جواد
احمد (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (سورۃ الصفت:139،140)
اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ
ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون
اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں
دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان
لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن
انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ
آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین
دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷
/ ۴۸۶)
علامہ
احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب
عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا
کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا
دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید
کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے
لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کرتے۔( صاوی، الصافات،
تحت الآیۃ: ۱۴۰، ۵
/ ۱۷۵۲، ملخصاً)
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس:98)
فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
Dawateislami