انسانی معاشرے میں ہرفرد ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن ان میں بزرگوں کا مقام ومرتبہ بہت اعلی ہے بزرگ ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہوتے ہیں ان کی تعظیم وتکریم کرنا ہر صورت میں لازم ہے ان کی بے ادبی دنیا وآخرت کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے اسلام نے عمر رسیدہ افراد کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ اس کی بنیاد اسلام کی وہ ہفت آفاقی تعلیمات ہیں۔جن میں عمر رسیدہ افراد کو باعث برکت ورحمت اور قابل عزت وتکریم قرار دیا گیا ہے۔

بزرگوں کی نافرمانی سے آخرت کا عذاب تو تیار ہی ہے مگر اس سے پہلے دنیا میں بھی اس کے لیے رسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ احادیث میں ان کی عزت وعظمت کو بیان کیا گیا ہے۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے: جو جوان کسی بوڑھے کی عمر رسیدگی کے باعث اس کی عزت کرتا ہے۔ اللہ اس جوان کے لیے کسی کو مقرر فرما دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے میں اس کی عزت کرے۔ (کنز العمال، 2/71، حدیث: 6011)

حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے فرمایا: بے شک میری امت کے معمر افراد کی عزت وتکریم میری بزرگی و عظمت ہے۔ (کنز العمال، 2/71، حدیث: 6010) اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی عزت کو حضور جان عالم ﷺ نے اپنی بزرگی و عظمت قرار دیا ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: بڑے کے مرتبے اور عزت کا خیال رکھو۔ (بخاری، 4/138، حدیث: 6142)

حضور ﷺ نے فرمایا: بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اللہ پاک کی تعظیم کا حصہ ہے۔ (ابوداود، 4/344،حدیث: 4843)

ان تمام احادیث کریمہ سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بزرگوں کی عزت وتعظیم کس قدر ضروری ہے۔

بےادبی کے نقصانات:

رحمتِ الہی سے محرومی: جو شخص بزرگوں کی عزت نہیں کرتا وہ رحمت الہی سے دنیا اور آخرت میں محروم ہے۔

نیکیوں کی قبولیت نہ ہونا: بزرگوں کی نافرمانی نیک اعمال کی قبولیت میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں۔

بڑوں کی نافرمانی کرنے والا ہم سے نہیں: جو بھی بزرگوں کی نا فرمانی کرتا ہے ان کی عزت کا خیال نہیں کرتا اس کو امت سے باہر فرمایا گیا ہے۔

بات نہ ماننا: بعض اوقات بزرگوں کے کہے میں حکمت ہوتی ہے۔ ان کی بات نہ ماننے سے ہم اپنا نقصان کر لیتے ہیں۔

اونچی آواز میں بولنا: بزرگوں کے آگے اف تک کہنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے تو اونچی آواز میں بات کرنا کس قدر خطرناک ہوسکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہی نکلتا ہے کہ اسلام ایک مکمل رہنمائی کرنے والا دین ہے اس نے زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی کی ہے چاہے معاملہ حقوق العباد کا ہو یا دینی مسائل ہوں۔ اسلام میں ہر صورت میں بزرگوں کی بے ادبی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اس میں بہت احتیاط سے کام لینے کا حکم ہے ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بزرگوں سے شفقت سے پیش آیا جائے۔


ادب کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادبی کرنے والا دنیا اور آخرت میں ذلت کا شکار ہو کر لوگوں کے لئے نمونۂ عبرت بن جاتا ہے، بے ادبی انسان کو تباہی کے گہرے گڑھے میں دھکیل دیتی ہے۔ مشہور مقولہ ہے: با ادب با نصیب، بے ادب بےنصیب۔

بےادبی کرنے والوں کا انجام: کفار عرب کے سرداروں میں سے ایک نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوت اسلام کے جواب میں اللہ پاک کی شان میں گستاخی کی تو اس پر بجلی گری اور وہ شخص ہلاک ہوگیا، پس اللہ پاک کی بارگاہ میں کوئی ایسا لفظ نہیں نکالنا چاہئے جو شان الوہیت میں بےادبی قرار پائے۔ اسی طرح بارگاہ رسالت میں بےادبی کی نحوست سے ابو لہب کا بیٹا عتبہ شیر کا لقمہ بنا۔

