خیرخواہیِ امت کا جذبہ رکھنے والے دعوتِ اسلامی کے شعبے روحانی علاج کے زیرِ اہتمام لاہور، پنجاب کے مشہور علاقے  جوہر ٹاؤن میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں 3 دن کے ”روحانی علاج کورس“ کا انعقاد کیا گیا۔

تفصیلی معلومات کے مطابق 4، 5 اور 6 جولائی 2026ء کو ہونے والے اس کورس میں لاہور سٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے بھرپور شرکت کی۔

کورس کے دوران شعبہ روحانی علاج کے معلم محمد شبیر عطاری نے مختلف اہم موضوعات پر عاشقانِ رسول کی رہنمائی کی جن میں سے بعض یہ ہیں: ٭تعویذات لکھنے کے شرعی و فنی طریقے٭ کاٹ کرنے و مریضوں کو دم کرنے کا طریقہ ٔکار ٭اس دوران کی جانے والی ضروری احتیاطوں کے حوالے سے اہم نکات ۔

معلمِ کورس نے شعبے سے متعلق نئی اپڈیٹس سے آگاہ کرتے ہوئے عاشقانِ رسول میں امتِ مسلمہ کی غمخواری کا جذبہ بیدار کیا اور انہیں دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔(رپورٹ:سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر شعبہ روحانی علاج ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

07جولائی 2026ء میں انگلینڈ (England) کے شہر سلاؤ (Slough) میں قائم دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی ،اراکینِ شوریٰ حاجی محمد رفیع عطاری اور حاجی محمد خالد عطاری کی تشریف آوری ہوئی۔ مدنی مرکز آمد پر جامعۃ المدینہ کے اساتذۂ کرام، طلبائے کرام اور دیگر عاشقانِ رسول نے معزز مہمانوں کا پرجوش استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

اس موقع پر فیضانِ مدینہ سلاؤ میں شعبہ جامعۃ المدینہ کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ساؤتھ ایسٹ، گریٹر لندن اور ایسٹ آف انگلینڈ کے جامعۃ المدینہ کے طلبہ، اساتذہ، مختلف سطح کے ذمہ داران اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے میں شرکت کی۔

دینِ متین کی خدمت اور نیکی کی دعوت کا عزم:

سیشن میں بیان کرتے ہوئے نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے ”نیکی کی دعوت کی ضرورت، اہمیت و افادیت“ کے موضوع پر فکر انگیز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے شرکا کو معاشرے میں نیکی کا پیغام عام کرنے اور دینِ متین کی خدمت کے لئے تن من دھن سے کوشاں رہنے کا ذہن دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ علمِ دین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے دوسروں تک پہنچانا اور برائیوں کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نیوآرک (Newark) کے 3 روزہ اجتماع کے لئے خصوصی اہداف:

دورانِ سیشن نگرانِ شوریٰ نے انگلینڈ کے علاقے نیوآرک شوگراؤنڈ (Newark Showground) میں 18، 19 اور 20 ستمبر 2026ء کو منعقد ہونے والے تین روزہ عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کے حوالے سے خصوصی رہنمائی فرمائی۔

نگرانِ شوریٰ نے جامعۃ المدینہ کے اساتذہ اور طلبہ سمیت تمام عاشقانِ رسول کو اس تاریخی اجتماع کی بھرپور تیاری کرنے کی تاکید کی اور ہدف دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس اجتماع میں شرکت کے لیے تیار کریں۔ نگرانِ شوریٰ کی اس ترغیب پر سیشن میں موجود تمام شرکا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اجتماع میں خود بھی شرکت کرنے اور قافلوں کی صورت میں دیگر عاشقانِ رسول کو ساتھ لانے کی اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔


دینِ اسلام کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام انگلینڈ (England) کےسٹی سلاؤ (Slough) میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ی سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ 07 جولائی 2026ء کو ہونے والے اس اجتماع میں بزنس کمیونٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس اجتماع میں اراکینِ شوریٰ حاجی محمد رفیع عطاری اور حاجی محمد خالد عطاری، نگرانِ یوکے مشاورت سمیت یوکے، فرانس، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے آئے ہوئے مختلف سطح کے ذمہ داران اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی بھی خصوصی طور پر شریک ہوئے۔

اجتماع میں نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے ”نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے“ کے موضوع پر نہایت ہی فکر انگیز بیان فرمایا۔ نگرانِ شوریٰ نے معاشرتی رویوں کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا:آج ہمارے اندر یہ سب سے بڑا مسئلہ (Problem) آچکا ہے کہ ہم کسی کو برائی سے روکنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہی نہیں ہوتے۔

یاد رکھیں! اگر ہم اپنے کسی عزیز و اقارب یا ملنے والے کو برائی سے نہیں روکتے، تو کل بروزِ قیامت وہ اللہ کی بارگاہ میں دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ میرا پڑوسی یا دوست مجھے برائی کرتے ہوئے دیکھتا تھا مگر روکتا نہیں تھا ۔ انہوں نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے نیکی کی دعوت کے بہترین طریقہ کار پر روشنی ڈالی اور تاکید کی کہ: اگر کسی کو برائی سے روکنا ہو تو ہمیشہ نرمی، عاجزی اور لجاجت کا راستہ اختیار کریں۔ اگر ہم پیار و محبت اور شفقت کے ساتھ نیکی کی دعوت دیں گے تو لوگ یقیناً نماز، عبادت اور پرہیزگاری کی طرف مائل ہوں گے۔ لہٰذا تمام شرکا آج سے یہ پکا ذہن بنا لیں کہ ہم نے جب بھی کسی کو دین کی بات بتانی ہے تو انتہائی نرمی کے ساتھ ہی بتانی ہے۔

دورانِ اجتماع نگرانِ شوریٰ نے انگلینڈ کے علاقے نیوآرک شوگراؤنڈ (Newark Showground) میں آنے والے 18، 19 اور 20 ستمبر 2026ء کو منعقد ہونے والے تین روزہ عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کے حوالے سے بھی خصوصی رہنمائی فرمائی۔ انہوں نے شرکا کو اس تاریخی اجتماع میں خود بھی شرکت کرنے اور دوسرے لوگوں کو ترغیب دے کر بھرپور انداز میں اس کی دعوتِ عام کا عزم دلایا۔

رکنِ شوریٰ حاجی محمد خالد عطاری نے بھی شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں دینِ متین کی خدمت کرنے اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔

اجتماع کا اختتام دعا اور بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں صلوٰۃ و سلام کے نذرانے پیش کرنے پر ہوا۔


دینِ اسلام کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام انگلینڈ (England) کے شہر برمنگھم (Birmingham) کے علاقے اسٹچفورڈ (Stechford) میں قائم مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ایک عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ 08 جولائی 2026ء کو ہونے والے اس روحانی اجتماع میں بزنس کمیونٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجتماع میں دعوتِ اسلامی کے مرکزی مجلس شوریٰ کے اراکین حاجی محمد رفیع عطاری اور حاجی محمد خالد عطاری، نگرانِ یوکے مشاورت سمیت یوکے، فرانس، ہنگری، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے آئے ہوئے مختلف سطح کے ذمہ داران اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی بھی موجود تھے۔

اجتماع سے نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان کرتے ہوئے حاضرین کو اولاد کی اسلامی تعلیمات پر تربیت کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم رہنمائی فراہم کی۔ نگرانِ شوریٰ نے حدیثِ پاک کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا”اپنی اولاد کو نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت، قرآنِ پاک اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم الرضوان کی محبت سکھاؤ“۔

انہوں نے مزید تاکید کی کہ بچوں کو یہ اوصاف سکھانے کے لیے ضروری ہے کہ والدین پہلے خود ان چیزوں کو سیکھیں، اور سیکھنے کے لیے ایک بہترین دینی ماحول کا ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دعوتِ اسلامی آپ کو ایسا ہی پاکیزہ ماحول فراہم کرتی ہے، لہٰذا اپنی مصروفیات میں سے چند گھنٹے نکال کر دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع، مختلف تربیتی سیشنز اور دینی حلقوں میں لازمی شرکت کریں۔

دورانِ اجتماع نگرانِ شوریٰ نے انگلینڈ (England) کے علاقے نیوآرک شوگراؤنڈ (Newark Showground) میں 18، 19 اور 20 ستمبر 2026ء کو ہونے والے تین روزہ عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع کے حوالے سے بھی خصوصی رہنمائی فرمائی۔ انہوں نے شرکا کو اس تین روزہ اجتماع میں خود بھی شرکت کرنے اور دوسرے لوگوں تک اس کا پیغام پہنچا کر بھرپور انداز میں دعوتِ عام دینے کی ترغیب دلائی۔


انگلینڈ (England) کے شہر سلاؤ (Slough) کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی دینی و فکری سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی بزنس کمیونٹی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پروفیشنلز اور کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔ اس اہم سیشن میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین، حاجی محمد خالد عطاری اور حاجی محمد رفیع عطاری سمیت نگرانِ یوکے مشاورت، مبلغین دعوتِ اسلامی اور دیگر مقامی ذمہ داران بھی موجود تھے۔

نگرانِ شوریٰ کا بیان اور خصوصی تربیت:

سیشن کے دوران دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے سنتوں بھرا بیان فرمایا۔ آپ نے شرکا کو تاکید کی کہ وہ خود بھی علمِ دین حاصل کریں اور اپنی اولاد کو بھی دینِ اسلام کے نور سے منور کریں۔ نگرانِ شوریٰ نے بچوں کے اخلاق و کردار کو سنوارنے اور اپنے گھروں میں مثالی دینی ماحول قائم کرنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو فرمائی اور مختلف تنظیمی و دینی امور پر شرکا کی رہنمائی بھی کی۔

رکنِ شوریٰ کا اظہارِ خیال:

رکنِ شوریٰ حاجی محمد خالد عطاری نے بھی شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں دینِ متین کی خدمت کرنے اور دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔

سیشن کا اختتام:

پروگرام کے اختتام پر نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری نے امتِ مسلمہ کی بھلائی، ایمان کی سلامتی اور دینی کاموں میں استقامت کے لئے خصوصی دعا کروائی۔ سیشن میں شریک بزنس کمیونٹی اور پروفیشنلز نے دعوتِ اسلامی کی ان کوششوں کو سراہا اور دینی کاموں میں تعاون کا عزم ظاہر کیا۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ جات ”مدرسۃ المدینہ“ ، ”جامعۃ المدینہ (فل ٹائم/ پارٹ ٹائم)“ کے عملے اور ائمہ مساجد کے لیے ایک خصوصی اور روح پرور تنظیمی و تربیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔

اس اہم تربیتی اجتماع کا انعقاد فیضانِ مدینہ اسٹیچ فورڈ (رچمنڈ روڈ، برمنگھم، B33 8TN) میں کیا گیاجس میں یوکے کے مختلف ریجنز بشمول ساؤتھ ویسٹ (South West)، ویلز (Wales)، ایسٹ مڈلینڈز (East Midlands) اور ویسٹ مڈلینڈز (West Midlands) سے اساتذہ و علمائے کرام سمیت ائمہ کرام نےبڑی تعداد میں شرکت کی۔

نشست کی سب سے اہم خصوصیت مرکزی مجلسِ شوریٰ دعوتِ اسلامی کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی کا سنتوں بھرا بیان ہوا۔نگرانِ شوریٰ نے اپنے مخصوص اور پُر اثر انداز میں شرکا کو اخلاصِ نیت، تدریس کے آداب اور معاشرے کی اصلاح میں ائمہ و اساتذہ کے کلیدی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے حاضرین کو تعلیمی و تنظیمی امور کو مزید احسن طریقے سے چلانے اور نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ترغیب دی۔

اس موقع پررکن شوریٰ حاجی رفیع عطاری نے بھی شرکا کی تربیت کی اور دینی و تنظیمی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں دینی کاموں کو مزید فروغ دینے کے حوالے سے گفتگو کی۔

نشست کے آخر میں نگرانِ شوریٰ نے شرکاکی کارکردگی کو سراہا اور دینِ اسلام کی سربلندی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی ترقی کے لئے خصوصی دعا فرمائی۔ شرکاء نے اس نشست کو اپنے لیے انتہائی مفید اور ایمان افروز قرار دیتے ہوئے عزم کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جا کر مدنی کاموں کو مزید جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔


11 جولائی 2026ء  بمطابق 26 محرم الحرام 1448ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے مختلف علاقوں سے عاشقانِ رسول کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز رات تقریباً 09:45 بجے تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے مدنی پھولوں کے ذریعے حاضرین اور ناظرین کی دینی و اخلاقی اعتبار سے تربیت کی۔

اس موقع پر عاشقانِ رسول کی جانب سے سوالات بھی کیے گئے اور امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اُن کے جوابات ارشاد فرمائے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

بعض سوال و جواب

سوال: بچوں میں بزرگوں کی محبت کیسے پیدا کریں ؟

جواب: گھرکا ماحول اچھا ہو،گھر میں بزرگانِ دِین کی باتیں سناتے رہیں، گیارہویں شریف کا اہتمام ہو، سال میں کم ازکم ایک مرتبہ نعت خوانی ہو تو بچوں کے دلوں میں ساداتِ کرام اور صحابۂ کرام علیہم الرضوان اور اللہ والوں کی محبت ا ورادب پیدا ہوگا۔ان شاء اللہ الکریم

