مہتاب
احمد سعیدی (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اسلام میں اخلاص کا بہت بڑا مقام ہے۔ ہر نیک عمل کی قبولیت
کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ نیت ، خلوص اور اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا ہی اصل کامیابی
ہے۔ اس مضمون میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت
پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
(1)وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے۔ ( سورۃ البینہ، آیت 5)
(2)اَلَا
لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنز العرفان: سن لو! خالص
عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔ ( سورۃ الزمر، آیت 3)
(1) إِنَّمَا
الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ:
اعمال نیتوں پر منحصر ہیں، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح
بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث 1)
(2)أَنَا
أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي
غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ترجمہ:میں شریکوں سے بے نیاز
ہوں، جو میرے ساتھ شریک کیا، اسے اور اس کا عمل چھوڑ دیتا ہوں۔(صحیح مسلم، کتاب الزہد،
حدیث 2985)
(3)إِنَّ
اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ
يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ترجمہ:
اللہ تمہارے چہروں اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث 2564)
(4)مَن
سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ ترجمہ:جو
شہرت کے لئے عمل کرے، اللہ اسے رسوا کرے گا، جو ریا کرے، اللہ اس کو بے نقاب کرے
گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزہد، حدیث 2986)
(5)إِنَّ
اللهَ لا يَقْبَلُ مِنَ العَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ
بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:"اللہ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی
کے لئے کیا گیا ہو۔" (سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث 3140)
اخلاص دین کی بنیاد ہے۔ خالص نیت کے بغیر کوئی عمل اللہ کی
نظر میں قبول نہیں ہوتا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ہر عمل میں اخلاص اختیار کریں تاکہ ہم
دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اخلاص انسان کی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے اور یہ
اللہ کے قریب ہونے کا سب سے اہم راستہ ہے۔
حنظلہ
نورانی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ
ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد اخلاص ہے۔
اخلاص کے بغیر عبادات محض رسمی حرکات بن جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی
کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اعمال صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے، نہ دکھاوے کے لیے اور نہ ہی دنیاوی فائدے کے لیے۔
اخلاص عربی زبان کے لفظ خلص سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک
کرنا۔ شریعت کی اصطلاح میں اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے قول، فعل اور نیت کو خالص
اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دے۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک عام عمل کو بھی اعلیٰ عبادت
بنا دیتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اخلاص کے ساتھ
عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(سورۃ البینہ: 5)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل شرط اخلاص ہے۔ اگر
نیت خالص نہ ہو تو بڑا عمل بھی ضائع ہو جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ
اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱)
ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ : مجھے حکم ہے کہ میں اللہ
کی عبادت کروں اسی کیلئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ (سورۃ الزمر: 11)
یہ حکم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ
اخلاص کی اہمیت ہر مسلمان کے لیے کس قدر زیادہ ہے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو
اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اخلاص کے بہت سے فوائد ہیں: اخلاص
انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے، دل کو سکون عطا کرتا ہے اور بندے کو شیطان کے
وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اخلاص کی بدولت تھوڑا سا عمل بھی زیادہ اجر کا باعث بن
جاتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص اسلام کی روح ہے۔ ہر
مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور ہر عبادت، خدمت اور نیکی صرف
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
