واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت اختر، جامعۃ المدینہ نواں پنڈ آرائیاں سیالکوٹ
واقعۂ کربلا
اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور سبق آموز واقعہ ہے جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ
عنہ اور ان کے جانثار ساتھیوں نے دین اسلام کی بقا کے لئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔
یہ واقعہ ہمیں صبر، حق پر استقامت اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔
قرآن پاک میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ
الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ 15، بنی
اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی
تھا۔
امام حسین رضی
اللہ عنہ نے اسی قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے
حق کا ساتھ دیا۔ آپ نے ظلم و جبر کو قبول نہ کیا بلکہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی
قربانی دے کر دین کو زندہ کر دیا۔
نبی کریم ﷺ نے
اہل بیت سے محبت کی تاکید فرمائی ہے۔ حدیث پاک میں ہے: حسین مجھ سے ہے اور میں
حسین سے ہوں۔ اللہ اس سے محبت فرمائے جو حسین سے محبت کرے۔(ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)
یہ حدیث حضرت
امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقام اور ان سے محبت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ واقعۂ
کربلا ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دین کی خاطر قربانی دینا سب سے بڑی سعادت ہے۔
کربلا کا سب
سے بڑا سبق صبر اور استقامت ہے۔ شدید پیاس، بھوک اور مشکلات کے باوجود امام حسین
رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ قرآن پاک میں ارشاد
ہوتا ہے: بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرہ، آیت 153)
یہ واقعہ ہمیں
یہ بھی سکھاتا ہے کہ ظاہری طاقت اہم نہیں بلکہ حق پر قائم رہنا اصل کامیابی ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے کم تعداد کے باوجود باطل کے سامنے جھکنے سے انکار کیا
اور قیامت تک کے لئے حق و باطل کا معیار قائم کر دیا۔
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت محمد عمران، جامعۃ المدینہ میانہ پورہ سیالکوٹ
واقعہ کربلا
ایک ایسا واقعہ ہے جس نے تاریخ اسلام کو ایک نئی سمت دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف امام
حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ ہے، بلکہ یہ ایک ایمان افروز واقعہ ہے جس سے
ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
قرآن مجید میں
اللہ پاک فرماتا ہے: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ
اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴) (پ 2، البقرۃ:
154) ترجمہ: اور جو لوگ اللہ کے راستے میں شہید کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو،
بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں۔ اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ شہید زندہ ہوتے
ہیں اور اللہ کے ہاں ان کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔
حضورﷺ نے بھی
امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیشین گوئی کی تھی۔ ایک حدیث میں آپﷺ نے
فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ (ترمذی، 5/429، حدیث: 3800)
واقعہ کربلا
سے ہم نے کچھ سبق سیکھے ہیں:
1۔
حق پرستی: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف حق کے لیے لڑا اور اپنی جان قربان کر دی۔
2۔
صبر و استقامت: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں بہت صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔
3۔
قربانی: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کی قربانی دی۔
4۔
ایمان کی حفاظت: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔
الغرض امام
حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے مسلمانوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے ظلم کے
خلاف آواز اٹھائی اور اپنی جان قربان کر دی۔ ہم کو بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے
اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔
واقعہ کربلا
سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کیا کر سکتے
ہیں۔
اللہ ہمیں
واقع کربلا سے سبق سیکھنے کی توفیق دے۔ آمین
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت طاہر حسین،جامعۃ المدینہ معراج کے سیالکوٹ
واقعہ کربلا
اسلامی تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے جس کے اندر کئی درس پنہاں ہیں۔ یہ محض ایک حق و
باطل کا معرکہ ہی نہیں بلکہ انسانیت لیے
ایک بہت بڑی مثال ہے کہ حق اور انصاف پر ثابت قدمی کس حد تک اختیار کی جاسکتی ہے
کربلا
درس زندگی ہے: یقیناً
کربلا نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، مگر یاد رکھئے! کربلا صرف ایک
سانحہ نہیں، سانحے دنیا میں بہت ہوئے ہیں
مگر آج لوگوں کے دل و دماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں، اگر کربلا بھی صرف ایک سانحہ ہوتا تو اتنا زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود
اسے ذہنوں میں یوں تازہ نہ رکھا جاتا، لہٰذا کربلا صرف ایک سانحہ نہیں، یہ درس زندگی کی پوری ایک کتاب بھی ہے،
واقعۂ کربلا ہمیں کامیابی کے راستے بھی
بتاتا ہے، ترقی کے زینے بھی بتاتا ہے، زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے اور عظمت و شان
سے جینے کا درس بھی دیتا ہے۔
واقعہ کربلا
سے ہم نے کیا سیکھا؟ اس کے متعلق چند نکات پیش کئے گئے جاتے:
یزیدی
کردار سے بچیں: امام
حسین رضی اللہ عنہ نے اتنی بڑی قربانی
کیوں پیش کی؟ یقیناً آپ کو تاج و تخت و حکومت سے کوئی سروکار نہیں تھا، آپ تو
جنّتی نوجوانوں کے سردار ہیں، آپ کو دنیا کی عارضی حکومت کی حرص بھلا کیسے ہو سکتی
تھی؟ مگر امام حسین رضی اللہ عنہ آخر یزید کی بیعت کیوں نہیں کرتے تھے؟ اس کی
وجہ یہ ہے کہ آپ کو یزید کی ذات سے اختلاف
نہیں تھا، آپ کو یزید کے کردار سے اختلاف تھا۔ اگر یزید کا کردار ستھرا ہوتا
اور وہ قرآن و سنّت کا پیروکار ہوتا تو
امام حسین رضی اللہ عنہ ہر گز اس کی بیعت
سے انکار نہ فرماتے مگر اس بدبخت کاکردار اچھا نہیں تھا، اب ذرا غور فرمائیے! جب
امام حسین رضی اللہ عنہ یزید کے برے کردار
سے خوش نہ ہوئے تو اگر وہی کردار ہمارا بھی ہو، جو عادتیں یزید کی تھیں، ویسی ہی
عادتیں ہماری بھی ہوں، جیسا گندا اخلاق یزید کا تھا، ویسا ہی ہمارا بھی ہو تو کیا
امام حسین رضی اللہ عنہ ہم سے خوش ہو
جائیں گے؟
صبر
کی اعلی مثال: واقعہ
کربلا کا سب سے اہم درس صبر ہے کہ آلِ رسول نے دین اسلام کی سربلندی کے لیے صبر کی
عظیم مثال پیش کی جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ یہاں ہمیں غور کرنا چاہیے کہ
ہم زندگی میں پیش آنے والے معاملات میں کس حد تک صبر سے کام لیتے ہیں اور بالخصوص
اسلام کی سربلندی کے راستے میں آنے والی آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں یا ہمت ہار جاتے
ہیں، یاد رہے کہ دین حق کی سربلندی کے لئے آزمائشوں پر صبر کا دامن نہ چھوڑنا ہی
سنت حسینی ہے۔
امیر اہل سنت
دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