اللہ پاک کے آخری نبی،حضور مکی مدنی صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے اِرْشاد فرمایا:اَدِّبُوْا اَوْلَادَکُمْ عَلٰی ثَلاثِ خِصَالٍ یعنی اپنے بچوں  کو 3 چیزیں سکھاؤ۔(1)حُبِّ نَبِیِّکُمْ اپنے نبی کی مَحَبَّت(2)وَحُبِّ اَہْلِ بَیْتِہٖاَہلِ بیت کی مَحَبَّت(3)وَ قِرَاءَۃِ الْقُرْاٰنِ اور قرآنِ پاک کی تلاوت۔ (کنزالعمال، 16/ 189، رقم: 45409) گھر میں مدنی چینل چلتا رہے گا تو اس سے بھی ان پاکیزہ ہستیوں کی محبت حاصل ہوگی ۔

سوال: بچوں کے اِغواہونے کی خبریں سُنی جا رہی ہیں،اس سےحفاظت کے لیے کیا اقدامات کریں ؟

جواب: بچوں کی حفاظت کرتے ہوئےان کا خاص خیال رکھیں، کہتے ہیں کہ بکرا سنبھالنا آسان ہے بچے کو سنبھالنا مشکل ہے۔ بکرا کتنا بھی شرارتی ہو، اس کے گلے میں رسی ڈال کر کونے میں باندھا جا سکتاہے مگر بچے کو گھر میں روکنا مشکل ہے، دروازہ بند کیا جائے تو وہ کسی طرح بھی کھول کر باہر نکل جاتا ہے۔ آزمائش توہے بہر حال بچے کو بڑوں سے دوستی نہ کرنے دیں، اگرچہ وہ بڑا کتنا ہی اچھا اور نیک نمازی کیوں نہ ہو۔ بُری خواہش(شہوت پرستی)بادشاہوں کو غلام بنا دیتی ہے ۔بِلا ضرورت بچوں کو گھر سے باہر نہ جانے دیں ۔گھرکی چار دیواری میں ان کی حفاظت کریں ۔میری والدہ نے بچپن میں مجھے سکھایاتھاکہ کوئی سونے کا ڈھیر بھی دے تو اُس سے لینا نہیں ،بچوں کو کسی سے کوئی چیز نہ لینے کا عادی بنائیں ۔سگا بھائی یا والد خود مدرسہ یا اسکول چھوڑنے لینے جائیں، چچا زاد بھائی کے سپرد بھی یہ کام نہ کریں ۔اللہ پاک کی راہ میں صدقہ و خیرات کریں،اس سے بھی حفاظت ہوگی۔ ہر عمل اللہ پاک کی رضا کے لیے ہونا چاہئے ۔صدقہ و خیرات سے بڑی بڑی بلائیں ٹل جاتی ہیں ۔بچوں کو یہ وظیفہ سکھا دیں ،گھر سے نکلتے ہوئے گھر سے نکلنے کی دُعا:بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہ پڑھ لیا کریں، یَاحَفِیْظُ یَاسَلَامُ 11 مرتبہ، اَللّٰہُمَّ سَلِّمْنِیْ وَسَلِّمْ مِنِّی ایک ساتھ پڑھ لیں، حفاظت ہوگی۔بڑے بھی پڑھ لیا کریں ۔وضو کرتے وقت ہر عُضْو دھوتے ہوئے یَاقَادِرُ پڑھ لیا کریں، اسے اپنا معمول بنا لیں۔ اپنے مشائخ کا شجرہ شریف پڑھتے رہیں ،اس کے بھی فوائد ہوں گے ۔

سوال: تصرف کا کیا معنی ہے؟

جواب: تصرف کا معنی اختیار استعمال کرنا ،مَن مانی کرنا وغیرہ ہیں ۔

سوال: جب کوئی مشکل آئے تو کیا کرنا چاہئے ؟

جواب: جب کوئی مشکل آئے تو یہ کہنا چاہئے قَدَّرَاللہ ُمَاشَاءَفَعَلْ۔حدیثِ پاک ہے، فرمایا: اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کر لیتا تو ایسا ہو جاتا بلکہ کہو:قَدَّرَ اللہ ُ مَاشَاءَ فَعَلْ یعنی اللہ  پاک نے مُقَدَّر کیا اور جو چاہا، وہی کیا۔ مزید فرمایا:فَاِنَّ لَوتَفْتَحُ عَمَلَ الشَّیْطَانِ بیشک اگر مگر شیطان کا کام کھول دیتا ہے۔( مسلم، ص1027، حدیث:2664)

سوال: قرینہ کا کیا معنی ہے ؟

جواب: قرینہ کا معنی نمایاں و واضح اشارہ ہے۔مثلاً کسی کا شراب خانے سے نکلنا،اس کا شراب پینے کا نمایاں اشارہ ہے اور جو مسجد سے نکلے اس کا نماز پڑھنے کا واضح اشارہ ہے ۔

سوال: خرگوش کو خرگوش کیوں کہتے ہیں ؟

جواب:خر کا معنی گدھا اور گوش کا معنی کان ہیں، خرگوش کے معنی گدھے جیسے کان والا ہے ۔ خرگوش جلد بازی میں مشہور ہے۔

سوال:جلد بازی اور تحمل مزاجی میں کیا فرق ہے ؟

جواب: کوئی کام بغیر سوچے سمجھےکرنا جلد بازی کہلاتا ہے، اسے عُجلت بھی کہتے ہیں ۔بندہ اپنے کاموں کو سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد شروع کرے تو اسے توقف یعنی ٹھہراؤ کہتے ہیں ۔کا م کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ کرنا تاکہ وہ کام بہتر انداز سے تکمیل تک پہنچے اسے تحمل و بُردباری (Tolerance) کہتے ہیں۔رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اطمینان اللہ کریم کی طرف سے ہےاورجلد بازی شیطان کی طرف سے ہے۔ ( ترمذی،3 / 407 ،حدیث : 2019)

سوال: جلد بازی میں بد دعا دینے کا کیا نقصان ہے؟

جواب: بعض اوقات یہ بد دعا قبول ہو جاتی ہے پھر بندہ پچھتاتا ہے ۔لوگ اپنے بچوں کو کوستے اور بد دعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔مائیں بچوں کو بد دعائیں دیتی ہیں، بچے تنگ بھی بہت کرتے ہیں، بہر حال وہ تو بچے ہیں، ماؤں کو صبر کرنا چاہئے اور بد دعا نہیں دینی چاہئے کبھی قبولیت کی گھڑی بھی ہوتی ہے ۔

سوال: کیا دِین اور دُنیاوی دونوں طرح جلد بازی کی جاتی ہے؟

جواب: جی ہاں!لوگ دِینی اور دنیاوی دونوں کاموں میں جلد بازی کر رہے ہوتے ہیں اس جلد بازی کی وجہ سے ان کی عبادات برباد ہو جاتی ہیں اور دنیاوی طور پر شدید نقصانات اٹھاتے ہیں ،پھر ندامت اور پچھتاوے کے سوا باقی کچھ نہیں رہتا۔

سوال: اِس ہفتے کا رِسالہ ”احیاء العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:1)پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یا اللہ پاک! جو کوئی 17 صفحات کارسالہ”احیاءُ العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:1)“ پڑھ یاسُن لے،اُسے سنتوں کا پابند بنا کر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّن صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلَّم


وعدہ وفائی سے مراد یہ ہے کہ جس سے بھی وعدہ کیا جائےاس کو پورا کیا جائے۔ یہ ایسی صفت ہے جس سے بندے کی عزت و تشخص برقرار رہتا ہے جبکہ وعدہ خلافی دنیا میں بھی شرمندگی کا باعث ہے اور آخرت میں بھی پکڑ کا سبب بن سکتی ہے۔ قرآن پاک میں الله عزوجل نے اس صفت والوں کی پزیرائی فرمائی ہے۔ اور کئی مقامات میں اس کو بیان فرمایا جو درج ذیل ہیں :

(1)رحمانی صفت :وعدہ پورا کرنا الله تبارک وتعالی کی صفت ہے چنانچہ ارشاد باری ہے: وَعْدَ اللّٰهِؕ-لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ وَعْدَهٗ ترجمہ کنز الایمان: اللہ کا وعدہ اللہ اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔(الروم:6)

ایک اور مقام پر فرمایا :وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّترجمہ کنز الایمان:الله کا وعدہ سچا ہے۔(القصص:13)

(2)متقی اور سچے : الله پاک نے سورۃ بقرہ میں کچھ صفات کو بیان فرمایا اور ایک صفت یہ بیان فرمائی : وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور اپنا قول پورا کرنے والے جب عہد کریں۔ (البقرۃ:177)

وعدہ خلافی کرنےوالوں کے لیے فرمایا کہ یہ متقی نہیں ہیں:اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶) ترجمہ کنز الایمان: وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔ (انفال:56)

(3)مشرکین سے وعدہ وفائی کا حکم : اسلام کی تعلیمات اتنی خوبصورت ہیں کہ اس میں نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ وعدہ وفائی کا حکم ہے بلکہ مشرکین کے ساتھ بھی وعدہ وفائی کا حکم دیا گیا جب تک وہ(مشرکین) وعدہ میں کمی اور اسلام مخالف کی مدد نہ کریں چنانچہ ارشاد ربانی ہے :

فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۴)

ترجمہ کنز الایمان: تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو بےشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔(التوبہ:4)

(4)جنت کی بشارت :قرآن پاک میں 2 مقامات میں وعدہ وفائی کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری عطا کی گی ایک مقام پر فرمایا : وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔(المؤمنون:8)

