دین اسلام کامل و اکمل اور مکمل ضابطہ حیات ہیں دین
اسلام نے جس طرح عبادات اور نیک اعمال کرنے کا حکم دیا اسی طرح معاشرے کو سدھارنے
کے لیے اعلی اور عمدہ صفات کو بھی بیان فرمایا انہی میں سے ایک وصف وعدہ وفائی بھی
ہے قرآن پاک نے متعدد مقامات پر وعدہ پورا کرنے کی فضیلت کو بیان کیا ہے آئیے ہم
بھی وعدہ وفائی کا قرآنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :
(1)عہد کے بارے میں سوال ہوگا؟وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (پ 15،سورۃ الاسراء، آیت نمبر 34)
(2) اللہ وعدہ پورا کرنے والوں کے ساتھ ہیں ؟مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ
اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ (۷۶) ترجمہ
کنز الایمان: جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی اور بے شک پرہیزگار اللہ
کو خوش آتے ہیں۔ (پ 3 ،سورۃ اٰل عمران، آیت نمبر 76)
(3) قرآن پاک میں وعدہ پورا کرنے والوں کی مثال ہیں ؟وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ
اِسْمٰعِیْلَ٘-اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِترجمہ
کنز العرفان:اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا ۔ (پ 16،سورۃ
المریم، آیت نمبر 54)
(4) وعدہ کی رعایت کرنے والے؟ وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ
رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے
وعدے کی رعایت کرنے والے ہیں ۔ (پ 18،سورۃ المومنون ،آیت نمبر 8)
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپناوعدہ پورا کرنے اور
دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی
اللہ علیہ وسلم۔
محمد حنظلہ حنیف(درجہ خاصہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
انسانی معاشرے کی بنیاد اعتماد اور بھروسہ پر قائم ہوتی
ہے، اور اعتماد کی اصل جڑ وعدہ وفائی ہے۔ جب افراد، خاندان اور قومیں اپنے وعدوں کی
پاسداری کرتی ہیں تو معاشرہ مضبوط اور پُرامن بنتا ہے، اور جب وعدہ خلافی عام ہو
جائے تو بداعتمادی، جھگڑے اور انتشار جنم لیتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے وعدہ پورا کرنے
کو ایمان کی علامت اور اعلیٰ اخلاقی قدر قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ
کا واضح حکم موجود ہے:
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل 17:34)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ محض دنیاوی معاملہ نہیں
بلکہ آخرت میں اس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔ یعنی جو شخص وعدہ کرتا ہے وہ دراصل
اللہ کو گواہ بنا کر ایک ذمہ داری قبول کرتا ہے۔اسی طرح سورۃ المائدۃ میں ارشاد
ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے
کرو۔ (سورۃ المائدہ 5:1)
یہ آیت ہر قسم کے معاہدوں کو شامل ہے، چاہے وہ کاروباری
ہوں، خاندانی ہوں یا معاشرتی۔ ایک مسلمان کا قول و فعل سچا اور پکا ہونا چاہیے۔قرآنِ
مجید نے اہلِ ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد
کی رعایت کرتے ہیں۔ (سورۃ المؤمنون 23:8)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ وعدہ وفائی ایمان والوں کی نمایاں
صفت ہے۔ جو شخص اپنے وعدے کا خیال نہیں رکھتا وہ دراصل اپنے ایمان کو کمزور کرتا
ہے۔احادیثِ نبویہ میں بھی وعدہ خلافی کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
انسان سوچ سمجھ کر وعدہ کرے، کیونکہ وعدہ زبان سے نکلنے
والا ایک عہد ہے جسے پورا کرنا لازم ہے۔اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ وعدہ صرف
بڑے معاملات میں ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے روزمرہ امور میں بھی پورا کیا جائے۔
والدین اگر بچوں سے کوئی وعدہ کریں تو اسے بھی پورا کریں، کیونکہ بچوں کی تربیت میں