ذیشان عطاری(درجہ ثالثہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اخلاص اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک نہایت اہم صفت
ہے۔اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال، عبادت، اور نیک کام صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے ، نہ کہ دکھاوے کے لیے اخلاص کے بغیر اعمال کی اہمیت
کم ہو جاتی ہے جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا ایک چھوٹا سا نیک عمل بھی اللہ کے نزدیک
بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے ۔
(1)فَادْعُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنز العرفان:تو اللہ کی بندگی
کرو،خالص اسی کے بندے بن کر ،اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو۔(المؤمن:14)
تفسیر
صراط الجنان:اس آیت سے یہ
معلوم ہوا کہ جو بھی نیک عمل کیا جائے اس میں ریا کاری اور لوگوں کو دکھانا مقصود
نہ ہو بلکہ وہ خالص اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا جائے کیونکہ اللہ تعالی
پاک ہے اور وہ ریا، دکھاوے وغیرہ سے پاک عمل ہی قبول کرتا ہے۔
(2) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ
الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(البینہ:5)
تفسیر صراط الجنان:ان باتوں میں سے ایک بات یہ پتا چلی
کہ وہی عمل مقبول ہے جس میں خالص اللہ تعالٰی کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ
تعالی تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم، كتاب
البر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم و خزلہ الخ ص ۱۳۸۷، الحدیث ۳۴ (۲۵۶۴)
اِخلاص
کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی: حضورنبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:اِخلاص
کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
حضرت سیدنا
جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی
نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف
مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘
فرمایا: جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی
اس کی تعریف کرے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ ۳۳)
آخر میں
یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول
نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں اپنی نیت کو ہر وقت خالص رکھنا چاہیے۔اگر
مسلمان اپنے قول و فعل میں اخلاص اختیار کریں تو ان کی عبادات بھی سنور جائیں اور
معاشرہ بھی اصلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے۔اللہ
تعالیٰ ہمیں خالص نیت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائےـ آمین
اخلاص دینِ اسلام کی ایک نہایت اہم صفت ہے جس پر اعمال کی
قبولیت کا دارومدار ہے۔ اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے، اور جب
نیت خالص ہو تو عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مقبول ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم اور
احادیثِ مبارکہ میں بارہا اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے
کہ بغیر اخلاص کے عبادات اور نیک اعمال بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دینِ اسلام
میں اخلاص کو بنیادی مقام حاصل ہے۔
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں
اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم
نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۶)
حضور نبی ٔپاک، ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں
پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف
ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح
کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘(صحیح
البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’
مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس گروہ
کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کے اولین وآخرین کو زمین
میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ ‘‘ (صحیح البخاری
،کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث:)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ ‘‘ تو خاتَمُ
الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک
نسخہ میں ہے : ’’ وہی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے۔(صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ
،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ)
اخلاص یہ ہے کہ خود
اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا
اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص)
اسلام میں ہر عمل کی اصل روح "اخلاص" یعنی صرف
اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا ہے۔ اگر عمل نیک ہو مگر نیت دنیا کو دکھانے کی ہو تو
