محمد
ذیشان عطاری(درجہ ثالثہ جامعۃالمدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
اخلاص اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک نہایت اہم صفت
ہے۔اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعمال، عبادت، اور نیک کام صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے ، نہ کہ دکھاوے کے لیے اخلاص کے بغیر اعمال کی اہمیت
کم ہو جاتی ہے جبکہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا ایک چھوٹا سا نیک عمل بھی اللہ کے نزدیک
بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے ۔
(1)فَادْعُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(۱۴) ترجمہ کنز العرفان:تو اللہ کی بندگی
کرو،خالص اسی کے بندے بن کر ،اگرچہ کافروں کو ناپسند ہو۔(المؤمن:14)
تفسیر
صراط الجنان:اس آیت سے یہ
معلوم ہوا کہ جو بھی نیک عمل کیا جائے اس میں ریا کاری اور لوگوں کو دکھانا مقصود
نہ ہو بلکہ وہ خالص اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا جائے کیونکہ اللہ تعالی
پاک ہے اور وہ ریا، دکھاوے وغیرہ سے پاک عمل ہی قبول کرتا ہے۔
(2) وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ
الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ۔(البینہ:5)
تفسیر صراط الجنان:ان باتوں میں سے ایک بات یہ پتا چلی
کہ وہی عمل مقبول ہے جس میں خالص اللہ تعالٰی کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ
تعالی تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور
تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔(مسلم، كتاب
البر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم و خزلہ الخ ص ۱۳۸۷، الحدیث ۳۴ (۲۵۶۴)
اِخلاص
کے ساتھ تھوڑا عمل بھی کافی: حضورنبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:اِخلاص
کے ساتھ عمل کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔(نجات دلانے والے
اعمال کی معلومات،صفحہ۲۶)
حضرت سیدنا
جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں: ’’اِخلاص اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، اسے فرشتہ نہ جانے کہ لکھ لے اور شیطان بھی
نہ جانے کہ خرابی پیدا کرے اور خواہش نفس کو بھی اس کا علم نہ ہو کہ اسے اپنی طرف
مائل کرے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ روحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اَعمال میں خالص کون ہے؟‘‘
فرمایا: جو اللہ عَزَّ َجَلَّ کے لیے عمل کرتا ہےاور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی
اس کی تعریف کرے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،صفحہ ۳۳)
آخر میں
یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابلِ قبول
نہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ہمیں اپنی نیت کو ہر وقت خالص رکھنا چاہیے۔اگر
مسلمان اپنے قول و فعل میں اخلاص اختیار کریں تو ان کی عبادات بھی سنور جائیں اور
معاشرہ بھی اصلاح کی راہ پر گامزن ہو جائے۔اللہ
تعالیٰ ہمیں خالص نیت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائےـ آمین
Dawateislami