اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر
پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو ہدایت کا سرچشمہ بنایا اور
اس قرآن کی عملی تشریح و توضیح کے لیے نبی کریم حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ قرآن
کے احکام کو سمجھنے اور ان پر صحیح طور پر عمل کرنے کے لیے حدیث و سنت کی رہنمائی ضروری
ہے۔ اسی لیے مطالعۂ حدیث ہر مسلمان کے لیے بے حد ضروری اور اہم ہے۔
حدیث کی تعریف:حدیث سے مراد نبی کریم ﷺ
کے اقوال، افعال اور تقریر ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ قرآنِ مجید
میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے، جس سے حدیث
کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
(1)قرآن و حدیث کا باہمی تعلق:قرآنِ
مجید میں بہت سے احکام اجمالی طور پر بیان ہوئے ہیں، جن کی وضاحت حدیث کے ذریعے
ہوتی ہے۔ مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کے طریقے قرآن میں مختصر ہیں، مگر ان کی
مکمل تفصیل ہمیں حدیث سے ملتی ہے۔ اگر حدیث کو نظر انداز کر دیا جائے تو قرآن پر
صحیح عمل ممکن نہیں رہتا۔
(2)مطالعۂ حدیث کی دینی ضرورت:مطالعۂ
حدیث انسان کو نبی کریم ﷺ کی سنت سے آگاہ کرتا ہے، جو ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری
ہے۔ حدیث کے بغیر نہ عقائد کی درست تفہیم ممکن ہے اور نہ ہی عبادات کا صحیح طریقہ
معلوم ہو سکتا ہے۔
(3)حدیث کی حیثیت قرآن کی روشنی میں:قرآنِ مجید میں
متعدد مقامات پر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا گیا ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ
اللّٰهَۚ ترجمہ کنزالایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے
اللہ کا حکم مانا۔ (سورۃ النساء: 80)
اسی طرح فرمایا:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ
فَانْتَهُوْاۚ ترجمہ کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو ۔(سورۃ الحشر: 7)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ حدیث و سنت کو نظر انداز
کرنا قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔
قرآن
کی تشریح میں حدیث کی ضرورت:قرآنِ مجید میں بہت سے احکام
اجمالی طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر نماز کے بارے میں صرف یہ حکم ہے: وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ ترجمہ
کنزالأیمان: اور نماز قائم رکھو۔
(سورۃ البقرہ:
43)
لیکن نماز کے اوقات، رکعات، طریقۂ ادائیگی اور شرائط کی
تفصیل ہمیں احادیث سے ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّيترجمہ:نماز
اس طرح پڑھو جیسے تم مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔
(صحیح بخاری:
کتاب الأذان،حدیث نمبر: 631)
یہی حال روزہ، زکوٰۃ اور حج کا ہے، جن کی مکمل عملی
وضاحت حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔
(4)مطالعۂ حدیث کی دینی اہمیت:مطالعۂ
حدیث ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَطَاعَنِي
فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ترجمہ:جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (صحیح
بخاری: کتاب الاحکام،حدیث نمبر: 7137 ،صحیح مسلم: کتاب الامارہ، حدیث نمبر: 1835)
حدیث کا مطالعہ انسان کو صحیح عقیدہ، درست عبادت اور سنت
کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کہ منکر کے سوا میری
ساری امت جنت میں جائے گی ، عرض کیا گیا منکر کون ہے؟ فرمایا جس نے میری
فرمانبرداری کی جنت میں گیا، جس نے میری نافرمانی کی منکر ہوا۔" (رواہ البخاری،
مشکوة المصابیح ،مراة المناجیح، صفحہ نمبر ۱۴۷،
مطبوعہ قادری پبلشر )
تو ظاہر ہوا کہ احادیث کا علم حاصل کرکے اس پر عمل پیرا
ہونا اللہ کا محبوب بننے بخشش کا ذریعہ حاصل کرنے اور جنت میں داخلے کا بھی سبب
ہے۔
(5)اخلاقی تربیت میں حدیث کا کردار: نبی
کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِترجمہ:مجھے
اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔
(مسند احمد، حدیث
نمبر: 8952 )
احادیث ہمیں سچائی، دیانت، صبر، برداشت، عدل اور رحم دلی
جیسے اوصاف سکھاتی ہیں۔ مطالعۂ حدیث انسان کے کردار کو سنوارتا ہے اور اسے ایک
بہتر انسان بناتا ہے۔
(6)معاشرتی اصلاح میں مطالعۂ حدیث: احادیثِ
نبویہ معاشرتی زندگی کے اصول واضح کرتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِترجمہ:تم
میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔(سنن ترمذی: کتاب المناقب،حدیث
نمبر: 3895 ، سنن ابن ماجہ: کتاب النکاح،حدیث نمبر: 1977 )
(7)سیرتِ نبوی ﷺ کا فہم: حدیث
کے ذریعے ہمیں نبی کریم ﷺ کی عملی زندگی کا ہر پہلو معلوم ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں
فرمایا گیا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں
رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 21)
یہ نمونہ ہمیں احادیث کے ذریعے ہی مکمل طور پر سمجھ میں
آتا ہے۔
(8) حدیث قرآن کی عملی تفسیر ہے:رسول
اللہ ﷺ خود قرآن کا عملی نمونہ تھے:وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ ترجمہ
کنزالأیمان: اے محبوب ہم نے تمہاری طرف یہ یادگار اتاری کہ تم لوگوں سے بیان کر دو۔(النحل:
44)یہ آیت واضح دلیل ہے کہ قرآن کی وضاحت حدیث کے ذریعے ہوگی۔
حدیث بعض قرآنی احکام کو محدود یا مخصوص کرتی ہےمثلاً:قرآن
میں چوری کی سزا بیان ہوئی۔حدیث نے بتایا کہ:کس مقدار پر سزا ہوگی مجبوری اور بھوک
میں سزا لاگو نہیں ہوتی۔
مطالعۂ حدیث قرآن کو سمجھنے، ایمان کو مضبوط کرنے، اخلاق
سنوارنے اور زندگی کو سنت کے مطابق ڈھالنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ قرآن اور حدیث ایک
دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ جو شخص حدیث سے دوری اختیار کرتا ہے، وہ
درحقیقت قرآن کی روح سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مطالعۂ حدیث کو اپنی
