حضور کی
اصحابِ اُحد سے محبت از بنت ایاز خان، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
وہ خوش نصیب
صحابہ کرام علیہم الرضوان جو غزوہ احد میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک تھے انہیں
اصحاب احد کہتے ہیں ہمارے پیارے مکی مدنی مصطفی ﷺ اصحاب احد سے بے حد محبت فرماتے
تھے تاریخِ اسلام میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جب حضور پُرنور ﷺ نے اصحاب احد
سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
آئیے اسی محبت
پر چند احادیث ملاحظہ کرتے ہیں:
جنگ احد کے دن
نبی کریم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
سعد تیر برساؤ
میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ (بخاری، 3/37، حدیث: 4055)
اس حدیث پاک
سے ہمیں واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی
اللہ عنہ سے کس قدر محبت فرماتے تھے کہ میرے آقا کریم ﷺ نے کس قدر خوبصورت الفاظ
میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دعا دی کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو
جائیں سبحان اللہ حضرت سعدرضی اللہ عنہ کس قدر خوش نصیب ہیں کہ نبی سے محبت رکھنے
والے بڑے بڑے مرتبے پالیتے ہیں اور جن سے حضور محبت کریں ان کی شان کےتوکیاہی کہنے
ہیں۔
اسی طرح جنگ
احد میں شریک صحابی حضرت طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے
یہ پسند ہو کہ وہ زمین پر چلتے پھرتے شہید کو دیکھے وہ طلحہ بن عبیداللہ کو دیکھ
لے۔ ( ترمذی، 5/413، حدیث: 3760)
اس حدیث سے
نبی کریم ﷺ کی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے لیے محبت صاف جھلک رہی ہے کہ
نبی کریم ﷺ نے انہیں ان کی بہادری کی وجہ سے چلتے پھرتے شہید کے لقب سے نوازا۔
سبحان اللہ میرے حضور کے محبت کرنے کا انداز کس قدر خوبصورت ہے حضرت طلحہ بن
عبیداللہ کو چلتے پھرتے شہید کے لقب سے پکار رہے ہیں۔
اسی طرح جنگ
احد میں شریک صحابی حضرت حمزہ بن عبد المطلب جو کہ نبی کریم ﷺ کے سگے چچا اور
رضاعی بھائی تھے ان کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: شہیدوں کے سردار حمزہ بن
عبد المطلب ہیں۔ (مستدرک للحاکم، 4/199، حدیث: 4936)
قربان جاؤں
اپنے آقا کریم ﷺ کے انداز پرحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی محبت میں انہیں سید الشہداء
یعنی شہیدوں کے سردار کے لقب سے نواز دیا اسی طرح جب جنگ احد میں وحشی نے حضرت حمزہ
رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا اور اس کے بعد اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم ﷺ نے
وحشی سے فرمایا: کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا کر رکھو۔
(بخاری، 3/42، حدیث: 4072)
اس حدیث سے
ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے اس قدر محبت
فرماتے تھے کہ جب ان کے قاتل کو دیکھتے تھے آپ ﷺ کو بہت تکلیف ہوتی تھی۔
شہدائے
احد سے محبت: جنگ
احد میں جو صحابہ کرام علیہم الرضوان شہید ہوئے تھے نبی کریم ﷺ ہر سال ان کے
مزارات پر تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔
حضور
کی اصحابِ اُحد سے محبت از بنت محمد نواز، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اسلامی تاریخ
میں غزوۂ اُحد ایک اہم اور سبق آموز معرکہ ہے۔ یہ جنگ 3 ہجری میں پیش آئی جس میں
مسلمانوں کو بظاہر وقتی آزمائش کا سامنا کرنا پڑالیکن اس معرکے نے صحابۂ کرام رضی
اللہ عنہم کی وفاداری قربانی اور عشقِ رسول کو نمایاں کر دیا حضور نبی کریم ﷺ کی