وہ عمل قبول نہیں ہوتا۔ مزید یہ ہے کہ بندہ ہر نیکی، عبادت، خدمت یا نفع پہنچانے
والے عمل کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کرے، نہ کہ کسی شہرت، واہ واہ، یا دنیاوی
فائدے کے لیے۔ (1)نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِترجمہ: اعمال کا دار و مدار نیتوں
پر ہے۔(صحیح بخاری: 1)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عمل کے پیچھے نیت ہی
اصل اہمیت رکھتی ہے۔ اگر نیت خالص ہوگی تو عمل چاہے چھوٹا ہو، اللہ تعالیٰ کے ہاں
عظیم اجر کا باعث بنے گا۔
(2)حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ عبدالرحمن بن صَخْررَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ ص ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ عزَّوَجَلَّ نہ تو تمہارے جسموں کی طرف
نظرکرتاہے نہ ہی تمہاری صورتوں کی طرف بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کو دیکھتا ہے ۔(شرح
اربعین نوویہ ،جلد 1: حدیث نمبر: 14)
(3)عَنْ
عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ: رَسُوْلُ
اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ
وَاِنَّمَا لِامْرِیٍٔ مَّا نَویٰ فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہِ
وَرَسُوْلِہٖ فَھِجْرَتُہٗ اِلَی اللّٰہ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ
اِلَی دُنْیَا یُصِیْبُھَا اَوِامْرَأَۃٍ یَّتَزَوَّجُھَا فَھِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا
ھَاجَرَ اِلَیْہِ۔ حضرت
عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تمام اعمال کا ثواب نیتوں سے ہے
اور ہر آدمی کے لئے وہی ہے جو اس نے نیت کی ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول
کی طرف ہوتو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس شخص کی ہجر ت دنیا
حاصل کرنے کے لئے یا کسی عورت سے نکاح کے واسطے ہوتو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہوگی
جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔(صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی
الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، الحدیث:۱، ج۱،
ص۵، وصحیح
مسلم،کتاب الامارۃ،باب قولہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:انما الاعمال الخ، الحدیث: ۱۹۰۷، ص۱۰۵۶)
اللہ تعالیٰ
صرف وہی نیکیاں قبول کرتا ہے جن میں دکھاوا نہ ہو اور صرف اس کی رضا مقصود ہو۔ اس
لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ہر عمل کو خالص نیت اور اخلاص کے ساتھ کرے۔ اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اخلاص عطا فرما۔
محمّد
حذیفہ عطاری(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار ظاہر کی کثرت
پر نہیں بلکہ باطن کی کیفیت پر ہےوہ عمل جو لوگوں کی نگاہ میں بہت بڑا ہو، اگر نیت
میں اخلاص نہ ہو تو اللہ کے ہاں بے وقعت ہو جاتا ہے، اور وہ عمل جو بظاہر معمولی
ہو اگر نیت خالص ہو تو بارگاہِ الٰہی میں عظیم بن جاتا ہے۔اخلاص دل کی وہ پاکیزہ
حالت ہے جس میں بندہ اپنے ہر قول و فعل اور عبادت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا
چاہتا ہےنہ تعریف کی طلب نہ شہرت کی خواہش نہ دنیاوی فائدے کی نیت بلکہ اللہ ہی
مقصود اور اللہ ہی مطلوب ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید اخلاص کو دین کی بنیاد قرار دیتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا
اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو
ں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو
کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (سورۃ البینہ آیت نمبر
5)
اِس آیتِ مبارکہ میں جہاں بہت سارے احکام بیان ہوئے ہیں
اس میں سے ایک حکم یہ بھی بیان ہوا ہےکہ عمل وہ ہی مقبول ہے جس میں خالص اللہ تعالیٰ
کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔حضور نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی احادیث
مبارکہ کی طرف جب غور و فکر کریں تو اس میں بھی کئی احادیث ایسی ہیں جن میں ہمیں
اخلاص کا درس ملتا ہے :إِنَّ اللَّهَ لَا
يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ
وَجْهُهُ
ترجمہ:اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول نہیں فرماتا جو صرف اسی
کے لیے خالص نہ ہو اور جس سے اس کی رضا مقصود نہ ہو۔(سنن نسائی حدیث نمبر: 3140)
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت
ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد
فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا
بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ
و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴)
آج کے اس پُرفتن دور میں، جب عبادت بھی نمود و نمائش کا
