سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے روحانی اور عملی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔ حضرت محمد ﷺ کی مبارک زندگی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کو جاننا دراصل دینِ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنا ہے۔ سیرت کا مطالعہ ہمیں ایمان کی مضبوطی، اخلاقی پاکیزگی اور عملی اصلاح کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے، اسی لیے اس کی اہمیت اور ضرورت ہر دور میں مسلم رہی ہے۔ مطالعہ سیرت کی ضرورت و اہمیت کے چند نکات درج ذیل ہیں۔

ایمان کی مضبوطی اور محبتِ رسول ﷺ میں اضافہ:سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ انسان کے دل میں حضرت محمد ﷺ کی محبت اور عقیدت کو بڑھاتا ہے۔ جب انسان آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے واقعات، صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کو جانتا ہے تو اس کا ایمان تازہ اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ محبتِ رسول ﷺ ایمان کا لازمی جز ہے، اور سیرت کا مطالعہ اسی محبت کو شعوری اور عملی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

قرآنِ کریم کی صحیح تفہیم:قرآن مجید کو سمجھے بغیر اس پر مکمل عمل ممکن نہیں، اور قرآن کی عملی تفسیر سیرتِ نبوی ﷺ ہے۔ قرآن مجید میں بیان کردہ احکامات، واقعات اور ہدایات کو سیرت کے پس منظر میں سمجھنے سے ان کا مفہوم واضح ہوتا ہے۔ اس طرح سیرت قرآن کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا راستہ دکھاتی ہے۔

عملی نمونۂ حیات:اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی زندگی کو کامل نمونہ قرار دیا۔ سیرت کا مطالعہ ہمیں انفرادی، خاندانی، معاشرتی اور حکومتی سطح پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ عبادات، معاملات، اخلاقیات، عدل و انصاف اور قیادت ہر شعبے میں آپ ﷺ کی زندگی بہترین مثال ہے۔

اخلاقی و روحانی تربیت:سیرتِ نبوی ﷺ اعلیٰ اخلاق کا سرچشمہ ہے۔ عفو و درگزر، صبر، شکر، دیانت، امانت اور عدل جیسے اوصاف آپ ﷺ کی زندگی کا نمایاں حصہ تھے۔ جب انسان ان پہلوؤں کو پڑھتا اور سمجھتا ہے تو اس کے اندر بھی اخلاقی اصلاح اور روحانی بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔

مشکلات میں رہنمائی اور حوصلہ افزائی:مکی زندگی کی سختیاں، طائف کا واقعہ، شعبِ ابی طالب کا محاصرہ اور دیگر آزمائشیں اس بات کی مثال ہیں کہ مشکلات میں صبر اور استقامت کیسے اختیار کی جائے۔ سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ مصائب وقتی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

دعوت و تبلیغ کا منہج:سیرتِ طیبہ میں دعوتِ دین کے اصول بڑی وضاحت سے ملتے ہیں۔ حکمت، نرمی، تدریج اور مخاطب کے حالات کو پیشِ نظر رکھنایہ سب اصول آپ ﷺ کی دعوتی زندگی سے اخذ ہوتے ہیں۔ اس سے آج کے داعی کو صحیح حکمتِ عملی ملتی ہے۔

معاشرتی انصاف اور مساوات کا شعور:آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں رنگ، نسل اور زبان کی بنیاد پر کوئی برتری نہیں تھی۔ حجۃ الوداع کے خطبے میں انسانی مساوات کا جو اعلان کیا گیا، وہ آج بھی انسانی حقوق کی بنیاد تصور کیا جا سکتا ہے۔

قیادت اور حکمرانی کے اصول:مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد آپ ﷺ نے عدل، مشاورت اور قانون کی بالادستی کو فروغ دیا۔ مدینہ منورہ میں قائم ہونے والی ریاست اس بات کی عملی مثال ہے کہ کس طرح ایک مثالی فلاحی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

بین المذاہب رواداری اور امن کا پیغام:میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذاہب اور قبائل کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ معاہدہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام امن، رواداری اور انصاف کا دین ہے۔

خاندانی نظام کی اصلاح:سیرتِ نبوی ﷺ میں شوہر، باپ اور خاندان کے سربراہ کے طور پر آپ ﷺ کا کردار نہایت متوازن اور مشفقانہ تھا۔ ازواجِ مطہرات اور اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک ہمیں خاندانی زندگی میں اعتدال اور محبت کا درس دیتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے مثالی کردار:نوجوان نسل کے لیے سیرت ایک روشن مثال ہے۔ دیانت و امانت کی وجہ سے آپ ﷺ کو نبوت سے پہلے ہی صادق اور امین کہا جاتا تھا۔ یہ صفات نوجوانوں کو کردار سازی کی طرف مائل کرتی ہیں۔

عالمی سطح پر مثبت تعارفِ اسلام:آج کے دور میں اسلام کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ سیرت کا مطالعہ ان غلط تصورات کو دور کرتا اور اسلام کی اصل روح رحمت، عدل اور خیر خواہی کو واضح کرتا ہے۔

عبادات کی صحیح ادائیگی:نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات کی عملی شکل ہمیں سیرت سے ملتی ہے۔ عبادات کی روح اور ان کا طریقۂ ادائیگی سیرت کے بغیر مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتا۔

اجتماعی شعور اور امت کی وحدت:سیرت کا مطالعہ مسلمانوں کو ان کی مشترکہ شناخت اور مقصد کی یاد دہانی کراتا ہے۔ اس سے امت میں اتحاد اور یکجہتی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

زندگی کے ہر شعبے میں توازن:سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں سکھاتی ہے کہ دین اور دنیا کے معاملات میں توازن کیسے قائم رکھا جائے۔ عبادت کے ساتھ معاش، روحانیت کے ساتھ سماجی ذمہ داری، اور انفرادیت کے ساتھ اجتماعیت یہ سب پہلو آپ ﷺ کی زندگی میں ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔

مطالعۂ سیرت محض تاریخی واقعات جاننے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات کو سمجھنے کا ذریعہ ہے۔ یہ ایمان کو تازگی دیتا، کردار کو سنوارتا اور معاشرے کو عدل و انصاف کی راہ دکھاتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان خواہ طالب علم ہو یا عالم، مرد ہو یا عورت کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کو حقیقی معنوں میں سنتِ رسول ﷺ کے مطابق ڈھال سکے۔


مطالعۂ سیرتِ نبوی ہر مسلمان کے لیے روحانی، اخلاقی اور عملی رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے۔ سیرت کا مطلب ہے حضور جان عالم ﷺ کی مبارک زندگی کا مطالعہ آپ ﷺ کے اخلاق، عبادات، معاملات، قیادت، صبر اور حکمت کو سمجھنا۔ جب ہم سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اسلام کی تعلیمات عملی شکل میں نظر آتی ہیں۔