سچائی اور وعدہ وفائی کا عملی نمونہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسی طرح کاروباری معاملات میں
وقت کی پابندی اور طے شدہ شرائط پر قائم رہنا بھی وعدہ وفائی میں شامل ہے۔قرآن ہمیں
یہ بھی سکھاتا ہے کہ اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو معاہدہ توڑنے کے بجائے باہمی
مشورے سے مسئلہ حل کیا جائے۔ اسلام انصاف، دیانت اور وفاداری کا دین ہے۔ وعدہ پورا
کرنا دراصل اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل کی
جڑ وعدہ خلافی ہے۔ سیاست ہو یا تجارت، اگر لوگ اپنے وعدوں کے پابند ہو جائیں تو بے
شمار جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذاتی زندگی سے اس اصلاح کا
آغاز کریں۔ ہر وعدہ سوچ سمجھ کر کریں اور پھر اسے ہر حال میں پورا کریں۔
وعدہ وفائی ایک
عظیم اسلامی صفت ہے جو انسان کو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی عطا کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وعدہ کوپورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
محمد عمیر عرفان (درجہ عالیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
اسلام انسان کو اعلیٰ اخلاق سکھاتا ہے اور وعدہ وفائی
انہی صفات میں سب سے اہم صفت شمار ہوتی ہے۔ وعدہ وفائی کا مطلب یہ ہے کہ جو بات ہم
اپنے قول یا عمل سے قبول کرتے ہیں، اسے ہر حال میں پورا کریں۔ قرآنِ مجید میں اللہ
تعالیٰ نے وعدہ وفائی کی اہمیت پر زور دیا ہے اور بتایا ہے کہ وعدہ پورا کرنا نہ
صرف انسانی تعلقات کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ایمان کی نشانی بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور
عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل:
34)
آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیاہے خواہ وہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت
کرنے کا ہے۔(روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۵ / ۱۵۵، خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۷۴، ملتقطاً)
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد)
پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ: 1)
یہ حکم ہمیں سکھاتا ہے کہ وعدہ وفائی ہر مسلمان کی پہچان
ہے۔ چاہے وہ کسی دوست، رشتہ دار، یا کسی کاروباری معاملے کا وعدہ ہو، اسے پورا
کرنا ضروری ہے۔ وعدہ خلافی نہ صرف تعلقات کو خراب کرتی ہے بلکہ معاشرے میں بے
اعتمادی پیدا کرتی ہے۔
قرآنِ پاک میں اہلِ ایمان کی ایک اور صفت بھی بیان کی گئی
ہے:وَ
الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ(۸) ترجمہ
کنز الایمان: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔(سورۃ
المؤمنون: 8)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ وفائی اور امانت داری ایمان
کی علامت ہیں۔ جو شخص اپنے وعدے کا پابند نہیں، اس کا ایمان نامکمل ہے۔ حضور نبی
کریم ﷺ کی پوری زندگی وعدہ وفائی کا عملی نمونہ تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی وعدے کی
خلاف ورزی نہیں کی، چاہے وہ دشمنوں کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ہو یا دوستوں کے ساتھ کیا
گیا ہو۔ اسی وجہ سے آپ ﷺ کو صادق و امین کہا گیا۔
آج کے دور میں اکثر لوگ وقتی فائدے کے لیے وعدہ توڑ دیتے
ہیں۔ یہ رویہ معاشرے میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے وعدے کی
پاسداری کرے تو معاشرے میں سکون اور اعتماد قائم ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ وعدہ کرنے سے
پہلے سوچیں اور پھر ہر صورت اسے پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے
وعدہ پورا نہ ہو سکے تو پہلے سے اطلاع دے دیں یا معذرت کریں۔وعدہ وفائی صرف دوسروں