ایک اور مقام پر فرمایا : وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَﭪ(۳۲)

ترجمہ :کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں ۔ (المعارج:32)

الله پاک ہمیں وعدہ پورا کرنے اور وعدہ خلافی جیسے دیگر برے کاموں سے بھی بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کی تعلیم دیتا ہے۔ انہی اعلیٰ صفات میں سے ایک اہم صفت وعدہ وفائی بھی ہے۔ قرآنِ کریم میں وعدہ پورا کرنے کو ایمان کی نشانی اور وعدہ خلافی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جس پر انسانی معاشرے کا اعتماد قائم ہوتا ہے۔انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی زندگیوں سے اس صفت کا عملی نمونہ پیش کیاہے۔ آئیے قرآن پاک کی روشنی میں وعدہ وفائی کے متعلق کچھ جانتے ہیں :

وعدہ پورا کرنے کا حکم :(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15، الاسراء:34)

اس آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 5 / 155، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: 34، 3 / 174، ملتقطاً)اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔

( 2) اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ المائدۃ میں فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے کرو۔ (پ 6، المائدة: 1)

عُقود کا معنیٰ عہد ہیں ، انہیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے مراد کون سے عہد ہیں اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں :

(1) امام ابن جریج رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ یہاں اہلِ کتاب کو خطاب فرمایا گیا ہے اور معنیٰ یہ ہیں کہ اے اہلِ کتاب کے مومنو! میں نے گزشتہ کتابوں میں سیدُ المرسلین ﷺ پر ایمان لانے اور آپ ﷺ کی اطاعت کرنے کے متعلق جو تم سے عہد لئے ہیں وہ پورے کرو۔(2) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس آیت میں خطاب مؤمنین کو ہے، انہیں اپنے عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔(3) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے۔(4) بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس میں مؤمنین کے باہمی معاہدے مراد ہیں۔ (خازن، المائدۃ، تحت الآیۃ: 1، ۱/ 458)

( 3) وعدہ خلافی گناہ ہے :فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَة

ترجمہ کنزالایمان: تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے ۔(پ 6 ، المائدة، 13)

بنی اسرائیل نے عہد ِالٰہی کو توڑا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد آنے والے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کیا اور تورات کے احکام کی مخالفت کی نیز ان آیات کو بدل دیا جن میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی نعت و صفت کا بیان تھا جو توریت میں بیان کی گئیں ہیں نیز انہوں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت سی ہدایات کو فراموش کردیا جو توریت میں دی گئی تھیں کہ وہ تاجدارِ رسالت ﷺ کی پیروی کریں اور ان پر ایمان لائیں تو ان حرکتوں کے نتیجے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر لعنت فرمائی اور ان کے دل سخت کردئیے۔ (تفسیر صراط الجنان جلد 02،صفحہ نمبر 445،446)

گناہوں کی وجہ سے دل سخت ہو جاتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ بداعمالیوں کی وجہ سے بھی دل سخت ہوجاتے ہیں۔ حضرت یحیٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں:آنسو دلوں کی سختی کی وجہ سے خشک ہوتے ہیں اور دلوں کی سختی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے اور عیب زیادہ ہونے کی وجہ سے گناہ کثیر ہوتے ہیں۔(شعب الایمان، السابع والاربعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی الطبع علی القلب او الرین، 5 / 446، الحدیث: 7221)

( 4) انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کی مثالیں:وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ

ترجمہ کنز الایمان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بےشک وہ وعدے کا سچا تھا۔ (پ 16 ، مریم : 54)

حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین ﷺ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وصف بیان کیا گیا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ: 54، 3/ 238)

قرآنِ کریم کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی مومن کی شان اور ایمان کی علامت ہے، جبکہ وعدہ خلافی اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور دل کی سختی کا سبب بنتی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی مبارک زندگیوں سے ہمیں سکھایا کہ ہر حال میں عہد کو نبھانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن پاک میں مذکور وعیدوں سے عبرت حاصل کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد کی پاسداری کریں۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اپنے ہر وعدے میں سچائی اور امانت داری اختیار کریں، جھوٹ، بدعہدی اور وعدہ خلافی سے بچیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو دلوں کو نرم، معاشرہ کو مضبوط، اور زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔ اگر ہم اس اصول کو اپنائیں تو نہ صرف اللہ کی رضا حاصل ہوگی بلکہ ہماری زندگی میں بھی اعتماد، عزت اور امن قائم ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں وعدہ وفائی کرنے والا اور بدعہدی سے محفوظ رکھنے والا بنائے۔ آمین۔


