وعدہ وفائی اسلامی اخلاقیات کا نہایت اہم ستون ہے۔ اسلام نے انسان کو صرف عبادات کا پابند نہیں بنایا بلکہ معاملات، اخلاق اور سماجی تعلقات میں بھی اعلیٰ کردار کا حکم دیا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت اور معاشرے کے اعتماد کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث میں وعدہ خلافی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے، جبکہ وعدہ وفائی کو تقویٰ اور کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 34)

اس آیت سے واضح ہے کہ قیامت کے دن وعدوں کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ اس لیے وعدہ ایک معمولی بات نہیں بلکہ دینی ذمہ داری ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔(سورۃ المائدۃ: 1)

یہ حکم عام ہے، جس میں ہر قسم کے وعدے اور معاہدے شامل ہیں، چاہے وہ اللہ سے ہوں یا بندوں سے۔

وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنز العرفان: اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں۔ (سورۃ البقرۃ: 177)

یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفائی نیکی اور تقویٰ کی نشانی ہے۔

گویا یوں ہی ہے کہ سیرتِ نبی کریم ﷺ وعدہ وفائی میں کامل نمونہ تھے۔

قرآن میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا:اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ترجمہ کنز العرفان: بے شک وہ وعدے کا سچا تھا۔ (سورۃ مریم: 54)

وعدہ وفائی سے اللہ کی رضا اور قرب حاصل ہوتا ہے۔معاشرے میں عزت اور اعتماد بڑھتا ہے۔دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے۔ آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔وعدہ وفائی اسلام کا بنیادی اخلاقی اصول ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے اور وعدہ خلافی کو نفاق قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کی زندگیاں اس کی روشن مثالیں ہیں۔ اگر ہم انفرادی اور اجتماعی زندگی میں وعدہ وفائی کو اپنالیں تو ہمارا معاشرہ اعتماد، محبت اور اخوت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں سچا، امانت دار اور وعدہ کا پابند بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلام ایک متوازن نظام اخلاق کا علم بردار ہے ،جس میں انسان کے فطری تقاضوں، طبیعت کی بہتری اور اعلی و عمدہ معاشرتی زندگی کے لیے اچھے اخلاق کی بہترین تعلیم موجود ہے، کیونکہ تربیت یافتہ با اخلاق معاشرہ ہی پر سکون زندگی کا ضامن ہوتا ہے۔ دین اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں سے ایک وعدہ وفائی بھی ہے باہمی اعتماد کی فضا قائم رکھنے،ایک مہذب اور باکردار معاشرے کی تشکیل کے لیے وعدہ وفائی کو اپنانا نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔اسی لئے اسلام نے اِیفائے عہد پر بہت زور دیا ہے۔

حکیم الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: وعدہ کا پورا کرنا ضروری ہے۔ مسلمان سے وَعدہ کرو یا کافر سے، عزیز سے وعدہ کرو یا غیر سے، اُستاذ، شیخ، نبی، اللہ تعالٰی سے کئے ہوئے تمام وعدے پورے کرو۔ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عُذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گنہگار نہیں۔(مراٰۃ المناجیح ج6،ص483، 492،ملتقطاً)

قرآن پاک میں متعدد مقامات پر ایفائے عہد ( وعدہ پورا کرنے) کی فضیلت و اہمیت کو بیان کیا گیا ہے ۔ آئیے ہم بھی وعدہ وفائی کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔

(1) ایفائے عہد :جس معاشرے میں عہد کی پاس داری اور وعدے کی وفاداری ہوتی ہے اس کو ترقی کی جانب بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، اور جو معاشرہ اس عمدہ اخلاق سے محروم ہوتا ہے وہ بہت جلد تباہی و بربادی کا شکار ہو جاتا ہے ، لہذا اللہ تعالی نے عہد پورا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ ( پ 6 المائدۃ: 1 )

(2) عظیم نیکی:وعدے کو پورا کرنا ایک عظیم نیکی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں نیک اعمال کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا

ترجمہ کنز العرفان:اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ۔(پ 2، البقرۃ: 177)

(3) انبیاء کرام علیہم السلام کا وصف :وعدہ پورا کرنا عمدہ فعل اورانبیاء کرام علیہم السلام کا عظیم الشان وصف ہے جیسے کہ اللہ پاک اپنے پیارے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ

ترجمہ کنز العرفان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا۔ (پ 16، مریم: 54)

(4) محبوب الٰہی :وعدہ پورا کرنا اور امانت کا ادا کرنا دونوں چیزیں پرہیزگاری کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور پرہیزگاری اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب ہے تو جواللہ تعالیٰ کی پسند پر چلے گا وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب و مقرب بن جائے گا :مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز العرفان:جو اپنا وعدہ پورا کرے اور پرہیز گاری اختیار کرے تو بیشک اللہ پرہیز گاروں سے محبت فرماتا ہے۔(پ 3،اٰل عمران: 76)

(5) فلاح و کامیابی : اللہ پاک کی رضا ، دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی اور جنت الفردوس حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ وعدہ وفائی بھی ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اہل جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔(پ 18 ، مومنون: 8 )

پیارے اسلامی بھائیو! جائز وعدے کو پورا کرنا ضروری جبکہ وعدہ خِلافی حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے۔ ہمیں چاہئے کہ جس سے بھی وعدہ کریں اسے بہر صُورت نبھایا کریں ،اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


وعدہ وفائی یعنی وعدہ پورا کرنا یہ اللہ اور اسکے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم کی صفت ہے۔ اور سچا مومن وہی ہے جو وعدے کو پورا کرتا ہے۔وعدہ پورا کرنے کے فضائل اور وعدہ خلافی کی وعیدیں قرآن و حدیث میں کئی جگہ موجود ہیں۔ ذیل میں وعدہ وفائی کے متعلق چند آیات قرآنی پیش کی جاتی ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

(1) مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶) ترجمہ کنز العرفان:جو اپنا وعدہ پورا کرے اور پرہیز گاری اختیار کرے تو بیشک اللہ پرہیز گاروں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ3،سورة اٰل عمران، آیت76)

اس سے معلوم ہوا کہ جو کسی سے وعدہ کیا جائے اسے ضرور پورا کیا جائے خواہ رب عَزَّوَجَلَّ سے کیا ہو یا عام انسانوں سے یا نبی سے یا اپنے پیر سے یا بوقت نکاح بیوی سے یا کسی اور عزیز سے۔(تفسیر صراط الجنان،جلد1)

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پ6،سورة المائدۃ،آیت1)

(3) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15،سورة بنی اسرائیل،آیت34)

آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، جلد5 /صفحہ155)

اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں۔ (صراط الجنان،جلد 5)

(4) وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ(۱۷۷) ترجمہ کنزُالعِرفان: اوروہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔(پ2،سورة البقرة،آیت177)

تو ان مقدس آیات کریمہ سے وعدہ وفائی کی اہمیت روز روشن کی طرح واضح ہے کہ کس طرح وعدہ وفائی کی صفت کو جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔تو کامل مسلمان وہی ہے جو بھی عہد کرے اسے پورا کرے ۔اللہ پاک ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔


اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے بے شمار خوبیوں سے نوازا۔ ان خوبیوں میں ایک اہم خوبی وعدہ وفائی ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان کی نشانی اور سچے مسلمان کی پہچان ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے وعدہ پورا کرنے کا واضح حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل:34)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن وعدوں کے بارے میں بھی حساب ہوگا۔

وعدہ وفائی نہ صرف ایک اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایک شرعی ذمہ داری بھی ہے۔ جو شخص وعدہ پورا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے اور لوگوں کے نزدیک بھی معزز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وعدہ خلافی منافقت کی نشانی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ سچ بولے اور اپنے وعدوں کو پورا کرے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ، آیت 1)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی مومن کی بنیادی صفت ہے۔ وعدہ پورا کرنے سے معاشرے میں اعتماد اور محبت پیدا ہوتی ہے جبکہ وعدہ خلافی سے بداعتمادی اور نفرت جنم لیتی ہے۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وعدہ وفائی کا بہترین نمونہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنے وعدے پورے فرمائے، حتیٰ کہ دشمنوں کے ساتھ بھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو "صادق" اور "امین" کہا جاتا تھا۔وعدہ وفائی ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے کردار کو بلند کرتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتا ہے۔ ایک سچا مسلمان کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی تعلیمات پر عمل کریں اور ہمیشہ اپنے وعدوں کو پورا کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وعدہ پورا کرنے والا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


وعدے کی تعریف: وہ بات جسے کوئی شخص پورا کرنا خود پر لازم کرلے ”وعدہ“ کہلاتا ہے۔(معجم وسیط،ج 2،ص1007) حکیم الامّت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنَّان فرماتے ہیں: وعدہ کا پورا کرنا ضروری ہے۔ مسلمان سے وَعدہ کرو یا کافر سے، عزیز سے وعدہ کرو یا غیر سے، اُستاذ، شیخ، نبی، اللہ تعالٰی سے کئے ہوئے تمام وعدے پورے کرو۔ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عُذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گنہگار نہیں۔(مراٰۃ المناجیح،ج6،ص483،492،ملتقطاً)