معلوم ہوا کہ بے ادبی وہ شے ہے جو انسان کو ذلت و رسوائی کا شکار بنا دیتی ہے۔

★اپنے استاد کی بے ادبی کرنے والا علم حاصل کرلینے کے باوجود دوسروں تک پہنچانے میں ناکام رہتا ہے ★سادات کرام کی بے ادبی کرنے والا خود کو ان کے نانا جان رحمت عالمیان ﷺ کی ناراضی کا مستحق بنا لیتا ہے ★ماں باپ کی بے ادبی کرنے والا دنیا و آخرت میں اس کی سزا پاتا ہے ★اپنے پیر کی بے ادبی کرنے والا مرید کبھی بھی نگاہ مرشد پانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

بے ادبی کی چند صورتیں ملاحظہ کیجیے: (1)والدین اور اساتذہ کرام کی بات نہ ماننا۔ (2)بڑوں کی بات کاٹنا۔ (3)بڑوں کی جانب پیٹھ کرنا۔ (4)بلند آواز میں بات کرنا وغیرہ۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا: وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

بےادبی کی نحوست: تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ تعالیٰ اسے (اسکی بے ادبی کی وجہ سے)زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

بے ادبی دنیا وآخرت میں مردود کروادیتی ہے۔ جیسا کہ ابلیس کی نولاکھ سال کی عبادت ایک بےادبی کی وجہ سے برباد ہوگئی اور وہ مردود ٹھہرا۔

کسی شخص نے بارگاہ رسالتﷺ میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلاہوگا۔ (روح البیان، 5/56)

حضرت ابوعلی دقّاق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں بندہ اطاعت سے جنّت تک اور ادب سے خدا تک پہنچ جاتا ہے۔

جانور بھی بزرگوں کا ادب کیا کرتے: حضرت بشرحافی رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ ننگے پاؤں چلتے تھے اور جب تک بغداد شریف میں آپ رحمۃ اللہ علیہ حیات رہے کسی چوپائے نے راستے میں گندگی نہ کی اور وہ صرف اس حرمت و ادب کے پیش نظر کہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ علیہ یہاں ننگے پاؤں چلتے پھرتے ہیں۔ ایک دن ایک چوپائے نے راستے میں گندگی کر دی تو اس کا مالک یہ بات دیکھ کر گھبرا گیا کہ ہو نہ ہو آج حضرت بشرحافی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا ہے، ورنہ یہ جانور کبھی راستے میں گندگی نہ کرتا چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد اس نے سن لیا کہ حضرت کاوصال ہو گیا ہے۔

اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جانور بھی بزرگوں کا ادب کیا کرتے ہیں مگر آج کل کے زمانے میں لوگ اللہ کے ولیوں کا مذاق بناتے پھرتے ہیں اور ان کی کرامات کا انکار کرتے ہیں۔

اللہ کے ولیوں کا مذاق بنانا، ان سے نفرت کرنا، ان کی بےادبی کرنا نہایت رسوائی کا باعث ہے چنانچہ حدیث قدسی میں اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ (بخاری،4/248، حدیث:6502)

ہمیں چاہیے کہ اپنے بزرگوں کی عزت کریں اور ان کی شان میں گستاخی کرنے سے بچیں۔

اللہ کریم ہمیں بزرگوں کا با ادب بنائے اور ان کی بےادبی سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔ آمین


بزرگ کسی بھی معاشرے کی جڑ ہوتے ہیں، ان کے تجربات، قربانیاں، اور دعائیں ہی وہ سایہ ہیں جس میں نسلیں پروان چڑھتی ہیں جس گھر یا قوم میں بزرگوں کا احترام ختم ہو جائے وہاں برکت، سکون اور تہذیب تینوں رخصت ہو جاتی ہیں جس طرح درخت کی جڑ مضبوط ہو تو شاخیں پھل دیتی ہیں، اسی طرح بزرگوں کی عزت ہو تو نسلیں سنور جاتی ہیں لیکن آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم نے صبر کھو دیا ہے، سوشل میڈیا اور مغربی کلچر کی اندھی تقلید نے میں کو اتنا بڑا کر دیا کہ ہم اور آپ کا تصور مٹنے لگا، بزرگوں کی بات کو پرانے خیالات کہہ کر رد کر دینا فیشن بن گیا، بچے موبائل میں مصروف ہیں اور بڑے اپنی زندگی کی دوڑ میں ہیں اور بزرگ کمرے کے کونے میں تنہا چھوڑ دیئے جاتے ہیں یہ بہت افسوس کی بات ہے، یہی وجہ ہے کے بزرگ اپنی زندگی سے بیزار نظر آتے اور موت کے انتظار میں ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض بوڑھوں کی زبان سے کفریات تک سنے جاتے ہیں کہ الله مجھے بنا کر بھول گیا واپس ہی نہیں بلا رہا معاذ الله ثم معاذ اللہ، لیکن اس کے برعکس اگر بزرگوں کا خیال رکھا جائے، محبت دی جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ کم از کم وہ زندگی سے اتنے بیزار تو نہ ہوں گے کہ کفریات تک ہی بک دیں۔