وعدہ وفائی (وعدےکی پابندی) اسلام کی بنیادی اخلاقی اصولوں میں سے ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے متعدد جگہوں پر وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا ۔ اور ایفائے عہد کوایمان کی علامت قرار دیا۔ جو شخص اپنے قول و قرار کا پاس رکھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب اور لوگوں کے درمیان معزز ہوتا ہے، اور جو وعدہ خلافی کرتا ہے وہ اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔

(1) وعدہ پورا کرنے کا قرآنی حکم:قرآنِ کریم میں اللہ پاک کا واضح ارشاد ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (بنی اسرائیل:34)

آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہےاور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔( صراط الجنان،ج،5،ص:460)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔(المائدۃ:1)

یہ آیت بتاتی ہے کہ معاملات، معاہدات، نکاح، تجارت اور دیگر تمام معاہدوں کی پابندی شرعی فریضہ ہے۔

(2) ایفائے عہد ایمان کی علامت:قرآن مجید میں مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔ (مؤمنون:8)

اس آیت میں کامیابی حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے (1) اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے (2)اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔اہم بات: امانتیں خواہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہوں یا مخلوق کی اور اسی طرح عہد خدا عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ہوں یا مخلوق کے ساتھ، سب کی وفا لازم ہے۔( تفسیر تعلیم القرآن ،ج دوم،ص:119/120)

(3)اللہ کا عہد پورا کرو:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمۂ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو ۔(النحل:91)

اس آیت کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں:یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے(بیعتِ رضوان کے موقع پر) رسول کریم ﷺ سے اسلام پر بیعت کی تھی، انہیں اپنے عہد پورے کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’وعدہ عہد ہی کی ایک قسم ہے۔ حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تم جس شخص سے بھی عہد کرو تواسے پورا کرو ، خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا کافر ، کیونکہ تم نے اس عہد پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیا(اور اسے ضامن بنایا)ہے۔ حضرت علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’عہد سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے پورا کرنا انسان پر لازم ہے خواہ اسے پورا کرنا اللہ تعالیٰ نے بندے پر لازم کیا ہو یا بندے نے خود اسے پورا کرنا اپنے اوپر لازم کر لیا ہو جیسے پیرانِ عظام کے اپنے مریدین سے لئے ہوئے عہد کیونکہ ان میں مریدین اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور کسی کام میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہ کرنے کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں لہٰذا مریدین پر اسے پورا کرنا لازم ہے۔( صراط الجنان ،ج،5،ص:373 /374)

(4)عہد کی پاسداری متقین کی صفت:بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷۶)

ترجمہ کنز الایمان: جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ کو خوش آتے ہیں۔ (اٰل عمران:76)

یہاں وعدہ وفائی کو تقویٰ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

(5)انبیاء علیہم السلام کی سنت:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴) ترجمہ کنز العرفان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔ (مریم:54)

اس آیت کریمہ کے تحت صراط الجنان میں ہے:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے، چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔

رسولِ اکرم ﷺ کی وعدہ وفائی:اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3دن تک ایک شخص کے انتظار میں ٹھہرے رہے،اسی طرح کا ایک واقعہ سیّد المرسَلین ﷺ کے بارے میں بھی اَحادیث کی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ ﷺ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔( صراط الجنان ،ج،6 ، ص : 121/122)

وعدہ پورا کرنے سے اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے،معاشی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ خاندانی زندگی میں سکون پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے۔اگر معاشرہ وعدہ وفائی کو اپنالے تو جھوٹ، دھوکہ اور بے اعتمادی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں وعدہ پورا کرنے اور وعدہ خلافی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ۔


وعدہ سے مراد ایک شخص کا کسی دوسرے شخص کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا یقین دلانا۔ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو اخلاقی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔ انہی اعلی اخلاقی صفات میں سے ایک وعدہ وفائی ہے۔ دین اسلام میں وعدے کو پورا کرنے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ وعدے کو پورا کرنے سے معاشرے میں امن، اتحاد ،محبت اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وعدہ خلافی سے معاشرے میں انتشار اور عدم اعتماد پھیلتا ہے اور لوگوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اور یقین بحال نہیں رہتا۔ اللہ پاک نے قرآن مجید میں وعدے کو پورا کرنے پر بہت زور دیا ہے۔

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل: 34)

آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)

اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں ۔

(2) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (المائدۃ: 1)

(3) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمہ کنز العرفان:اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی عہد کرو۔ (النحل: 91)

بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے وہ عہد ہے جسے انسان اپنے اختیار سے اپنے اوپر لازم کر لے اور اس میں وعدہ بھی داخل ہے کیونکہ وعدہ عہد کی قسم ہے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۱۴۰)

حضرت میمون بن مہران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’تم جس شخص سے بھی عہد کرو تواسے پورا کرو ، خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا کافر ، کیونکہ تم نے اس عہد پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لیا(اور اسے ضامن بنایا)ہے۔ ( تفسیرکبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۷ / ۲۶۳)

اسی طرح ایک مقام پر فرمایا : وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)

ترجمہ کنز العرفان: اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اورصرف مجھ سے ڈر و۔ (البقرۃ:40)

وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)

ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ ( المومنون:8 )

تفسیر صراط الجنان:اس آیت میں فلاح حاصل کرنے والے اہلِ ایمان کے مزید دو وصف بیان کئے گئے کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائی جائے تو وہ اس میں خیانت نہیں کرتے اور جس سے وعدہ کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں ۔ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کی وعدہ وفائی ایک عظیم اخلاقی صفت ہے اور کامیاب مومن کی نشانی ہے۔ان آیات کریمہ کے ذریعے وعدہ کو پورا کرنے کا بیان واضح ہو گیا ہے وہ وعدہ چاہے بندے نے اللہ پاک سے کیا ہو یا کسی اور بندے سے کیا ہو۔


اسلام میں اخلاق کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ایفائے عہد اور وعدے کی پابندی بھی درست اخلاق کی ایک بہت ہی اہم اور نہایت ہی ہری بھری شاخ ہے۔قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جگہ جگہ ایفائے عہد کی تلقین کی گئی ہے کسی جگہ اسے پرہیزگاروں اور سچوں کی نشانی قرار دیا گیا اور کسی جگہ کفار سے بھی وعدہ پورا کرنے کی تلقین کی گئی۔اس کے علاوہ انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کا بھی ذکر کیا گیا۔ ذیل میں وعدہ وفائی کے متعلق چار آیات اور انبیاء کرام علیہم السلام کی وعدہ وفائی کے بارے میں دو آیات ملاحظہ کیجئے:

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (سورۃ المائدۃ،آیت 1)

(2) وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا

ترجمہ کنز العرفان:اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں ۔ (سورۃ البقرۃ، آیت 177)

اس آیت مبارکہ میں وعدہ وفائی کو نیکی کی ایک قسم اور پرہیزگار لوگوں کی نشانی قرار دیا گیا۔

(3) اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْــٴًـا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ

ترجمہ کنزالعرفان: مگر وہ مشرکین جن سے تمہارا معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے معاہدے میں کوئی کمی نہیں کی اور تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد نہیں کی تو ان کا معاہدہ ان کی مقررہ مدت تک پورا کرو۔(سورۃ التوبہ ، آیت 4)

اس آیت مبارکہ میں کفار کے ساتھ بھی ایفائے عہد کی تلقین کی گئی ہے تو پھر مسلمانوں کے ساتھ وعدہ پورا کرنے کی کس قدر تاکید ہوگی۔

(4) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ ( سورۃ الاسراء ، آیت 34)

آیت میں وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا گیا خواہ وہ اللہ تعالی کا ہو یا مسلمانوں کا اور اس آیت میں لوگوں کو ڈرایا بھی گیا کہ وعدے کے متعلق(قیامت کے دن)سوال کیا جائے گا تاکہ لوگ وعدہ پورا کرنے میں سستی نہ کریں۔

(2) وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ(۵۴)

ترجمہ کنزالعرفان: اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والا رسول تھا۔(سورۃ المریم، آیت 54)

اس آیت مبارکہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایک صفت وعدہ وفائی کو ذکر کیا گیا آپ اس وصف میں بہت ممتاز تھے حتی کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ کو ذبح کرنے کے لیے گئے تو آپ نے ذبح کے وقت صبر کا وعدہ کیا تھا اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اس کی مثال نہیں ملتی۔

رسول اللہ ﷺ کی وعدہ وفائی کا واقعہ:حضور علیہ الصلوۃ والسلام خلق عظیم والے تھے اور وعدہ وفائی میں بھی رسول اللہ ﷺ کا خلق عظیم بے مثال ہے چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم ﷺ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ ﷺ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔( ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی العدۃ، ۴ / ۴۸۸، الحدیث: ۴۹۹۶)

ان آیات مبارکہ سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ وعدے کی پابندی کرنا ایمان والوں کی ذمہ داری ہے اور وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ عزوجل کے اور آپس کے وعدوں کو مکمل ثابت قدمی سے پورا کریں اللہ عزوجل ہمیں ایفائے عہد کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبیین صَلَّی اللہ تَعَالیٰ علَیہ وآلِہٖ وسلَّم ۔