بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت غلام حیدر،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
اسلام میں
بزرگوں کی بے ادبی سخت ناپسندیدہ اور گناہ کبیرہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو
ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بزرگوں کی تعظیم نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی،
3/369، حدیث: 1926) بڑوں کا احترام معاشرتی استحکام کی بنیاد اور اللہ کی رحمت کے
حصول کا ذریعہ ہے۔
رحمت
اور برکت کا خاتمہ: بزرگوں کی دل آزاری اور بے ادبی معاشرے سے برکت اور
سکون کو ختم کر دیتی ہے اور اللہ کی ناراضگی کا باعث بنتی ہے۔
سماجی
اور اخلاقی زوال: بڑوں
کی توہین خاندانی اقدار کو نقصان پہنچاتی ہے اور نوجوان نسل میں بے راہ روی کو
فروغ دیتی ہے۔
دنیا
و آخرت کا نقصان: بزرگوں
کی بددعا انسان کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کر سکتی ہے، جبکہ ان کی خدمت اور
دعائیں کامیابی کی کنجی ہیں۔
بعض اوقات
بڑوں کے ادب و احترام کے سبب اس کی بخشش و مغفرت بھی ہو جاتی ہے، چنانچہ ایک مرتبہ
ایک شخص دریا کے کنارے پر بیٹھا وضو کر رہا تھا، اسی دوران لاکھوں حنبلیوں کے عظیم
پیشوا حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ وہاں تشریف لائے اور اس سے کچھ فاصلے پر
بیٹھ کر وضو کرنے لگے،جب اس شخص نے دیکھا کہ جس طرف میرے وضو کا غسالہ (دھوون)بہہ
رہا ہے،اس طرف تو اللہ کے ایک مقرب ولی بیٹھ کر وضو فرما رہے ہیں،تو اس کے دل نے
یہ بات گوارانہ کی او روہ اٹھ کر حضرت احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے دوسری طرف
جا کر بیٹھ گیا،جہاں سے ان کے وضو کا مستعمل پانی اس کی طرف آرہا تھا،اللہ کے ولی
کے ادب واحترام کا صلہ اس شخص کو یوں ملا کہ جب اس کا انتقال ہوا اور کسی نے اسے
خواب میں دیکھ کر حال دریافت کیا تو اس نے بتایا:اللہ نے اپنے ولی حضرت امام احمد
بن حنبل کے ادب کی برکت سے مجھے بخشش دیا۔ (تذکرۃ الاولیاء، 1/196)
یقیناً جو لوگ
بڑوں کی عزت و عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے دل سےان کا ادب و احترام کرتے ہیں تو لوگو
ں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے باادب لوگ معاشرے میں عزت و
وقار کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
سب سے پہلے جو
بے ادب تھا، وہ شیطان تھا، جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ کے
حکم کا اپنے نفس کے مقابلہ میں خیال نہیں کیا اور بے ادبی کرکے راندۂ درگاہ ہوگیا
تو وہ اب بھی یہی کرتا ہے کہ لوگوں میں بے ادبی پیدا کرتا ہے۔ اس وجہ سے بے ادبی
خطرناک چیز ہے۔
علما اور ائمہ
دین کی بے ادبی یا ان کے ساتھ بدگمانی یہ تو بہت بڑی بات ہے، عام آدمی عام مسلمان
کی آبرو ریزی اور بدگمانی یہ بھی کسی طرح جائز نہیں، ان بڑوں میں سے خدانحواستہ
اگر کسی کی بے ادبی ہو گئی تو یاد رکھو کہ اپنا سب کچھ کھو بیٹھوگے۔
Dawateislami