پیارے
مبلغ ! معمولی سی مشکل پر گھبراتا ہے
دیکھ حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا
حق
و باطل میں فرق: واقعہ
کربلا سے حق و باطل میں فرق واضح ہو گیا ہے کہ باطل مٹنے کے لیے ہی ہے اگرچہ
دنیاوی قوت زیادہ رکھتا ہو مگر حقیقی
کامیابی حق پسند انسان کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ
وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا(۸۱) (پ
15، بنی اسرائیل: 81) ترجمہ: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو
مٹنا ہی تھا۔
یہ واقعہ
سکھاتا ہے کہ حق کی راہ میں جان دینی بھی پڑ جائے اس کے باوجود باطل کے سامنے
جھکنا نہیں ہے۔
حیا
کا درس: اسلام
میں پردے اور حیا کی کس قدر اہمیت ہے یہ بھی ہمیں واقعہ کربلا میں دیکھنے کو ملتی
ہے کہ آلِ رسول کی شہزادیوں نے نہایت ظلم و ستم کے باوجود بھی حیا اور پردے کو نہ
چھوڑا اور ان کٹھن حالات میں بھی صبر کے دامن کو تھامے رکھا
تو سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا پردہ اور
حیا کرتی ہیں جیسا کربلا میں دیکھنی کو ملی؟
حضور ﷺ نے
ارشاد فرمایا: بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں تو جب ایک اٹھ جاتا ہے تو
دوسرا بھی اٹھالیا جاتا ہے۔ (مستدرک، 1/176،حدیث:66)
پیاری اسلامی
بہنو! غور کیجیے کہ اسلام میں شرم و حیا کی کتنی اہمیت ہے! آج اسلام کے دشمنوں کی
یہی سازش ہے کہ مسلمانوں سےحیا کی چادر کھینچ لی جائے کہ جب حیا ہی نہ رہے گی تو
ایمان خود ہی رخصت ہو جائے گا یعنی جس میں جتنا ایمان زیادہ ہوگا اتنی ہی وہ شرم و
حیا والی ہوگی جبکہ جس کا ایمان جتنا کمزور ہوگا شرم و حیا بھی اس میں اتنی ہی
کمزور ہوگی۔
لہذا ہمیں
چاہیے کہ ہم واقعہ کربلا کی یاد محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ جو سبق ہمیں کربلا
سے سیکھنے کو ملے انہیں اپنی زندگی میں عملی طور پر بھی نافذ کریں۔
واقعہ
کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟ از بنت ایاز خان، فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
تاریخ اسلام
کا ایک اہم ترین معرکہ کربلا ہے یہ معرکہ حق اور باطل کے درمیان تھا اہل کوفہ نے
نواسہ رسول امام حسین کو خطوط وقاصد بھیج کر دھوکہ سے بلایا اور یزید منافق کی
بیعت کرنے پر مجبور کیا امام حسین نے بیعت کرنے سے انکار کیا تو یزیدی لشکر نے آپ
پر آپ کے اہل خانہ اور جانثار وں پر ظلم وستم کرنا شروع کر دیا اور انہیں شہید کر
دیا۔
ہر محرم
الحرام میں تمام مسلمان سیدنا امام حسین کی شہادت پر اپنے قلبی رنج کا اظہار کرتے
ہیں مگر ان غمزدگان میں بہت کم لوگ اس جانب، اس مقصد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی
خاطر امام حسین نے اتنی بڑی قربانی دی۔ ہمارے لیے اس مقصد کو جاننا بہت ہی ضروری
ہے جس کی خاطر نواسہ رسول امام حسین نے اپنا پورا خاندان قربان کردیا۔
آئیے مختصراً
جانتے ہیں کہ واقعہ کربلا سے ہم نے کیا سیکھا:
1۔ واقعہ
کربلا سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ دین سے محبت رکھنے والا دین کی بقا وسلامتی کی
خاطر اپنے کسی بھی عزیز سے عزیز متاع کو بھی اللہ کی راہ میں لٹا اور مٹا دینے سے
گریز نہیں کرتا۔
2۔ خدمت دین
اور دعوت دین میں کبھی بھی پس وپیش کا شکار نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب بھی موقع میسر
ہو دین کے نام پر چل پڑنا اور دین کی سربلندی کے لیے ہر جائز کوشش کرنی چاہئے۔
3۔ دین کی
حفاظت کے لیے اپنی محبوب چیز یں، گھر بار بلکہ اپنی جان بھی راہ خدا میں نذرانہ
کرنا پڑے تو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔
4۔ اگر دنیا
