اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات کا طریقہ سکھاتا ہے بلکہ اخلاق، معاشرتی اور باہمی تعلقات کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ انہی آداب میں ایک نہایت اہم ادب بزرگوں کی عزت و توقیر ہے۔ بزرگ خواہ والدین ہوں، اساتذہ ہوں یا معاشرے کے معزز افراد، ان کا احترام کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کے برعکس بزرگوں کی بے ادبی ایک ایسا عمل ہے جس کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا:جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ (1)

بزرگوں کی بے ادبی صرف الفاظ تک محدود نہیں ہوتی بلکہ رویّے، انداز گفتگو، اور برتاؤ سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں دیگر کئی برائیاں بڑھتی جا رہی ہیں وہیں افسوس کے ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ نوجوان نسل اکثر اپنے بزرگوں سے اونچی آواز میں بات کرتی ہے، ان کے مشوروں کو نظر انداز کرتی، اور بعض اوقات ان کی توہین تک کر دیتی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ یاد رکھئے ادب کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادبی کرنے والا دنیا اور آخرت میں ذلت کا شکار ہو کر لوگوں کے لئے نمونۂ عبرت بن جاتا ہے کیونکہ بے ادبی انسان کو تباہی کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے: باادب با نصیب، بے ادب بے نصیب۔

بے ادبی وہ شے ہے جو انسان سے اس کا قیمتی سرمایہ ایمان تک چھین لیتی ہے۔جیسا کہ ابلیس کی نولاکھ سال کی عبادت ایک بے ادبی کی وجہ سے برباد ہوگئی اور وہ مردود ٹھہرا۔

حضرت ابوعلی دقّاق علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں، بندہ اطاعت سے جنّت تک اور ادب سے خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ (2)

اسی طرح والدین جب بوڑھے اپنی زبان سے کوئی بے ادبی والا جملہ نہیں نکالنا چاہیے بلکہ اس حالت میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ادب کرنے کا حکم تو قرآن کریم میں ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ 15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے (ا سکی بے ادبی کی وجہ سے)زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ ایک اور جگہ نقل ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی حضور میں فاقہ کا شکار رہتاہوں۔ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تو کسی بوڑھے(شخص) کے آگے چلا ہوگا۔ (3)

اس سے معلوم ہوا کہ بے ادبی دنیا وآخرت میں مردود کروادیتی ہے۔

ہمارے بزرگوں میں اساتذہ بھی شامل ہیں لہٰذا ہمیں انکی بے ادبی سے بھی بچتے رہنا چاہیے کہ دین اسلام استاد کے ادب و احترام کا بھی حکم دیتا ہے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو بے ادب ہو،وہ علم سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔(4)

اسی طرح مرید کو اپنے پیر کے معاملے میں بھی ادب کا دامن تھامے رکھنا چاہیے کہ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب کوئی مرید ادب کا خیال نہیں رکھتا،تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔(5)

اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بزرگوں کا حقیقی ادب کرنے والا بنائے۔ آمین

حوالہ جات

(1) ترمذی، 3/369، حدیث:1926

(2) رسالۃ قشیریہ، ص 316

(3) روح البیان، 5/56

(4) المنبہات، ص 13

(5)رسالہ قشیریہ، ص 319