کے ساتھ تعلقات کے لیے ضروری نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی
ہے۔ جو انسان اپنے قول و عمل میں سچا اور دیانت دار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے
اعمال قبول فرماتا ہے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
وعدہ وفائی انسان کو عزت، احترام اور اعتماد عطا کرتی
ہے۔ یہ ایمان کی نشانی ہے اور اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے
عہد و پیمان کی حفاظت کرنے اور ہر وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اللہ تعالیٰ نےہمیں عہد کو پورا کرنے کا حکم دیتے ہوئے
ارشاد فرمایا :وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴) ترجمہ
کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔(بنی اسرائیل:34)
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ: اور عہد پورا کرو ۔ آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا
گیاہے خواہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہو یا بندوں کا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے عہد اس
کی بندگی اور اطاعت کرنے کا ہے۔( روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳، ۵ / ۱۵۵،
خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۳۴،
۳ / ۱۷۴، ملتقطاً )
اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔افسوس کہ وعدہ
پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا
قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد کرکے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد
کرکے توڑ دیتے ہیں ۔
ایک اور مقام پر
ارشاد فرمایا :وَ الْمُوْفُوْنَ
بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ترجمہ کنز الایمان: اور اپنا
قول پورا کرنے والے جب عہد کریں۔(البقرۃ:177)
اور اس آیت میں عہد سے سارے جائز وعدے مراد ہیں خواہ
اللہ تعالیٰ سے کئے ہوں یا رسول کریم ﷺ سے یا اپنے شیخ سے یا نکاح کے وقت بیوی سے یا
کسی اور سے جیسے حکمرانوں کے وعدے عوام سے، بشرطیکہ جائز وعدے ہوں ، ناجائز وعدوں
کو پورا کرنے کی اجازت نہیں۔
ایک اور مقام پر
ارشاد فرمایا :وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ
اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول
باندھو۔(النحل:91)
حضرت علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں:عہد سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے پورا کرنا انسان پر لازم ہے خواہ اسے
پورا کرنا اللہ تعالیٰ نے بندے پر لازم کیا ہو یا بندے نے خود اسے پورا کرنا اپنے
اوپر لازم کر لیا ہو جیسے پیرانِ عظام کے اپنے مریدین سے لئے ہوئے عہد کیونکہ ان میں
مریدین اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور کسی کام میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہ کرنے
کو اپنے اوپر لازم کر لیتے ہیں لہٰذا مریدین پر اسے پورا کرنا لازم ہے۔( صاوی،
النحل، تحت الآیۃ: ۹۱، ۳ / ۱۰۸۸-۱۰۸۹)
وعدہ پورا کرنے کی
فضیلت اور عہد شکنی کی مذمت:حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن عہد شکنی
کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں
کی عہد شکنی ہے۔ (بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴ / ۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
اسد بلال (درجہ رابعہ ضیاء العلوم جامعہ شمسیہ
رضویہ ،سرگودھا ،پاکستان)
وعدہ کا لغوی معنی: کسی سے کوئی بات طے
کرنا، قول و اقرار یا اچھی بری بات کا یقین دلانا ہے۔اصطلاحی طور پر وعدے سے مراد
کسی دوسرے شخص سے آنے والے وقت میں کسی کام کے کرنے، کچھ دینے یا ملنے کا پختہ
ارادہ ظاہر کرنا ہے۔