زندگی کا مستقل حصہ بنائے اور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی
حاصل کرے۔آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد قرآنِ مجید
اور حدیثِ رسول ﷺ پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور حدیث نبی کریم
ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریر کا مجموعہ ہے۔ قرآن اصول بیان کرتا ہے جبکہ حدیث ان
اصولوں کی عملی تشریح کرتی ہے۔ دورِ حاضر میں فکری انتشار، سوشل میڈیا کے فتنوں
اور دینی کم فہمی کے سبب مطالعۂ حدیث کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
قرآنِ مجید سے حدیث کی اہمیت:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا
ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ
فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ
اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷)ترجمہ کنزالایمان: اور
جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو اور اللہ سے
ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔(الحشر:7)
یہ آیت واضح دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کے اوامر و نواہی کی
پیروی لازم ہے، اور یہی تعلیمات ہمیں حدیث کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:ترکت فیکم امرین لن تضلوا ما
تمسکتم بہما: کتاب اللہ و سنتی
ترجمہ: میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں
مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہو گے اللہ کی کتاب اور میری سنت۔(موطا
امام مالک، کتاب القدر، حدیث: 1594 ، مراٰۃ المناجیح، مکتبۃ المدینہ)
ایک اور حدیث میں فرمایا:من رغب عن سنتی فلیس منیترجمہ:
"جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔"( صحیح بخاری، کتاب
النکاح، حدیث: 5063 ، اشعۃ اللمعات، شیخ عبد الحق محدث دہلوی)
دورِ حاضر میں مطالعۂ حدیث کی اہمیت:آج
کے دور میں بدعات، غیر مستند بیانات اور فکری گمراہی عام ہو چکی ہے۔ مطالعۂ حدیث
صحیح عقیدہ کی حفاظت، قرآن کو درست طور پر سمجھنے، اخلاقی اصلاح اور امت میں
اعتدال پیدا کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ نوجوان نسل کے لیے سیرتِ رسول ﷺ بہترین نمونہ
ہے جو حدیث کے بغیر ممکن نہیں۔مطالعۂ حدیث کے بغیر دین کی مکمل سمجھ ممکن نہیں۔
قرآن و حدیث لازم و ملزوم ہیں۔ دورِ حاضر کے فتنوں سے بچنے اور سنتِ رسول ﷺ کو
زندہ رکھنے کے لیے مطالعۂ حدیث نہایت ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حدیثِ رسول ﷺ کو سمجھنے اور اس پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
حدیث کے لغوی معنی، بات چیت ، خبر، گفتگو، کلام اور نئی
بات ہے ۔اصطلاحی معنی : حضور نبی
اکرم ﷺ کے اقوال افعال اور تقریر کو حدیث کہتے ہیں۔
حدیث کی اقسام :حدیث کی مندرجہ ذیل تین اقسام ہیں۔ (1)
حدیث قولی(2) حدیث فعلی(3) حدیث تقریری ۔
حدیث
قولی : وہ تمام تر روایات جس میں نبی کریم ﷺ نے کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو قولی
حدیث کہلاتی ہے۔
حدیث
فعلی : ایسی روایات جن میں نبی کریم ﷺ کے فعل کا تذکرہ ہو حدیث فعلی کہلاتی ہے۔
حدیث
تقریری : ایسی روایت جس میں حضور اکرم ﷺ کے صحابہ کا وہ عمل درج ہو جو آپ ﷺ کے
سامنے کیا گیا ہو اور آپ ﷺ نے اس سے منع نہ فرمایا ہو، حدیث تقریری کہلاتی ہے۔
حدیث
اور سنت میں فرق:
(1) حدیث میں حضور اکرم ﷺ کے اقوال شامل ہوتے ہیں۔
(2)حدیث عام ہے یعنی حدیث کا اطلاق سنت سمیت قول اور فعل
پر کیا جاتا ہے، جب کہ سنت خاص ہے اور اس سے مراد آپ ﷺ کا طریقہ زندگی ہے ۔
حدیث کی
ضرورت اور اہمیت:یہ امر محتاج بیان نہیں
کہ احکام شریعت کا پہلا سرچشمہ قرآن عظیم ہے کہ وہ خدا کی کتاب اور قرآن ہی کی
صراحت کے بموجب رسول خدا کی اطاعت و اتباع بھی ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ بغیر اس
کے احکام الہی کی تفصیلات کا جاننا اور آیاتِ قرآن کا منشا و مراد سمجھنا ممکن نہیں
ہے اس لئے لا محالہ حدیث بھی اس لحاظ سے احکام شرع کا ماخذ قرار پاگئی۔حدیث، رسول
خدا کے احکام و فرامین ان کے اعمال افعال اور آیات قرآن کی تشریحات و مرادات سے
باخبر ہونے کا ایک واحد ذریعہ ہے یہ بات ہر دین دار مسلمان کو معلوم ہے کہ دین کے
اصول و فروع ، عقائد و اعمال سب کی بنیاد قرآن واحادیث ہیں۔ اجماع امت اور قیاس کی
بنیاد بھی قرآن وحدیث ہی پر رکھی جاتی ہے اور اجماع و قیاس بھی قرآن وحدیث کے
فراہم کردہ اصول کے مطابق ہوں تبھی مقبول ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح قرآن کے احکام پر ایمان
لانا اور ان پر عمل پیرا ہونالازم و ضروری ہے اسی طرح حدیث کے احکام پر ایمان لانا
اور ان پر عمل پیرا ہونا لازم و ضروری ہوتا ہے۔ احادیث کے انکار کے بعد قرآن پر ایمان
کا دعویٰ محض دعوی بلا دلیل ہوگا۔ اس لیے کہ قرآن مجید نے متعدد مقامات پر رسول کریم
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع کا حکم دیا ہے۔ کہیں رسول صلی اللہ علیہ
وسلم کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا۔
ارشاد
باری تعالی ہے: مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ
فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہترجمہ
کنز الایمان: جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا ۔ (سورۃالنساء،
آیت: 80)رسولوں کی بعثت کا مقصد ہی یہی قرار دیا کہ ان کی اطاعت کی جائے ۔
بہت سے
وہ احکام ہیں جو قرآن مجید میں واضح طور پر مذکور نہیں ، صرف حضور اقدس صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمائے اور وہ بھی قرآن کی طرح واجب العمل قرار پائے مثلاً:
(1) اذان ، قرآن پاک میں کہیں مذکور نہیں کہ نماز
پنجگانہ کے لیے اذان دی جائے مگر اذان عہد رسالت سے لے کر آج تک اسلام کا شعار رہی
ہے اور رہے گی۔(2) نماز جنازہ کے بارے میں قرآن میں کوئی حکم نہیں مگر یہ بھی فرض