وعدہ کے لئے لفظِ وعدہ کہنا ضروری نہیں بلکہ انداز و الفاظ سے اپنی بات کی تاکید ظاہر کی مثلاً وعدے کے طور پر طے کیا کہ ”فُلاں کام کروں گا یا فُلاں کام نہیں کروں گا“ وعدہ ہوجائے گا۔( غیبت کی تباہ کاریاں، ص461 ملخصاً)

وعدہ پورا کرنے کی اہمیت: ایفائے عہد بندے کی عزّت و وقار میں اضافے کا سبب ہے جبکہ قول و قرار سے روگردانی اور عہد (Agreement) کی خلاف ورزی بندے کو دوسروں کی نظروں میں گرا دیتی ہے۔ نبیِّ صادق و امین صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے: اس شخص کا کچھ دِین نہیں جو وعدہ پورا نہیں کرتا۔(معجم کبیر،ج10،ص227، حدیث:10553)

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ(۹۱) کنزالایمان: اور اللہ کا عہد پورا کرو جب قول باندھو اور قسمیں مضبوط کرکے نہ توڑو اور تم اللہ کو اپنے اوپر ضامن کرچکے ہو بےشک اللہ تمہارے کام جانتا ہے ۔(النحل:91)

تفسیر صراط الجنان:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ:اور اللہ کا عہد پورا کرو۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کرنے والے کاموں اور نہ کرنے والے کاموں کا اِجمالی طور پر ذکر فرمایا اور ا س آیت سے بعض اِجمالی اَحکام کو تفصیل سے بیان فرما رہا ہے اور ان میں سب سے پہلے عہد پورا کرنے کا ذکر کیا کیونکہ اس حق کو ادا کرنے کی تاکید بہت زیادہ ہے۔ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے(بیعتِ رضوان کے موقع پر) رسول کریم ﷺ سے اسلام پر بیعت کی تھی، انہیں اپنے عہد پورے کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس

میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۱۴۰)

حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۔ (۱)جب بات کرو سچ بولو۔ (۲) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو۔ (۳) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو ۔ (۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھو ۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو روکو۔‘‘(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ، ۸ / ۴۱۲، الحدیث: ۲۲۸۲۱)

یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ ۔

حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(بخاری، کتاب الحیل، باب اذا غصب جاریۃ فزعم انّہا ماتت الخ، ۴ / ۳۹۴، الحدیث: ۶۹۶۶)

اگر وعدہ صرف وعدہ ہی تھا، شرعی قسم یا منت نہیں تھی،تواس صورت میں وعدے کے خلاف کرنے کے سبب کفارہ تو لازم نہیں ہوگا،البتہ جس کام کا اللہ عزوجل سے وعدہ کیا جائے اور پھر وہ کام بغیر کسی مجبوری کے نہ کیا جائے، تو یہ بہت بُرا عمل ہے، بلکہ اگر وہ وعدہ کسی گناہ سے بچنے یا کسی فرض و واجب کام کی ادائیگی کے متعلق ہو،تو اس صورت میں وعدہ خلافی کرنے والا سخت گنہگار بھی ہوگاکہ گناہ کرنا، یا فرض وواجب کام کو نہ کرنا خود ہی ایک گناہ ہے، اور دوسرا یہ اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی بھی ہے، اور اللہ عزوجل سے وعدہ کرکے پھرجانا بہت سخت گناہ ہے اور اس پر شدید وعید آئی ہے اور یہ منافقین کا طرز عمل ہے۔ بہرحال ایسا کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنے گناہ سے سچی توبہ کرے اور آئندہ جو بھی وعدہ کرے اُسے ضرور پورا کرے۔

وعدے کو پورا کرنے کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔( پارہ 6، سورۃ المائدۃ: 1)

ایک اور فرمان باری تعالی ہے: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ: کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔( پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل: 34)

مذکورہ آیت کے تحت تفسیر روح البیان میں ہے: وَ أَوْفُوا بِالْعَهْدِ سواء ‌جرى ‌بينكم ‌و بين ‌ربكم او بينكم و بين غيركم من الناس ترجمہ: اور وعدے کو پورا کرو، چاہے وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان ہو، یا چاہے وہ تمہارے اور لوگوں میں سے کسی شخص کے درمیان ہو۔(تفسیر روح البیان، جلد 5، صفحہ 155، دار الفکر، بیروت)

اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی کرنا منافقین کا طرز عمل ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمہ کنز العرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ 10، سورۃ التوبۃ: 77)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:’’امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد شکنی اور وعدہ خلافی سے نفاق پیدا ہوتا ہے تو مسلمان پر لازم ہے کہ ان باتوں سے اِحتراز کرے اور عہد پورا کرنے اور وعدہ وفا کرنے میں پوری کوشش کرے۔‘‘ (تفسیر صراط الجنان، جلد 4، صفحہ 188، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حضورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حالتِ جنگ میں بھی عہد کو پورا فرمایا چنانچہ غزوۂ بدر کے موقع پر مسلمانوں کی افرادی قوت کم اور کفّار کا لشکر تین گنا سے بھی زائد تھا، حضرت حُذَیفہ اور حضرت حُسَیْل رضی اللہ تعالٰی عنہما دونوں صحابی کہیں سے آرہے تھے کہ راستے میں کفّار نے دَھر لیا اور کہا: تم محمد عربی (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے پاس جا رہے ہو؟ جب ان دونوں حضرات نے شریکِ جنگ نہ ہونے کا عہد کیا تب کفار نے انہیں چھوڑا، آقا علیہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام نے سارا ماجرا سُن کر دونوں کو الگ کردیا اور فرمایا: ہم ہر حال میں عہد کی پابندی کریں گے، ہمیں صرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مدد درکار ہے۔(مسلم، ص763، حدیث:4639)

حضورغوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ایک سفر میں کوئی شخص میرا رفیق بنا، ایک بار اس نے مجھے ایک جگہ بٹھایا اور اپنے انتظار کا وعدہ لے کر چلا گیا، میں ایک سال تک وہاں بیٹھا رہا پھر وہ لوٹا اور یہی وعدہ لے کر چلا گیا، ایسا تین بار ہوا، آخری بار وہ آیا اور کہا: میں ”خِضر“ ہوں۔(اخبار الاخیار، ص12ملخصاً)

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنﷺ


وعدہ وفائی ایک شرعی فریضہ ہے جو ایمان کا حصہ ہے اور جس پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔(سورۃ الاسراء17:34)

(2) وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا

ترجمہ کنز العرفان:اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ2:177)

(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ ( سورۃ المائدہ 5:1)

(4) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا

ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو۔ ( سورۃ النحل16:91)

(5) وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ ( سورۃ المؤمنون 23:8)

وعدہ وفائی کے فوائد درج ذیل ہیں:

دینی فوائد:اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے،ایمان مضبوط ہوتا ہے،نفاق سے حفاظت ہوتی ہے،دعاؤں کی قبولیت کے اسباب بنتے ہیں۔

سماجی فوائد:لوگوں کا اعتماد حاصل ہوتا ہے،عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے،رشتے مضبوط ہوتے ہیں معاشرے میں امن اور سکون پیدا ہوتا ہے۔

اخلاقی فوائد:کردار مضبوط بنتا ہے،سچائی اور دیانت داری کی عادت بنتی ہے،انسان باوقار اور بااصول کہلاتا ہے۔

عملی فوائد:کاروبار اور معاملات میں ترقی ہوتی ہے،لوگ ساتھ دینے کو تیار ہوتے ہیں،قیادت اور ذمہ داری کے مواقع ملتے ہیں۔

روحانی فوائد:دل کا سکون نصیب ہوتا ہے،ضمیر مطمئن رہتا ہے،باطنی پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔

(1)حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں قیامت کے دن تین شخصوں کا مدِّ مقابل ہوں گا، ایک وہ شخص جو میرے نام پر وعدہ دے پھر عہد شکنی کرے۔ دوسرا وہ شخص جو آزاد کو بیچے پھر اس کی قیمت کھائے ۔ تیسرا وہ شخص جو مزدور سے کام پورا لے اور اس کی مزدوری نہ دے۔(بخاری، کتاب البیوع، باب اثم من باع حرًّا، ۲ / ۵۲، الحدیث: ۲۲۲۷)

(2) حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا ’’ مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے، جو کسی مسلمان کا عہد توڑے تو اس پر اللہ تعالیٰ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، نہ اس کی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ نفل۔(بخاری، کتاب فضائل المدینۃ، باب حرم المدینۃ، ۱ / ۶۱۶، الحدیث: ۱۸۷۰)

وعدہ وفائی انسان کو اچھا مسلمان، اچھا انسان اور اچھا شہری بناتی ہے۔ یہ فرد کی زندگی بھی سنوارتی ہے اور معاشرے کو بھی بہتر بناتی ہے۔


