کی قسم ! ہم تو اس میں خیر ہی دیکھتے ہیں ،اللہ تعالیٰ جو سب سے
زیادہ جاننے والا ہے ارشاد فرمائے گا یہ اعمال میرے غیر کیلئے کیے گئے تھے آج میں
وہی عمل قبول کروں گا جو میری رضا کیلئے کیے گئے تھے ۔(فیضانِ ریاض الصالحین،جلد
اول ،نیت اور اخلاص کا بیان ، صفحہ28 ،مکتبۃ المدینہ)
ہم اخلاص کو کیسے اپنائیں ؟اگر ہم
اس بات پر ہی غور کرلیں کہ ایک دنیادار تاجر کو جب کسی چیز کے بارے میں معلوم
ہوجائے کہ وہ اسکے منافع کو ختم کر رہی ہے تو وہ اس سے کوسوں دور بھاگتا ہے اور جب
اس کو پتا چل جائے کہ فلاں چیز کاروبار میں ترقی اور کامیابی کا راز ہے تو چاہے وہ
کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو وہ اسکو اپنے اوپر لازم کر دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس ہمیں
معلوم ہے کہ ریاکاری نا صرف ہمارے نیکیوں کے منافع کو ختم کرتی ہے بلکہ ہمیں
گناہوں کے خسارے میں ڈال دیتی ہے تو ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اس سے دور نہیں بھاگھتے
اور ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اخلاص ہی وہ نسخہ ہے جو نیکیوں کے منافع میں اور
آخرت میں کامیابی کا راز ہے ، اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی عبادت میں اخلاص
عطا فرمائے اور ریاکاری کی موذی بیماری سے نجات عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین
صلی اللہ علیہ وسلم ۔
Dawateislami