اسلام میں ایفائے عہد کی اہمیت:اسلام
ایک ایسا دین ہے جو انسان کے اخلاق کو سنوارتا ہےان اعلیٰ صفات میں سے ایک عظیم
صفت ایفائے عہد یعنی وعدہ پورا کرنا ہے۔ اسلام نے ایفائے عہد پر بہت زور دیا ہے۔ ایفائے
عہد سے معاشرے میں اعتماد، محبت اور امن پیدا ہوتا ہے جبکہ وعدہ خلافی سے نفرت اور
بداعتمادی جنم لیتی ہے۔ عہد کرنا اور توڑنا آج معاشرے کا وطیرہ بن گیا ہے۔ ہمیں ہر
حال میں اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو
سکیں۔
عہد کے متعلق پوچھا جائے گا:اللہ
تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا(۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور
عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ ( سورۃبنی اسرائیل: 34
)
افسوس ہے کہ وعدہ پورا کرنے کے معاملے میں بھی ہمارا حال
کچھ اچھا نہیں بلکہ وعدہ خلافی کرنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ لیڈر قوم سے عہد
کر کے توڑ دیتے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ (تفسیر صراط
الجنان ،جلد نمبر 5 ،صفحہ نمبر 460)
اللہ کے عہد کو پورا کرو :اللہ
تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا
ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔ (سورۃ
الانعام:152)
مذکورہ بالا آیت
میں زندگی بسر کرنے کا جو لازوال اصول بیان ہوا ہے وہ اللہ کا وعدہ پورا کرنا ہے یعنی
صرف اللہ عزوجل کے عہد پورے کرو۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کسی کے عہد پورے نہ
کرو۔ اگر تم نے غلطی سے کسی سے ناجائز عہد کر لیا تو فوراً توڑ دو مثلاً اگر کسی سے
وعدہ کیا قسم کھائی کہ اس کے ساتھ شراب پئیں گے یا چوری کریں گے تو یہ وعدہ توڑ دو
اور قسم کا کفارہ دے دو۔ آیت میں عہد اللہ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ عزوجل نے
اپنے بندوں پر لازم فرمایا یعنی وہ احکام جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
ذریعے ان کو پورا کرنے کا حکم ہے۔(تفسیر صراط الجنان ،جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 243)
اپنے عہد پورے کیا کرو:اللہ
تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد)
پورے کرو۔ (سورۃ المائدۃ:1)
مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ خواہ عہد اللہ کا ہو یا
بندوں کا اس کو ہر حال میں پورا کرنا چاہیے۔ اگر ہم وعدہ پورا کریں گے تو لوگ ہم
سے خوش ہوں گے، ہمیں اچھا سمجھیں گے، اللہ تبارک و تعالیٰ بھی ہم سے خوش ہوگا اور
اگر ہم وعدہ توڑیں گے تو لوگ ہم پر اعتماد نہیں کریں گے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر
حال میں عہد کو پورا کریں تاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔
26 جولائی کو نشتر پارک، کراچی میں عظیم
الشان ”میلاد اجتماع“ کا انعقادہوگا
عاشقانِ رسول
کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام آمدِ ربیع الاول کی مناسبت سے 26
جولائی 2026ء بروز اتوار سولجر بازار، جمشید ٹاؤن، کراچی کے تاریخی میدان نشتر
پارک میں ایک عظیم الشان ”میلاد
اجتماع“ (گراؤنڈ اجتماع) کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں شہر
بھر سے کثیر عاشقانِ رسول کی آمد متوقع ہے۔
جانشینِ امیرِ اہلِ سنت کا خصوصی بیان:
اجتماعِ پاک کی
سب سے بڑی خصوصیت بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ اہلِ سنت کے بیٹے اور ان کے جانشین مولانا
حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی کا خصوصی و
تربیت سے بھرپور بیان ہوگا جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں استقبالِ ربیع الاول،
آمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم کی خوشیاں منانے کے شرعی طریقے اور دینی و اخلاقی موضوعات پر مدنی پھول