وعدہ وفائی اسلام کے بنیادی اخلاق میں سے ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اہلِ ایمان کو عہد کی پاسداری کی تاکید کی گئی ہے اور عہد شکنی کو ناپسندیدہ بلکہ قابلِ مواخذہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی معاشرہ اعتماد، دیانت اور سچائی پر قائم ہوتا ہے، اور وعدہ وفائی اسی اعتماد کی بنیاد ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1 )

اس آیت میں تمام قسم کے عقود کو شامل کیا گیا ہے۔ چاہے وہ اللہ سے کیا گیا عہد ہو، لوگوں سے کیا گیا وعدہ ہو یا معاشرتی و تجارتی معاہدہ، سب کو پورا کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: 34)

یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ وعدہ محض دنیاوی معاملہ نہیں بلکہ آخرت میں اس کا حساب بھی ہوگا۔ یعنی ہر شخص کو اپنے قول و قرار کے بارے میں جواب دہ ہونا پڑے گا۔

اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰) ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (سورۃ الرعد: 20)

یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ وفائی اہلِ ایمان کی نمایاں صفت ہے۔ جو لوگ اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کرتے ہیں اور اپنے وعدوں پر قائم رہتے ہیں، وہی حقیقی کامیاب ہیں۔اسی طرح سورۃ المؤمنون میں کامیاب مومنوں کی صفات میں فرمایا:وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون: 8)

یہاں عہد کو امانت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ بھی ایک امانت ہے۔ جس طرح مالی امانت میں خیانت حرام ہے، اسی طرح وعدے میں خیانت بھی گناہ ہے۔قرآنِ مجید نے عہد شکنی کی مذمت بھی کی ہے:وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ترجمہ کنز الایمان: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا۔ (سورۃ النحل 92)

یہ مثال ان لوگوں کے لیے ہے جو وعدہ کرکے پھر توڑ دیتے ہیں۔ اسلام دشمن کے ساتھ بھی کیے گئے جائز معاہدے کی پاسداری کا حکم دیتا ہے، جب تک وہ خود عہد شکنی نہ کریں۔

قرآنِ مجید کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے۔ معاشرتی زندگی میں تجارت، نکاح، دوستی، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سب کا دار و مدار اعتماد پر ہے، اور اعتماد وعدہ وفائی سے قائم ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنے عہد کا احترام کرتی ہیں وہ عزت و وقار پاتی ہیں، اور جو عہد شکنی کرتی ہیں وہ ذلت و انتشار کا شکار ہو جاتی ہیں۔آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مسلمان کی پہچان اس کی سچائی اور وفاداری ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر قول و قرار سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے پورا کریں، کیونکہ قیامت کے دن ہر وعدے کے بارے میں سوال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عہدوں کو پورا کرنے والا اور دیانت دار بندہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین


ہمارے معاشرے میں جو برائیاں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک بڑی برائی وعدہ خلافی بھی ہے، ہمارے معاشرے میں وعدہ خلافی کا اظہار زندگی کے بہت سے شعبوں میں ہوتا ہے، خواہ وہ کاروباری معاملات ہوں یا کوئی ادھار چیز لینی ہو، شادی وغیرہ کا معاملہ ہو یا پھر سیاسی معاملات ہوں گویا کہ طرح طرح کے معاملات میں جھوٹا وعدہ کیا جاتا ہے اور پھر مقصد پورا ہو جانے کے بعد اپنے اس کیے ہوئے جھوٹے وعدے کو بھول جاتے ہیں اور یوں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وعدہ خلافی کی تعریف: وعدہ کرتے وقت ہی نیت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا یہ وعدہ خلافی ہے۔کسی شخص سے مقررہ وقت پر آنے کا وعدہ کیا لیکن دل میں یہ نیت ہے کہ نہیں آؤں گا۔ وعدہ کیا کہ فلاں تاریخ کو تمہیں رقم ادا کردوں گا لیکن دل میں ہے کہ نہیں کروں گا۔

وعدہ خلافی کے متعلق احکام: وعدہ خلافی یعنی پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے جو کہ حرام کام ہے، اس نیت سے وعدہ کیا کہ اس کو پورا کروں گا ایسا وعدہ کرنا جائز ہے اور اس کو پورا کرنا مستحب ہے، جب وعدے کو کسی چیز کے حاصل ہونے یا حاصل نہ ہونے کے ساتھ معلق کیا گیا ہو تو جب وہ شرط پائی جائے گی وعدہ پورا کرنا لازم ہوگا، مثلا کسی سے کہا کہ یہ چیز فلاں شخص کو بیچ دو اگر اس نے قیمت ادا نہیں کی تو میں ادا کروں گا پھر خریدار نے قیمت ادا نہیں کی تو اب اس پر قیمت ادا کرنا لازم ہے۔(ظاہری گناہوں کی معلومات، ص 34)