ہے۔ اس کی بنیاد ارشاد رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہی پر ہے۔(3) بیت المقدس کو
قبلہ بنانے کا قرآن میں کہیں حکم نہیں مگر تحویل قبلہ سے پہلے یہی نماز کا قبلہ
تھا یہ بھی صرف ارشاد رسول ہی سے تھا۔(4) جمعہ وعیدین کے خطبے کا کہیں قرآن میں
حکم نہیں مگر یہ بھی عبادت ہے اس کی بنیاد صرف ارشاد رسول ہی ہے اور وہ بھی اس شان
سے کہ اگر اس میں کوئی کوتاہی ہوئی تو کوتا ہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی۔
یہ صرف
اسی بنا پر ہے کہ قرآن کی طرح ارشاد رسول پر بھی اعتقاد و عمل واجب ہے، اس میں بھی
کوتاہی کی وہی سزا ہے جو قرآن کے فرمودات میں کوتاہی کی ہے۔ خود غور کریں، ہمیں کیسے
پتہ چلا کہ قرآن خدا کی کتاب ہے، اس کا ماننا واجب ہے؟ یقیناً جواب یہی ہوگا کہ ہمیں
رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بتانے سے پتہ چلا ۔
اگر
رسول کا قول ہی نا قابل قبول ہو جائے تو کتاب اللہ کا کوئی وزن نہیں رہ جائے گا۔
قرآن کریم میں تمام چیزوں کا بیان ہے مگر ان میں کتنی چیز یں ایسی ہیں جو ہمارے لیے
مجمل اور مبہم ہیں مثلاً عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج کو لے لیجیے۔قرآن
مجید میں ان سب کا حکم ہے۔ مگر کیا قرآن مجید سے ان عبادات کی پوری تفصیل کوئی بتا
سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ قرآن نے عبادت کا حکم دیا اور حدیث سےعبادت کی کیفیت اور ہیئت کا پتہ چلا ہے۔
اصلاحِ
معاشرہ کے لیے اشتغال بالحدیث کی ضرورت:یہ
بات بالکل واضح سی ہے کہ نفوس کی اصلاح سے ہی پورے معاشرے کی اصلاح ہے۔ اس لیے
ہمارے ذاتی، شخصی، خانگی، خاندانی، علاقائی، ملی اور عالمی غرض ہمہ جہت مسائل کی
اصلاح کے لیے ہمیں اپنے پورے معاشرتی نظام میں کسی نہ کسی حد تک اشتغال بالحدیث کی
از حد ضرورتہے۔
حدیث
وسنت سے ناواقفیت اسلامی معاشرہ کے زوال کا سبب:اس
حقیقت پر اسلام او رمسلمانوں کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی حدیث وسنَّت کی کتابوں سے
مسلمانوں کے تعلق اور واقفیت میں کمی آئی اور طویل مدت تک یہ کمی باقی رہی تو داعیوں
اور اخلاق کی تربیت، نفوس کا تزکیہ کرنے والے روحانی مربیوں کی کثرت، دنیا میں زہد
اختیار کرنے اور کسی حد تک سنت پر عمل کرنے کے باوجود اس مسلم معاشرہ میں، جو علوم
اسلامیہ کے ماہرین اور فلسفہ وحکمت کے اساتذہ فن اور ادباء وشعراء سے مالا مال تھا
اوراسلام کے قوت وغلبہ اور مسلمانوں کی حکمرانی میں زندگی گزار رہا تھا، نت نئی
بدعتوں، عجمی رسم ورواج اور اجنبی ماحول کے اثرات نے اپنا تسلط قائم کر دیا، یہاں
تک کہ اندیشہ ہونے لگا کہ وہ جاہل، معاشرہ کا دوسرا ایڈیشن اور اس کا مکمل عکس بن
جائے گا اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیشن گوئی اور حدیث حرف بہ حرف ثابت
ہوئی”لتتبعنَّ سنن من قبلکم، شبراً
بشبر، وذراعاً بذراع“ ( صحیح البخاری، باب ماذکر عن بني إسرائیل، رقم الحدیث3456
)
یعنی
تم پچھلی امتوں کے راستوں پر قدم بہ قدم چلو گے۔ اس وقت اصلاح کی آواز خاموش اور
علم کا چراغ ٹمٹمانے لگے گا۔دسویں صدی ہجری میں ہندوستان کے دینی حالات اور
مسلمانوں کی زندگی کا جائزہ لیجیے، جب کہ برصغیر ہند کے علمی دینی حلقوں کا حدیث
شریف اور سنت کے صحیح مآخذ ومراجع سے تعلق تقریباً منقطع ہو گیا تھا، علمِ دین کے
مراکز اور حجاز ویمن، مصروشام کے ان مدارس سے جہاں حدیث شریف کا درس ہوتا تھا، کوئی
رابطہ نہ تھا اور کتب فقہ، اصول اور ان کی شروح اورفقہی باریکیوں اور موشگافیوں
اور حکمت وفلسفہ کی کتابوں کا عام چلن تھا، بہ آسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح
بدعتوں کا دور دورہ تھا، منکرات عام ہو گئے تھے اور عبادتوں اور تقرب الی الله کی
کتنی نئی شکلیں اور نئے طریقے ایجاد کر لیے گئے تھے ۔(حدیث کا بنیادی کردار
ص31،32)
محمد
فاروق (درجہ سابعہ جامعۃ المدينہ شمع مدینہ دھوراجی ، کراچی،پاکستان)
قرآنِ کریم جس طرح ہمارے لیے حجت ہے، اسی طرح حدیثِ نبوی
ﷺ بھی دینِ اسلام کا بنیادی ماخذ ہے۔ قرآنِ کریم نے خود حضور اکرم ﷺ کے فرامین اور
آپ کی اتباع کو لازم قرار دیا ہے۔ لہٰذا جو شخص حدیث کو نظر انداز کرتا ہے، وہ
درحقیقت قرآنِ کریم کی تعلیمات سے بھی انحراف کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ
حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان:بے شک تمہارے لیے رسول اللہ کی پیروی
بہترین نمونہ ہے۔(سورۃ الاحزاب: 21)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ
امت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہمیں سیرتِ مصطفی ﷺ میں ملتی
ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں، خواہ وہ عبادات ہوں یا معاملات، ہمیں رہنمائی اسوۂ
رسول ﷺ سے حاصل ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی دراصل اللہ تعالیٰ کے حکم کی
نافرمانی ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ
مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-ترجمہ
کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز
رہو ۔ (سورۃ الحشر: 7)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے جب سوال
کیا گیا کہ کن علوم میں مہارت حاصل کرنی چاہیے تو آپ نے فرمایا:جو شخص اصولِ فقہ
اور اصولِ حدیث میں مہارت حاصل کر لے، وہ گمراہی سے محفوظ رہتا ہے۔( ملفوظات اعلیٰ
حضرت ،صفحہ: 37)
یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ جب قرآنِ کریم مکمل کتاب ہے
تو حدیث کی کیا ضرورت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ قرآنِ کریم کامل ہے، مگر اس کی
تشریح و توضیح کے لیے ایک معلم کی ضرورت ہے، اور وہ معلم خود رسول اللہ ﷺ ہیں۔
حضور ﷺ کے سمجھانے کو ہی حدیث کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ
لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْترجمہ کنزالعرفان:اور اے محبوب!
ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن نازل فرمایا تاکہ تم لوگوں کے لیے بیان کر دو جو ان کی
طرف نازل کیا گیا ہے۔(سورۃ النحل: 44)
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ سنت اور حدیث کو اختیار کرنا
ناگزیر ہے۔ منکرینِ حدیث بھی عملاً سنت کو مانتے ہیں کیونکہ نماز کی رکعات، زکوٰۃ
کا نصاب، حج کے طریقے اور دیگر کئی احکام قرآن میں تفصیل سے موجود نہیں بلکہ حدیث
سے ثابت ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوشحال کرے
جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا، سمجھا اور آگے پہنچایا۔( مشکوٰۃ شریف، کتاب
العلم، حدیث نمبر: 214)
احادیثِ نبویہ کی حفاظت کا کام عہدِ رسالت سے شروع ہو
چکا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احادیث کو یاد بھی کیا اور تحریر بھی کیا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ
اور دیگر صحابہ ہزاروں احادیث کے حافظ تھے۔
حدیث ہی سے ہمیں معرفتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے، عبادات کا
صحیح طریقہ معلوم ہوتا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی ملتی ہے۔ اگر قرآن
دماغ کی حیثیت رکھتا ہے تو حدیث دل کی حیثیت رکھتی ہے، اور ان دونوں کے بغیر مسلمان
کی زندگی نامکمل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَترجمہ
کنز الایمان:اور وہ انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے۔(آلِ عمران: 164)
یہاں حکمت سے مراد حدیثِ نبوی ﷺ ہے، جو دینِ اسلام کی
روح ہےحدیث مسلمانوں کی زندگی کا معیار اور مصلحین اُمّت کی تربیت گاہ حدیث نبوی ایک
ایسا صحیح میزان ہے جس میں ہر دور کے مصلحین ومجددین اس امت کے اعمال وعقائد،
رحجانات وخیالات کو تول سکتے ہیں اور امت کے طویل تاریخی وعالمی سفر میں پیش آنے
والے تغیرات وانحرافات سے واقف ہو سکتے ہیں، اخلاق واعمال میں کامل اعتدال وتوازن
اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک قرآن وحدیث بیک وقت سامنے نہ رکھے جائیں، اگر
حدیث نبوی کا وہ ذخیرہ نہ ہوتا جو معتدل، کامل ومتوازن زندگی کی صحیح نمائندگی
کرتا ہے اور وہ حکیمانہ نبوی تعلیمات نہ ہوتیں اور یہ احکام نہ ہوتے جن کی پابندی
رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اسلامی معاشرہ سے کرائی تو یہ امت افراط وتفریط
کا شکار ہو کر رہ جاتی اور اس کا توازن برقرار نہ رہتا اور وہ عملی مثال نہ موجود
رہتی، جس کی اقتدا کرنے کی خدا تعالیٰ نے اپنے فرمان میں ترغیب دی ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ لکھا اور بیان کیا،
اللہ پاک اسے اپنی بارگاہِ اقدس میں قبول فرمائے۔ آمین، بجاہِ خاتمُ النبیین ﷺ۔
دین اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد دو اہم
ماخذ پر قائم ہے، قرآن مجید اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ جس طرح قرآن پاک
اسلامی تعلیمات کا پہلا اہم بنیادی مصدر ہے، اسی طرح احادیث رسول کو بھی اہمیت
حاصل ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم درحقیقت
قرآن پاک کی عملی تفسیر و تشریح کا درجہ رکھتی ہیں۔ دور حاضر میں جہاں بے شمار
فتنے سر اٹھائے ہوئے ہیں، اور طرح طرح سے اسلام کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں مصروفِ
عمل ہیں وہیں اسلام کے اس اہم ماخذ یعنی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی
نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بعض لوگ سرے سے ہی احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار
کرتے ہوئے اسے ناقابل حجت قرار دینے کی ناکام سعی کر رہے ہیں تو بعض تحکیم کے
اصولوں کو پامال کرتے ہوئے صحیح یا حسن درجہ کی احادیث کو ضعیف کہنے میں شرم محسوس
نہیں کرتے اور ستم بلائے ستم تو یہ کہ ضعیف کو اصلا کسی شئے میں قابل حجت نہیں
مانتے حتی کہ فضائلِ اعمال میں بھی ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔ نیز بعض وہ ہیں جو
موضوع کو بے دھڑک بغیر بیانِ حکم وضع کے بیان کرکے عوام کی توجہ کا مرکز بننے کی
کوشش کرتے ہیں۔
احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹ بھرے منکر شخص
کے متعلق نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرما
دیا تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آگاہ ہو کہ مجھے
قرآن بھی دیا گیا اور اس کے ساتھ اس کا مثل بھی خبردار قریب ہے کہ ایک پیٹ بھرا
اپنی مسہری پر کہے کہ صرف قرآن کو تھام لو اس میں جو حلال پاؤ اسے حلال جانو اور
جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو حالانکہ رسول اﷲ کا حرام فرمایا ہوا ویسا ہی حرام ہے
جیساکہ اﷲ کا حرام فرمودہ۔ (مشکاۃ المصابیح جلد:1 باب حدیث: 163)
جس طرح ان احکام شرعیہ پر عمل ضروری ہے جو قرآن میں اللہ
پاک نے بیان فرمائی اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکام شرعیہ
پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ یاد رہے کہ احادیث شریفہ کا انکار قرآن کا انکار ہے کیونکہ
احادیث قرآن کی تفسیر و توضیح کرتی ہیں جب اسی کو ناقابل حجت قرار دیا جائے گا تو
کونسا ایسا ذریعہ ہے جس سے درست فھم قرآن ہوسکے، یقینا یہ انکار ہوائے نفس کی طرف
لے جائے گا اور اپنی من مانی شریعت بیان کرنے کو دعوت دے گا جو کہ منکرین احادیث
کو مقصود ہے۔
میرا کلام کلام اللہ کی تفسیر ہے:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا
نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰہ ترجمہ
کنز الایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز
رہو اور اللہ سے ڈرو۔ (الحشر 59 آیت :7)
وَ
مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ(۳) اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ(۴) ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ
کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔وہ تو نہیں مگر وحی جو اُنھیں کی جاتی ہے۔
مذکورہ آیات و احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
احادیث کے حجت ہونے پر شاہد ہیں اور حدیث کی اہمیت کو ہمارے سامنے واضح کرتی ہیں۔
اسلام میں حدیث کی ضرورت اور اہمیت بے شمار ہے، یہ قرآن
کے بعد دین کا دوسرا بنیادی ماخذ ہے جو مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں مکمل
رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔ حدیث کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ، عبادت کی تفصیلات جاننا
اور اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ عمل کو سمجھنا نا ممکن ہے
، یہ دین اسلام کی روح ، حکمت اور عملی نمونہ ہے جو ہمیں گمراہی سے بچاتی ہے اور
اطاعت رسول کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا راستہ ملتا ہے بغیر رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے اللہ تعالیٰ عمل قبول نہیں کرتا جبکہ
اطاعت رسول کرنے والے سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور اس کے اعمال قبول کرتا ہے ۔