شکار ہو چکی ہے، اخلاص کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے
دلوں کا محاسبہ کریں، اپنی نیتوں کو درست کریں، اور ہر عمل کو صرف اللہ کے لیے
کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ دلوں کے حال کو دیکھتا ہے، اعمال کی صورتوں
کو جانتا ہے
اخلاص دینِ اسلام کی روح اور تمام عبادات کی قبولیت کی
بنیادی شرط ہے۔ عربی زبان میں "اخلاص" کے معنی کسی چیز کو ملاوٹ اور
کھوٹ سے پاک کرنے کے ہیں۔ شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی تمام تر
عبادات، اعمال اور زندگی کے معاملات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام
دے۔
(1)اعمال کی
قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے:اسلامی شریعت میں کسی بھی عمل کی
قدر و قیمت اس کے پیچھے چھپی نیت سے لگائی جاتی ہے۔ عمل بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ
ہو، اگر اس میں اخلاص نہیں تو وہ اللہ کے ہاں مردود ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:"اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے
جس کی اس نے نیت کی۔"(صحیح بخاری: 1، صحیح مسلم: 1907)
(2)اللہ
تعالیٰ صرف خالص عمل قبول فرماتا ہے:اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، وہ ایسا
عمل قبول نہیں فرماتا جس میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا گیا ہو (جیسے شہرت یا
دکھاوا)۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا
گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص
اسی کے لیے ہو اور اس کے ذریعے اللہ کی رضا مقصود ہو۔"(سنن نسائی: 3140)
(3)ظاہری
صورت کے بجائے دل کی کیفیت کا اعتبار:لوگ اکثر انسان کے ظاہر، اس کی
دولت یا خوبصورتی کو دیکھتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں معیارِ بلندی صرف
"دل کا اخلاص" اور "تقویٰ" ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان
کیا گیا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"اللہ
تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"(صحیح مسلم: 2564)
(4)ریاکاری (دکھاوا) کی ممانعت اور انجام:اخلاص
کی ضد "ریاکاری" ہے۔ اگر کوئی شخص عبادت اس لیے کرتا ہے کہ لوگ اسے نیک
سمجھیں، تو یہ "شرکِ اصغر" (چھوٹا شرک) کہلاتا ہے۔ قیامت کے دن ایسے
لوگوں کو ان کے اعمال کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"میں
شریکوں کے شرک سے تمام شرکا سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں
میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا، میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"(صحیح
مسلم: 2985)
مذکورہ بالا احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اخلاص کے بغیر
انسان کا ہر عمل بے جان جسم کی مانند ہے۔ ایک چھوٹا سا عمل اگر مکمل اخلاص کے ساتھ
کیا جائے تو وہ اللہ کے ہاں پہاڑ جتنا اجر رکھ سکتا ہے، جبکہ دکھاوے کی بڑی سے بڑی
نیکی بھی رائیگاں جا سکتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر نماز، صدقہ اور نیک کام سے
پہلے اپنی نیت کی اصلاح کریں تاکہ وہ بارگاہِ الہی میں قبولیت پا سکے۔
محمد
نوریز عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان )
حقوق اللہ کی بنیاد:
اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت خالص اسی
کے لیے کی جائے، اور بندوں کا حق یہ ہے کہ اگر وہ شرک نہ کریں تو اللہ انہیں عذاب
نہ دے۔
عبادت کا اصل مقصد:عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل
کرنا ہے، نہ کہ لوگوں میں اپنی تعریف یا شہرت کرانا۔
ریا سے پاکی: ریاکاری (دکھاوے) سے بچنا اور نیت کو ہر
قسم کی آلائش سے پاک رکھنا اخلاص کا جزو ہے۔
عمل میں صداقت: اخلاص کا مطلب عمل میں دیانت اور صداقت
لانا ہے، یعنی جو کچھ بھی کیا جائے، وہ اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
مثال: جب آپ نماز پڑھیں، تو اس کا مقصد صرف اللہ کو راضی
کرنا ہو، نہ کہ یہ کہ لوگ آپ کو نمازی سمجھیں۔ یہی اخلاص ہے، جو تمام اعمال کی
قبولیت کی شرط ہے۔
وَ
اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا (۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان : اور اگر کوئی نیکی ہو تواسے دونی کرتااور اپنے
پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے۔ (پ۵، النسآء: ۴۰)
اخلاص
کی اہمیت اورفضائل:اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا
الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵) ترجمۂ
کنز الایمان : اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہواکہ اللہ کی بند گی کریں نرے اسی پر
عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰ ۃ دیں اور یہ سیدھا دین
ہے۔ (پ۰ ۳، البینہ: ۵)
حضور نبی ٔپاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت
کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا
پانے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف
اس نے ہجرت کی۔ (صحیح البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال…الخ،الحدیث: ۵۴،ص۷)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو
اس گروہ کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان کے اولین وآخرین کو زمین میں
دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ (صحیح البخاری ،کتاب
البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث: ۲۱۱۸،ص۱۶۵)
سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : مومن کی نیت اس کے
عمل سے بہتر ہے جبکہ منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور چونکہ ہر ایک اپنی نیت
کے مطابق عمل کرتا ہے لہٰذا مومن جب کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا دل روشن ہو جاتا ہے
۔ (المعجم الکبیر،الحدیث: ۵۹۴۲،ج۶، ص۱۸۵)
شفیعُ المذنبین،
انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : سچی نیت سب سے افضل عمل
ہے۔ (جامع الاحادیث،قسم الاقوال،الحدیث: ۳۵۵۴،ج۲،ص۱۹)
محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان)
اخلاص ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے
اپنے پاک کلام میں کئی مقامات پر اخلاص کی فضیلت بیان فرمائی اور کئی احادیث میں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاص کی فضیلت بیان فرمائی اور کئی مقامات پر بزرگان
دین رحمہم اللہ تعالیٰ نے اخلاص کے فضائل بیان فرمائے۔
(1)پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو ایمان
و اخلاص سے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جو رمضان میں
ایمان و اخلاص سے راتوں میں عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور
جو شب قدر میں ایمان و اخلاص کے ساتھ عبادت کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں
گے۔(مشکوٰۃ المصابیح جلد 3 حدیث 1958)
(2) خالص نیت کا اجر:اللہ
تعالیٰ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس
پر عمل نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ اسکے نامہ اعمال میں ایک کامل نیکی کا ثواب لکھ دیتا
ہے ۔(مسلم ،کتاب الایمان ، باب اذا ھم العبد بحسبہ کتبت الخ ، حدیث:131٫،ص 82)
(3) عمل کم ہو لیکن اخلاص کے ساتھ ہو:حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ تورات شریف میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
لکھا ہے :جس عمل سے میری رضا مطلوب ہو وہ تھوڑا بھی زیادہ ہے اور جس عمل سے میرے غیر
کا قصد کیا گیا ہو وہ زیادہ بھی تھوڑا ہے ۔(احیاء العلوم جلد 5 / 79)
(4)اخلاص کے ساتھ عمل کرو :امیر
المومنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں: قلت عمل کی فکر نہ کرو
بلکہ قبولیت عمل کی فکر کرو کیونکہ نبی پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا اخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اخلاص کے ساتھ
تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوگا ۔(فردوس الاخبار ، 2 / 145، حدیث 4539)
(5) اخلاص اللہ پاک کا ایک راز :حضرت سیدنا
حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے
ارشاد فرمایا اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: اخلاص میرے رازوں میں سے ایک راز ہے جس
کو میں اپنے محبوب بندوں کے دلوں میں ودیعت رکھتا ہوں ۔(نوادر الاصول الاصل
السادس،1/44، حدیث 45)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کی احادیث مبارکہ اور سنت مبارکہ پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
محمد
ایاز عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ
فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
اعمال میں اخلاص کا بڑا اہم کردار ہے بندہ چاہے جتنے بھی
نیک اعمال کرلے بے شمار نمازیں پڑھے، روزے رکھے، حج و عمرہ ادا کرے لیکن اگر اس میں
اخلاص نہیں تو ان نیک اعمال کا کوئی فائدہ ہی نہیں گویا کہ اس نے یہ نیک اعمال کیے
ہی نہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاص اور اس کی اہمیت کو جانیں تاکہ ہمارا کوئی بھی
عمل اخلاص سے خالی نہ ہو۔
اخلاص کی تعریف :کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا۔
(1)اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی:حضور نبی
کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا
عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ 24)
(2) نیک میں اعمال میں اخلاص نہ ہونے کا وبال:
اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مَدِینَۂِ مُنَوَّرَہ، سردارِ مَکَّۂِ
مُکَرَّمَہ ص ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اعمال نِیَّت ہی پر ہیں ہرشخص کیلئے وہی ہے