آیت مبارکہ: اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔(پ 15، بنی اسرائیل: 34)

مومن کی صفت: اللہ تعالیٰ نے کامیاب مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد (وعدے) کی پاسداری کرتے ہیں" (سورۃ المومنون: 8)۔

عہد کی ذمہ داری: قرآن کے مطابق، انسان سے ہر وعدے کے متعلق پوچھا جائے گا: "اور وعدہ پورا کرو، یقیناً وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا" (سورۃ بنی اسرائیل: 34)۔

نفاق سے بچاؤ: وعدہ پورا کرنا منافقت کے برعکس ہے، جبکہ وعدہ خلافی کو منافق کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔

عہد توڑنے کی مذمت: اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو اللہ سے کیا ہوا وعدہ توڑتے ہیں اور اسے نفاق کی علامت قرار دیا ہے (سورۃالتوبہ: 77)

وعدہ خلافی کا حکم:اگر وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا نہ کرنے کی نیت ہو تو یہ سخت گناہ اور حرام ہے۔ تاہم، اگر سچے ارادے سے وعدہ کیا لیکن کوئی عذر پیش آگیا تو گناہ نہیں، مگر بلاوجہ وعدہ توڑنا ناپسندیدہ ہے۔

(1)منافق کی 3 نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)

(2) جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔ (بخاری، 2/370، حدیث: 3179)

وعدہ خلافی کے اسباب و علاج: وعدہ خلافی کا سبب قلت خشیت ہے کہ جب اللہ کا خوف ہی نہ ہو تو بندہ کوئی بھی گناہ کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ فکر آخرت کا ذہن بنائے، اپنے آپ کو رب کی بے نیازی سے ڈرائے اپنی موت کو یاد کرے، یہ مدنی ذہن بنائے کہ کل بروز قیامت خدانخواستہ اس عذر یعنی بد عہدی کے سبب رب ناراض ہو گیا تو میرا کیا بنے گا؟وعدہ خلافی کا دوسرا سبب حبِّ دنیا ہے کہ بندہ کسی نہ کسی دنیوی غرض سے بدعہدی جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ حب دنیا کی مذمت پر غور کرے کہ دنیا کی محبت کئی برائیوں کی جڑ ہے جو شخص حب دنیا جیسے موذی مرض کا شکار ہو جاتا ہے اس کے لیے دیگر کئی گناہوں کے دروازے کھل جاتے ہیں، یقینا سمجھدار وہی ہے جو جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا ہی دنیا میں مشغولیت رکھے فقط اپنی اخروی زندگی کی تیاری کرتا رہے۔وعدہ خلافی کا تیسرا سبب دھوکا بھی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دھوکے جیسے قبیح فعل کی مذمت پر غور کرے کہ جو لوگ دھوکا دیتے ہیں ان کے بارے میں احادیث مبارکہ میں یہ وارد ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں، یقینا دھوکا دینا کسی مسلمان کی شان نہیں، جب لوگوں پر اس کی دھوکا دہی کا پردہ چاک ہو جاتا ہے وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا، دھوکا دہی سے کام لینے والا بالآخر ذلت و رسوائی سے دوچار ہوتا ہے، دھوکا دینے والا رب کی بارگاہ میں بھی ندامت و شرمندگی سے دوچار ہوگا۔وعدہ خلافی کا چوتھا سبب جہالت ہے کہ جب بندہ غدر جیسی موذی بیماری کے وبال سے واقف نہ ہوگا تو اس سے بچے گا کیسے؟ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ غدر کی تباہ کاریوں پر غور کرے کہ بد عہدی کرنا مومنوں کی شان نہیں ہے۔ حضور ﷺ صحابہ کرام اور دیگر بزرگان دین نے کبھی کسی کے ساتھ بد عہدی نہیں کی، بد عہدی نہایت ہی ذلت و رسوائی کا سبب ہے، بدعہدی کرنے والے شخص کے لیے کل بروز قیامت اس کی بد عہدی کے مطابق جھنڈا گاڑا جائے گا، بد عہدی کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ کی بارگاہ میں یوں دعا کرے: اللہ مجھے بد عہدی جیسے موذی مرض سے نجات دے کہ میں کبھی بھی کسی مسلمان کے ساتھ بدعہدی نہ کروں۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات، ص 173 تا 175)