یاد رکھئے جو قوم اپنے بڑوں کی بات نہیں سنتی، عزت نہیں کرتی وہ بار بار ٹھوکر کھاتی ہے، بزرگوں کی دعا وہ ڈھال ہے جو نظر نہیں آتی مگر مصیبت روک لیتی ہے، جب ہم ان کا دل دکھاتے ہیں تو دراصل اپنی کامیابی کے دروازے خود بند کرتے ہیں، گھروں سے برکت اٹھ جاتی ہے، رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں اور نئی نسل بے راہ روی کا شکار ہوتی ہے، کل کو ہم بھی بوڑھے ہوں گے، جو سلوک آج کریں گے وہی کل لوٹ کر آئے گا۔

بزرگوں کے ادب و احترام کا حکم تو خود ہمارے پیارے آقا ﷺ نے یوں ارشاد فرمایا: بڑوں کی تعظیم و توقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنّت میں میری رفاقت پالو گے۔ (شعب الایمان، 7/458، حدیث: 1098)

دوسری روایت میں ہے: تم اپنی مجالس کو بوڑھے کی عمر، عالم کے علم اور سلطان کے عہدے کی وجہ سے کشادہ کر دیا کرو۔ (کنزا لعمال، 9/66، حدیث: 25495)

دیکھئے بزرگ بوجھ نہیں، رحمت ہوتے ہیں، ان کی جھریوں میں زمانے کا سبق اور سفید بالوں میں تجربات ہیں جس گھر میں بزرگ ہنستے ہیں وہاں رونقیں بحال ہوتی ہیں، یاد رکھئے درخت کتنا ہی اونچا کیوں نہ ہو جائے، اپنی جڑوں سے کٹ کر سوکھ ہی جاتا ہے، اسی طرح ہم کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہو جائیں بزرگوں کی عزت کم نہیں ہو سکتی۔

بزرگوں کی عزت دراصل ہماری اپنی تہذیب، اپنے دین اور اپنے مستقبل کی حفاظت ہے چاہے وہ بزرگ ہمارے گھروں کے بڑے بوڑھے ہوں یا ہمارے اسلاف احترام کرنا ہماری اپنی تربیت ظاہر کرتی ہے۔

الله کریم ہمیں بزرگوں کو خوش رکھنے اور ان کا احترام بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”باادب بانصیب، بےادب بےنصیب“ یعنی انسان جو کچھ پاتا ہے اپنے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو کھوتا ہے اپنی بےادبی کے سبب کھوتا ہے۔

بےادبی کی مذمت پر اسلامی تعلیمات: اسلام میں بزرگوں کا ادب و احترام عین ایمان اور باعث برکت ہے۔ ان کی بے ادبی، توہین یا دل آزاری سخت گناہ، معاشرتی بگاڑ اور دنیا و آخرت میں محرومی کا باعث ہے۔ادب کرنے والا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادب دنیا و آخرت میں تباہ و برباد ہوتا ہے جیسے کہ شیطان حضرت آدم علیہ السلام کی بےادبی کرنے کے سبب دنیا و آخرت میں مردود ہوا۔

بےادبی کی مذمت پر قرآنی آیت:

وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ(۲) (پ 26، الحجرات: 2) ترجمہ کنز الایمان: اور ان کے حضور بات چلّا کر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں تمہارے عمل اکارت (ضائع) نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔

تفسیر روح البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا تو اللہ اسے (اس کی بے ادبی کی وجہ سے) زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)

فرمانِ مصطفیٰﷺ: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی توقیر(عزت)نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان اپنی خوبصورت کتاب فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں: جو باادب نہیں اس کا کوئی دین نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، 28/159)

بےادبی کے سبب فاقے کا شکار ہونا: کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلا ہوگا۔ (روح البیان، 5/56)