جواُس نے نِیَّت کی، جس کی ہجرت اللہ اور رَسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور
رسول ہی کی طرف ہے اور جس کی ہجرت حُصُولِ دنیا یا کسی عورت کے لئے ہو جس سے وہ
نکاح کرنا چاہے تواس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔( بخا ری
،کتاب بدء ا لوحي،باب کَیْفَ کَانَ بَدْئُُ الْوَحْی الخ،بتغیر قلیل،۱/۳۴، حدیث۵۴)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس فرمانِ مصطفٰی صَلَّی
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ دَرس ملاکہ اعمال کاثواب نِیَّتوں
پر موقوف ہے ،جو اللہ عزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کے لئے یعنی اخلاص کے ساتھ عمل کرے
گا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا اور جس کا عمل اخلاص سے فقط دنیا کے لئے ہوگا
اسے کچھ ثواب نہ ملے گا بلکہ یہ عمل بعض صورتوں میں اس کیلئے وَبال بن جائے گا۔
(3) جیسا کہ شرح مسلم میں ہے: جس
نےاللہ عزَّوَجَلَّ کی خوشنودی کیلئے ہجرت کی اس کا ثواب اللہ عزَّوَجَلَّ کے
ذِمّۂ کرم پر ہے اور جس نے دنیا یا کسی عورت کے لئے ہجرت کی تو وہی اس کا حصہ ہے،
اسے آخرت میں کچھ ثواب نہ ملے گا۔(شرح مسلم للنووی، کتاب الامارۃ، باب قولہ صلی
اللہ علیہ وسلم انما الاعمال بالنیۃ، ۷/۵۴،
الجزء الثالث عشر)
جس نے دِکھاوے کیلئے نماز پڑھی اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی
رِضا کی نِیَّت نہ کی تو وہ گناہگار ہوگا۔ الغرض’’جیسی نِیَّت ویساصلہ۔‘‘ اخلاص
ہوگا تو ثواب ملے گا ورنہ اعمال برباد کردیے جائیں گے۔
(4) اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ:نور کے
پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے
لئے کافی ہوگا۔ (المستدرک ،کتاب
الرقاق ، الحدیث۷۹۱۴،ج۵،ص۴۳۵)
بندہ چاہے کثرت سے نیک اعمال کرتا رہے لیکن اگر اس میں
اخلاص نہیں تو ان اعمال کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اخلاص کے ساتھ تھوڑا نیک عمل کرے
تو وہ کافی ہے مثلا کوئی شخص ہے وہ لاکھوں
روپے مساجد و مدارس میں دیتا ہو لیکن اخلاص نہ ہو تو لاکھوں روپے خرچ کرنا بےکار ہے۔
دوسری طرف وہ شخص جو تھوڑا ہی مال خرچ کرے لیکن اخلاص کے ساتھ خرچ کرے تو اس کا یہ
تھوڑا مال خرچ کرنا لاکھوں روپے خرچ کرنے پر غالب ہوگا۔
(5) اخلاص سے خالی عمل قبول نہیں کیا جاتا:
دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کے لئے اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل
قبول فرماتا ہے جواس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ (سنن الدارقطنی،کتاب الطہارت،
باب النیۃ ،الحدیث: ۱۳۰،ج۱،ص۷۳)
شفیعِ روزِ
شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باِذنِ پروردگار عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان
ہے : ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل قبول فرماتا ہے جو اخلاص کے ساتھ اور اس کی
رضا کے لئے کیا جاتا ہے۔ ‘‘ (سنن النسائی،کتاب الجہاد،الحدیث: ۳۱۴۲،ص۲۲۹۰)
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ ہم جو بھی نیک اعمال
کریں اس میں اخلاص کی اہمیت کو پیشِ نظر ضرور رکھیں کیونکہ آپ نے جانا اخلاص ہوگا
تو نیک اعمال کے ثواب کے ہم مستحق ہوسکیں گے ورنہ ایسے نیک اعمال کا کوئی فائدہ نہیں
جو اخلاص سے ہی خالی ہو ۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اخلاص کی دولت سے
ملامال فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔
حضور
کی اصحابِ اُحد سے محبت از بنت محمد شہباز، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
غزوۂ اُحد کے
موقع پر رسولِ اکرم ﷺ کی اپنے جاں نثار صحابۂ کرام سے محبت، شفقت اور وفاداری
اسلامی تاریخ کا نہایت درخشاں باب ہے غزوہ احد 3 ہجری میں پیش آیا جب کفارِ مکہ نے
مدینہ منورہ پر حملہ کیا اس معرکے میں اگرچہ مسلمانوں کو وقتی آزمائش کا سامنا
کرنا پڑا لیکن حضور نبی کریم ﷺ کی اپنے صحابہ سے محبت اور ان کے لیے دعا و استغفار
کے واقعات واضح طور پر نمایاں ہیں۔
قرآنِ مجید نے
اس واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ
تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِۙ-اِنَّمَا
اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْاۚ-وَ
لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْؕ- (پ 4، آل
عمران: 155) ترجمہ: بے شک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے جب دونوں جماعتیں
آمنے سامنے ہوئیں، انہیں شیطان نے ان کی بعض کوتاہیوں کے سبب لغزش دی، اور یقیناً
اللہ نے انہیں معاف فرما دیا۔
یہ آیت اس بات
کی دلیل ہے کہ وقتی لغزش کے باوجود اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو معاف فرمایا اور رسول
اللہ ﷺ نے بھی ان سے درگزر فرمایا۔
اسی طرح
فرمایا: فَبِمَا
رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْۚ-وَ
لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا
نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪- فَاعْفُ عَنْهُمْ
وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ (پ 4، آل عمران: 159) ترجمہ: تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے
محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے اور اگر تم تند خو سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس
سے چھٹ جاتے تو انہیں معاف فرما دو اور ان کے لیے بخشش مانگو۔
یہ آیت واضح
کرتی ہے کہ حضور ﷺ کی شفقت اور محبت ہی صحابہ کو آپ کے گرد جمع رکھتی تھی۔
احادیثِ
مبارکہ میں بھی آپ ﷺ کی اپنے صحابہ خصوصاً شہدائے اُحد سے محبت کا ذکر ملتا ہےحضرت
حمزہ بن عبدالمطلب جو اس معرکے میں شہید ہوئےحضور ﷺ کو بے حد عزیز تھے روایت ہے کہ
آپ ﷺ نے ان کی شہادت پر شدید غم کا اظہار فرمایا اور فرمایا: لیکن حمزہ کا کوئی
رونے والا نہیں۔ بعد ازاں انصار کی خواتین نے حضرت حمزہ پر نوحہ کیا تو رسول اللہ
ﷺ نے انہیں اس کے بعد کسی میت پر رونے سے منع فرما دیا۔ (ابن ماجہ، 2/263، حدیث: 1591)
حضرت انس بن
مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شہدائے اُحد کی قبور پر تشریف لائے ان کے لیے
دعا فرمائی اور فرمایا: میں قیامت کے دن تم پر گواہ ہوں گا۔ (بخاری، 3/33، حدیث:
4042)
یہ عمل اس بات
کا ثبوت ہے کہ حضور ﷺ کو اپنے ان جاں نثاروں سے کس قدر محبت تھی کہ برسوں بعد بھی
ان کی قبور پر جا کر دعا فرماتے۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: اُحد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اُس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری، 3/45،
حدیث 4083)
یہ ارشاد گویا
غزوۂ اُحد اور اس کے شہداء سے قلبی تعلق اور محبت کا اظہار ہے۔
تاریخ میں
مذکور ہےکہ جنگ کے بعد جب بعض صحابہ کو اپنی کوتاہی کا شدید رنج تھا تو رسول اللہ
ﷺ نے نہ صرف انہیں تسلی دی بلکہ ان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا۔ سیرت کی
کتب میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے شفقت کا برتاؤ فرمایا اور کسی کو بھی مستقل طور
پر ملامت نہ کیا۔
ان تمام دلائل
سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی اپنے اصحابِ اُحد سے محبت محض جذباتی نہیں بلکہ
عملی دعائیہ اور دائمی تھی آپ ﷺ نے ان کی لغزشوں سے درگزر فرمایا شہداء کے لیے
گریہ کیا ان کی قبور پر جا کر دعا کی اور امت کو یہ سبق دیا کہ سچی قیادت محبت عفو
اور رحمت پر قائم ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام بھی آپ ﷺ پر اپنی جانیں نچھاور
کرنے کو سعادت سمجھتے تھے۔
حضور جان عالم
ﷺ کو اپنے صحابۂ کرام سے بے حد محبت تھی۔ صحابہ کرام وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے
حضور ﷺ کی صحبت اختیار کی اور دینِ اسلام کے لیے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کر
دیا۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا اور اسلام کی حفاظت کے لیے بڑی
قربانیاں پیش کیں۔ انہی عظیم صحابہ میں شہدائے اُحد بھی شامل ہیں جنہوں نے اللہ
تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ یہ واقعہ جنگ احد میں پیش آیا جو
اسلام کی تاریخ کا ایک اہم معرکہ ہے۔
جنگِ اُحد
مدینہ منورہ کے قریب احد پہاڑ کے دامن میں لڑی گئی۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے بڑی
بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔ اگرچہ اس جنگ میں مسلمانوں کو کچھ مشکلات پیش
آئیں، مگر صحابہ کرام نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں
قربان کر دیں۔ اس جنگ میں تقریباً ستر صحابہ کرام شہید ہوئے۔ ان میں حضور ﷺ کے
پیارے چچا حضرت حمزہ بن حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے جنہیں سید
الشہداء کہا جاتا ہے۔
جب حضرت حمزہ
رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ شہید ہوئے تو حضور ﷺ کو بہت زیادہ غم ہوا، کیونکہ آپ
ﷺ اپنے صحابہ سے بے حد محبت فرماتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صبر کیا اور
اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے۔ حضور ﷺ اکثر شہدائے اُحد کی قبروں کی زیارت کے
لیے تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو
اپنے شہید صحابہ سے کتنی محبت تھی۔
احادیث مبارکہ
میں بھی حضور ﷺ نے شہداء کی عظمت بیان فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ
کی راہ میں زخمی ہوتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون
نکل رہا ہوگا جس کا رنگ خون کا ہوگا مگر خوشبو مشک کی ہوگی۔ (بخاری، 2/254، حدیث:
2803)
ایک اور حدیث
میں آتا ہے کہ حضور ﷺ شہدائے اُحد کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے لیے دعا
فرمائی۔ (بخاری، 3/33، حدیث: 4042)
Dawateislami