اپنے جانثار صحابہ سے محبت اس موقع پر اور بھی زیادہ ظاہر ہوئی آپ ﷺ نے ان کی
لغزشوں پر درگزر فرمایازخمیوں کی دلجوئی کی اور شہداء کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ
لَهُمْۚ-وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ
الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ۪-
فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ (پ 4،
آل عمران: 159) ترجمہ: تو اللہ کی کیسی رحمت ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل
ہوئے اور اگر تم تند خو سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے چھٹ جاتے تو انہیں معاف
فرما دو اور ان کے لیے بخشش مانگو۔
یہ آیت غزوۂ
اُحد کے بعد نازل ہوئی جب بعض صحابہ سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے
محبوب ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کے لیے استغفار کریں۔ اس سے
معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کا دل اپنے صحابہ کے لیے سراپا رحمت تھا آپ ﷺ نے کسی کو ملامت
نہ کیا بلکہ محبت اور شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔
حضور ﷺ نے
فرمایا: اُحد ایک پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (بخاری،
3/45، حدیث 4083) یہ فرمانِ نبوی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو میدانِ اُحد اور
وہاں کے جانثاروں سے خاص محبت تھی۔
اسی معرکے میں
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے جامِ شہادت نوش کیا حضور ﷺ شہدا کے جسدِ
اطہر کے پاس تشریف لائے ان کے لیے دعا فرمائی اور فرمایا کہ قیامت کے دن یہ اپنے
زخموں کے ساتھ اٹھائے جائیں گے جن سے خون بہہ رہا ہوگا مگر خوشبو مشک کی ہوگی۔ (بخاری،
2/254، حدیث: 2803)یہ آپ ﷺ کی محبت اور وفاداری کی روشن دلیل ہے۔
مزید برآں جب
بعض صحابہ زخمی ہوئے تو آپ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور ان کی دلجوئی کی حتیٰ
کہ جن سے وقتی کوتاہی ہوئی ان کو بھی اپنی محبت سے محروم نہ فرمایا غزوۂ اُحد کا
واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب سے بے پناہ محبت فرماتے
تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی اصحابِ اُحد سے محبت صبر، عفو، دعا اور دلجوئی کی شکل میں
ظاہر ہوئی یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم بھی اپنے ماتحتوں اور ساتھیوں کے
ساتھ محبت برداشت اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کریں تو باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے
اور اللہ کی مدد شاملِ حال ہوگی۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں سیرتِ نبوی کو اپنانے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سچی محبت نصیب فرمائے
آپ ﷺ نے خطا پر درگزرکمزوری پر حوصلہ افزائی اور شہادت پر فخر کا اظہار فرمایا یہ
اسوہ ہمیں بھی سکھاتا ہے کہ قیادت میں نرمی معافی اور محبت بنیادی اوصاف ہیں اگر
ہم بھی اپنے تعلقات میں رحم عفو اور خیر خواہی کو اپنائیں تو معاشرہ امن اور محبت
کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کا سالانہ
عرس اور دعوتِ اسلامی کی دینی ایکٹیویٹیز
سلسلۂ عالیہ چشتیہ کے عظیم پیشوا حضرت بابا فرید
الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے عرس کے موقع پر دعوتِ اسلامی کے شعبہ مزاراتِ اولیاء کے
