انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ اور اس کی ترقی کا دارومدار اخلاق، تہذیب اور باہمی احترام پر ہے۔ معاشرے میں امن، محبت اور برکت قائم رکھنے کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ہر فرد اپنا مقام پہچانے اور دوسروں کا حق ادا کرے۔ انہی حقوق میں سے سب سے اہم حق بزرگوں کا ہے۔

بزرگ ہمارے معاشرے کی وہ جڑیں ہیں جن سے ہماری تاریخ، تجربہ اور حکمت جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگیاں قربانی، محنت اور صبر میں گزار کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ لیکن بد قسمتی سے آج کا مادہ پرست دور، جہاں تیز رفتاری اور انفرادی آزادی کو ہر چیز پر مقدم سمجھا جاتا ہے وہاں بزرگوں کو بوجھ سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ زبان کی سختی، لہجے کی تلخی اور رویے کی بے اعتنائی نے گھروں سے برکت اور معاشرے سے سکون چھین لیا ہے۔

اس لیے اسلام نے ہمیشہ بزرگوں کے ادب و احترام پر زور دیا ہے اور بے ادبی کو سخت ناپسندیدہ عمل قرار دیا ہے۔

اللہ پاک قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ پاک اسے اس کی بے ادبی کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ضرور تو کسی بوڑھے کے آگے چلا ہوگا۔(روح البیان، 5/56)

کئی احادیث مبارکہ میں بھی بزرگوں کا ادب کرنے کی تعلیم دی گئی ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بڑوں کی تعظیم و توقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے۔ (شعب الایمان، 7/458، حدیث: 1098)

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی مجلس کو بوڑھے کی عمر، عالم کے علم اور سلطان کے عہدے کی وجہ سے کشادہ کر دیا کرو۔ (کنز العمال، 9/66، حدیث: 25495)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ بزرگوں، بڑوں کی عزت و تکریم اور ادب و احترام باعث نجات اور جنت میں نبی کریم ﷺ کی رفاقت پانے کا ذریعہ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بڑے کو آگے رکھو اور پھر اس سے بڑے کو۔ (ابن ماجہ، 3/291، حدیث: 2677)

یہ حدیث مجلس، بات کرنے اور فیصلہ کرنے میں بزرگوں کو مقدم رکھنے کی تعلیم دیتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان بزرگ کی عزت کرنا اللہ پاک کی تعظیم میں سے ہے۔ (ابو داود، 4/344، حدیث: 4843)

ان احادیث سے واضح ہے کہ بزرگوں کی بے ادبی کرنا صرف بد اخلاقی نہیں بلکہ اللہ اور رسول کی تعلیم سے انحراف ہے۔ ادب کرنے والا دنیا میں بھی عزت پاتا ہے اور آخرت میں بھی اجر پاتا ہے۔

بے ادبی کی صورتیں: بزرگوں کی بے ادبی صرف گالی دینے یا مارنے تک محدود نہیں اس کی صورتیں یہ بھی ہیں: بات کاٹنا، آواز بلند کرنا یا حقارت سے دیکھنا ان کے تجربے اور مشورے کو حقیر سمجھنا، مجلس میں ان سے پہلے بولنا یا بیٹھنا،انکی ضرورتوں کو نظر انداز کرنا خاص طور پر بڑھاپے میں اور سوشل میڈیا پر ان کا مذاق اڑانا وغیرہ۔

ادب سے محبت بڑھتی ہے، برکت آتی ہے اور نسلیں سنورتی ہیں۔ بے ادبی وقتی آزادی کا احساس تو دیتی ہے مگر آخر کار انسان کو تنہائی اور ذلت کی طرف لے جاتی ہے۔

اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی بزرگوں کا ادب کریں، ان کی خدمت کریں اور انہیں برا بھلا نہ کہیں۔

آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بزرگوں کا ادب کرنے اور ان کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