بےادبی کے سبب حالتِ کفر میں موت: ایک شخص جس کا نام بلعم بن بعورہ تھا، بہت بڑا عابد و زاہد اور عالم تھا۔روحانیت کا یہ عالم کہ زمین پر بیٹھ کر عرش اعظم کو دیکھ لیا کرتا تھا۔ لیکن مال کی ہوس اور دنیا کی محبت نے اسکا انتہائی برا حال کیا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بارگاہ خداوندی سے دھتکار دیا گیا۔ مال کی لالچ میں آکر اس بد بخت نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی لیے بد دعا کرنا چاہی اور بے ادبی کی کوشش کی جس کی وجہ سے اسکی زبان لٹک کر سینے تک آگئی اور کفر پر مرا۔ (عجائب القرآن، ص 118 ملخصاً)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ذرا سی بے ادبی بہت سے نیک اعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ بےادبی ایسا قبیح فعل ہے جو معاذ اللہ کفر تک بھی لے جاتا ہے۔

خلاصہ کلام: انسان جو کچھ پاتا ہے ادب کی وجہ سے پاتا ہے اور جو کچھ کھوتا ہے بےادبی کرنے کی وجہ سے کھوتا ہے۔ انسان ادب کی بدولت زندگی میں بہت سے ترقّی کے مراحل طے کرتا ہے جبکہ بےادبی کرنے کے سبب بہت ہی جلد عروج سے زوال کی طرف آ جاتا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر ایسے قول و فعل سے بچیں جو ہمیں بےادبی کی طرف لے کر جائے۔

محفوظ خدا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو


انسانوں میں ادب و احترام کا شعور روز اول سے ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جو اہمیت ادب کو حاصل ہے،وہ دن میں سورج کی روشنی سے زیادہ ظاہر ہے، یہی ادب انسان کو حیوان سے جدا کرتا ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے: دین سارے کا سارا ادب ہے۔

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

کردم از عقل سوالے کہ بگو ایمان چیست

عقل درگوش دلم گفت ایمان ادب است

یعنی: میں نے عقل سے پوچھا کہ بتا ایمان کیا ہے؟ عقل نے میرے دل کے کان میں کہا ایمان ادب کا نام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ،23/393)

جہاں ادب کی اتنی زیادہ اہمیت ہے وہیں بےادبی کی بھی اسلامی معاشرے میں بہت زیادہ مذمت بیان کی گئی ہے۔اس تحریر میں بالخصوص بزرگوں کی مذمت پر قرآنی آیت، دو احادیث،اور دو بزرگان دین کے اقوال سے روشنی ڈالی جائے گی۔ ان شاء اللہ الکریم

ادنیٰ سی بے ادبی کی ممانعت: فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ 15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بزرگوں (والدین) کی بے ادبی کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے کہ معمولی سی جھنجھلاہٹ یا ناگواری کا اظہار یعنی اف تک کہنے سے بھی منع کیا گیا اور قولاً کریماً میں گفتگو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اعلانِ جنگ: آقا کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو میرے کسی ولی سے دشمنی رکھے میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ (بخاری،4/248، حدیث:6502)

اولیاء اللہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جو ہمیشہ اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری کرتی ہیں۔ ان کی توہین و بے ادبی ان سے دشمنی کی بنا پر ہی سرزد ہوتی ہیں،اور ایسے شخص کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا محرومی ہوگی کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے اعلان جنگ فرمایا۔ ایسا شخص دارین کی سعادتوں سے محروم رہے گا اور اس کا خاتمہ بالخیر نہ ہوگا۔ (الامان و الحفیظ)

تنگدستی کا باعث: ایک شخص نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں فاقہ کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا کہ ضرور تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلا ہوگا۔ (روح البیان، 5/56)

محرومی کا باعث: ایک بزرگ رحمہ اللہ نے فرمایا: جس نے جوپایا ادب و احترام کی وجہ سے پایا اور جس نے جو کھویا ادب و احترام نہ کرنے کہ وجہ سے کھویا۔

حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب مرید ادب کی حدیں توڑ دے تو وہ لوٹ کر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔

اللہ کریم سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے والدین اساتذہ کرام،پیرومرشد اور تمام بزرگوں کا ادب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


اسلامک ریسرچ سینٹر(المدینۃ العلمیہ ) فیصل آباد میں تحقیق وتصنیف کے کاموں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز بالخصوص ”Gemini Notebook “ کے استعمال پر مبنی ایک ٹریننگ سیشن کاانعقاد کیا گیا۔