تحت پاکپتن میں مختلف دینی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ عرس جہاں محبتِ اولیاء
کا پیغام پھیلانے کا موقع تھا وہیں دینی تعلیمات اور نیکی کی دعوت کے فروغ کا بھی
مرکز بنا۔
اس عظیم الشان عرس کے دوران ”مدنی مذاکرہ
اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا جس میں خصوصی طور پر رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی یعفور
رضا عطاری نے شرکت کی اور حاضرین کو نیکی کی دعوت دی۔
اسی طرح
عرس کے موقع پر نمازوں کی باقاعدہ ادائیگی، قرآن خوانی، مزار اجتماع، مختصر دینی کورسز،
مدرسۃ المدینہ بالغان، تہجد اجتماع، سیکھنے سکھانے کے حلقے اور دیگر دینی کاموں کا
انعقاد ہوا۔
مختلف دینی تقریبات اور سرگرمیوں کے علاوہ مزار
کے اطراف میں بھی نیکی کی دعوت اور دینی کاموں کا سلسلہ جاری رہا تاکہ زائرین اور
عوام الناس کو دین کی تعلیمات سے روشناس کیا جا سکے نیز گرمی کے موسم میں زائرین کی سہولت کے لیے پانی کی
سبیل کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ وہ آسانی سے پانی سے اپنی پیاس بجھائیں اور وضو کر سکیں۔
یہ تمام سرگرمیاں دعوتِ اسلامی کی دینی خدمات
اور اولیائے کرام سے محبت و عقیدت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کا مقصد دینی تعلیمات کو عام کرنا، نیکی کی دعوت کو فروغ
دینا اور اولیاء اللہ کی تعلیمات کو زندہ رکھنا ہے تاکہ معاشرہ دین
دار اور نیک افراد سے بھرپور ہو سکے۔(رپورٹ: کامران علی عطاری، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
اسپیشل پرسنز کا عظیم الشان سنتوں بھرا اجتماع
28 جون کو فیضانِ مدینہ میں منعقد ہوا
فیضانِ مدینہ، 28 جون
2026ء:
دعوتِ
اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کے تحت گونگے، بہرے، نابینا اور جسمانی معذوری
رکھنے والے افراد کے لیے 28 جون 2026ء کو عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع
کا انعقاد کیا گیا۔
یہ
اجتماع اتوار کے روز عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں بڑے جوش و خروش سے
منعقد کیا گیا جس میں کراچی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے اسپیشل پرسنز اور
ان کے سرپرستوں نے بھرپور شرکت کی۔
اس اجتماع میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ
کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے سنتوں بھرا بیان کیا جس کی اشاروں کی
زبان میں ترجمانی کی گئی تاکہ اسپیشل پرسنز بھی باآسانی بیان سے مستفید ہو سکیں۔
نگرانِ شوریٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسپیشل
پرسنز کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا چاہیے، خاص
طور پر عقل ایک عظیم نعمت ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ نگرانِ شوریٰ نے
اسپیشل پرسنز کو نماز، قرآنِ کریم، ذکر و
دعا اور سنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی تاکہ وہ اپنی زندگی کو دین کی
روشنی سے منور کر سکیں۔
اس کے علاوہ نگرانِ شوریٰ نے اسپیشل پرسنز کے
والدین اور سرپرستوں کی تربیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی اشاروں کی زبان سیکھیں تاکہ اپنے بچوں
سے بہتر انداز میں رابطہ قائم کر سکیں اور اُن کی دینی و اخلاقی تربیت میں مؤثر
کردار ادا کریں۔ اس عمل کے ذریعے والدین اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں اور بچوں کی زندگی میں مثبت
تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اس اجتماع کے اختتام پر اجتماعی دعا کروائی گئی