اسلامی تعلیمات کے مطابق، کسی کے ساتھ کیا گیا وعدہ ایک امانت ہے اور اس کی پابندی (ایفائے عہد) معاشرتی امن، اعتماد اور آخرت میں کامیابی کے لیے ضروری ہے۔


وعدہ خلافی کی تعریف: وعدہ کرتے وقت ہی نیت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا یہ وعدہ خلافی ہے۔کسی شخص سے مقررہ وقت پر آنے کا وعدہ کیا لیکن دل میں یہ نیت ہے کہ نہیں آؤں گا۔ وعدہ کیا کہ فلاں تاریخ کو تمہیں رقم ادا کردوں گا لیکن دل میں ہے کہ نہیں کروں گا۔

وعدہ خلافی کے متعلق احکام: وعدہ خلافی یعنی پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے جو کہ حرام کام ہے، اس نیت سے وعدہ کیا کہ اس کو پورا کروں گا ایسا وعدہ کرنا جائز ہے اور اس کو پورا کرنا مستحب ہے، جب وعدے کو کسی چیز کے حاصل ہونے یا حاصل نہ ہونے کے ساتھ معلق کیا گیا ہو تو جب وہ شرط پائی جائے گی وعدہ پورا کرنا لازم ہوگا، مثلا کسی سے کہا کہ یہ چیز فلاں شخص کو بیچ دو اگر اس نے قیمت ادا نہیں کی تو میں ادا کروں گا پھر خریدار نے قیمت ادا نہیں کی تو اب اس پر قیمت ادا کرنا لازم ہے۔(ظاہری گناہوں کی معلومات، ص 34)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (پ 15، بنی اسرائیل: 34)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (پ 6، المائدۃ: 1)

(1)منافق کی 3 نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)

(2) جو مسلمان عہد شکنی اور وعدہ خلافی کرے اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔ (بخاری، 2/370، حدیث: 3179)

وعدہ خلافی کے اسباب و علاج: وعدہ خلافی کا سبب قلت خشیت ہے کہ جب اللہ کا خوف ہی نہ ہو تو بندہ کوئی بھی گناہ کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ فکر آخرت کا ذہن بنائے، اپنے آپ کو رب کی بے نیازی سے ڈرائے اپنی موت کو یاد کرے، یہ مدنی ذہن بنائے کہ کل بروز قیامت خدانخواستہ اس عذر یعنی بد عہدی کے سبب رب ناراض ہو گیا تو میرا کیا بنے گاوعدہ خلافی کا دوسرا سبب دھوکا بھی ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دھوکے جیسے قبیح فعل کی مذمت پر غور کرے کہ جو لوگ دھوکا دیتے ہیں ان کے بارے میں احادیث مبارکہ میں یہ وارد ہے کہ وہ ہم میں سے نہیں، یقینا دھوکا دینا کسی مسلمان کی شان نہیں، جب لوگوں پر اس کی دھوکا دہی کا پردہ چاک ہو جاتا ہے وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا، دھوکا دہی سے کام لینے والا بالآخر ذلت و رسوائی سے دوچار ہوتا ہے، دھوکا دینے والا رب کی بارگاہ میں بھی ندامت و شرمندگی سے دوچار ہوگا:

وعدہ خلافی کا حکم: پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا جان بوجھ کر جھوٹ بولنا حرام کام ہے۔(ظاہری گناہوں کے بارے میں معلومات، ص 34)

(1) اس شخص کا کوئی دین نہیں جو وعدہ پورا نہیں کرتا۔(معجم کبیر، 10/227، حدیث: 10553)

(2)وعدہ قرض کی مثل ہے بلکہ اس سے بھی سخت ہے۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 7/267، حدیث: 457)

(3)وعدہ کرنا عطیہ ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا، 7/267، حدیث: 456) یعنی جس طرح عطیہ دے کر واپس لینا مناسب نہیں اس طرح وعدہ کر کے بھی اس کا خلاف نہیں کرنا چاہیے۔ (احیاء العلوم، 3/403) بے /شک زبان وعدہ کرنے میں بہت سبقت کرتی ہے پھر نفس اس کو پورا نہیں کرتا یوں وعدہ خلافی ہو جاتی ہے۔