(1) قرآن کا عملی نمونہ :اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (سورۃ الاحزاب 21)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔ نماز کیسے پڑھنی ہے؟ لوگوں سے کیسا برتاؤ کرنا ہے؟ مشکل حالات میں کیسا صبر کرنا ہے؟ یہ سب سیرت سے سیکھا جاتا ہے۔ اس لیے سیرت کا مطالعہ دراصل قرآن کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔

(2)ایمان میں اضافہ :سیرت کا مطالعہ دل میں محبتِ رسول ﷺ اور ایمان کی تازگی پیدا کرتا ہے۔ حدیث ہے:تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔(صحیح بخاری، حدیث: 15 جلد 1 دار التاصيل ، القاهرة)

جب انسان آپ ﷺ کی جدوجہد، رحمت، عدل اور قربانیوں کو جانتا ہے تو دل میں محبت اور عقیدت بڑھتی ہے، اور یہی محبت ایمان کو مضبوط کرتی ہے۔

(3) اخلاقی تربیت کا ذریعہ :نبی کریم ﷺ نے فرمایا:میں اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ (موطا امام مالک حدیث 8 جلد 2 دار احياء التراث العربی، بيروت ، لبنان)

آپ ﷺ کی سیرت میں سچائی، امانت، حلم، درگزر اور عدل نمایاں ہیں۔ مکہ کے سخت ترین حالات میں بھی آپ ﷺ نے صبر اور عفو کا مظاہرہ کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر عام معافی اس کی روشن مثال ہے۔ آج کے دور میں جب معاشرہ اخلاقی کمزوریوں کا شکار ہے، سیرت کا مطالعہ ہمیں عملی اخلاق سکھاتا ہے۔

(4) مشکلات میں رہنمائی :سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکلات میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ میں ظلم و ستم، شعبِ ابی طالب کا محاصرہ، طائف کی تکلیفیں ان سب میں آپ ﷺ نے صبر اور اللہ پر توکل کا راستہ اختیار کیا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ ﷺ نے ایک مثالی معاشرہ قائم کیا، جس کی بنیاد اخوت، عدل اور مشاورت پر تھی۔ یہ سب واقعات ہمیں زندگی کے مسائل کا حل دیتے ہیں۔

(3)معاشرتی اور قیادی اصول :نبی کریم ﷺ صرف روحانی پیشوا نہیں بلکہ بہترین رہنما بھی تھے۔ آپ ﷺ نے مدینہ میں ایک منظم ریاست قائم کی، جس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق متعین کیے گئے۔ صلح حدیبیہ جیسے معاہدے آپ ﷺ کی دوراندیشی کی مثال ہیں۔ سیرت کا مطالعہ ہمیں قیادت، حکمت اور برداشت کا درس دیتا ہے۔

(6) نوجوانوں کے لیے رول ماڈل :آج کے نوجوان مختلف فکری اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ سیرتِ نبوی انہیں پاکیزگی، محنت، دیانت اور مقصدیت کا راستہ دکھاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی جوانی امانت و صداقت کی مثال تھی، اسی لیے آپ کو" صادق اورامین" کہا جاتا تھا۔ اگر نوجوان سیرت کو اپنائیں تو ان کی زندگی سنور سکتی ہے۔

مطالعۂ سیرت صرف ایک تاریخی مطالعہ نہیں بلکہ زندگی سنوارنے کا عملی نصاب ہے۔ یہ ایمان کو مضبوط کرتا ہے، اخلاق کو بہتر بناتا ہے اور مشکلات میں راستہ دکھاتا ہے۔ قرآن ہمیں نبی کریم ﷺ کی پیروی کا حکم دیتا ہے، اور پیروی اسی وقت ممکن ہے جب ہم آپ ﷺ کی زندگی کو جانیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے سیرت کا مطالعہ کرے، اس پر غور کرے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین


اللہ عزوجل نے مسلمانوں کی ہدایت کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا اور سب سے آخر میں سب سے اولی و اعلی نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کی سیرت انسانوں کے لیے قیامت تک کے لیے ہدایت اور روشنی ہے۔ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ کو سیرت کہا جاتا ہے جس میں آپ کی پیدائش، معاملات، اخلاق، عبادات وغیرہ سب شامل ہے۔ مطالعہ سیرت اس لیے بھی ضروری ہے کہ اللہ ﷻ نے فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ(۲۱)

ترجمہ ‏کنز العرفان: ‏بیشک تمہارے لئے اللہ  کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے اس کے لیے جو الله اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور الله کو بہت یاد کرتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب، آیت 21)

اللہ عزوجل نے حضور ﷺ  کی سیرت کو "اسوہ حسنہ" قرار دے کر مسلمانوں پر اس کی پیروی کو لازم قرار دے دیا۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

تیری خلق کو رب نے جمیل کیا تیرے خُلق کو رب نے عظیم کہا

کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا تیرے خالق حسن و ادا کی قسم

حضرت انس رضی الله عنہ فرماتے ہیں: " خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ وَلَا لِمَ صَنَعْتَ وَلَا أَلَّا صَنَعْتَ" ترجمہ: میں نے نبی ﷺ کی دس سال خدمت کی، کبھی مجھ سے اف نہ فرمایا اور نہ یہ کہ تم نے یہ کیوں کیا اور نہ یہ کہ کیوں نہ کیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب حسن الخُلُق والسخاءِ وما یُکرَہ من البخل، حدیث 6048، صفحہ 1513، دار ابن کثیر)

حضور ﷺ کی سیرت دنیا میں سب سے بہترین سیرت ہے اور کیوں نہ ہو کہ آپ ﷺ سے کامل و اکمل دنیا نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔ جو شخص بھی زندگی میں آپ کی سیرت کی پیروی کرے اس کی دنیا و آخرت میں کامیابی یقینی ہے۔

مطالعہ سیرت کے چند فوائد:

(1)عملی زندگی گزارنے کا نمونہ: سرکار ﷺ کی زندگی میں دنیا کے ہر شخص کے لیے رہنمائی موجود ہے گھر کے معاملات ہوں، تجارت کے معاملات ہوں، رشتہ داروں کے معاملات ہوں یا دوستی کے معاملات ہوں۔ الغرض زندگی کا کوئی بھی شعبہ اٹھا کر دیکھ لیں کسی نہ کسی طرح حضور ﷺ کی زندگی سے ہمیں رہنمائی مل جاتی ہے۔

(2) اخلاق اور کردار کو بہتر بنانا: حضور ﷺ کے اخلاق کو رب تعالی نے عظیم فرمایا ارشاد فرمایا: "وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ" ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک تم یقینا عظیم اخلاق پر ہو۔ (سورة القلم، آیت 4)

(3) صبر، برداشت اور ثابت قدمی کا درس ملتا ہے: حضور ﷺ کی پوری زندگی میں ہی بالخصوص مکی زندگی میں اور سفر طائف میں صبر، برداشت اور ثابت قدمی کا درس ملتا ہے۔

(4) دین کی دعوت دینے کا درست طریقہ معلوم ہوتا ہے: حضورﷺ کی زندگی ،مبلغین کے لیے بھی دین کی دعوت دینے کا اور اس راہ میں مشکلات برداشت کرنے کا بھی بہترین سبق ہے۔

(5)قرآن مجید کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال بے شک قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ جیسے کہ قرآن میں نماز کا ذکر ہے مگر کس وقت پڑھنی ہے کتنی پڑھنی ہے کیسے پڑھنی ہے یہ سب حضور کی زندگی سے پتہ چلتا ہے۔

(6)عشق رسول ﷺ میں اضافہ ہوتا ہے: حضور ﷺ کے اوصاف کو جتنا پڑھا جائے اتنا ہی عشق میں اضافہ ہوتا جاتا ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم سیرت کو پڑھتے جائیں اور اپنے عشق میں اضافہ کرتے جائیں۔

(7)مثالی معاشرہ بنانے کی رہنمائی ملتی ہے: حضور ﷺ ایسے معاشرے میں مبعوث فرمائے گئے جہاں ہر قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں مگر آمد حضور کے بعد وہی معاشرہ مثالی معاشرہ بن گیا اور دنیا کا بہترین معاشرہ بن گیا۔ آج ہم اپنے معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائیوں کو باآسانی ختم کر سکتے ہیں اگر ہم سیرت حضور کے مطابق زندگی گزاریں۔

اللہ ﷻ ہمیں پیارے نبی ﷺ کی پیاری سیرت کا مطالعہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


دنیا میں بے شمار شخصیات گزری ہیں جنہوں نے تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑے، مگر جس ہستی کی زندگی ہر

دور کے انسان کے لیے مکمل ضابطۂ حیات بن کر سامنے آئی وہ ہیں حضرت محمد ﷺ۔ آپ ﷺ کی مبارک زندگی کو سیرت کہا جاتا ہے، اور اس سیرت کا مطالعہ ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے لیے بے حد ضروری اور باعثِ سعادت ہے۔ سیرتِ نبوی دراصل قرآنِ مجید کی عملی تفسیر ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جن احکامات، اخلاقیات اور اصولوں کا ذکر فرمایا، ان کا مکمل نمونہ ہمیں رسول اکرم ﷺ کی زندگی میں ملتا ہے۔

مطالعۂ سیرت کی پہلی اور سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ہمیں ایمان کی مضبوطی عطا کرتا ہے۔ جب ہم نبی کریم ﷺ کی جدوجہد، صبر، استقامت اور اللہ پر کامل توکل کے واقعات پڑھتے ہیں تو ہمارے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا ہوتی ہے۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک کی گئی دعوت، طائف کی آزمائشیں، شعبِ ابی طالب کی سختیاں اور پھر مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کا قیام یہ سب واقعات ہمیں سکھاتے ہیں کہ مشکلات وقتی ہوتی ہیں، مگر حق کا راستہ ہمیشہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے صاف الفاظ میں ارشاد فرمایا:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 21)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ سیرت کا مطالعہ محض تاریخی معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی زندگی کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، گھر کا نظام ہو یا معاشرتی تعلقات ہر میدان میں ہمیں سیرتِ نبوی سے رہنمائی ملتی ہے۔مطالعۂ سیرت کی ایک اور اہمیت اخلاقی تربیت ہے۔

آپ ﷺ کی زندگی عفو و درگزر، حلم و بردباری، عدل و انصاف اور رحم و کرم کا حسین نمونہ ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر جب آپ ﷺ کے پاس بدلہ لینے کا مکمل اختیار تھا، تب بھی آپ ﷺ نے اپنے دشمنوں کو معاف فرما دیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی طاقت انتقام میں نہیں بلکہ معافی میں ہے۔

آج کا نوجوان مختلف فکری اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ مغربی تہذیب کی یلغار، سوشل میڈیا کے اثرات اور مادیت پرستی نے ذہنی انتشار پیدا کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں سیرتِ نبوی ایک روشن چراغ کی مانند ہے جو ہمیں اعتدال، پاکیزگی اور مقصدیت کا راستہ دکھاتی ہے۔ اگر نوجوان سیرت کا گہرا مطالعہ کریں تو وہ جان لیں گے کہ کامیابی محض دولت یا شہرت کا نام نہیں بلکہ کردار کی بلندی کا نام ہے۔

مطالعۂ سیرت ہمیں اتحاد اور بھائی چارے کا درس بھی دیتا ہے۔ مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم کی گئی مواخات انسانی تاریخ کی عظیم مثال ہے۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ محبت، ایثار اور عدل کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی اجتماعی زندگی میں سیرت کے اصول اپنالیں تو بہت سے معاشرتی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔آخر میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سیرت کا مطالعہ محض کتابوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی زندگی کا حصہ بنے۔ روزمرہ معاملات میں دیانت، سچائی، وعدے کی پابندی اور دوسروں کے حقوق کی ادائیگی یہ سب سیرت کے عملی تقاضے ہیں۔ جب ہم نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کریں گے تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنورے گی بلکہ معاشرہ بھی امن و سکون کا گہوارہ بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاق، معاشرت اور زندگی گزارنے کے اصول بھی بتاتا ہے۔ دینِ اسلام نے ہر مسلمان کے لیے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو عملی نمونہ قرار دیا ہے۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کرنا ہر فرد کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ نہ صرف ہماری شخصیت کو سنوارتا ہے بلکہ ہمارے معاشرے کو بھی بہتر بناتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 21)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کامیاب اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے ہمیں حضور ﷺ کی زندگی سے رہنمائی لینی چاہیے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے سبق آموز ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں صبر، شکر، عدل، امانت اور رحم دلی کو ہمیشہ اپنایا۔ یہی خصوصیات ایک انسان کو اعلیٰ اخلاقی معیار کی طرف لے جاتی ہیں۔

سیرتِ نبوی کا مطالعہ انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ ایک طرف یہ ہمارے اخلاقی معیار کو بلند کرتا ہے اور دوسری طرف ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرتی تعلقات کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف اپنی عبادات میں کمال دکھایا بلکہ دوسروں کے حقوق اور رشتوں کی حفاظت میں بھی مثال قائم کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ

ترجمہ کنزالایمان: تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے۔(سورۃ آلِ عمران: 159)

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ نبی ﷺ کی زندگی نہ صرف رحم دلی بلکہ حکمت اور نرم دلی کا عملی نمونہ تھی۔ ان کے کردار سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی تحمل اور شائستگی اختیار کرنا ضروری ہے۔

آج کے دور میں نوجوانوں کے لیے سیرتِ طیبہ کا مطالعہ اور بھی زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ دنیا میں فتنہ، انتشار اور غلط نظریات پھیل رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں نوجوان اگر سیرت کا مطالعہ کریں تو ان میں صبر، حوصلہ، شجاعت اور عدل کی صفات پیدا ہوں گی۔ سیرت کا مطالعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر فیصلہ میں اصول اور اخلاق کو ترجیح دیں۔

مزید برآں، سیرتِ نبوی پڑھنے سے انسان کی محبتِ رسول ﷺ میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب ہم حضور ﷺ کی زندگی کے حالات اور کارنامے جانتے ہیں تو دل میں ان کے لیے عقیدت اور محبت بڑھتی ہے۔ محبتِ رسول ﷺ انسان کو نیکی کی طرف مائل کرتی ہے اور برائی سے بچنے کی ترغیب دیتی ہے۔سیرت کا مطالعہ صرف پڑھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس پر عمل بھی ضروری ہے۔ حضور ﷺ کی زندگی سے سیکھا گیا ہر سبق عملی زندگی میں لانا مسلمان کی اصل کامیابی ہے۔ اس سے نہ صرف ذاتی کردار مضبوط ہوتا ہے بلکہ معاشرتی تعلقات بھی بہتر بنتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیرتِ نبوی نہ صرف ایک تاریخ یا کہانی ہے بلکہ یہ ایک عملی رہنما کتاب ہے جو ہر مسلمان کی زندگی میں روشنی پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ہم اسے سمجھیں، یاد کریں اور عمل کریں تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زندگیوں کو آپ ﷺ کے نقش قدم کے مطابق چلانے کی روفیق عطا فرمائے آمین۔


دعوتِ اسلامی کے شعبہ ”رابطہ برائے ایگریکلچر اینڈ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ“ کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں منعقد ہونے والا دو روزہ سنتوں بھرا اجتماع مروجہ دینی و تنظیمی جذبوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ 04 اور 05 جولائی 2026ء کو ہونے والے اس منفرد اجتماع میں ملک بھر سے لائیو اسٹاک، پولٹری، کیٹل فارمنگ اور ایگریکلچر کے شعبہ جات سے وابستہ عاشقانِ رسول اور دعوتِ اسلامی کے متعلقہ شعبے کے ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہِ اقدس میں نعتِ رسولِ مقبول کے نذرانے پیش کر کے کیا گیا۔ اجتماع کے دوران شرکا نے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار ”مدنی مذاکرے“میں بھی خصوصی شرکت کی جہاں انہوں نے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے علم و حکمت سے بھرپور جوابات سے اپنے دلوں کو منور کیا اور دینی و دنیاوی معلومات میں اضافہ کیا۔

نگرانِ شوریٰ کا موضوع ”رزقِ حلال کی برکت“ پر اہم بیان:

دو دن تک جاری رہنے والے اجتماع میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مدظلہ العالی نے ”رزقِ حلال کی برکت“کے موضوع پر نہایت ہی دلنشین انداز میں گفتگو کی۔ انہوں نے والدین کی جانب سے اولاد کی تربیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: ”والدین اپنے بچوں کو کمانے کی تربیت تو دیتے ہیں، خواہ وہ جانور پالنے کا کام ہو، زراعت ہو، پولٹری ہو یا کیٹل فارمنگ، اگر فیلڈ میں فائدہ نظر آئے تو ہم بچوں کو اسی فیلڈ میں لاتے ہیں ورنہ کسی دوسری فیلڈ میں بھیج دیتے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کو یہ سکھائیں کہ بیٹا! کماؤ تو صرف حلال کماؤ۔ حرام، رشوت، جھوٹ، دھوکے، ملاوٹ اور بددیانتی سے بچو۔“

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ آج ایمانداری سے بتائیں کہ کتنے والدین ایسے ہیں جو بیٹھ کر اپنے بچوں کو ایمانداری اور حلال کمانے کی اس طرح وصیت اور نصیحت کرتے ہیں؟

رکن شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری کا سنتوں بھرا بیان:

رکنِ شوریٰ مولانا حاجی عبد الحبیب عطاری نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک اہم نکتے کی وضاحت کی اور کہا: ”بعض لوگوں نے یہ غلط تصور (Concept) بنا لیا ہے کہ دین شاید مالدار بننے سے روکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے، آپ مالدار بنیں اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن مال کے نشے میں غرق نہ ہوں، تکبر کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی لوگوں کے حقوق دبائیں۔ اللہ پاک آپ کو حلال راستے سے اربوں روپے عطا فرمائے تو یہ نعمت ہے“۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما اپنے وقت کے امیر ترین لوگ اور اربوں پتی تھے، مگر ان کا ایک درہم یا دینار بھی حرام کا نہیں تھا۔ آج ہمیں اپنے مال کو چیک کرنا چاہیے کہ اس میں کہیں جھوٹ، دھوکا اور ملاوٹ تو شامل نہیں؟ اگر ایسا ہے تو وہ مال کسی کام کا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حلال مال دنیا میں بہت ساری عبادات کو بجا لانے کا سبب بھی بنتا ہے۔

اختتامی سیشن اور رقت انگیز دعا:

اس دو روزہ تربیتی و سنتوں بھرے اجتماع کے اختتامی سیشن میں اراکینِ شوریٰ اور قاری سلیم عطاری سمیت دعوتِ اسلامی کے مبلغین نے شرکا کی تنظیمی و اخلاقی رہنمائی کی۔ اجتماع کا اختتام بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں صلوٰۃ و سلام کے نذرانے اور امتِ مسلمہ کے لیے رقت انگیز دعا کے ساتھ کیا گیا۔ بعد ازاں شرکائے اجتماع نے نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری سے ملاقاتیں بھی کیں اور دعوتِ اسلامی کے اس اقدام کو خوب سراہا۔


خوفِ خدا وہ بنیادی صفت ہے جو مومن کے کردار کو جلا بخشتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کو اللہ کی خشیت اختیار کرنے کی بارہا تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے اسے تمام بھلائیوں کی جڑ قرار دیا ہے۔

(1) تنہائی میں اللہ کا ذکر اور گریہ زاری:نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کو قیامت کے دن اللہ کے سائے کی نوید سنائی جو تنہائی میں اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ارشادِ نبوی ہے:وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ"اور وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا، پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔" (صحیح بخاری: 660، صحیح مسلم: 1031)

(2) جہنم سے نجات کی ضمانت:اللہ کے خوف سے نکلنے والا ایک آنسو بھی جہنم کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"لاَ يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكَى مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ حَتَّى يَعُودَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ"ترجمہ:وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ کے خوف سے رو پڑا، یہاں تک کہ دودھ (دوبارہ) تھن میں واپس لوٹ جائے (یعنی ناممکن ہے)۔" (جامع ترمذی: 1633، امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا )

(3) خشیتِ الٰہی اور نبی کریم ﷺ کا مقام:آپ ﷺ کائنات میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو اللہ کی عظمت کا احساس دلاتے ہوئے فرمایا:"لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا"اگر تم وہ جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ (صحیح بخاری: 6485)

(4) اللہ کے خوف کا بدلہ:اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کو جو اس سے ڈرتے ہیں، کبھی مایوس نہیں کرتا۔ حدیث قدسی میں نبی کریم ﷺ نے اللہ کا یہ ارشاد نقل فرمایا:"وَعِزَّتِي لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَجْمَعُ

لَهُ أَمْنَيْنِ، إِذَا أَمِنَنِي فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِذَا خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِترجمہ: میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا۔ اگر وہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہا تو میں اسے قیامت کے دن خوف زدہ کروں گا، اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرتا رہا تو میں اسے قیامت کے دن امن دوں گا۔(صحیح ابن حبان: 640)

(5) جامع نبوی دعا:آپ ﷺ اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے تاکہ امت کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہو:"اللَّهُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْيَتِكَ مَا تَحُولُ بِهِ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مَعَاصِيكَ"ترجمہ:اے اللہ! ہمیں اپنا اتنا خوف عطا کر جو ہمارے اور تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے۔" (جامع ترمذی: 3502)

مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ خوفِ خدا محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک عمل ہے جو انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے۔ اللہ کا ڈر رکھنے والا انسان معاشرے کے لیے بہترین نمونہ بن جاتا ہے کیونکہ اسے ہر وقت یہ احساس رہتا ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہے۔


خوفِ خدا ایک ایسی قلبی کیفیت کا نام ہے جو انسان کو معصیت کی راہ سے ہٹا کر بندگی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتی ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کی بے نیازی، اس کی گرفت اور اس کی ناراضگی کے ڈر سے گناہوں کو چھوڑ دینا خوفِ خدا کہلاتا ہے۔ یہ صفت مومن کے ایمان کی روح اور تقویٰ کی بنیاد ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنے بندوں کو بارہا اپنے خوف کا حکم دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا: وَ  خَافُوْنِ  اِنْ  كُنْتُمْ  مُّؤْمِنِیْنَ(۱۷۵)ترجمہ کنز الایمان: اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔(پارہ 4، سورۃ آل عمران، آیت 175)

اس آیت سے واضح ہے کہ خوفِ خدا اور ایمان کا آپس میں گہرا تعلق ہے، یعنی جس قدر ایمان پختہ ہوگا، اسی قدر دل میں خشیتِ الٰہی زیادہ ہوگی۔ نبی کریم ﷺ جو کائنات میں سب سے زیادہ اللہ کی پہچان رکھنے والے ہیں، آپ ﷺ نے اپنے فرامین اور عمل کے ذریعے امت کو خوفِ خدا کی بے حد ترغیب دلائی ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا: لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰی مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰی يَعُوْدَ اللَّبَنُ فِي الضَّرْعِ ترجمہ وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو اللہ کے خوف سے رویا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے۔(سنن الترمذی، کتاب فضائل الجہاد، جلد 3، صفحہ 256، حدیث 1639، مطبوعہ دار الفکر )

یہ مثال اس بات کی پختگی کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے ڈر سے رونے والے کے لیے جہنم سے خلاصی یقینی ہے۔ خوفِ خدا کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی تنہائی اور جلوت پاکیزہ ہو جاتی ہے، وہ بندوں کے حقوق غصب کرنے سے باز رہتا ہے اور اس کے اخلاق میں عاجزی پیدا ہوتی ہے۔

نبوی تعلیمات ہمیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ اللہ کا ڈر مایوسی کا نام نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی رحمت کی طرف بھاگنے کا نام ہے۔ ایک مومن کے لیے خوف اور رجا (امید) کے درمیان رہنا ضروری ہے۔ اگر انسان کے دل میں اللہ کا ڈر ختم ہو جائے تو وہ سرکش ہو جاتا ہے اور معاشرے میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور اخلاقی پستی کی سب سے بڑی وجہ دلوں سے خوفِ خدا کا نکل جانا ہے۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی ترغیبات پر عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں میں خشیتِ الٰہی کو جگہ دیں تو دنیا و آخرت کی کامیابی مقدر بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کے صدقے میں وہ دل عطا فرمائے جو اس کے ذکر سے تڑپ اٹھے اور وہ آنکھیں عطا فرمائے جو اس کے خوف سے نم ہو جائیں۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔


خوفِ خدا کی تعریف :‏خوف سے مراد وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو، مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہوجانے کا ڈر۔ جبکہ خوفِ خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا ہو جائے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۰)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ

ترجمۂ کنزالایمان:’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو۔‘‘(پ۲۲، الاحزاب: ۷۰)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور جو اپنے ربّ کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔(پ۲۷، الرحمن: ۴۶)

حکمت کی اصل خوفِ خدا ہے:حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حکمت کی اصل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ہے۔‘‘سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا: ’’اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بہت ڈرتے رہنا۔‘‘(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۱)

خوفِ خدا کا حکم:خوفِ خدا تمام نیکیوں اور دنیا وآخرت کی ہر بھلائی کی اصل ہے، خوفِ خدا نجات دلانے اور جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ پھر خوف کے تین درجات ہیں: (۱) ضعیف: (یعنی کمزور) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو کسی نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت نہ رکھتا ہو، مثلاً جہنم کی سزاؤں کے حالات سن کر محض جھرجھری لے کر رہ جانا اور پھرسے غفلت ومعصیت (گناہ)میں گرفتار ہوجانا۔(۲) معتدل: (یعنی متوسط) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو نیکی کے اپنانے اور گناہ کو چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی قوت رکھتا ہو، مثلاً عذابِ آخرت کی وعیدوں کو سن کر ان سے بچنے کے لیے عملی کوشش کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ربّ تَعَالٰی سے اُمید رحمت بھی رکھنا۔ (۳) قوی: (یعنی مضبوط) یہ وہ خوف ہے جو انسان کو ناامیدی، بے ہوشی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا کردے، مثلاً اللہ تَعَالٰی کے عذاب وغیرہ کا سن کر اپنی مغفرت سے ناامید ہوجانا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اِن سب میں بہتر درجہ ’’معتدل‘‘ ہے کیونکہ خوف ایک ایسے تازیانے (کوڑے)کی مثل ہے جو کسی جانور کو تیز چلانے کے لیے مارا جاتا ہے، لہٰذا اگر اس تازیانے کی ضرب (چوٹ)اتنی ضعیف (کمزور) ہو کہ جانور کی رفتار میں ذرہ بھر بھی اضافہ نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر یہ اِتنی قوی ہو کہ جانور اس کی تاب نہ لاسکے اور اتنا زخمی ہوجائے کہ اس کے لیے چلنا ہی ممکن نہ رہے تو یہ بھی نفع بخش نہیں اور اگر یہ معتدل ہو کہ جانور کی رفتار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوجائے اور وہ زخمی بھی نہ ہو تو یہ ضرب بے حد مفید ہے۔(نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۱،۲۰۲)

خوفِ خدا پیدا کرنے کے آٹھ (8)طریقے:(1)ربّ تَعَالٰی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرلیجئے:جس طرح طویل دنیاوی سفر پر تنہا روانہ ہوتے وقت عموماًہماری یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہی سامان ساتھ رکھیں جو مفید ہو نقصان دہ اشیاء ساتھ نہیں رکھتےتاکہ ہمارا سفر قدرے آرام سے گزرے اور ہمیں زیادہ پریشانی کا سامنا نہ کر نا پڑے، بالکل اسی طرح سفرِ آخرت کو کامیابی سے طے کرنے کی خواہش رکھنے والے کو چاہیے کہ روانگی سے قبل گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتارنے کی کوشش کرے کہ کہیں یہ بوجھ اسے تھکا کر کامیابی کی منزل پر پہنچنے سے محروم نہ کر دے۔ اس بوجھ سے چھٹکارے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بندہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَل کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے کیونکہ سچی توبہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتی ہے جیسے کبھی کیے ہی نہ تھے ۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسےاس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘

(2)خوفِ خدا کے لیے بارگاہ ربّ العزت میں دعا کیجئے:یوں دعا کیجئے: اے میرے مالک عَزَّ وَجَل! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتاہے۔ اے میرے ربّ عَزَّوَجَل! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لیے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں۔اے میرے پرورد گار عَزَّ وَجَل!مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لئے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطافرمادے اور اس کوشش کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !مجھے اپنے خوف سے معمور دل، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔ آمین یارب ! میں تیرے خوف سے روتا رہوں ہر دم دیوانہ شہنشاہِ مدینہ کا بنا دے

(3)خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیے: فطری طور پر انسان ہر اس چیز کی طرف آسانی سے مائل ہوجاتا ہے جس میں اسے کوئی فائدہ نظر آئے۔ اس تقاضے کے پیش نظر ہمیں چاہیے کہ قرآن واحادیث میں بیان کردہ خوفِ خدا کے فضائل پیش نظر رکھیں، چند فضائل یہ ہیں:خوفِ خدا رکھنے والوں کے لیے دو جنتوں کی بشارت دی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو آخرت میں کامیابی کی نوید (خوشخبری)سنائی گئی ہے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو جنت کے باغات اور چشمے عطا کیے جائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والے آخرت میں امن کی جگہ پائیں گے۔ خوفِ خدا رکھنے والوں کو مددوتائید الٰہی حاصل ہوتی ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ بندے ہیں۔ خوفِ خدا اَعمال میں قبولیت کا ایک سبب ہے۔خوفِ خدا رکھنے والے بارگاہ الٰہی میں مکرم ہیں۔خوفِ خدا رکھنے والے دنیا وآخرت میں کامیاب وکامران ہیں۔ خوفِ خدا جہنم سے چھٹکارے کا سبب ہے۔ خوفِ خدا ذریعہ نجات ہے۔

(4) خوفِ خدا کی علامات پر غور کیجئے: جب کسی چیز کی علامات پائی جائیں گیں تو وہ شے بھی خود بخود پائی جائے گی۔ حضرت سیدنا فقیہ ابواللیث سمرقندی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کی علامت آٹھ چیزوں میں ظاہر ہوتی ہے: (۱) انسان کی زبان میں، اس طرح کہ ربّ تَعَالٰی کا خوف اس کی زبان کو جھوٹ، غیبت، فضول گوئی سے روکے گا اور اسے ذکرُاللہ، تلاوتِ قرآن اور علمی گفتگو میں مشغول رکھے گا۔(۲)اس کے شکم میں، اس طرح کہ وہ اپنے پیٹ میں حرام کو داخل نہ کرے گا اور حلال چیز بھی بقدرِ ضرورت کھائے گا۔(۳)اس کی آنکھ میں، اس طرح کہ وہ اسے حرام دیکھنے سے بچائے گا اور دنیا کی طرف رغبت سے نہیں بلکہ حصولِ عبرت کے لیے دیکھے گا۔(۴)اس کے ہاتھ میں، اس طرح کہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھ کو حرام کی جانب نہیں بڑھائے گا بلکہ ہمیشہ اِطاعت الٰہی میں استعمال کرے گا۔ (۵) اس کے قدموں میں، اس طرح کہ وہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں نہیں اٹھائے گا بلکہ اس کے حکم کی اِطاعت کے لیے اٹھائے گا۔(۶)اس کے دل میں، اس طرح کہ وہ اپنے دل سے بغض، کینہ اور مسلمان بھائیوں سے حسد کرنے کو دور کردے اور اس میں خیرخواہی اور مسلمانوں سے نرمی کا سلوک کرنے کا جذبہ بیدار کرے۔ (۷)اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں، اس طرح کہ وہ فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے لیے عبادت کرے اور رِیاء ونفاق سے خائف رہے۔(۸) اس کی سماعت میں، اس طرح کہ وہ جائز بات کے علاوہ کچھ نہ سنے۔

(5)جہنم کے عذابات پر غوروتفکر کیجئے:جہنم کے عذابات پر غور کرنے کے لیے پانچ فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں: دوزخیوں میں سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اسے آگ کی جوتیاں پہنائی جائیں گی جس سے اس کا دماغ کھولنے لگے گا۔دوزخیوں میں بعض وہ لوگ ہوں گے جن کے ٹخنوں تک آگ ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے زانوؤں تک آگ کے شعلے پہنچیں گے اور بعض وہ ہوں گے جن کی کمرتک ہوگی اور بعض لوگ وہ ہوں گے جن کے گلے تک آگ کے شعلے ہوں گے، اگر اس زرد پانی کا ایک ڈول جو دوخیوں کے زخموں سے جاری ہوگا، دنیا میں ڈال دیاجائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں۔دوزخ کی آگ ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سفید ہوگئی، پھر ہزار سال تک بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی، پس اب وہ نہایت سیاہ ہے،دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں، یہ سانپ ایک بارکسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا اور دوزخ میں پالان باندھے ہوئے خچروں کی مثل بچھو ہیں تو اُن کے ایک بار کاٹنے کا درد چالیس سال تک رہے گا۔

(6)خوفِ خدا کے بارے میں بزرگانِ دِین کے اَحوال کا مطالعہ کیجئے: چند اَحوال پیش خدمت ہیں:حضرت سیدنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے اُن کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی۔ ایک دن حضرت سیدنا داود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں کو نصیحت کرنے اور خوفِ خدا دِلانے کے لیے گھرسے باہر تشریف لائے تو آپ کے بیان میں اس وقت چالیس ہزار لوگ موجود تھے، جن پر آپ کے پُراَثر بیان کی وجہ سے ایسی رقت طاری ہوئی کہ تیس ہزار لوگ خوفِ خدا کی تاب نہ لاسکے اور انتقال کر گئے۔ حضرت سیدنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے۔ حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ مسلسل رونے کی وجہ سے آپ کی اکثر بینائی رخصت ہوگئی۔ایک بار حضور نبی رحمت شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک جنازے میں شریک تھے، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اَقدس (مبارک آنکھوں)سے نکلنے والے آنسوؤں سے مٹی نم ہوگئی، پھر فرمایا: اے بھائیو! اس قبر کے لیے تیاری کرو۔

حضرت سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک بار بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: جب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے، میری آنکھیں اس وقت سے کبھی اس خوف کے سبب خشک نہیں ہوئیں کہ مجھ سے کہیں کوئی نافرمانی نہ ہوجائے اور میں جہنم میں نہ ڈال دیا جاؤں۔

(7)خود اِحتسابی کی عادت اپناتے ہوئے فکرمدینہ کیجئے:اپنی ذات کا محاسبہ کرلینے کی عادت اپنا لینے سے بھی خوفِ خدا کے حصول کی منزل پر پہنچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے، فکرمدینہ کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ انسان اُخروی اعتبار سے اپنے معمولات زندگی کا محاسبہ کرے، پھر جو کام اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں، انہیں درست کرنے کی کوشش میں لگ جائے اور جو اُمور اُخروی اِعتبار سے نفع بخش نظر آئیں، اِن میں بہتری کے لیے اِقدامات کرے، مدنی اِنعامات پر عمل کرے۔

(8)خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اِختیار کیجئے: ایسے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی بندے کے دل میں خوفِ خدا بیدار کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے، مثال کے طور پر اگر آپ کو کبھی کسی میت والے گھر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو وہاں کی فضا پر چھائی ہوئی اداسی دیکھ کر کچھ دیر کے لئے آپ بھی غمگین ہوجائیں گے اور اگر کسی شادی پر جانے کا اتفاق ہوا ہو تو خوشیوں بھرا ماحول آپ کو بھی کچھ دیر کے لئے مسرور کر دے گا ۔بالکل اسی طرح اگر کوئی شخص غفلت کا شکارہو کر گناہوں پر دلیرہوجانے والے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے گا ،تو غالب گمان ہے کہ وہ بھی بہت جلد انہی کی مانندہوجائے گا اور اگر کوئی شخص ایسے لوگوں کی صحبت اختیارکرے گا جن کے دل خوفِ خدا سے معمور ہوں، اُن کی آنکھیں اللہ تَعَالٰی کے ڈر سے روئیں تو امید ہے کہ یہی کیفیات اس کے دل میں بھی سرایت کر جائیں گی ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَل (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ۲۰۳تا۲۰۹)


خوفِ خدا وہ باطنی کیفیت ہے جو دل کو بیدار، نیت کو خالص اور عمل کو سنوار دیتی ہے۔ یہ خوف مایوسی یا گھبراہٹ کا نام نہیں بلکہ اللہ کی عظمت، اس کی بارگاہ میں جواب دہی اور اس کی ناراضی سے بچنے کے شعور کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے امت کی تربیت میں خوفِ خدا کو مرکزی مقام عطا فرمایا، کیونکہ یہی خوف انسان کو گناہ سے روکتا، نفس کو قابو میں رکھتا اور بندے کو تقویٰ کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔ جس دل میں خوفِ خدا جاگزیں ہو جائے وہ تنہائی میں بھی گناہ سے ڈرتا اور مجمع میں بھی حق پر قائم رہتا ہے۔

تقویٰ اور خوفِ خدا کی جامع نصیحت:رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ یعنی جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔ (سنن الترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث نمبر: 1987)

یہ مختصر مگر ہمہ گیر فرمان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ خوفِ خدا کسی خاص وقت یا جگہ سے وابستہ نہیں بلکہ مومن کی پوری زندگی پر محیط ہونا چاہیے، کیونکہ یہی احساس اسے ہر حال میں گناہ سے بچاتا ہے۔

خوفِ خدا اور آنسوؤں کی فضیلت:رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَعَيْنٌ بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ یعنی دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی، اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔ (سنن الترمذی، کتاب فضائل الجهاد، حدیث نمبر: 1639)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خوفِ خدا دل میں اتر جائے تو وہ آنسوؤں کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے اور یہی کیفیت نجات کا سبب بن جاتی ہے۔

تنہائی میں خوفِ خدا کی قدر:رسولِ اکرم ﷺ نے ان سات خوش نصیبوں کا ذکر فرمایا جنہیں قیامت کے دن عرش کا سایہ نصیب ہوگا، ان میں ایک وہ شخص بھی ہے: وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ یعنی وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ (صحیح البخاری، کتاب الاذان، حدیث نمبر 660؛ صحیح مسلم، کتاب الزكاة، حدیث نمبر 1031)

یہ تنہائی کا خوف دراصل اخلاص کی بلند ترین صورت ہے، جہاں بندہ لوگوں سے نہیں بلکہ صرف اپنے رب سے ڈرتا ہے۔

خوفِ خدا اور حقیقی دانش:رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا یعنی اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ۔ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، حدیث نمبر: 6486؛ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، حدیث نمبر: 2359)

اس فرمان میں حضور ﷺ نے آخرت کے حقائق کی طرف اشارہ فرما کر خوفِ خدا کو حکمت اور دانائی کا لازمی نتیجہ قرار دیا ہے۔

خوفِ خدا کا قرآنی معیار:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ

ترجمۂ کنز الایمان: اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔(سورۃ فاطر: 28)

یہ آیت بتاتی ہے کہ خوفِ خدا جہالت نہیں بلکہ معرفت کا ثمر ہے، اور جتنا علم بڑھتا ہے اتنا ہی دل میں خشیت گہری ہوتی جاتی ہے۔خوفِ خدا کی یہ نبوی ترغیبات انسان کے دل میں ذمہ داری، آنکھوں میں حیا اور اعمال میں سنجیدگی پیدا کرتی ہیں۔ جو شخص اس خوف کو اپنا زادِ راہ بنا لیتا ہے وہ دنیا کی لغزشوں سے محفوظ اور آخرت کی تیاری میں مصروف رہتا ہے۔ یہی خوف اسے رب کے قریب، گناہ سے دور اور تقویٰ کے اعلیٰ مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ ایسا کردار دیکھ کر ہی دلوں میں رشک پیدا ہوتا ہے کہ یہ زندگی محض ظاہری دینداری نہیں بلکہ باطن کی وہ روشنی ہے جو چراغِ نبوت ﷺ سے جلائی گئی ہو۔


خوفِ خدا وہ عظیم دولت ہے جو بندے کو گناہوں سے روکتی، نیکیوں کی طرف مائل کرتی اور آخرت کی تیاری کا جذبہ عطا کرتی ہے۔ نبیِّ کریم ﷺ نے اپنی امت کو بارہا اللہ پاک کے خوف کی ترغیب دلائی، کیونکہ خوفِ خدا دل کی اصلاح اور اعمال کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ خوفِ خدا مایوسی نہیں بلکہ نجات کا راستہ ہے۔

سرکار مدینہ راحت قلب و سینہ فیض گنجینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ خَافَ اللهَ أَخَافَ، اللهُ مِنْهُ كُلَّ شَيْءٍ، وَمَنْ لَمْ يَخَفِ اللهَ خَافَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ ہر چیز کو اس سے ڈرا دیتا ہے،اور جو اللہ سے نہیں ڈرتا، اللہ اسے ہر چیز سے ڈرا دیتا ہے۔(شعب الايمان کتاب: الخوف من الله حدیث نمبر: 795)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ خوفِ خدا انسان کو باوقار، مضبوط اور بے خوف بنا دیتا ہے، جبکہ اللہ سے بے خوفی ہر طرح کے خوف کو جنم دیتی ہے۔

ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے خوف خدا کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًااگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو کم ہنستے اور زیادہ روتے۔(صحیح بخاری کتاب: الرقاق ،باب قول النبی ﷺ لو تعلمون ما أعلم، حدیث نمبر: 6486)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ یہ حدیث دنیا کی غفلت کو توڑ کر آخرت کی جواب دہی کا احساس بیدار کرتی ہے۔

مزید خوف خدا کی ترغیب دلاتے ہوئے اللہ کے آخری نبی ﷺ نے فرمایا :عَيْنَانِ لَا تَمَسُّهُمَا النَّارُ: عَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی،ان میں سے ایک وہ آنکھ ہے جو اللہ کے خوف سے روئی۔(جامع ترمذی، کتاب الزهد، باب: ما جاء فی البكاء من خشیۃ الله،حدیث نمبر: 1633)

پیارے پیارے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا کے آنسو جہنم سے نجات کا مضبوط ذریعہ ہیں۔ اللہ پاک ہمیں بھی خوف خدا میں رونے والی آنکھیں عطاء فرمائے آمین۔ آئیے مزید پڑھتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے خوف خدا کے حوالے سے کیا ارشاد فرمایا چنانچہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :لَا تَمَسُّ النَّارُ عَيْنًا بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَلَا عَيْنًا بَاتَتْ تَحْرُسُ فِي سَبِيلِ اللَّهِجہنم کی آگ اس آنکھ کو نہ چھوئے گی جو اللہ کے خوف سے روئی،اور نہ اس آنکھ کو جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی۔(سنن ترمذی، کتاب: فضائل الجهاد،حدیث نمبر: 1639) (مشکاة المصابیح،کتاب: الجهاد،حدیث نمبر: 3828)

مزید حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وَعِزَّتِي لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَلَا أَمْنَيْنِ، إِنْ خَافَنِي فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِاللہ پاک فرماتا ہے:میری عزت کی قسم! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کرتا،اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرا تو قیامت میں اسے امن عطا کروں گا۔(المعجم الكبير للطبرانی ،حدیث نمبر: 11209)

میرے پیارے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ دنیا میں خوفِ خدا، آخرت کے دائمی امن کی ضمانت ہے۔

خوف خدا کے فوائد : گناہوں سے حفاظت،دل کی نرمی،عبادت میں خشوع،آخرت کی فکر،اللہ پاک کی رضا۔آئیے مزید ہم پڑھتے ہیں کہ کس طرح سے خوف خدا حاصل ہو سکتا ہے :

قرآنِ کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا،قبر و آخرت کو یاد کرنا،نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا،موت کو کثرت سے یاد کرنا،گناہوں پر فوراً توبہ کرنا۔

پیارے اسلامی بھائیو!ہم نے خوفِ خدا کی اہمیت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں پڑھا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صرف پڑھنے والے نہ بنیں بلکہ عمل کرنے والےبھی بنیں۔ آئیے! ہم سب سچی توبہ کریں، اپنے گناہوں پر نادم ہوں اور پختہ ارادہ کریں کہ آئندہ زندگی کو اللہ پاک کی نافرمانی سے بچائیں گے۔آئیے! دل ہی دل میں یہ نیت کریں: ہم نمازوں کی پابندی کریں گے،نگاہوں، زبان اور دل کی حفاظت کریں گے،والدین کی فرمانبرداری کریں گے،اور ہر حال میں اللہ پاک سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاریں گے۔

اے اللہ پاک!ہمیں اپنا حقیقی خوف عطا فرما،ہماری غفلت کو دور فرما،ہمارے دلوں کو اپنی یاد سے زندہ فرما،اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیاب فرما۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

خوفِ خدا (تقوی) اسلام کی روح اور ایمان کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث میں جس صفت کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے، جو انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکیوں پر آمادہ کرتا ہے۔ نبی کریم صلى الله علیہ وسلم کا ہر قول، ہر فعل اور ہر تربیتی انداز اس بات کی عملی تصویر تھا کہ بندہ اپنے رب کے حضور جواب دہ ہونے کا احساس زندہ رکھے۔ یہی خوفِ خدا انسان کو حقیقی بندگی کے مقام تک پہنچاتا ہے۔

(1)گناہ جھڑتے ہیں:حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالی کے خوف کے سبب کسی آدمی کا جسم کپکپانے لگتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں، جس طرح خشک درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔(الترغيب والترھیب،جلد3 ،صفحہ521، حدیث5025، مکتبہ شبیر برادرز)

(2)دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا:مصطفی جان رحمت صلى الله تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: الله پاک ارشاد فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہ کروں گا۔ جو مجھ سے دنیا میں بے خوف رہے گا اسے قیامت کے دن خوف زدہ کروں گا اور جو دنیا میں مجھ سے خوف زدہ رہے گا اسے روز قیامت امن عطا کروں گا۔(الزھد لابن المبارک،باب ماجاءفی الخشوع والخوف ، ص50 ،حدیث157)

(3)خوف حکمت اور دانائی:حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صلی اللہ تعالى علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمايا: اللہ عزوجل کا خوف حکمت و دانائی کی بنیاد ہے۔(شعب الايمان،باب فی الخوف من اللہ ،جلد 1،ص 470،حدیث744)

(4)مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو:حضور نبی کریم رؤف رحیم صلى الله تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت سید نا عبد الله بن مسعود رضی الله تعالى عنہ سے ارشاد فرمایا: اگر تم مجھ سے ملنا چاہتے ہو تو میرے بعد بھی اللہ تعالی سے بہت ڈرتے رہنا۔(احیاءالعلوم، جلد4،ص472،مکتبۃ المدینہ)

(5)جہنم حرام فرما دیتا ہے: جس بندہ مومن کی آنکھوں سے اللہ کے خوف کے سبب مکھی کے پر برابر بھی آنسو نکل کر اس کے چہرے تک پہنچا تو اللہ اس بندے پر دوزخ کو حرام فرما دیتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد،باب الحزن والبکاء،جلد1،صفحہ446،حدیث4197)

حضرت سیدنا یحییٰ بن معاذرازی رحمۃ الله علیہ سے پوچھا گیا کل بروز قیامت مخلوق میں سے سب سے زیادہ امن میں کون ہو گا؟فرمایا : جو آج دنیا میں سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والا ہے۔(احیاءالعلوم، جلد 4، صفحہ474،مکتبۃ المدینہ)

خوفِ خدا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا بنیادی ستون ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قول و عمل دونوں سے امت کو یہ سبق دیا کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور آخرت کی جواب دہی کا احساس انسان کو گناہوں سے بچاتا اور نیکی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔ آج اگر مسلمان فرد اور معاشرہ خوفِ خدا کو اپنائے تو اخلاقی بگاڑ، ظلم اور بے راہ روی کا خاتمہ ممکن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور حقیقی کامیابی حاصل کریں۔