جبکہ اجتماع موجود اسپیشل پرسنز نے خلیفۂ ٔ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابو اُسید حاجی عبید
عطاری مدظلہ العالی سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر اسپیشل پرسنز نے
دعوتِ اسلامی کے ذمہ داران، خصوصاً اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کو کامیاب اجتماع کے انعقاد پر
مبارکباد پیش کی۔
واضح رہے 28 جون 2026ء کو ہونے والے اسپیشل
پرسنز کے عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع میں پاکستان کے مختلف شہروں سے بذریعہ مدنی
چینل کثیر تعداد میں اسپیشل پرسنز نے شرکت کی۔
دعوتِ اسلامی کا اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ملک بھر
میں گونگے، بہرے، نابینا اور جسمانی معذوری رکھنے والے افراد کی دینی، اخلاقی اور
معاشرتی رہنمائی کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے۔
فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں 3 دن کا کورس،
عاشقانِ رسول کی تربیت و رہنمائی کی گئی
25 تا 27 جون 2026ء تک دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز
فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں شعبہ فیضانِ مرشد کے تحت عاشقانِ رسول اور دیگر ذمہ
داران کے لیے ایک کورس منعقد کیا گیا جس کا مقصد ذمہ داران و عاشقانِ رسول کی دینی،
فکری اور عملی تربیت کرنا تھا تاکہ وہ دینی خدمات میں مزید مؤثر انداز سے حصہ لے
سکیں۔
اس اہم کورس
میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے 12
دینی کاموں، مال وقف کے بیان، ترقی کے ذرائع اور طریقہ کار، انفرادی کوشش کی اہمیت
اور اس کا طریقہ، مدنی مشوروں کا نظام، شعبے کا تعارف اور اغراض و مقاصد پر تفصیلی
گفتگو کی ۔
نگران پاکستان مشاورت نے وہاں موجود عاشقانِ
رسول کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں حصہ لینے کی ترغیب دلائی اور انہیں مدنی
پھولوں سے نوازا۔
کورس کے آخر میں نگران پاکستان مشاورت نے دعا کروائی
اور عاشقانِ رسول نے اُن سے ملاقات کی ۔اس موقع پر شرکا کا ٹیسٹ بھی لیا گیا جس میں بہترین کارکردگی کے حامل عاشقانِ رسول کو
تحائف دیے گئے۔(رپورٹ:عبدالخالق
عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
ایگریکلچر اور لائیواسٹاک سے وابستہ عاشقانِ
رسول کا اجتماع فیضانِ مدینہ کراچی میں
منعقد ہوگا
آج 4 جولائی 2026ء بروز ہفتہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ایگریکلچر
اینڈ لائیواسٹاک سے وابستہ عاشقانِ رسول کا سنتوں بھرا اجتماع عصر سے مغرب کے دوران منعقد کیا جائے گا جس کا مقصد زراعت اور لائیواسٹاک کے شعبوں سے
تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا ہے۔
اس سنتوں بھرے اجتماع میں خاص طور پر رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری
اپنے بیان کے ذریعے حاضرین کی رہنمائی کریں
گے۔ نیز علم و حکمت سے اُن کے دلوں کو منور کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں نیکی، تقویٰ
اور سنتوں کی عملی زندگی اپنانے کی ترغیب بھی دلائیں گے۔
اس کے علاوہ عاشقانِ رسول کو اسلام کے بنیادی
اصولوں سے آگاہ کرتے ہوئے زراعت اور لائیواسٹاک
کے شعبوں میں کام کرنے والے افراد کی تربیت اور رہنمائی کی جائے گی۔
مورخہ 1 جولائی 2026 بروز بدھ عالمی سطح کی دینی
تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں عاشقانِ رسول کی
خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی سے ملاقات ہوئی۔