بیان کریں گے۔
ذرائع کے
مطابق اس میلاد اجتماع میں جید علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات، دعوتِ اسلامی کی
مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین، مختلف شعبہ جات کے ذمہ داران اور دیگر عاشقانِ رسول شرکت کریں گے۔
شہر بھر سے
قافلوں کی شکل میں عاشقانِ رسول کی آمد کے لیے تنظیمی سطح پر تیاریاں کی جارہی ہیں۔اہلِ
کراچی بالخصوص قرب و جوار کے علاقوں میں
رہنے والوں کو اس اجتماع میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
امیرِ اہلِ سنت نے حاجی عبد الشکور عطاری (عرف کاکا) کی
نمازِ جنازہ پڑھائی
دعوتِ اسلامی کے پرانے اسلامی بھائی حاجی عبد
الشکور عطاری (عرف کاکا) کا گزشتہ روز قضائے الٰہی سے انتقال ہوگیا تھا (اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰجِعُوْن) جن کی نمازِ جنازہ عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، پرانی سبزی منڈی کراچی میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں
عاشقانِ رسول، دعوتِ اسلامی کے اراکینِ شوریٰ اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی ایک
بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تفصیلات کے مطابق مرحوم حاجی عبد الشکور عطاری کی
نمازِ جنازہ 10 جولائی 2026ء بروز جمعۃ المبارک بعد نمازِ جمعہ ادا کی گئی جبکہ
نمازِ جنازہ کی امامت شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت
علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے فرمائی۔
امیرِ اہلِ سنت کی تعزیت اور دعائیں:
نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے بعد امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے مرحوم کے درجات کی بلندی،
مغفرت اور جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا فرمائی۔
اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان کے ایصالِ ثواب کے لیے 3 دن کے قافلوں کا اعلان
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ
بریلوی رحمۃ
اللہ علیہ
کے ایصالِ ثواب کے لیے 3 دن کے قافلوں کا
اعلان کر دیا گیا ہے۔
ذرائع
کے مطابق یہ 3 دن کے قافلے 17، 18 اور 19 جولائی 2026ء کو اللہ پاک کی راہ میں سفر
کریں گے۔ ان 3 دنوں میں عاشقانِ رسول کو سنتیں و آداب سیکھنے کے ساتھ ساتھ علمِ
دین حاصل کرنے کا بہترین موقع حاصل ہوگا ۔
دعوتِ
اسلامی کے ذمہ داران اور تمام عاشقانِ رسول اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ
اللہ علیہ
کے ایصالِ ثواب کی نیت سے ان قافلوں میں بڑھ چڑھ کر شرکت فرمائیں جبکہ اپنے عزیز و
اقارب، دوست احباب اور پڑوسیوں کو بھی اس نیکی کی دعوت دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ
لوگ اس قافلے کا حصہ بن سکیں۔
ہفتہ
وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کل بروز ہفتہ ہوگا، امیرِ اہلِ سنت مدنی پھول عطا
فرمائیں گے
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کےتحت عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں کل بروز ہفتہ 11 جولائی 2026ء بمطابق 26 محرم
الحرام 1448ھ ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا جائے گا۔
ذرائع سے ملنے
والی معلومات کے مطابق اس علمی ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا باقاعدہ آغاز رات تقریباً
09:45 بجے تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعتِ رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ہوگا۔
مدنی مذاکرے کی خاص بات:
اس ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ خصوصی شرکت فرمائیں گے اور شائقینِ علمِ دین کے
سوالات کے علم و حکمت بھرے جوابات ارشاد فرمائیں گے۔
