مہتاب
احمد سعیدی (درجہ خامسہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى، کراچی،پاکستان)
اسلام میں اخلاص کا بہت بڑا مقام ہے۔ ہر نیک عمل کی قبولیت
کا دارومدار اخلاص پر ہے۔ نیت ، خلوص اور اللہ کی رضا کے لیے عمل کرنا ہی اصل کامیابی
ہے۔ اس مضمون میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں اخلاص کی اہمیت
پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔
(1)وَ
مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ترجمہ
کنز العرفان: اور ان لوگوں کو تو یہی حکم ہوا کہ اللہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین
کو خالص کرتے ہوئے۔ ( سورۃ البینہ، آیت 5)
(2)اَلَا
لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ ترجمہ کنز العرفان: سن لو! خالص
عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔ ( سورۃ الزمر، آیت 3)
(1) إِنَّمَا
الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ترجمہ:
اعمال نیتوں پر منحصر ہیں، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔(صحیح
بخاری، کتاب بدء الوحی، حدیث 1)
(2)أَنَا
أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي
غَيْرِي، تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ترجمہ:میں شریکوں سے بے نیاز
ہوں، جو میرے ساتھ شریک کیا، اسے اور اس کا عمل چھوڑ دیتا ہوں۔(صحیح مسلم، کتاب الزہد،
حدیث 2985)
(3)إِنَّ
اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ
يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ ترجمہ:
اللہ تمہارے چہروں اور مال کو نہیں دیکھتا، بلکہ دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ (صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث 2564)
(4)مَن
سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ ترجمہ:جو
شہرت کے لئے عمل کرے، اللہ اسے رسوا کرے گا، جو ریا کرے، اللہ اس کو بے نقاب کرے
گا۔(صحیح مسلم، کتاب الزہد، حدیث 2986)
(5)إِنَّ
اللهَ لا يَقْبَلُ مِنَ العَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ
بِهِ وَجْهُهُ ترجمہ:"اللہ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اسی
کے لئے کیا گیا ہو۔" (سنن نسائی، کتاب الجہاد، حدیث 3140)
اخلاص دین کی بنیاد ہے۔ خالص نیت کے بغیر کوئی عمل اللہ کی
نظر میں قبول نہیں ہوتا۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ہر عمل میں اخلاص اختیار کریں تاکہ ہم
دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔ اخلاص انسان کی روحانی ترقی کا ذریعہ ہے اور یہ
اللہ کے قریب ہونے کا سب سے اہم راستہ ہے۔
Dawateislami