علم و
حکمت کا سمندر حضورمفتیِ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مصطفیٰ رضا خان نوری رحمۃ
اللہ علیہ
اپنے وقت کے عظیم فقیہ، بے مثل مفتی اور شریعتِ مطہرہ کے پاسبان تھے۔ اپنے والدِ
گرامی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ
علیہ
کے سچے جانشین بن کر آپ نے لاکھوں فتاویٰ جاری کئے اور امتِ مسلمہ کی وہ بے لوث
علمی و شرعی رہنمائی فرمائی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ آپ کی زندگی زہد و تقویٰ،
عاجزی اور سادگی کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ دنیاوی جاہ و جلال سے دور، آپ کا ہر لمحہ
یادِ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
میں بسر ہوتا تھا۔
آپ رحمۃُ اللہِ علیہ کی مختصر حیات سے عاشقانِ رسول
کو آگاہ کرنے کے لئے شیخ طریقت امیر اہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےاس
ہفتے 26 صفحات کا رسالہ ”فیضانِ مفتی اعظم ہند“ پڑھنے/سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یا
اللہ پاک! جو کوئی 26صفحات کا رسالہ ” فیضانِ مفتی اعظم ہند “
پڑھ یا سن لے اسے اولیائے کرام کی سچی محبت دیکر ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا
فرما اور اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راضی ہوجا۔ اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن
صلّی اللہ
علیهِ واٰلہٖ وسلّم
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت منصور، جامعۃ المدینہ جوہر ٹاؤن لاہور
قرآن پاک میں
فرمان رب العزت ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27،
الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا
ہے۔ چنانچہ اس آیت مبارکہ کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ نیک کاموں کی ترغیب دیتے اور
برے کاموں سے منع کرتے رہنا چاہئے، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ جسے سمجھایا جائے اس
کے بارے میں امید ہوتی ہے کہ وہ برے کام چھوڑ کر نیک کام کرنے لگے گا اور دوسرا
فائدہ یہ ہے کہ نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی ذمہ داری پوری ہو جاتی
ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مومن کو سمجھانے سے نفع حاصل ہوتا ہے مگر بعض
دفعہ ہمارے سمجھانے کا انداز ایسا ہوتا ہے جس کے سبب بندہ سنورنے کی جگہ بگڑ جاتا
ہے، ایسے انداز میں سب سے زیادہ کی جانے والی غلطی سب کے سامنے سمجھانا ہے۔چنانچہ
اسی متعلق حضرت بی بی ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے اپنے بھائی کو
چپکے سے سمجھایا تو اس نے اسے زینت بخشی اور جس نے اسے علانیہ اور لوگوں کے سامنے
سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کو عیب لگایا۔ (شعب الایمان، 6 / 112، حدیث: 7641)
سب کے
سامنے سمجھانے کے بہت سے نقصانات ہوسکتے ہیں: مثلا
غلطی کرنے والا ضدی و ہٹ دھرم ہو سکتا ہے: سب کے سامنے اصلاح
کرنے سے غلطی کرنے والے میں اصلاح قبول کرنے کی جگہ ضد اور مخالفت پیدا ہو سکتی
ہے۔ نیز جب اس کی غلطی و گناہ کا علم سب کے سامنے اصلاح کرنے کے سبب سب کو ہو جاۓ گا تو
وہ اس غلطی /گناہ میں بے باک ہو سکتا ہے۔
بغض و کینہ پیدا ہوتا ہے: کسی کی سب کے سامنے اصلاح کرنے
غلطی بتانے سے، غلطی کرنے والے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے جس کے سبب وہ دل برداشتہ
ہو جاتا ہے اور یوں اصلاح کرنے والے کا غلطی کرنے والے کے دل میں بغض و نفرت،کینہ
