شرافت
علی عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
آپ علیہ
السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے)
ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینوی کے
نبی تھے۔ جو موصل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس
سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام
کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ علیہ السلام نے اللہ پاک کے حکم سے
انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علاماتِ عذاب کا
مشاہدہ کر کے بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
حضرت یونس
علیہ السلام کے واقعات کے قرآنی مقامات اور حضرت یونس علیہ السلام کا اجمالی ذکر خیر
ملاحظہ کیجیے ۔
نزول احکام:آپ علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا ، البتہ وحی
کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوۓ ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(1) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ ( سورۃ النساء آیت
نمبر 163 )
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ:بیشک ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی۔
اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سوال کیا تھا کہ اُن کے لئے آسمان سے یکبارگی کتاب
نازل کی جائے تو وہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت
پر ایمان لے آئیں گے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ان پر حجت قائم کی گئی
کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سوا بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں جن میں سے گیارہ کے اَسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان
فرمائے گئے ہیں ، اہلِ کتاب اُن سب کی نبوت کو مانتے ہیں ، توجب اس وجہ سے ان میں
سے متعدد کی نبوت تسلیم کرنے میں اہلِ کتاب کو کچھ پس و پیش نہ ہوا تو امامُ الانبیاء،
سیدُالمرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت تسلیم
کرنے میں کیا عذر ہے؟ نیز رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھیجنے کا
مقصد مخلوق کی ہدایت اور ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان
کی تکمیل اور عبادت کے طریقوں کی تعلیم ہے اورکتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ
مقصد بڑے کامل طریقے سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا
چلا جاتا ہے، اس حکمت کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال درجے کی حماقت
ہے۔سُبْحَانَ اللہ! کیسا دل نشین اور پیارا جواب ہے۔( تفسیر صراط الجنان، جلد 2 )
انعامات الٰہی :اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ
ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی ، آپ کا رجوع بھی قبول
فرمایا ۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکرِ الٰہی کی توفیق
بخشی ۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب
بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ جیسا کہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔ ( سورۃ القلم ،آیت نمبر 48 )
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔
یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے
اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب
عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر
کریں ۔
وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔
اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ
جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے
پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات
نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح
نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد
کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو پکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں
بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ہیں۔( تفسیر صراط الجنان ، جلد 10 )
چٹیل میدان :
(3،4)لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)ترجمۂ کنزالایمان: اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو
ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے
قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ ( سورۃ القلم آیت نمبر 49،50 )
لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ: اگر اس کے رب کی نعمت
اسے نہ پالیتی۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ کرتی اور اللہ پاک اُن
کے عذر اور دعا کو قبول فرما کر ان پر انعام نہ فرماتا تو وہ ضرور ملامت کئے ہوئے
مچھلی کے پیٹ سے چٹیل میدان میں پھینک دیئے جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ پاک
نے ان پر رحمت فرمائی اور وہ بغیر ملامت کئے ہوئے مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف لائے
۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اگر حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رب
عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ان کی دستگیری نہ فرماتی تو وہ قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی
رہتے ،پھر وہ ضرور ملامت کئے ہوئے میدانِ حشر میں پھینک دیئے جاتے۔
فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔ یعنی
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی
وجہ سے اللہ پاک نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور انہیں
ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔( تفسیر صراط الجنان جلد
10 )
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :
(5) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ
نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (
سورۃ الانبیاء آیت نمبر 87 )
وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضب ناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ پاک کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ پاک کے حکم کا
انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا
کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم
سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( تفسیر صراط الجنان، جلد 6 )
دعا قبول ہونے کا وظیفہ: حضرت سعد
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ
میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات
کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ پاک اسے قبول فرماتا ہے۔
( تاریخ
ابنِ عساکر،حرف السین فی آبائھم ، 5213 ، عمر بن سعد بن ابی وقاص ...الخ، 45/38. )
اللہ پاک
ہمیں بھی مصیبت و پریشانی اور آزمائشوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami