محمد
حیدر علی عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد ، کراچی،پاکستان)
اللہ تعالی
نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف بخشا۔ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اللہ کی
عبادت ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے: وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا
لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔(الذاریات:
56)
عبادت تب
ہی ممکن ہے جب بندے کو اپنے معبود کی پہچان ہو۔ اسی معرفت کے لیے اللہ تعالیٰ نے
اپنے برگزیدہ بندوں کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔
انہیں انبیاء
کرام علیہم السلام میں سے ایک حضرت سیّدنا یونس علیہ السلام ہیں، جنہیں اللہ نے
نبوت و رسالت عطا فرمائی۔ جن کا ذکر قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ جن میں
سے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(الصافات: 139)
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:آپ علیہ
السلام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں
سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام کا لقب ذو النّون اور صاحبُ الحوت ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی
کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ (روح البیان،
الصافات: 139)
قوم کو دعوتِ توحید:حضرت یونس
علیہ السلام نے 40 سال تک اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑ کر اللہ کی وحدانیت کا اقرار
کرنے کی دعوت دی۔ مگر قوم نے جھٹلایا اور کفر و شرک پر اڑی رہی۔ (روح البیان،
الصافات: 139)
عذاب کا نزول:قوم کی اس سرکشی پر اللہ
نے ان پر عذاب نازل کردیا۔
خوش نصیب قوم: امام زجاج علیہ الرحمۃ
فرماتے ہیں: عذاب ابھی نازل نہیں ہوا تھا، صرف اس کی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔ قوم
نے سچے دل سے توبہ کر لی اس لیے عذاب ٹل گیا۔ (تفسیر القرطبی، یونس: 98)
اصول: مفتی
قاسم سلمّہ الباری فرماتے ہیں: عذاب نازل ہونے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی، البتہ
علامات ظاہر ہونے پر کی گئی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ (صراط الجنان، یونس: 98)
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (الصافات: 144,143)
مچھلی کے پیٹ میں تسبیح و تحمید:آپ علیہ
السلام مچھلی کے پیٹ میں یہ دعا پڑھتے رہے:
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ آپ کی
پہلے کی عبادت اور اس دعا کی برکت سے اللہ نے آپ کو نجات عطا فرمائی۔(تفسیر الصاوی،
الصافات: 144،143)
فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان
میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے
اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (الصافات:
145-146)
چٹیل میدان اور کدو کی بیل:مچھلی نے
آپ کو ایک چٹیل میدان میں باہر نکال دیا۔ مچھلی کے پیٹ میں رہنے سے آپ کمزور ہو
چکے تھے۔ اللہ نے آپ پر کدو کی بیل اُگائی جس نے ٹھنڈا سایہ دیا اور مکھیاں بھی اس
پر نہیں بیٹھتیں۔ (تفسیر الصاوی، الصافات: 145-146)
مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت:مچھلی کے
پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: ایک دن، 3 دن، 7 دن، 20 دن یا 40
دن۔ (تفسیر الجلالین، الصافات: 145)
وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔(الصافات:
147-148)
دوبارہ دعوت اور قوم کا ایمان:صحت یاب
ہونے کے بعد آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف لوٹے اور دعوت دی۔ اس بار پوری قوم ایمان
لے آئی، اور اللہ نے انہیں ایک مقررہ وقت تک دنیا کے فائدے عطا فرمائے۔(تفسیر
الصاوی، الصافات: 147-148)
درس و نصیحت: اس واقعہ سے ہمیں یہ نصیحتیں
ملتی ہیں کہ:
(1)
گناہوں سے بچیں، بالخصوص کفر و شرک سے۔
(2)اگر
خدانخواستہ کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو صدقِ دل سے توبہ و استغفار کریں۔
(3) اللہ
پر کامل بھروسہ رکھیں۔
(4) ہر
حال میں اُس کی تسبیح و تحمید بیان کریں۔
(5) ایک
بات ذہن نشین کرلیں کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام معصوم ہیں لہذا اُن سے گناہ
سرزد ہونا محال ہے۔
Dawateislami