جس طرح قرآن کریم ہمارے لئے حجت ہے اسی طرح حدیث بھی حجت ہے۔قرآن کریم کی رو سے
حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فرمان کی کیا حیثیت اور اہمیت بے کچھ آیت
سے جائزہ لیتے ہیں :
(1) قرآن کریم کے شارح اور مفسر:قرآن
مجید میں جہاں اجمال ہے حدیث اس اجمال کا بیان ہے جیسے عبادت کا طریقہ اور دیگر
احکامات کی تشریح : قرآن میں جگہ جگہ اَقِیْمُوا الصَّلٰوة کا اجمالی بیان ہے جس کی تشریح
حدیث رسول نے فرمائی ۔ارشاد نبوی ہے: کہ اس طرح نماز پڑھوں جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے
ہو ۔ (صحیح البخاری حدیث 259)
(2) اسوۃ حسنہ : نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ
علیہ وآلہ وسلم کی زندگی تمام امت کیلئے رہنمائی کا ذریعہ ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ
ہے کہ:لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ
رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان: بےشک تمہیں
رسول اللہ کی
پیروی بہتر ہے۔(الاحزاب:21)
معلوم ہوا کہ حقیقی طور پر کامیاب زندگی وہی ہے جو
تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نقش ِقدم پر
ہو، اگر ہمارا جینا مرنا، سونا جاگنا حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے نقش ِقدم پر ہو جائے تو ہمارے سب کام عبادت بن جائیں گے۔
(3) اتباع رسول:اتباع رسول اللہ صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی نشانی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور قرآن
پر ایمان لانے والوں کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کا حکم
دیا ہے یعنی ایمان کی تکمیل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی
اتباع سے ہوتی ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ:
فَاٰمِنُوْا
بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ
كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۱۵۸)
ترجمہ کنزالایمان : تو ایمان
لاؤ اللہ اور اس کے رسول بے پڑھے غیب بتانے والے پر کہ اللہ اور اُس کی باتوں پر ایمان
لاتے ہیں اور ان کی غلامی کرو کہ تم راہ پاؤ ۔(الاعراف:158)
(4) رسول اللہ کی نافرمانی:اللہ
تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کرنے کو اپنے حکم
کی خلاف ورزی قرار دیا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا
نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ
الْعِقَابِۘ(۷) ترجمہ
کنزالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز
رہو اور اللہ سے ڈرو بےشک اللہ کا عذاب سخت ہے ۔(الحشر:7)
ایک معنی یہ ہے
کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں جو حکم دیں
اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے اور جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔ مزید
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ کی مخالفت نہ کرواور ان کے حکم کی تعمیل میں سستی نہ کرو، بیشک اللہ
تعالیٰ اسے سخت عذاب دینے والاہے جو رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرے۔
(5) اطاعت رسول فرض ہے: اللہ
تعالیٰ نے اہل ایمان سے مخاطب ہوکر جہاں اپنی اطاعت کو لازم قرار دیا وہیں اپنے پیارے
رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت بھی لازم قرار دی ۔اس لئے اگر کوئی
قرآن پر ایمان رکھے مگر حدیث کا انکار کر دے تو یہ حکم الہٰی سے روگردانی ہے ۔ جیساکہ
ارشاد باری تعالیٰ:
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ ترجمہ
کنز الایمان: اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا ۔(النساء:59)
یہاں آیت میں رسول ص ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ
رسول ص ﷺ کی اطاعت اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی اطاعت ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نورص ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی
اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ
عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی۔ (صحیح بخاری،حدیث،2957)
حضور سیدُ المرسلین ص ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری فرض ہے،
قرآنِ پاک کی متعدد آیات میں آپ ص ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا بلکہ رب تعالیٰ نے
آپ ص ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا اورا س پر ثواب عظیم کا وعدہ فرمایا اور
تاجدارِ رسالت ص ﷺ کی نافرمانی پرعذاب جہنم کا مژدہ سنایا ،لہٰذا جس کام کا آپ ص
ﷺ نے حکم فرمایا اسے کرنا اور جس سے منع فرمایا اس سے رک جانا ضروری ہے۔ان تمام آیات
و احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا دارومدار رسول اکرم صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے میں ہے اور قرآن کے معنی
و مفہوم کو سمجھنا احادیث سے ممکن ہے لیکن جو احادیث قرآن کے متضاد ہو۔ ان میں تطبیق
دی جائے گی ۔تمام اہل ایمان کو چاہیے کہ اپنی زندگی کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ
وآلہ وسلم کے بتائے گئے طریقے کے مطابق گزاریں بلکہ اہل ایمان پر فرض ہے۔ حضور صلی
اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری نہ کرنا بعض جگہ منافقین کا
فعل قرار دیا ہے ۔ جب تک اہل ایمان احادیث کو مظبوطی سے پکڑے رہیں گے گمراہیت ان
کو کچھ ضرر نہیں پہنچائے گی۔
جیسے ہی احادیث سے دوری ہوگی گمراہیت حد کفر تک لے جائے
گی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو احادیث سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی
سعادت نصیب فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین
محمد
مدثر رضوی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
،لاہور،پاکستان )
قرآن پاک کے بعد بلا شبہ حدیث کریمہ دین اسلام کے ماخذ
میں سے ہیں اور تمام ادوار میں آئمہ کرام قرآن و حدیث کی خدمت سرانجام دیتے آرہے
ہیں اور قران و حدیث انسان کی زندگی کا ضابطہ ہے اور انسان
کی زندگی کا کوئی بھی ایسا لمحہ نہیں جہاں حضور نبی رحمت
شفیع امت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رہنمائی نہ فرمائی ہو کسی جگہ نماز و روزہ کا
بیان ہے اور کسی جگہ حج و زکوۃ کا بیان ہے کسی جگہ تاجر کی خصوصیات کا تذکرہ ہے تو
کسی جگہ خرید و فروخت کے اصول کسی جگہ دنیا کی مذمت بیان کی کسی جگہ آخرت کو
سنوارنے کی ترغیب۔ المختصر قدم با قدم ہر موڑ پر حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ
وسلم کی پیاری باتیں ہماری رہنمائی کے لیے موجود ہیں مگر انسان ابھی بھی خواب غفلت
کا شکار ہے انسان ابھی بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے پر
عمل کرنے سےقاصر ہے:
(1)رسول کا حکم مانو:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ
وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْترجمۂ
کنز العرفان:اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال
باطل نہ کرو۔( پارہ 26، سورۃ محمد آیت نمبر 33)
تفسیر صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ:
اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو۔ اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا کہ کافروں نے
حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت کی اور اس
آیت میں ایمان والوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کرتے رہیں ، چنانچہ اس
آیت میں پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا کہ اے ایمان والو!تم جواللہ تعالیٰ اور اس کے
رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے ہو اور ان کی
اطاعت کرتے ہو اس ایمان اورا طاعت پر قائم رہو ،اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ریاکاری
یا منافقت کرکے اپنے اعمال باطل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا
ہے جو ریا کاری اور نفاق سے خالی ہو اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے
کیا گیا ہو۔
(2)رسول جو کچھ
تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو:وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ
عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-وَ اتَّقُوا اللّٰہ اِنَّ
اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ(۷) ترجمہ کنز العرفان:
اوررسول جو کچھ تمہیں عطا فرمائیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں ،تو تم
باز رہواور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والاہے۔(پارہ 28 ، سورۃ الحشر آیت
نمبر 7)
تفسیر صراط الجنان: اس کا ایک معنی یہ ہے کہ رسولِ کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غنیمت میں سے جو کچھ تمہیں عطا
فرمائیں وہ لے لو کیونکہ وہ تمہارے لئے حلال ہے اور جو چیز لینے سے منع کریں اس سے
باز رہو اور اس کا مطالبہ نہ کرو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمہیں جو حکم دیں اس کی اِتّباع کرو کیونکہ ہر حکم میں
نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت واجب ہے اور
جس سے منع فرمائیں اس سے باز رہو ۔مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو ،نبی کریم
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت نہ کرواور ان کے حکم
کی تعمیل میں سستی نہ کرو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب دینے والاہے جو رسولِ
اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرے۔
(3) رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ پاک کی اطاعت ہیں:حضرت
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملائکہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی تحقیق اس
نے اللہ کی اطاعت کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی
نافرمانی کی ۔(صحیح بخاری ج9، ص93، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)
(4) میں جو حدیث
دوں اسے لے لو:حضرت موسی بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ سے کوئی بات (حدیث)
بیان کروں تو اسے لے لیا کرو میں خدائے عزوجل پر کوئی غلط بات نہیں کہتا ۔(صحیح
مسلم ج4، ص200، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت )
(5)میری اتباع
کرو:حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا تم میری اتباع کرو اللہ پاک کی قسم اگر تم نے ایسا نہ کیا تو
تم گمراہ ہو جاو گے ۔(مسند امام احمد بن حنبل ج33، ص203، موسسۃ الرسالۃ )
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! میں نے آپ کو کچھ آیات کریمہ
اور احادیث مبارکہ پیش کی ہر آیت اور حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کی اطاعت ضروری ہے انہی آیات اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی پاک صلی
اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کتنا ضروری ہے اگر آپ دنیا میں اچھی زندگی بسر
کرنا چاہتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا مطالعہ کرو اور ان پر عمل
کرو کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک چیز کے بارے میں بتایا اللہ
پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک مجھے اور آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے
کی توفیق عطا فرمائے اور مطالعہ حدیث و تفسیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
۔بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
احمد
رضا (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
قرآن و اسلام پر عمل درآمد کا حکم قیامت تک کے لیے ہے
اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ قرآن و اسلام کی تفصیلات کا علم اور اُن پر عمل درآمد
بغیر اطاعت رسول کے ممکن نہیں ہے تو اس ضمن میں ایک دوسرا بنیادی سوال یہ ہے کہ
لغت و عرف اور شریعت و عقل کی رو سے اطاعت ہمیشہ احکام کی کی جاتی ہے۔ پس دریافت
طلب یہ امر ہے کہ آج رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وہ احکام کہاں ہیں جن کی
اطاعت کا قرآن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کیونکہ احکام کے بغیر اطاعت کا مطالبہ سراسر
عقل و شریعت کے خلاف ہے۔ پس جب آج بھی قرآن ہم سے اطاعت رسول کا طالب ہے تو لازماً
آج ہمارے سامنے احکام رسول کا ہونا بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ رسول خدا صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کے احکام سے وہ احکام ہر گز نہیں مراد لیے جاسکتے جو خدا کی طرف سے
قرآن میں وارد ہوتے ہیں۔ کیونکہ احکام خداوندی ہونے کی حیثیت سے ان کا واجب
الاطاعت ہونا ہمارے لیے بہت کافی ہے اس لیے لا محالہ ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن احکام کی اطاعت کا ہمیں حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید میں
وارد شدہ احکام خداوندی کے علاوہ ہیں۔ آیئے مطالعہ حدیث کے متعلق کچھ احادیث ملاحظہ
کرتے ہیں۔
(1) قرآن کی سمجھ کےلیے حدیث کی ضرورت :اس
میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید ایسی جامع کتاب ہے جس میں عقائد و اعمال ، عبادات و
اخلاق ، حلت و حرمت کے احکام اور بنی نوع انسان کی تمام جسمانی اور روحانی ضرورتوں
کے پورا ہونے اور دونوں جہان کی فوز و فلاح حاصل کرنے کے اصول موجود ہیں لیکن یہ
بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ ان اصولوں کی ایسی تشریحات جو پیش آنے والی ضروریات
کے تمام جزئیات پر منطبق ہو جا ئیں قرآن مجید میں مذکور نہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب تک
وہ تشریحات سامنے نہ آئیں اس وقت تک اصول قرآنیہ کے مطابق زندگی بسر نہیں کر
سکتا۔معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو بحیثیت مسلمان ہونے کےلیے حدیث کی اشد ضرورت ہے۔(مقالات
کاظمی ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 240 ، مکتبہ کاظمی پبلی کیشنز )
(2) حدیث پاک کو لکھ کر محفوظ کر لینا : حضرت امام بخاری
رحمتہ اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں کوئی مجھ سے
زیادہ حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا مگر عبداللہ بن عمر و کیونکہ وہ لکھتے تھے اور
میں نہیں لکھتا تھا۔( تاریخ حدیث و تفسیر ، صفحہ نمبر : 21 ، مکتبتہ المدینہ )
(3) احادیث مبارکہ یاد کرنا : فرمان
آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم : میری امت کے لیے جس نے 40 حدیثیں یاد کیں جن
کے ذریعے اللہ پاک انہیں نفع عطا فرمائے گا : جنت کے جس دروازے سے چاہو داخل ہو
جاؤ ۔(اَلْعِلَلُ الْمُتَناھِیَة لِاِبْنِ جَوْزِی ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر :
119 ، حدیث نمبر : 162 )
(4) حدیث پاک کے ذریعے کسی چیز کی تفصیل حاصل کرنا : سعید
بن منصور نے عمران بن حصین سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ حدیث کا مذاکرہ کر رہے تھے،ایک
شخص نے کہا ہمیں اس سب سے معاف رکھئے، اور ہمارے سامنے کتاب اللہ پیش کیجئے ۔
عمران نے فرمایا : تم احمق ہو ،کیا تمہیں کتاب اللہ میں نماز کی تفصیلات ملتی ہیں؟کیا
تمہیں کتاب اللہ میں تفصیلی احکام ملتے ہیں ؟ قرآن نے ان چیزوں کو محکم طریقہ سے بیان
کیا ہے،اور سنت کی تشریح کرتی ہے ۔(حجیت سنت ، صفحہ نمبر : 503 - 504 ، مطبوعہ
ادارہ تحقیقات اسلامی)
اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے
رہیں ۔جس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا رہے گا ۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور
آپ کو احادیث مبارکہ پڑھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آگے پھیلانے
کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم
نفاق عربی
زبان کا لفظ ہے جو نفق سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں چھپانا یا دو رُخی راستہ اختیار
کرنا۔ شرعی اصطلاح میں زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے
انکار کرنا نفاق اعتقادی اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتاہے۔ (باطنی
گناہوں کی معلومات، ص 164)
نفاق ایک بہت
بڑا اخلاقی اور روحانی مرض ہے۔ نفاق کا مطلب ہے کہ انسان ظاہر میں مسلمان ہو لیکن
دل میں ایمان نہ ہو، یا زبان سے کچھ اور کہے اور دل میں کچھ اور رکھے۔ منافق شخص
بظاہر نیک اور دیندار نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ سچائی سے دور ہوتا ہے۔ اسلام نے
نفاق کو سختی سے منع کیا ہے اور منافقین کو خطرناک دشمن قرار دیا ہے کیونکہ وہ
مسلمانوں کے درمیان رہ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔
اللہ قرآن پاک
میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ
خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ
النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ
5، النساء: 142) ترجمہ کنز الایمان: بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب
دیا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گا اور جب نماز کو کھڑے ہوں تو ہارے
جی سے لوگوں کا دکھاوا کرتے ہیں اور اللہ کو یاد نہیں کرتے مگر تھوڑا۔
حدیث کریمہ
میں بیان ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں؛ جب بات کرے جھوٹ
بولے،وعدہ کرے تو خلاف کرے،امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ (بخاری، 1/24، حدیث: 33)
نفاق کے بے
شمار نقصانات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ملاحظہ کیجیے تاکہ ان سے بچا جاسکے
نفاق ایمان کو
کمزور کرتا ہے، معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، اللہ ناراض ہوتا ہے، آخرت میں
سخت عذاب ملتا ہے، منافق کو عزت نصیب نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے
کہ نفاق ایک خطرناک باطنی بیماری ہے جو انسان کے ایمان اور کردار کو تباہ کر دیتی
ہے۔ قرآن و حدیث میں منافقین کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ
وہ سچائی، امانت داری اور اخلاص کو اختیار کرے اور نفاق جیسی بری صفت سے اپنے آپ
کو بچائے تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔
اللہ کریم سے
دعا ہے کہ ہمیں نفاق اور اس جیسی تمام مہلک بیماریوں سے محفوظ فرماے اللہ کریم
اپنا ڈر اور مسلمانوں کا احترام عطا فرمائے۔ آمین
انسان میں جس
طرح کبھی جسمانی امراض پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح بعض باطنی روحانی/ قلبی ( دل کے
امراض )بھی ہوتے ہیں۔ جسمانی امراض انسان کے لیے دنیاوی زندگی میں نقصان کا باعث
بنتے ہیں جبکہ باطنی امراض زیادہ مہلک ہیں کیونکہ یہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے
کا سبب ہیں۔
انہی باطنی
امراض میں سے ایک مرض نفاق بھی ہے۔
نفاق یعنی دل
کا معاملہ ظاہر کے خلاف ہو (ظاہر کچھ اور کرنا اور دل میں معاملہ اسکے برعکس ہو)۔
نفاق کی دو
قسمیں ہیں: نفاق اعتقادی اور نفاق عملی۔
نفاق اعتقادی
نفاق عملی سے زیادہ خطرناک ہے۔ نفاق اعتقادی یعنی زبان سے اسلام کا دعویٰ کرنا اور
دل میں اسلام سے انکار کرنا۔یہ خالص کفر ہے اور ایسوں کے لیے جہنم کا سب سے نچلا
طبقہ ہے۔
اللہ پاک فرماتا
ہے: اِنَّ
الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ
نَصِیْرًاۙ(۱۴۵) (پ 5، النساء: 145) ترجمہ کنز الایمان:
بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ
پائے گا۔
جبکہ نفاق کی
دوسری قسم جس میں کوئی شخص دعویٰ اسلام میں تو سچا ہو لیکن منافقین کی علامات،
عادات اس میں پائی جاتی ہوں ( اخلاق اچھے نہ ہوں ) جیسے جھوٹ ہولنا،جھگڑاکرنا،
وعدہ خلافی وغیرہ۔
قرآن و حدیث
میں نفاق کی شدید مذمت بیان ہوئی ہے اور دونوں طرح کے نفاق سے بچنے کا فرمایا گیا
ہے
یہاں تک کہ
قرآن کریم میں ایک پوری سورت ہے جس کا نام سورہ منافقون ہے۔اسکے آغاز میں بھی
منافقین کا عمل بیان ہوا۔
احادیث مبارکہ
میں بھی نفاق کی مذمت بیان ہوئے اور نفاق کی علامات کو خود سے دور کرنے کا فرمایا
گیا۔ نفاق کی کئی علامتیں ہیں اس لیے احادیث مبارکہ میں مختلف تعداد کے ساتھ بیان
ہوئی ہیں۔
ایک روایت میں
کچھ یوں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: (1) جب بات
کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت
کرے۔ (بخاری،1/24، حدیث: 33)
نفاق کی مذمت
کا اندازہ اس بات سے بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے آقا ﷺ نفاق سے بچنے کے لیے دعا فرمایا
کرتے تھے۔ روایت ہے حضرت ام معبد سے وہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے
سنا: الٰہی میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو دکھلاوے سے اور میری زبان کو جھوٹ
سے اور میری آنکھ کو بددیانتی سے پاک رکھ کیونکہ تو جانتا ہے خیانت والی آنکھ کو اور
اس کو جسے سینے چھپاتے ہیں۔ (مراۃ المناجیح، 4/117)
نفاق آج بھی
پایا جاتا ہے لیکن ہم کسی کو منافق نہیں کہہ سکتے پیارے آقا ﷺ کو اللہ پاک نے علم
عطا فرمایا تھا، لیکن اب اگر کوئی اعتقادی منافق ہو تو وہ کافر ہی ہے جبکہ عملی
نفاق ہو تو اس کو خود سے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
لہذا ہمیں
چاہیے کہ ہم بھی اپنا جائزہ لیں اور نفاق کی اگر کوئی نشانی ہم میں پائی جاتی ہو
تو اس کو خود سے دور کریں جھوٹ حسد کینہ خیانت وغیرہ باطنی امراض سے بچنے کی کوشش