کی اس عارضی زندگی میں مصیبتوں اور تکلیفوں کے تاریک بادل بھی چھا جائے تب بھی حکم
خدا وند ی سے غفلت نہیں برتنی چاہیے بلکہ ہر حال میں حکم الٰہی بجا لانا چاہیے۔
5۔ نماز کی
پابندی کرنی چاہیے ہر حال میں اپنے رب کے اگئے سجدہ ریز ہو نا چاہیے کہ امام حسین
نے جنگ کے حالات میں جب ہر طرف تلواریں تھی تنے تنہا میدان میں تھے نماز کا وقت
ہوا تو اپنے رب کے اگئے حاضر ہو گئے اور سجدے میں سر کٹا دیا۔ سبحان اللہ
6۔ واقعہ
کربلا ہمیں درس دیتا ہے کہ جو بھی وعدہ کرو اسے پورا کرو اس پر مکمل عمل کرو۔
7۔ اسلام
وایمان کی عظیم نعمت پاکر جھوٹ، غیبت، دھوکہ وفریب، ظلم اور حقوق اللہ حقوق العباد
کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
8۔ دین اسلام
ایک پر امن دین ہے اس لیے کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
9۔ مسلمان کا
شیوہ محبت قرآن اور عادت تلاوت قرآن ہے امام حسین نے نیزے پر قرآن پڑھا واہ کیا
محبت ہے قرآن سے۔
اللہ کریم
ہمیں اہل بیت کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں اہل بیت کا خوب خوب فیضان عطا فرمائے
اور ہمیں واقعہ کربلا کے حقیقی مقصد کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آج رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری مدنی چینل پر
ہفتہ وار اجتماع میں بیان فرمائیں گے
ہفتہ
وار سنتوں بھرے اجتماعات
اراکینِ
شوریٰ و مبلغینِ دعوتِ اسلامی کے بیانات
دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام
آج مؤرخہ 09جولائی 2026ء بروز جمعرات عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت ملک
و بیرون ملک کے مدنی مراکز و مساجد میں ہفتہ
وار سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوگا ۔اجتماع کا باقاعدہ آغاز ہمیشہ کی طرح تلاوتِ
کلامِ پاک سے کیاجائے گا۔ اس کے بعد نعت خواں حضرات بارگاہ رسالت مآب صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیۂ نعت پیش کریں گے۔ تلاوت
و نعت کے بعد اراکین شوریٰ و مبلغین دعوتِ اسلامی حسن اخلاق، والدین کے حقوق، نماز
کی اہمیت، معاشرے کی اصلاح اور دیگر اہم موضوعات پر سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق آج رات
مدنی چینل پر براہِ راست (Live)
نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ حاجی وقار المدینہ عطاری ،
روز محل مارکی نزد شیل پٹرول پمپ گوجر خان پنجاب سے سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس کے علاوہ مدنی مرکز فیضان مدینہ مانگامنڈی ملتان روڈٹاؤن میں
رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ بیراج روڈ سکھر میں رکن
شوریٰ حاجی محمد علی عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن حیدر آباد
میں رکن شوریٰ حاجی محمد امین عطاری، جامع مسجد حسن مہتاب، چرڈ ڈیفنس لاہور
میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، جامع مسجد نور شاہ پور صدر ضلع
سرگودھا میں رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عقیل عطاری مدنی، الوَدود پیلس نزد زرعی ترقیاتی بینک خانقاہ ڈوگراں ضلع
شیخوپورہ میں رکن شوریٰ حاجی محمد اظہر عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ ٹندو
الہ یار میں رکن شوریٰ حاجی قاری ایاز
عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ شاہ رکن عالم کالونی ملتان میں رکن شوریٰ عبد
الوہاب عطاری، محمد علی جامع مسجد،
چوموہانی انوارہ چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد المبین
عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
تمام عاشقانِ رسول سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے
کی درخواست ہے۔
جامع مسجد الحبیب، مصریال روڈ، کینٹ ٹاؤن
راولپنڈی میں ”غسل میت و کفن کورس“ منعقد
راولپنڈی، پنجاب 5 جولائی 2026ء :
شعبہ کفن دفن دعوتِ اسلامی کے تحت راولپنڈی،
پنجاب کی جامع مسجد الحبیب، مصریال روڈ، کینٹ ٹاؤن میں ”غسل میت و کفن کورس“
منعقد ہوا جس میں مقامی اسلامی بھائیوں کی
شرکت ہوئی۔ اس تربیتی پروگرام کا انعقاد شعبہ کفن دفن کے صوبائی ذمہ دار، مزمّل
عطاری مدنی اور نوید مدنی نے کیا۔
کورس کی ابتدا میں صوبائی ذمہ دار مولانا مزمل عطاری مدنی اور
مولانا نوید عطاری مدنی نے اسلامی بھائیوں کو غسل میت کے شرعی اصولوں، احتیاطی
تدابیر اور سنت کے مطابق غسل ادا کرنے کے سات مراحل کے بارے میں بتایا۔
اس کے علاوہ ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اسلامی
بھائیوں کو بتایا کہ تختۂ غسل پر بے تحاشہ پانی نہ بہایا جائے اور غسل دیتے وقت
پانی مستعمل نہ ہو نیز اس کی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
اسی طرح ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے حدیث پاک کی
روشنی میں غسلِ میت کی فضیلت اور شرعی حکم کے حوالے سے اسلامی بھائیوں کو آگاہ کیا
ساتھ ہی بتایا کہ غسلِ میت میں کون سے امور ضروری ہیں۔
کور س کے دوران عوام الناس میں پائی جانے والی
غلطیوں سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ صحیح طریقہ اپنایا جا سکے اور دوسروں کو بھی
رہنمائی فراہم کی جائے۔ اسلامی بھائیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئےعملی طور پر
غسل میت کا طریقہ سکھایا گیا اور دوسروں کو یہ عمل سکھانے کی ترغیب دلائی گئی۔
راولپنڈی سٹی چک لالہ ٹاؤن میں دینی پروگرام
بنام ”غسل میت و کفن کورس“ کا انعقاد
راولپنڈی، پنجاب 4 جولائی 2026ء :
راولپنڈی شہر، پنجاب کے ٹاؤن چک لالہ میں شعبہ
کفن دفن دعوتِ اسلامی کے تحت 4 جولائی
2026ء کو ایک دینی پروگرام بنام ”غسل میت
و کفن کورس“ منعقد کیا گیا جس میں مقامی اسلامی بھائیوں نے بھرپور شرکت کی۔
اس پروگرام میں صوبائی ذمہ دار مولانا مزمل
عطاری مدنی اور مولانا نوید عطاری مدنی نے اسلامی بھائیوں کو غسل میت کے شرعی
اصولوں، احتیاطی تدابیر اور سنت کے مطابق غسل ادا کرنے کے سات مراحل سے آگاہ کیا۔
اس کے
علاوہ انہوں نے بتایا کہ غسل کے دوران بے تحاشہ پانی نہ بہایا جائے، پانی مستعمل
نہ ہو اور غسل دینے کی فضیلت کے حوالے سے
حدیث پاک بیان کی نیز عوام الناس میں پائی
جانے والی غلطیوں سے بھی آگاہ کیا گیا تاکہ وہ صحیح طریقہ اپنائیں اور دوسروں کی
بھی رہنمائی کریں۔
اسلامی بھائیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ذمہ
داران نے عملی طور پر غسل میت کا طریقہ سکھایا اور دوسروں کو بھی یہ عمل سکھانے کی
ترغیب دلائی۔
اسلام آباد، 4 تا 5 جولائی 2026ء :
شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز دعوتِ اسلامی
کے تحت 4 تا 5 جولائی 2026ء کو پاکستان کے شفٹ ناظمین (شفٹ
ناظمین،برانچ ناظمین اور ڈویژن ذمہ داران) کے
لیے 2 دن کا سنتوں بھرا اجتماع مدنی مرکز فیضان
مدینہ، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
معلومات کے مطابق سنتوں بھرے اجتماع کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
سے ہوا جبکہ اجتماع میں شعبے کے اہم ذمہ داران اور اراکینِ شعبہ موجو تھے۔
اجتماع میں خصوصی طور پر رکن شعبہ مولانا محمد
علی ہاشمی عطاری مدنی، رکن شعبہ مولانا عرفان عطاری مدنی، رکن شعبہ محمد یونس عطاری
اور صوبائی ذمہ دار پنجاب مولانا عامر سلیم عطاری مدنی نے شرکت کی۔
مختلف
اہم موضوعات پر حاضرین کی تربیت و رہنمائی