معلومات کے مطابق اس ٹریننگ سیشن کے ٹرینر مولانا محمد صفدر علی عطاری مدنی نے اپنی گفتگو کے دوران حاضرین کو بتایا کہ اے آئی کا استعمال وقت کی بچت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے کیا جانا چاہیے مگر اس پر % 100 بھروسہ کرنے کے بجائے انسانی مہارت و بنیادی علم کو ترجیح دینا ضروری ہے ۔

ٹرینر مولانا محمد صفدر علی عطاری مدنی نے رہنمائی کی کہ کس طرح مختلف کُتُب، PDF فائلز اور یوٹیوب لنکس کو” Gemini Notebook “ میں شامل کر کے ان سے مخصوص معلومات، پروف ریڈنگ اور مواد کی تیاری کا کام لیا جا سکتا ہے۔

اس کے علاوہ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) میں دینی کتب کے سافٹ ویئرز کو منسلک کرنے کا طریقہ اور بہتر نتائج کے لیے پرامپٹ انجینئرنگ بھی سکھائی گئی ۔

آخر میں حاضرین کو آگاہ کیا گیا کہ AI محض ایک مددگار ہے لہٰذا حتمی مواد کی درستی کی ذمہ داری ہمیشہ محقق یا مصنف پر ہی عائد ہوتی ہے۔حاضرین نے اس سیشن کو خوب سراہا اور اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا ۔


سادگی وخوش طبعی اگرچہ انسان کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک نہایت پسندیدہ وصف ہے تاہم جب یہی سادہ مزاجی مکار اور مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں استحصال کا ذریعہ بن جائے تو معاشرتی اقدار مجروح ہونے لگتی ہیں موجودہ دور میں بعض افراد دوسروں کے حسن ظن، اعتماد اور پاکیزہ نیت کو اپنی ذاتی منفعت کے لیے استعمال کرتے ہوئے اخلاقی پستی کا ثبوت دیتے ہیں حالانکہ تعلیماتِ اسلامیہ میں کسی مسلمان کو دھوکا دینا، اسکے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا اور اسکی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانا صریحاً ممنوع قرار دیا گیا چنانچہ ایک صالح اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ افراد معاشرہ تقویٰ،دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں اور باہنی تعلقات کو اخلاص وامانت کے اصولوں پر استوار کریں۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۸۳) (پ 20، القصص: 84)ترجمہ کنز الایمان: یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد اور عاقبت پرہیز گاروں ہی کی ہے۔

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا (پ 19، الفرقان: 63) ترجمہ کنز الایمان: اور رحمان کے بندے وہ ہیں کہ زمین پر نرمی سے چلتے ہیں۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ عاجزی انکساری اور سادگی اللہ کے پسندیدہ بندوں کی صفت ہے جو زمین میں فساد نہیں پھیلاتے اور نہ ہی تکبر کرتے ہیں ایسے نیک صفت بندوں کے لیے اللہ پاک نے آخرت میں انعام تیار کر رکھا ہے جیساکہ آیت مبارکہ میں ارشاد فرمایا ہے۔

ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج: سادگی انسان کی بہت خوبصورت صفت ہے کیونکہ سادہ دل لوگ صاف نیت اور اچھے اخلاق کے مالک ہوتے ہیں مگر افسوس آج کل بعض لوگوں میں دوسروں کی سادگی اور بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھانے کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ لوگ اپنے ذاتی فائدے کے لیے جھوٹ، دھوکا اور فریب سے کام لیتے ہیں جس سے معاشرے میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے حالانکہ اسلام ہمیں سچائی،امانت داری اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)

سادگی کمزوری نہیں بلکہ حسن باطن ہے اور کسی کی سادگی سے فائدہ اٹھانا دراصل اپنی اخلاقی کمزوری ہے۔

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اسکی کئی مثالیں دیکھتے ہیں بعض دکاندار سادہ لوح گاہک سے زیادہ قیمت وصول کرلیتے ہیں کچھ لوگ کسی کے بھروسے کو توڑ کر نقصان پہنچاتے ہیں اور بعض کم علم یا مجبور افراد کو دھوکے سے ان کا حق چھین لیا جاتا ہے۔