کریں اور اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں اخلاص ہوگا تو نفاق بھی نہیں رہےگا اور
ذکر و درود کی عادت اپنانے اور جسمانی روحانی امراض سے بچنے کے لیے اللہ پاک سے
دعا کو اپنا معمول بنائیں۔
اللہ پاک ہمیں
عمل کی توفیق عطا فرمائے ہمارے ظاہر وباطن کو پاک فرمائے اور اخلاص عطا فرمائے۔
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد
اسماعیل (درجہ خامسہ ماڈل جامعۃُ المدینہ نيو سول لائن، فیصل آباد )
کلامُ اللہ کے بعد کلامِ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا
مرتبہ ہے اور کیوں نہ ہو کہ اللہ پاک کے بعد رسولُ
اللہ کا مرتبہ ہے۔
بعد از
خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جہاں قرآن
کا نور ہے وہاں حدیث کا رنگ ہے، قرآن سمندر ہے حدیث اس کا جہاز، قرآن موتی ہے اور مضامینِ حدیث ان کے غواص، قرآن اجمال
ہے حدیث اس کی تفصیل، قرآن ابہام ہے حدیث اس
کی شرح۔ حضور کی ہر ادا قراٰنی آیات کی تفصیل ہے۔
تیرے کردار کو قرآن کی تفسیر کہتے ہیں
غرضیکہ قرآن و حدیث اسلام کی گاڑی کے دو پہیے ہیں یا
مومن کے دو پَر جن میں سے ایک کے بغیر نہ یہ گاڑی چل سکتی ہے نہ مومن پرواز
کرسکتا ہے۔(دیکھیے:مراٰۃ المناجیح، 1/2 )
حدیث قراٰن کی تفسیر ہے: اللہ پاک نے فرمایا:
﴿وَ
مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُۗ-وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْاۚ-﴾
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں
وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو۔ (پ28، الحشر: 7)
حدیث قراٰن کی تفسیر کیسے ہے؟ ملاحظہ فرمائیں: اللہ پاک نے
قراٰنِ کریم میں بار بار حکم دیا ، نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو، اب سوال یہ بنتا
ہے کہ نماز کیسے قائم کرنی ہے اور کب کرنی ہے
اور زکوٰۃ کتنے مال پر ادا کرنی ہے۔ تو ان سب باتوں کا جواب ہمیں حدیث سے
ہی ملتا ہے۔ اسی طرح قراٰنِ پاک نے خنزیر کا گوشت حرام کیا ہے مگر جو دیگر جانور
حرام ہیں وہ کیسے حرام ہوئے اور کون کون سے حرام ہیں تو اس کا جواب بھی حدیث سے ملتا ہے۔ گویا کہ کتاب اللہ خاموش قراٰن ہے اور
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
کی زندگی شریف بولتا ہوا قراٰن۔
فتنوں سے بچنے کے لیے حدیث کی ضرورت: جس
طرح دور حاضر میں جدت تیزی کے ساتھ آرہی ہے اسی کے ساتھ ساتھ فتنوں میں بھی اضافہ
ہورہا ہے۔ ان فتنوں کی شروعات لبرل ازم سے ہوتی ہے اور الحاد پر جاکر ركتی ہے۔
حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: فَاِنِّي لَاَرَى الفِتَنَ تَقَعُ خِلاَلَ بُيُوتِكُمْ كَوَقْعِ
القَطْر ترجمہ: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عنقریب) تمہارے گھروں میں
فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔ (بخاری،4/431،
حدیث:7060)
سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث سے ہمیں
رہنمائی ملتی ہے کہ فتنوں سے کیسے بچا جائے اور ایمان کو کیسے بچایا جائے۔ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:مَنْ
تَمَسَّکَ بِسُنَّتِیْ عِنْدَ فَسَادِ اُمّتِیْ فَلَہُ اَجْرُ مِائۃِ شَھِیْدٍ ترجمہ: جو
شخص میری امت میں (عملی یا اعتقادی) خرابی پیدا
ہونے کے وقت میری سنت پر عمل کرے گا اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (مشکاۃ المصابیح،1/55، حدیث:176)
اخلاق و کردار کی تکمیل میں حدیث کی ضرورت: حضورِ
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
اخلاقِ عظیمہ کے مالک ہیں اور آپ کی سنت و احادیث کے بغیر انسان اخلاق اور کردار کی
تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ سرکار دو جہاں صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِنَّمَا
بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ صَالِحَ الاَخْلاقِ ترجمہ: مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے
لیے ہی مبعوث کیا گیا۔ (مسند احمد، 14/512، حدیث: 8952)
احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ تکبر سے کیسے بچا جائے
اور کیسےعاجزی اختیار کی جائے، ریاکاری سے کیسے بچا جائے اور اخلاص کیسے پیدا کیا
جائے، دل کو نرم کیسے کیا جائے، غصے پر قابو کیسے کیا جائے؟ احادیث میں گویا ہر
مرض کا علاج ہے۔
اللہ پاک ہمیں اپنے محبوب کے کلام کا مطالعہ کرنے کی اور
اس سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
امام علاؤ
الدین علی بن محمد الخازن فرماتے ہیں کہ منافق وہ ہوتا ہے جو زبان سے مومن ہونے کا
اعتراف کرے اور دل میں اس کا انکار کرے، اور اس کی صبح کسی حالت پر اور شام کسی
حالت پر ہو۔ (تفسیر خازن، 1/152)
نفاق کی دو
اقسام ہیں:
منافق
اعتقادی: وہ
شخص جو زبان سے اسلام کا اظہار کرتا ہو مگر اپنے دل میں کفر چھپائے ہوئے ہو۔
منافق
عملی: وہ
شخص جس کے ایمان و عقائد میں کوئی خرابی و نفاق نہیں ہوتا، لیکن اس کے اعمال یا
خصلتیں منافقوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔
حدیث مبارکہ
میں نفاق عملی کی چار علامات بیان ہوئی ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص میں یہ
چار باتیں ہوں گی وہ خالص منافق ہے اور جس شخص میں ان چار باتوں میں سے ایک ہو، اس
میں نفاق کی ایک خصلت ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب امانت دی جائے تو خیانت
کرے۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ جب کسی سے وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ جب جھگڑا
کرے تو بد زبانی کرے۔ (بخاری، 1/25، حدیث: 34)
علمائے امت کا
اتفاق ہے کہ اگرچہ یہ خصلتیں منافقوں کی علامات ہیں، لیکن اگر کسی صادق الایمان
مسلمان میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں تو اسے منافق نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ کہا
جائے گا کہ اس میں منافقانہ عادت موجود ہے۔ کیونکہ منافق کی علامات کا پایا جانا
اور منافق ہونا دو مختلف باتیں ہیں، جیسے کہ کوے کی علامت سیاہی ہے مگر ہر کالی
چیز کو کوا نہیں کہہ سکتے۔
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بدترین شخص
دو چہروں والا ہے، جو ایک کے پاس ایک چہرہ اور دوسروں کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا
ہے۔ (بخاری، 4/466، حدیث: 7179)
رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے، قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو
زبانیں ہوں گی۔ (ترغیب و ترہیب، 3/371، حدیث: 4)
ہمیں قرآن و
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں خلوص ہونا چاہیے، جبکہ نفاق انسان کے دل کو
کمزور اور سیاہ کر دیتا ہے، جس سے معاشرے میں بے اعتمادی اور فساد پیدا ہوتا ہے۔ اس
سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان سچائی، اخلاص اور دیانت داری اختیار کرے اور
اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرے۔
اللہ پاک ہمیں
نفاق اور دیگر بری عادات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami