محمد
عفان (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی، پاکستان)
قرآنِ مجید
انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کو محض تاریخی قصوں کے طور پر بیان نہیں کرتا
بلکہ ان میں انسانوں کے لیے ہدایت، نصیحت اور عبرت کے بے شمار پہلو موجود ہوتے ہیں۔
ان مقدس ہستیوں میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بھی نہایت اہم اور سبق آموز ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا اصل نام یونس بن متی تھا۔ آپ کی کنیت "ابو
عبداللہ" بیان کی جاتی ہے جبکہ آپ کا مشہور لقب "ذوالنون" تھا، جس
کا مطلب ہے "مچھلی والے"۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نینویٰ کی قوم کی ہدایت
کے لیے نبی بنا کر بھیجا۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید اور نیکی کی دعوت دی حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور برائیوں سے بچنے کی دعوت دی۔
ابتدا میں ان کی قوم نے آپ کی بات ماننے سے انکار کیا اور نافرمانی کا راستہ اختیار
کیا۔ وہ مسلسل حق کو جھٹلاتے اور نصیحت کو نظر انداز کرتے رہے۔ حضرت یونس علیہ
السلام نے انہیں اللہ کے عذاب سے بھی ڈرایا، لیکن وہ باز نہ آئے لیکن پھر بھی قوم
نے آپ کی بات نہیں مانی جس وجہ سے آپ اپنی قوم سے ناراض ہو کر ان سے دور تشریف لے
گئے۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ
اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ
كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء: آیت 87)
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے
لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی
قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی
قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے
کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا
ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ
سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے
دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت
یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح
دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے
پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت جہاں پانے
سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔حضرت حضرت یونس علیہ
السلام کو مچھلی کے نگلنے کا واقعہ قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان:
پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات: آیت
142)
جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو
انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا حال یہ تھا کہ آپ خود کو اس بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی
اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو اِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا
ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملنے کا واقع کچھ یوں ہے کہ
:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء: آیت 88)
ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار
سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا۔
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ
الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ الصافات: آیت 143-144)
ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے
والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ
کے ہر حکم کے سامنے صبر، اطاعت اور کامل اعتماد ضروری ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام
کے واقعہ میں توبہ، ذکرِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بے شمار پہلو نمایاں
ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان اگر غلطی کر بیٹھے تو اسے مایوس ہونے
کے بجائے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ حضرت یونس علیہ
السلام نے سخت آزمائش کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارا تو ربِّ کریم نے انہیں نجات عطا
فرمائی۔ لہٰذا ہمیں بھی ہر مشکل اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے دعا، صبر اور اس کی
رحمت پر بھروسہ رکھنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار سننے والا اور
رحم فرمانے والا ہے۔
Dawateislami