(4)منافق کی 3 نشانیاں ہیں: جب بات کرے جھوٹ کہے، جب وعدہ کرے خلاف کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خلاف کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام گوجر خان، پنجاب میں منعقدہ ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں عمومی اسلامی بھائیوں کے علاوہ اسپیشل پرسنز نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس اجتماعِ پاک میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی وقار المدینہ عطاری نے تلاوت و نعت کے بعد ”نیک اعمال کی اہمیت، دینِ اسلام پر استقامت اور سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے“ کے موضوع پر بیان کیا۔

اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں نہ صرف مقامی بلکہ راولپنڈی، چکوال، جہلم، دینہ، سوہاوہ اور دیگر قریبی شہروں سے تعلق رکھنے والے اسپیشل پرسنز قافلوں کی صورت میں پہنچے جبکہ اُن کی آسانی کے لیے بیان کی اشاروں کی زبان (Sign Language) میں بیک وقت ترجمانی کی گئی جس کی بدولت تمام اسپیشل پرسنز نے بیان کے نکات کو باآسانی سمجھا۔

اجتماع کے اختتام پر اسپیشل پرسنز نے دعوتِ اسلامی کے اس منفرد اقدام کو بے حد سراہا اور اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا کہ وہ نیک اعمال کی راہ اپنائیں گے، دینی ماحول سے مستقل وابستہ رہیں گے اور دعوتِ اسلامی کی دینی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ لے کر ایک باعمل مسلمان بنیں گے۔(رپورٹ: محمد عمیر ہاشمی عطاری نگران اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت  5 جولائی 2026ء کو ملتان ڈویژن کا مدنی مشورہ مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ملتان، پنجاب میں منعقد ہوا جس میں صوبائی ذمہ دار محمد وقاص عطاری، ڈویژن ذمہ دار مولانا محمد جمال عطاری مدنی اور ڈسٹرکٹ ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

نشست کا باقاعدہ آغاز قرآنِ پاک کی بابرکت تلاوت سے کیا گیا جس کے بعد صوبائی ذمہ دار محمد وقاص عطاری نے وہاں موجود ذمہ داران کی اخلاقی و تنظیمی اعتبار سے رہنمائی کی۔

اس کے علاوہ صوبائی ذمہ دار نے ذمہ داران کو اسپیشل پرسنز کے درمیان دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کو مزید مؤثر، منظم اور بہتر انداز میں آگے بڑھانے کا ذہن دیا۔

اس موقع پر ڈویژن ذمہ دار مولانا محمد جمال عطاری مدنی نے بھی ذمہ داران سے گفتگو کرتے ہوئے تنظیمی اہداف کو پورا کرنے کے حوالے سے چند اہم نکات بتائے۔(رپورٹ: محمد جمال عطاری مدنی اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ملتان ڈویژن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


وفاقی دارالحکومت اسلام آباد (9 جولائی 2026ء):

ایک محفوظ و صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے آگاہی اور ذمہ دارانہ انتخاب ناگزیر ہیں۔ اسی مقصد کے پیش ِنظر دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی (DMIU) اسلام آباد کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے تحت 9 جولائی 2026ء کو اسٹوڈنٹس اور عملے کے لیے ”روڈ سیفٹی“ اور ”منشیات و تمباکو نوشی کے تدارک“ کے عنوان سے خصوصی سیمینارکا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار کے پہلے سیشن میں ایک معروف نجی آٹوموٹیو کمپنی کے ریجنل منیجر (کسٹمر کیئر اینڈ سیفٹی) حمزہ رزاق نے حاضرین کو ٹریفک ڈسپلن، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور حادثات سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔

دوسرے سیشن میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر حفیظ اللہ خان نے منشیات اور تمباکو نوشی کے انسانی صحت اور معاشرے پر پڑنے والے مہلک اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسٹوڈنٹس کو تاکید کی کہ وہ ان منفی عادات سے دور رہ کر ایک صحت مند اور باقصد زندگی اپنائیں۔

سیمینار کے دوران اسٹوڈنٹس نے نہ صرف گہری دلچسپی لی بلکہ اردو اور انگریزی زبانوں میں تقاریر بھی کیں، جن میں انہوں نے خود احتسابی، خود ڈسپلن اور سگریٹ و منشیات جیسی برائیوں سے بچاؤ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

ان معلوماتی سیمینارز کا انعقاد دارالمدینہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اس عزم کا عکاس ہے جس کے تحت اسٹوڈنٹس کی فلاح و بہبود، کردار سازی، شہری ذمہ داری کے احساس اور کیمپس میں ایک محفوظ و صحت مند ثقافت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔(رپورٹ: سیّد ذیشان بخاری سوشل میڈیا مینیجر ایجوکیشن کونسل دعوت اسلامی، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)