واضح رہےجو عاشقانِ رسول عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ
کراچی میں ذاتی طور پر حاضر نہیں ہو سکتے، اُن کے لیے اس ہفتہ وار مذاکرے کو دنیا
بھر میں مدنی چینل پر براہِ راست (Live) نشر کیا جائے گا۔
علم
دین سے عاشقانِ رسول کو آراستہ کرنے اور تصوف کی طرف میلان پیدا کرنے کے لئے شیخ
طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نےاس ہفتے 17 صفحات کا رسالہ ”احیاء العلوم سے 38 مدنی پھول
(قسط:01)“ پڑھنے/سننے کی
ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جوکوئی 17 صفحات کا رسالہ”احیاء العلوم سے 38 مدنی پھول (قسط:01)“ پڑھ
یا سن لے اُسے سنتوں کا پابند بناکر ماں باپ اور خاندان سمیت جنت الفردوس میں بے
حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین بِجاہِ خَاتَمِ
النَّبِیّٖن صلّی
اللہ علیهِ واٰلہٖ وسلّم
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت عابد عطاری، جامعۃ المدینہ کرباٹھ لاہور
کربلا
درس زندگی ہے:
اے عاشقان رسول یقیناً کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ مگر یاد
رکھیے کربلا صرف ایک سانحہ نہیں۔ سانحے تو دنیا میں بہت سے ہوئے ہیں ظلم وستم کی
بڑی بڑی داستانیں اس زمین میں قائم ہوئیں۔ مگر وہ سب مٹ گئیں آج لوگوں کے دل ودماغ
میں ان کا خیال تک موجود نہیں اگر کربلا صرف سانحہ ہوتا تو تقریباً 1 ہزار 3 سو 82
سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا لہذا
کربلا ایک سانحہ نہیں یہ درس زندگی کی ایک پوری کتاب ہے۔
واقعہ کربلا
ہمیں کامیابی کے راستے بھی بتاتا ہے ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے زندگی کے اصول بھی
سکھاتا ہے عظمت و شان سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔
یزید
کی بری عادتیں: امام
حسین رضی اللہ عنہ کے خطبے سے یزید کی جو 7 بری عادتیں معلوم ہوتی ہے ان میں سے
چند یہ ہے یزید فاسق تھا شرابی تھا ظلم تھا یزید رحمن کی اطاعت چھوڑ
کر شیطان کی پیروی کرتا تھا۔ (تاریخ طبری،
3/306 ملخصاً)
گناہوں
کی نحوست: اب
ہم اپنے کردار پر غور کریں کہ یزید فاسق ( جو اعلانیہ گناہ کرتا ہے) تھا ہم میں سے کتنے ہیں جو گناہ تو کرتے مگر
افسوس اس کا اعلان بھی کرتے ہیں، واقعہ کربلا کا درس یہ ہے کہ اصل حسینی ہونا اسی
کو کہاجاتا ہے کی ہم گناہوں سے بچیں۔ اللہ پاک ہم گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے۔ آمین
امام حسین کے
اس فرمان ”یزید رحمن کی اطاعت چھوڑتا اور شیطان کی پیروی کرتا ہے“ اگر اس پر غور
کریں تو نماز پڑھنا رحمن کی اطاعت اور نہ پڑھنا شیطان کی پیروی۔ ہم اپنا محاسبہ
کریں کیا ہم نماز پڑھتے ہم روزے رکھتے ہیں جھوٹ غیبت اور چغلی شیطان کی پیروی ہے
کیا ہم اس سے بچتے ہیں۔
دنیا
پرستی: ایک
اہم بات جو واقعہ کربلا سکھاتا ہے کہ یزید بد بخت نے میدان کربلا میں جتنا ظلم کیا
یا کروایا یہ سب اصل میں دنیا کی محبت اور لالچ کا نتیجہ تھا، ہمیں آخرت کو کثرت
سے یاد کرنا چاہئے تاکہ دل سے دنیا کی محبت نکلے اور نیکیاں کرنے کا ذہن بنے۔
اللہ
کی خفیہ تدبیر: ہمیں
اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا چاہیے کہ مختار ثقفی جس نے چن چن کر یزیدیوں کا
صفایا کیا اور محبینِ حسین کے دل جیتے مگر بعد میں نبوت کا دعویٰ کر کے مرتد ہوگیا
ہمیں اللہ پاک سے ایمان کی سلامتی کی دعا کرنی چاہیے۔
امام حسین نے حالتِ
جنگ میں بھی نماز نہ چھوڑی لہٰذا ہمیں بھی نماز کی پابندی کرنی چاہیے۔
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت ارشاد احمد،ام نور علی شاہ بخاری سیکٹر 8 ایل
کراچی
واقعہ کربلا
اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور دل سوز باب ہے جس نے حق و باطل کے فرق کو ہمیشہ کیلئے
واضح کردیا۔ واقعہ کربلا 10 محرم 61 ہجری کو میدان کربلا میں پیش آیا۔ جہاں نواسہ
