بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت عبدالواحد، جامعۃ المدینہ گہوگا سیالکوٹ
انسانیت کا
شرف یہ ہے کہ انسان ادب کے زیور سے آراستہ ہو جس میں ادب نہ ہو وہ ہر نعمت سے
محروم ہے انسان اور جانور میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ ادب ہے بے ادبی کی نحوست اتنی
زیادہ ہے کہ یہ ایمان کو کامل نہیں ہونے دیتی۔
ایک مشہور
مقولہ ہے: باادب بانصیب بے ادب بے نصیب یعنی انسان جو پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا
ہے اور جو کھوتا ہے اسکی وجہ بے ادبی ہے۔
ادب
کی تعریف: ادب
ایسے وصف کا نام ہے جس کے ذریعے انسان اچھی باتوں کی پہچان حاصل کرتا ہے اس کے
برعکس کو بے ادبی کہیں گے۔
قرآن
کریم کی روشنی میں بے ادبی کی مذمت:
وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ
بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ
اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان:
اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ
کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔
پہلے زمانے
میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے (اسکی بے
ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا۔ (روح البیان، 5/56)
بے
ادبی کا وبال حدیث مبارکہ کی روشنی میں:
شیطان نے
لاکھوں سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ایک قول کے مطابق چھ لاکھ سال عبادت کی اور وہ
صرف ایک بے ادبی کی وجہ سے چھ لاکھ سال کی عبادت ضائع کر بیٹھا اور وہ بےادبی حضرت
آدم علیہ السلام کی تعظیم نہ کرنا تھی۔ (ادب کی اہمیت از مفتی امین صاحب، ص 26)
بلعم بن بعورہ
بہت بڑا عابد زاہد اور عالم تھا روحانیت کا عالم یہ تھا کہ زمین پر بیٹھ کر عرش
اعظم کو دیکھ لیتا تھا لیکن مال کی ہوس اور دنیا کی محبت نے اسکا حال برا کر دیا
ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بارگاہ الہی سے دھتکار دیا گیا اس نے مال کے لالچ میں آکر حضرت
موسی علیہ السلام کے لے بددعا کرنا چاہی اور بے ادبی کی کوشش کی جس کی وجہ سے اسکی
زبان لٹک کر سینہ تک آگی اور کفر پر مرا۔ (عجائب القرآن، ص 118)
اس سے ثابت
ہوا کہ کوئی جتنا بھی بڑا عابد وزاہد ہو اپنے سے بڑے مرتبے والے کی ادنیٰ سی بے
ادبی نے اسکے اعمال کو اس طرح برباد کر دیا کہ اسے خبر بھی نہ ہوئی۔
بے
ادبی پر علمائے کرام کے اقوال:
اعلی حضرت
رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو باادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/108)
حضرت ذوالنون
مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا تو وہ لوٹ کر
وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔ (رسالہ قشیریہ، ص 317)
ادب
کرنے کے فائدے
حضرت ابو علی
دقاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بندہ اطاعت کرنے سے جنت تک اور ادب کرنے سے اللہ تک
پہنچ جا تا ہے۔ (رسالہ قشیریہ، ص 316)
ادب ایک انمول
چیز ہے جس کی تعلیم خود اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو ارشاد فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: مجھے میرے رب نے ادب سیکھایا اور بہت اچھا ادب سکھایا۔
اعلیٰ حضرت
رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عقل سے پوچھا کہ بتا ایمان کیا ہے؟ عقل نے میرے دل
کے کان میں کہا ایمان ادب کا نام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 23/393)
خلاصہ کلام یہ
ہوا کہ بعض اوقات انسان وہ مقام و مرتبہ حاصل کر لیتا ہے جو کتنے سالوں کی محنت سے
حاصل نہیں کر پاتا بے ادبی کی وجہ سے انسان ایک پل میں ہی بلند و الا مقام سے پستی
وذلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
آخر میں اللہ
سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کی بے ادبی سے محفوظ فرمائے اور ہمیں خوب ادب کرنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
Dawateislami