کی گئی جن میں ”کامیابی کے قرآنی اصول“، ”تنقیدی سوچ کا انسانی زندگی پر
اثر“، ”شعبے میں استعمال ہونے والے آئی ٹی ٹولز“ اور ”برانچز میں
صفائی کے نظام میں بہتری کے طریقے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں صفائی کی اہمیت“
موضوعات شامل تھے۔
شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز کا ماہانہ مدنی
مشورہ اسلام آباد میں منعقد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، 4 جولائی 2026ء :
شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز کا ماہانہ مدنی
مشورہ دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ اسلام آباد میں 4 جولائی 2026ء کو
منعقد کیا گیا جس میں شعبے کے اراکین نے شرکت کی۔
اس ماہانہ مدنی مشورے کی ابتدا میں نگرانِ شعبہ
مولانا سید غلام الیاس عطاری مدنی نے اراکینِ شعبہ کو اپنی تنظیم اور اطراف کے
لوگوں کے لیے نفع مند بننے کی ترغیب دلائی۔
نگرانِ شعبہ نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر
بنانے، کامیابی سے مہارت اور مہارت سے قیادت تک کا سفر طے کرنے کے موضوع پر اراکینِ
شعبہ کی رہنمائی کی ۔(رپورٹ: مبارک
علی عطاری رکن شعبہ فیضان آن لائن اکیڈکی گرلز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
فیضانِ مدینہ ،حیدر آباد میں قافلہ ٹریننگ سیشن،
عاشقانِ رسول کی تنظیمی و اخلاقی رہنمائی
حیدر آباد، سندھ 5 اور 6 جولائی 2026ء :
سندھ کے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ آفندی ٹاؤن، حیدرآباد
میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ قافلہ کے تحت 12 ماہ کے قافلے میں سفر کرنے والے کم و
بیش 250 عاشقانِ رسول کے لیے تین دن کا
ٹریننگ سیشن منعقد کیا گیا۔ اس ٹریننگ
پروگرام میں شرکا کو تنظیمی امور، اخلاقی ذمہ داریوں اور دینی خدمات کے حوالے سے رہنمائی
فراہم کی گئی۔
ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق اس پروگرام
میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین حاجی محمد علی عطاری، حاجی محمد فاروق جیلانی عطاری اور حاجی قاری ایاز
عطاری کے علاوہ پاکستان سطح کے ذمہ دار
مولانا شاکر عطاری مدنی نےعاشقانِ رسول کی رہنمائی کی۔
ٹریننگ
کے دوران اراکینِ شوریٰ اور پاکستان سطح کے ذمہ دار نے عاشقانِ رسول کو تنظیمی نظم
و ضبط، اخلاقی کردار اور علاقائی دینی کاموں میں بھرپور حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔اس
ٹریننگ سیشن کا مقصد عاشقانِ رسول میں دینی جذبہ بیدار کرنا، تنظیم سازی کی اہمیت
اجاگر کرنا اور انہیں بھر پور قافلے سفر کے لیے تیار کرنا تھا۔
بعدازاں عاشقانِ رسول سندھ اور کراچی کے مختلف
شہروں میں قافلوں کے ساتھ روانہ ہوئے تاکہ اپنی دینی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں
انجام دے سکیں اور علاقائی سطح پر دینی کاموں کو فروغ دے سکیں۔(رپورٹ: شعبہ قافلہ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
فیصل آباد میں کنز المدارس بورڈ کے طلبہ کا تحقیقی
مرحلے کا انعقاد، علمی سفر کی جانب اہم قدم
فیصل آباد، 4 جولائی 2026ء :
کنز المدارس بورڈ (دعوتِ
اسلامی) کے تحت تخصصات کے طلبۂ کرام کے تحقیقی مراحل
جاری ہیں، جن کے ذریعے انہیں دینی و علمی موضوعات پر منظم انداز میں تحقیق کرنے کی
تربیت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں ریسرچ کونسل کے
سامنے خطۂ تحقیق پیش کرنے کا مرحلہ بھی منعقد ہوا۔
تفصیلی معلومات کے مطابق 4 جولائی 2026ء کو فیصل
آباد، پنجاب میں منعقدہ اہم سیشن کے دوران کنز المدارس سے ملحق جامعات کے طلبۂ
کرام نے اپنے منتخب کردہ تحقیقی موضوعات اور تیار کردہ خطۂ تحقیق کو ریسرچ کونسل کے سامنے پیش کیا۔