رسول جگر گوشئہ بتول امام حسین رضی اللہ عنہ نے باطل کے سامنے جھکنے کے بجائے
شہادت کو قبول فرمایا۔ یہ معرکہ امام حسین اور انکے جانثار ساتھیوں کی حق پرستی،
صبر اور استقامت کی بے مثال داستان ہے۔
واقعہ کربلا
ہمیں سب سے پہلا سبق یہ دیتا ہے کہ حق کی خاطر ڈٹ جانا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب
اسلام کی حقیقی روح کو خطرہ لاحق ہو اور اس وقت کے حکمران یزید کی بیعت کا مطالبہ
کیا گیا تو امام حسین نے صاف انکار کردیا۔ انکا یہ انکار ذاتی مفاد کیلئے نہ تھا
بلکہ دین کی حفاظت کیلئے تھا۔ انہوں نے ہمیں سکھایا کہ مسلمان اپنی جان تو دے سکتا
ہے مگر حق کا سودا نہیں کرسکتا کیونکہ سچائی کی راہ میں مشکلات آتی ہیں، مگر سچا
انسان حالات کے دباؤ میں آکر اپنے اصول نہیں چھوڑتا اس لیے امام حسین نے حق کا
ساتھ دیتے ہوئے باطل کے آگے جھکنے سے انکار کردیا۔ یہ انکار دراصل پوری امت کیلئے
پیغام تھا کہ مسلمان کا سر صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہے۔
واقعہ کربلا
صبر اور استقامت کی اعلیٰ مثال بھی پیش کرتا ہے تین دن کی پیاس، شدید گرمی،بچوں کی
تکلیف اور اپنے پیاروں کی شہادت، یہ سب ایسے حالات تھے جو کسی بھی انسان کو کمزور
کرسکتے تھے لیکن امام حسین نے ہر حال میں رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھا اور صبر کا دامن
نہ چھوڑا اس سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ آزمائشیں ایمان کو مضبوط بنانے کیلئے آتی
ہیں اور سچا مومن مشکلات میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔
واقعہ کربلا
کا نہایت اہم پہلو پردہ دار پاک بیبیوں کا کردار ہے کہ میدان کربلا میں جہاں مردوں
نے شجاعت اور قربانی کی مثال قائم کی، وہیں خواتین نے حیا، صبر، استقامت کی عظیم
تاریخ رقم کی بالخصوص حضرت زینب بنت علی نے جس صبر، وقار اور حوصلے کا مظاہرہ کیا
وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا سخت ترین حالات میں بھی انہوں نے اپنی عزت، اپنی
غیرت اور اپنے پردے کی حفاظت کی اور دشمنوں کے دربار میں کھڑے ہوکر کلمۂ حق بلند
کیا۔
یہ خواتین دین
کی محافظ تھیں انہوں نے مصائب برداشت کیے، قید و بند کی صعوبتیں(مشکلات)جھیلیں،
مگر اپنے کردار اور حیاء پر آنچ نہ آنے دی۔ انکا یہ طرز عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ
پردہ صرف لباس کا نام نہیں بلکہ ایمان اور کردار کا نام ہے آج کی مسلمان عورت اگر
ان پاک بیبیوں کی سیرت کو اپنالے تو وہ ہر میدان میں باوقار و باعزت رہ سکتی ہے۔
واقعہ کربلا
ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ اصل کامیابی دنیوی طاقت یا ظاہری فتح میں نہیں
ہے بلکہ سچائی پر قائم رہنے میں ہے بظاہر امام حسین اور انکے ساتھی شہید ہوگئے مگر
حقیقت میں وہی کامیاب ٹھہرے کیونکہ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے اور انکو آج بھی
دنیا محبت کے ساتھ یاد کرتی ہے اور انکا تذکرہ ادب سے کیا جاتا ہے جبکہ ظلم کا نام
نفرت سے لیا جاتا ہے۔ امام حسین رضی اللّٰہ عنہ اور انکے ساتھیوں کی قربانی نے
اسلام کو نئی زندگی عطا کی اور امت کو بیداری کا درس دیا۔
الغرض واقعۂ
کربلا ہمیں ایمان، صبر، قربانی، وفاداری اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتا ہے
اگر ہم اپنی زندگیوں میں ان اصولوں کو اپنالیں، سچ کا ساتھ دیں اور ظلم کے خلاف ڈٹ
جائیں تو یہی کربلا کا حقیقی پیغام ہے، امام حسین کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے
اور انکی قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
قتل
حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام
زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
Dawateislami