پیدا ہو سکتا ہے۔
تعلقات کی خرابی کا سبب بن سکتا ہے: جب کوئی سب کے
سامنے غلطی بیان کرتا ہے تو غلطی کرنے والے کو تکلیف محسوس ہوتی ہے جس کے سبب آپس
کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ یوں دوستی و خیرخواہی کے جذبات ختم ہو سکتے ہیں۔
سنوار کی جگہ بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے: سب کے سامنے
اصلاح کرنے سے اسکے کام میں اصلاح نہیں ہو سکتی اگر سب کے سامنے سمجھائیں گے تو ہو
سکتا ہے کہ سامنے والا چپ ہوجائے لیکن دلی طور پر اپنی اصلاح کرنے کے لئے تیار نہ
ہو۔ نیز یہ بھی متوقع ہے کہ دشمنی کر بیٹھے یا اور عمل بگڑ جائے۔
دین سے دوری کا سبب بھی بن سکتا ہے: غلط طریقے سے
سمجھانے کہ سب کے سامنے ہی شروع کر دی اصلاح کرنا ماحول و موقع نہ دیکھا اور اصلاح
کرنے والا دیندار ہوا تو اس انداز کے سبب وہ دین سے بدظن ہو سکتا ہے۔
مومن
کی صفت عیب پوشی ہے،اسے چاہیے کہ تنہائی میں اصلاح کرے اس نداز میں کہ دوسروں کو
سامنے والے کا عیب بھی معلوم نہ ہو۔
سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت احمد دین، فیضان بی بی ہاجرہ مسلم ٹاؤن کوئٹہ
سمجھانا کے
بنیادی معنی کسی کو کوئی بات ذہن نشین کرانا،وضاحت کرنا یا مفہوم سمجھانا ہے۔
اس فعل کے
دیگر معانی میں نصیحت کرنا،آگاہ کرنا،تسلی دینا، دلاسہ دینا یا کسی کو نشیب و فراز
سے واقف کرانا شامل ہیں۔
نصیحت کیجئے
شرمندہ نہ کیجئے مقصد دستک دینا ہوتا ہے دروازہ توڑنا نہیں! کا مطلب یہ ہے کہ
اصلاح یا تنقید کا انداز نرم ہونا چاہیے نہ کہ تحقیر آمیز یا سخت کہ جس سے سامنے
والا شرمندہ ہو یا پھر ضدی۔
سب کے سامنے
سمجھانا یا اصلاح کرنا عام طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ سامنے والے
کو احساس کمتری میں مبتلا کرسکتا ہے۔
محفل میں
ٹوکنے سے انسان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے اور دل آزاری کا سبب بھی بن سکتی
ہے سامنے والے کی رسوائی ہوسکتی ہے اسکے دل میں آپکے لئے بغض بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اگر اس نے اپنی غلطی کی اصلاح کر بھی لی تب بھی شاید وہ آپ سے بدظن ہوجائے۔
حضرت ام درداء
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے کسی کے عیب کی الگ سے اصلاح کی اس نے اسے سدھار
دیا اور جس نے کسی کے عیب کی سب کے سامنے اصلاح کی اس نے اسے بگاڑ دیا۔ (شعب
الایمان، 6/112، حدیث:7641)
دوسروں
کی عزت کا خیال رکھیں: سمجھاتے ہوئے مسلمان کی عزت کا خیال رکھیں اور اچھے
انداز سے اچھے الفاظ کے ساتھ سمجھائیں تاکہ سمجھنے والے کو آپ سے وحشت نہ ہو اور
وہ آئندہ بھی آپ سے تربیت لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو۔
الله تبارک
وتعالیٰ ہمیں اچھے انداز کے ساتھ اصلاح کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے۔
ہمارے معاشرے
میں کم وبیش سبھی کو اصلاح کی حاجت رہتی ہے جس طرح غلطیاں کرنے والوں میں کمی نہیں
اسی طرح اصلاح کرنے والوں کی تعداد بھی کم نہیں،اگرچہ انداز ہر ایک کا جداگانہ
ہوتا ہے کچھ افراد تو ایسے بھی ہیں جو غلطیوں کے مرتکب(غلطیاں کرنے والے) کو
سمجھانا بے فائدہ سمجھتے ہیں اور یوں کہتےہوئے سنائی دیتے ہیں کہ بھائی! اسے
سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں،جبکہ یہ قول واضح طور پر قرآن پاک کےخلاف ہے اللہ پاک
کا پیار کلام تو یوں فرماتا ہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵) (پ 27،
الذاریات: 55) ترجمہ کنز الایمان: اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا
ہے۔
اصلاح کے لیے
شائستہ اسلوب اختیار کیا جائے تاکہ اصلاح نافع ہو موقع محل دیکھ کر مصلحت سے
سمجھانا، دعوت دینا اور اصلاح کرنا قرآن کا حکم ہے۔
اجتماعی
اصلاح اور اس کے نقصانات: کسی کی غلطی پر اسے سب کے سامنے
سمجھانا یا اصلاح کرنا اکثر منفی نتائج کا باعث بنتا ہے، جس سے مخاطب میں خود
نفرت، ندامت اور شدید تکلیف پیدا ہو سکتی ہے۔ اس عمل سے اصلاح کے بجائے بات مزید
بگڑ سکتی ہے اور رشتے متاثر ہو سکتے۔
شرمندگی:
سب
کے سامنے تنقید یا نصیحت کرنے سے فرد کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے اس
کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
دفاعی
رویہ: بعض
اوقات مخاطب بات سمجھنے کے بجائے اپنا دفاع کرنے لگتا ہے جس سے اصلاح کا مقصد فوت
ہو جاتا ہے۔
تعلقات
میں کشیدگی: لوگوں
کے سامنے سمجھانے سے رشتے میں بدگمانی، نفرت اور دوری پیدا ہو سکتی ہے۔
خود
نفرت میں اضافہ: سب
کے سامنے سمجھانے سے بعض اوقات فرد احساس کمتری کی بیماری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
بات
چیت میں رکاوٹ: یہ
طریقہ کار بات چیت کے دروازے بند کر دیتا ہے کیونکہ مخاطب کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ
اسے سب کے سامنے نشانہ بنایا گیا ہے۔
حضرت ام درداء
رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جس نے اپنے بھائی کو چپکے سے سمجھایا تو اس نے اسے زینت
بخشی اور جس نے اسے علانیہ اور لوگوں کے سامنے سمجھایا تو اس نے اپنے بھائی کو عیب
لگایا۔ (شعب الایمان، 6/112، حدیث: 7641)
بات فردواحد
کی ہو یا چند لوگوں کی، مسائل انفرادی ہوں یا اجتماعی، معاملہ گھر یلو ہو یا دینی و
دنیوی ہو یا پھر تنظیمی ہو، کسی بھی موقع پر حکمت و دانائی کی ضرورت و اہمیّت سے
انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بڑے سے بڑے مشکل امور بہترین حکمت عملی سے چند لمحوں میں
حل کئے جا سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکمت و دانائی سے ایک چیونٹی بھی ہاتھی گرا
سکتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں مشکلات اور پریشانیوں سے نجات پانے، مسائل حل کرنے،
کامیابی سمیٹنے اور ناکامی سے بچنے میں حکمت عملی(Strategy)کا
کردار بہت اہم ہوتا ہے۔
درحقیقت دعوت
و اصلاح کا تعلق حکمت، خیرخواہی اور اخلاص سے ہے، یہ بنیادی اصول ہیں، اصلاح کی جو
بات یا تحریک ان اصولوں پر مبنی ہوگی اس پر اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ درست نتائج
اور مقاصد کے حصول کی توقع کی جانی چاہیے۔ خلاصہ یہ کہ غلطی کی نوعیت اور شخصیت کے
فرق سے اصلاح کی صورت مختلف ہوسکتی ہے، ایک ہی غلطی دو مختلف حیثیت کے افراد سے ہو
تو اصلاح کا طرز تبدیل ہوسکتاہے، اور ایک ہی شخص سے دو مختلف حیثیت کی غلطیاں سرزد
ہوں تو بھی اصلاح کے طریقے میں معاملے کی نزاکت کا لحاظ ضروری ہے۔ حتمی طور پر یہ
نہیں کہا جاسکتا کہ ہر شخص کے سر عام غلطی کی اصلاح سر عام ہی کی جائے یا اکیلے
میں۔ اصول وہی ہیں کہ جس صورت میں غلطی کرنے والے یا اسے دیکھ کر متاثر ہونے والوں
کی خیرخواہی زیادہ ہو اور جو صورت قرین حکمت ہو، اسے اختیار کیا جائے، اور نفس کی
آمیزش، دوسرے کی تحقیر یا اپنی بڑائی وغیرہ کے فاسد جذبات سے پاک ہوکر خلوص دل سے
اصلاح کی کوشش کی جائے۔
سب کے
سامنے سمجھانے کے نقصانات از بنت ساجد علی،فیضان رضا سرجانی ٹاؤن کراچی
اصلاح اور
نصیحت کا بنیادی مقصد خیر خواہی، رہنمائی اور بہتری ہوتا ہے۔ انسان چونکہ خطا کا
پتلا ہے، اس لیے اس سے غلطیاں سرزد ہونا فطری امر ہے۔ ایسے میں اگر اس کی اصلاح
درست انداز میں کی جائے تو وہ نہ صرف اپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے بلکہ آئندہ اس سے
بچنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اگر یہی نصیحت نامناسب طریقے سے، خاص طور پر سب کے
سامنے کی جائے تو اصلاح کے بجائے فساد کاسبب بن جاتی ہے، مشہور مقولہ ہے: نصیحت
اگر سب کے سامنے کی جائے تو وہ نصیحت نہیں، فضیحت بن جاتی ہے۔
نصیحت
اور فضیحت میں فرق: اس جملے میں کہ ”سب کے سامنے نصیحت کرنا فضیحت بن
جاتی ہے“ مقصد یہ ہے کہ جب آپ اکیلے میں کسی کو سمجھاتے ہیں تو وہ اصلاح (نصیحت)
ہے، لیکن جب آپ وہی بات چار لوگوں کے سامنے کرتے ہیں تو وہ سمجھانا نہیں رہتا بلکہ
وہ اس شخص کی بے عزتی (فضیحت) بن جاتی ہے۔
کسی کو سب کے
سامنے سمجھانا نفسیاتی سماجی اخلاقی لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اسے چند پہلو
سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
عزت
نفس کا مجروح ہونا: جب ہم کسی کی سب کے سامنے اصلاح کرنے کی کوشش کرتے ہیں
تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ گویا اسکی تذلیل کی جارہی ہے اور وہ اصلاح کو قبول
نہیں کرتا کیونکہ انسان کی سب سے قیمتی متاع اسکی عزت نفس ہوتی ہے۔
احساس
کمتری: سب
کے سامنے سمجھانے کی صورت میں اسے اپنی غلطی پر ندامت زیادہ ہوگی جسکی وجہ سے رفتہ
رفتہ اپنی خود اعتمادی کی صلاحیت کھو دیتا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے
اور اسکی صلاحیتیں ابھرنے کے بجائے اسکی ذات میں ہی کھو جاتی ہیں۔
بعض
و کینہ: جب کسی کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا
جاتا ہے، تو اس کے دل میں نصیحت کرنے والے کے لیے محبت کے بجائے کینہ اور نفرت
پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ شخص ضدی ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات جان بوجھ کر وہی غلطی
دوبارہ کرتا ہے تاکہ یہ دکھا سکے کہ اسے کسی کی تنقید کی پروا نہیں ہے۔
شخصیت
کا متاثر ہونا: معاشرے
میں ہر انسان اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ جب اسے سب کے سامنے سمجھایا جاتا ہے،تو
تماشہ اور دیکھنے والے تماشائی بن جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اس شخص کی شخصیت متاثر
ہوتی ہے بلکہ لوگوں کو اس کا مذاق اڑانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ایک تعمیری گفتگو جو
تنہائی میں کی جا سکتی تھی، وہ محفل میں ایک تماشہ بن کر رہ جاتی ہے۔
اصلاح
کا مقصد فوت ہو جانا: سمجھانے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگلا بندہ اپنی
اصلاح کر لے۔ لیکن جب آپ سب کے سامنے بولتے ہیں، تو مخاطب کی پوری توجہ اس بات پر
ہوتی ہے کہ لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے نہ کہ اس پر کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔ اس طرح
اصل پیغام کہیں کھو جاتا ہے اور صرف شرمندگی باقی رہ جاتی ہے۔
بہترین
اصلاح کے انداز: اصلاح
موقع محل کی مناسبت سے کی جائے، پہلے دیگر امور پر حوصلہ افزائی کی جائے پھر غلطی
سے آ گاہ کیا جائے، الفاظ کا چناؤ بہترین ہو ایسے الفاظ نہ ہوں جس سے اسکی دل شکنی
ہو، کوشش کریں کہ گفتگو مسئلے پر ہو نہ کہ شخصیت پر یعنی اسکی ذات کو برا بھلا نہ
کہیں، لہجہ نرم ہو کہ نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے۔
Dawateislami