طلبہ نے
اپنے مقالاجات کے حوالےسے بریفنگ دی جبکہ ریسرچ کونسل نے موضوع، تحقیق کا دائرۂ
کار، مواد کی ترتیب اور تحقیقی انداز کا تفصیلی جائزہ لیا۔
یہ مرحلہ طلبہ کے علمی سفر میں ایک اہم قدم ہے،
جہاں انہیں اپنے تحقیقی کام کو بہتر، منظم اور اعلیٰ معیار کے مطابق آگے بڑھانے کا
موقع ملتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو تحقیقی میدان میں عملی تجربہ فراہم کرنا
اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں دینی و علمی خدمات انجام دے
سکیں۔(رپورٹ: سیّد ذیشان حسین بخاری
عطاری، ہیڈ آف سوشل میڈیا ڈیپارٹمنٹ کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
محمد
غفران رضا عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ خان پور،پاکستان )
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانی
زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے، مگر اس کی صحیح سمجھ اور عملی صورت
احادیثِ نبویہ کے بغیر ممکن نہیں۔ شریعت کے بہت سے احکام قرآن میں اجمالی طور پر بیان
ہوئے ہیں جن کی تفصیل ہمیں حدیث سے حاصل ہوتی ہے۔جیسےنماز کی مثال:ارشادِ باری
تعالیٰ ہے: اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ ترجمہ
کنز العرفان:اور نماز قائم رکھو ۔(البقرۃ:43)
لیکن نماز کی حقیقت، اس کا طریقہ، ارکان اور شرائط ہمیں
رسول اللہ ﷺ کی سنت اور احادیث کے ذریعے ہی معلوم ہوتی ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ
حدیث کے بغیر قرآن پر عمل ممکن نہیں۔
قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا
ہے:
وَ
مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ترجمہ
کنز العرفان:اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں
تو تم باز رہو۔(سورۃ الحشر، آیت: 7)
یہ آیت صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ رسول
اللہ ﷺ کا کسی چیز کا حکم دینا اور کسی چیز سے منع کرنا ضروری ہیں، اور یہی حدیث کی
شرعی حیثیت کی بنیاد ہے۔
مزید اللہ تعالیٰ نے میں ارشاد فرمایا: وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ
الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ
یُّوْحٰىۙ(۴) ترجمہ
کنزالعرفان: اور وہ کوئی بات خواہش سے نہیں کہتے۔ وہ وحی ہی ہوتی ہے جو انہیں کی
جاتی ہے۔ (سورۃ النجم، آیات: 3 اور 4 )
یہ آیت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ شریعت کے
معاملے میں اپنی خواہش سے کوئی بات نہیں فرماتے بلکہ آپ ﷺ کی رہنمائی وحی پر ہوتی
ہے۔
اسی طرح اطاعتِ رسول کو اطاعتِ الٰہی قرار دیا گیا: میں
ارشاد فرماتا ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ
اللّٰهَۚ ترجمہ کنز العرفان:جس نے رسول کا حکم مانا بیشک اس نے
اللہ کا حکم مانا ۔(سورۃ النساء، آیت: 80)
مطالعہ حدیث کی ضرورت اس لیے بھی تسلیم ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت قرار دیا ہے۔ حدیث کے بغیر نہ تو قرآن کے مفا ہیم
تک رسائی ممکن ہے اور نہ ہی دین کے عملی تقاضوں کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، ایک
مسلمان کے لیے کامل ہدایت اور رضائے الٰہی کا حصول تب ہی ممکن ہے جب وہ قرآنِ مجید
کو حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں سمجھے اور اپنی زندگی کے ہر شعبے میں سنتِ نبوی ﷺ کو
مشعلِ راہ بنائے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو انسان کو گمراہی سے بچا کر صراطِ مستقیم
پر گامزن رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حدیث سے شوق و محبت نصیب کرے آمین۔
Dawateislami