حنظلہ
نورانی (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ
ساتھ اس کے باطن کی بھی اصلاح کرتا ہے۔ اسلام میں ہر نیک عمل کی بنیاد اخلاص ہے۔
اخلاص کے بغیر عبادات محض رسمی حرکات بن جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی
کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اعمال صرف اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے، نہ دکھاوے کے لیے اور نہ ہی دنیاوی فائدے کے لیے۔
اخلاص عربی زبان کے لفظ خلص سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک
کرنا۔ شریعت کی اصطلاح میں اخلاص یہ ہے کہ انسان اپنے قول، فعل اور نیت کو خالص
اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر دے۔ یہی وہ صفت ہے جو ایک عام عمل کو بھی اعلیٰ عبادت
بنا دیتی ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اخلاص کے ساتھ
عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ
مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ کنز العرفان: اور ان
لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے
۔(سورۃ البینہ: 5)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کی اصل شرط اخلاص ہے۔ اگر
نیت خالص نہ ہو تو بڑا عمل بھی ضائع ہو جاتا ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ
اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَۙ(۱۱)
ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ : مجھے حکم ہے کہ میں اللہ
کی عبادت کروں اسی کیلئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ (سورۃ الزمر: 11)
یہ حکم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ
اخلاص کی اہمیت ہر مسلمان کے لیے کس قدر زیادہ ہے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی اخلاص کو
اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اخلاص کے بہت سے فوائد ہیں: اخلاص
انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے، دل کو سکون عطا کرتا ہے اور بندے کو شیطان کے
وسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اخلاص کی بدولت تھوڑا سا عمل بھی زیادہ اجر کا باعث بن
جاتا ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اخلاص اسلام کی روح ہے۔ ہر
مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور ہر عبادت، خدمت اور نیکی صرف
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami