اخلاص دینِ اسلام کی ایک نہایت اہم صفت ہے جس پر اعمال کی
قبولیت کا دارومدار ہے۔ اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد نیت پر رکھی گئی ہے، اور جب
نیت خالص ہو تو عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک مقبول ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم اور
احادیثِ مبارکہ میں بارہا اخلاص کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے
کہ بغیر اخلاص کے عبادات اور نیک اعمال بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے دینِ اسلام
میں اخلاص کو بنیادی مقام حاصل ہے۔
اخلاص کی تعریف:کسی بھی نیک عمل میں محض
رضائے الٰہی حاصل کرنے کا اِرادہ کرنا اِخلاص کہلاتا ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ
حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ
الْقَیِّمَةِؕ(۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور ان لوگو ں کو تو یہی حکم ہوا کہ
اللہ کی بندگی کریں نِرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہو کر اور نماز قائم کریں
اور زکوٰۃ دیں اور یہ سیدھا دین ہے۔ (پ۳۰،
البینہ: ۵)
حضورنبی کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَالتَّسْلِیْم
نے حضرت مُعاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: اِخلاص کے ساتھ عمل
کرو کہ اِخلاص کے ساتھ تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہے۔ (نجات دلانے والے اعمال کی
معلومات،صفحہ۲۶)
حضور نبی ٔپاک، ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’ اعمال کا دارومدار نیتوں
پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے تو جس کی ہجرت اللہ عَزَّ
وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف
ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے لئے ہے اور جس کی ہجرت دنیا پانے یا کسی عورت سے نکاح
کرنے کے لئے ہوگی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ ‘‘(صحیح
البخاری ، کتاب الایمان، باب ماجاء ان الاعمال)
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’
مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کرتے ہوئے جب ایک بیابان علاقے میں پہنچے گا تو اس گروہ
کے اگلے پچھلے لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم! ان کے اگلوں ، پچھلوں کو زمین میں کیسے دھنسایاجائے گا حالانکہ ان کے
ساتھ ان کے مویشی اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے ؟ ‘‘ دافِعِ
رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کے اولین وآخرین کو زمین
میں دھنسا دیا جائے گا پھر انہیں ان کی نیتوں پر اُٹھایا جائے گا۔ ‘‘ (صحیح البخاری
،کتاب البیوع، باب ماذکر فی الاسواق،الحدیث:)
رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال ﷺ کی بارگاہ اقدس میں ایسے لوگوں
کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بہادری جتلانے، حمیت اور ریاکاری کے لئے جہاد کرتے
ہیں کہ ان میں سے کون راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے؟ ‘‘ تو خاتَمُ
الْمُرْسَلین ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جو اللہ
عَزَّ وَجَلَّ کے دین کی سر بلندی کے لئے لڑے وہ مجاہد فی سبیل اللہ ہے۔ ‘‘ ایک
نسخہ میں ہے : ’’ وہی راہ خدا عَزَّ وَجَلَّ کا مجاہد ہے۔(صحیح مسلم ،کتاب الامارۃ
،باب من قاتل لتکون کلمۃ اللہ)
اخلاص یہ ہے کہ خود
اخلاص پر نظر نہ رہے کیونکہ جو شخص اپنے اخلاص میں اخلاص کو دیکھتا ہے تو اس کا
اخلاص، اخلاص کا محتاج ہو تا ہے۔ (لباب الاحیاء، فصل فی الاخلاص)
Dawateislami