نقصانات: کسی کی سادگی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے کئی نقصانات ہیں اس سے لوگوں کا اعتماد ختم ہوجاتا،دل آزاری ہوتی ہے اور معاشرے میں بداعتمادی پھیلتی ہے سب سے بڑھ کر ایسا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مستحق بنتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہر شخص کے ساتھ انصاف،محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کریں اگر کوئی سادہ مزاج یا کم علم ہے تو اس کی مدد کریں نہ کہ اسے نقصان پہنچائیں اچھا مسلمان وہی ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور کسی کو تکلیف نہ دے اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی،دیانت اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کے ظلم اور دھوکے سے بچائے آمین۔

اسلام ایک خوبصورت دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے اسلام اپنی تعلیم و تربیت کے ذریعے لوگوں میں اعلی انسانی اخلاق پیدا کرنا چاہتا ہے مگر ہم کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے ہیں۔

سادگی کا مطلب ہے کہ کوئی انسان جو جھوٹ نہ بولتا ہو دل کا صاف ہو لوگوں سے حسن سلوک سے پیش آئے جو بالکل سیدھا ہو جو لباس میں کھانے پینے میں نیز زندگی کے ہر پہلو میں سادگی اختیار کرنے والا ہو۔

ہمارا اصول یہ ہے کہ ہم پہلے لوگوں کے اندر قابلیت تلاش کرتے ہیں جو ہمیں کام آئے پھر اسے اپنے محبت بھرے لفظوں کے جال میں گرفتار کرتے ہیں ہماری چال کامیاب ہو جاتی ہے ہم نہ جانے کتنی مشکلات میں اسے اپنے ساتھ پاتے ہیں جب بھی آواز دو یا نہ دو ایک غلام کی طرح ہمارے حالات کو دیکھ کر حاضر ہو جاتا ہے جب ہمیں اس سے زیادہ قابل انسان مل جاتا ہے پھر ہم اس سے خود کو دور کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ اس کی ہمیں ضرورت نہیں اس کی حرمت کو پامال کرتے ہیں اس کے راز کو راز رہنے نہیں دیتے ہر طرف سے گرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ہمارے راستے سے ہٹ جائے مگر وہ ہمیں اف تک نہیں کہتا ہم اس کی خاموشی کو وجہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کی غلطی ہے تبھی تو خاموش ہے مگر ہم کیا جانیں کہ ہم نے اپنے لفظوں سے اس کے دل کے کتنے ٹکڑے کر دیے ہیں ٹوٹے دل سے آواز نکلے تو کیسے نکلے کچھ لوگ مسکراتے بہت ہیں مگر اندر سے خاموشی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔

ہم لوگوں کو اپنے مطلب کے لیے چنتے ہیں اور بغیر کسی وجہ کے چھوڑ دیتے ہیں ہم اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر غریب کی آواز پست کرتے ہیں موجودہ دور جس سے ہمارا تعلق ہے ہم اس کا ناجائز فائدہ اٹھا کر احساس و انسانیت کا نام ختم کرتے جا رہے ہیں کچھ دل صرف کسی کے نرم لہجے اور احساس اور ساتھ سے سکون پاتے ہیں ہم کسی کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ہمیں لگتا ہے کہ لوگ ہم سے ڈر رہے ہیں مگر حقیقت میں اپنے رب کے ناراض ہونے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں حقوق العباد میں کوئی کمی واقعہ نہ ہو جائے وہ اپنے رب پر فیصلہ چھوڑ کر پھر بھی ہمیں عزت دیتے ہیں۔

ایک شخص جو اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے ہم اسے تکلیف دے رہے ہیں اس کی زندگی کا مقصد رب کی رضا ہے وہ لوگوں کو درگزر کرتا جاتا ہے پھر ہم اسے ہی کمزور کہہ رہے ہیں مگر وہ رب کی بارگاہ میں مقبول ہوتا جاتا ہے وہ اپنا تعلق رب سے مضبوط کر رہا ہے میرے رب کا انصاف بھی باکمال ہوتا ہے اللہ تعالی کے ہاں انصاف کی چکی دھیرے ضرور چلتی ہے مگر بہت باریک پیستی ہے۔

جو کسی کو تکلیف دے کر ان کی دنیا اجاڑ کر اپنی بنائے میرا رب وقت آنے پر ان کی بنیادیں ہلا دیتا ہے بعض لوگوں کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کا لہجہ کتنا سخت ہے یہ ساری باتیں ہمارے معاشرے میں سے محبت احساس اور انسانیت کو ختم کر رہی ہیں انسان کا نعم البدل نہیں ہوتا وہ دوبارہ ہمیں نہیں ملتے۔

جو شخص کسی کی دوستی بھروسے یا محبت کو استعمال کر کے ناجائز فائدہ اٹھائے وہ اچھا اخلاق والا نہیں کہلاتا، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو اللہ تمہارے لیے آسانی پیدا کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اچھا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ زبان وغیرہ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے، (بخاری، 1/16، حدیث: 11)ابو جہل جیسا دشمن بھی نبی کریم ﷺ کی صداقت کا قائل تھا ہمیں دوسروں کی سادگی کا احترام کرنا چاہیے ہم کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ مت اٹھاٹیں، ایسے لوگ بہت خاص ہوتے ہیں ان کی قدر کرنی چاہیے اچھا اخلاق ہمارے معاشرے اور ہمارے ملک کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔

ہر انسان اپنے اخلاق میں خوبصورت ہوتا ہے۔ جس طرح ایک انسان معاشرے میں اپنے اچھے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے، آج کے دور میں جہاں ہر طرف انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے، اسی طرح ایک سادہ انسان جو بہت عاجزی، انکساری، محبت، شفقت اور اچھے اخلاق سے پیش آتا ہے، وہ سب کا دل جیت لیتا ہے۔

سادہ انسان یہ نہیں دیکھتا کہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں یا مجھے اچھا نہیں سمجھتے، بلکہ وہ ہر کسی سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے۔ اس کا دل آزاری کا خیال رکھنا ہی سب سے بڑی خوبی ہے۔ بالآخر وہ ہر طرح سے لوگوں سے حسنِ اخلاق سے پیش آتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں سادہ لوگوں کی سادگی کو دیکھ کر ان کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان کی حق تلفی کی جاتی ہے، ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ الغرض ان کی سادگی کو ہر طرح سے آزمایا جاتا ہے، حالانکہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے، آپس میں احساس ہونا چاہیے۔

اس کے برعکس ہم لوگ سادہ لوگوں کے ساتھ حق تلفی کرتے ہیں حالانکہ وہ معاف کر دیتے ہیں۔ ہم ان کا دل دکھاتے ہیں وہ اسے نظر انداز کر کے ہمیں معاف کر دیتے ہیں، ہم ان کا احساس نہیں کرتے حالانکہ وہ ہمارا احساس کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی سادہ لوگوں کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ وہ بھی انسان ہوتے ہیں، احساسات رکھتے ہیں۔

ایک سادہ دل انسان کی سادگی کو دیکھ کر اس کا ناجائز فائدہ اٹھانا تو آسان ہو سکتا ہے، لیکن وہ آپ کے اس ظلم و دل آزاری کا جواب نہ دے سکے تو وہ اللہ کی بارگاہ میں آپ سے متعلق شکایت کر سکتا ہے۔ لہٰذا ایک سادہ انسان کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں اور انہیں معاشرے میں عزت دیں۔معاشرتی خوشحالی کے لیے لازم ہے کہ ہم اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں۔ کسی کی شرافت، عاجزی یا کم گوئی کو اس کی کمزوری سمجھنا سراسر نادانی اور اخلاقی پستی کی نشانی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جہاں کمزوروں، مسکینوں اور سادہ لوح انسانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ جب ہم کسی سادہ انسان کو دھوکہ دیتے ہیں تو عارضی طور پر خود کو بہت چالاک یا کامیاب تصور کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ہم اپنی آخرت اور اپنے اخلاق کا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔دینِ اسلام ہمیں سادگی اختیار کرنے اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

ہمارے نبی کریم ﷺ کی زندگی سادگی اور اعلیٰ اخلاق کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ کمزوروں اور سادہ دل لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ فرمایا۔ اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے اردگرد موجود ایسے تمام لوگوں کو تحفظ اور احترام دینا ہوگا جو دنیاوی چالاکیوں سے دور ہیں۔ ہمیں اپنے دلوں میں دوسروں کے لیے تڑپ، ہمدردی اور مروّت کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔ جب معاشرے کا ہر فرد دوسرے کے جذبات کا پاس رکھنے لگے گا، تو ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

آئیے آج سے یہ عہد کریں کہ ہم کسی کی سادگی کا مذاق نہیں اڑائیں گے بلکہ ان کے مددگار بنیں گے۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک ایسا دین ہے جو ہمیں دوسروں کی مدد کرنے اور ان کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔ اسلام کسی کو دھوکہ دینا، گالی دینا، کسی پر ظلم کرنا، زیادتی کرنا اور اس کو تکلیف پہنچانا بالکل ناجائز قرار دیتا ہے۔

سادگی ایک صفت ہے اور سادہ ہونا کوئی عیب نہیں ہے۔ لیکن آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ اس کا مال ہڑپ لیتے ہیں اور اس کے ساتھ بددیانتی کرتے ہیں۔ لیکن اسلام ان تمام چیزوں کی نفی کرتا ہے اور ہمیں دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کا حکم دیتا ہے۔

اللہ پاک نے قرآن پاک میں واضح الفاظ میں دوسروں کے ساتھ زیادتی کرنے اور ظلم کرنے سے منع فرمایا ہے، جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کا مال ناحق کھانا، اس پر ظلم و زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

اگر کوئی کسی کے ساتھ کسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کا مال ہڑپ لیتا ہے یا اس پر ظلم کرتا ہے تو یہ سارا اللہ پاک کی نافرمانی ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک احسان کو پسند فرماتا ہے اور انصاف کو پسند فرماتا ہے۔ کسی کے ساتھ غیر منصفانہ معاملات یا کسی کے ساتھ زیادتی کرنا جائز نہیں ہے۔

احادیث مبارکہ میں بھی اس بات کی نفی کی جاتی ہے کہ کسی کے ساتھ دھوکہ کرنا، اس کا فائدہ اٹھانا اخلاقی اور شرعی طور پر ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)ایک اور حدیث میں فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہے۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

کسی مسلمان کی سادگی کا فائدہ اٹھانا اور اس پر ظلم و زیادتی کرنا اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے۔ ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے۔ جامع ترمذی میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سچا اور ایماندار تاجر بروز قیامت شہدا اور صدیقین کے ساتھ ہوگا۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امانت داری انسان کو کتنے بلند مرتبے پر لے جاتی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کل لوگ دوسروں کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کا اس میں کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگ خود اپنا ہی نقصان کرتے ہیں اور خود کو ہلاکتوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ان کی مدد کر کے ملنے والے اجر و ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں۔

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ سے ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے کی بیعت کی تھی۔ (بخاری، 2/34، حدیث: 2157) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں صرف اور صرف بھلائی کرنے کا ارادہ کرنا چاہیے۔ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرنا صدقہ ہے۔

ایک اچھا مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ ہم سادہ مزاج لوگوں کی مدد کریں اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور ان کے ساتھ بددیانتی نہ کریں۔

اللہ پاک ہمیں سادہ مزاج لوگوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ساتھ زیادتی کرنے کی ذلت اور فعل بد سے محفوظ رکھے۔ آمین


دیں اسلام بہت ہی پیارا دین ہے یہ ہمیں آپس میں دیانتداری اور نرمی کا حکم دیتا ہے کسی مسلمان کی سادگی اور بھولے پن کا فائدہ اٹھانا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ قرآن مجید لوگوں کی سادگی کا فائدہ اٹھانے انکو دھوکہ دینے انکی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی سخت مذمت کرتا ہے۔

قرآن پاک میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔

لہٰذا مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف سے کام لیں۔ فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے۔ جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ (مسلم، ص 695، حدیث: 283)

اس حدیث مبارکہ سے ہمیں نصیحت حاصل کرنی چاہیے کہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے دھوکہ کی کس قدر مذمت فرمائی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کو دھوکہ دینا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ہمیں اس سے پچنا چاہیے۔

ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ 14، النحل: 90) ترجمہ: بیشک اللہ انصاف اور بھلائی کا حکم دیتا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵) (پ 12، ہود: 85)ترجمہ: اور لوگوں کو انکی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو۔

مسلمان کا مال اور عزت محترم ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک تمہارا خون مال اور عزتیں ایک دوسرے پر اس طرح ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں اور تمہارے اس شہر میں ہے۔

فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری، 1/16، حدیث: 11)

ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے جان ومال اور عزت وآبرو کی ایسے ہی حفاظت کرے جیسے اپنی کرتے ہیں۔ دھوکہ دینا کسی کا فائدہ اٹھانا ایک مسلمان کی صفت نہیں ہے یہ دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے دین اسلام ہمیں باہمی محبت کا درس دیتا ہے۔

حضرت ابوذر غفاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام قرار دیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ (مسلم، ص 1393، حدیث: 2577)

دھوکہ دینے والے لوگوں کا فائدہ اٹھانے والے پر کوئی بھروسہ نہیں کرتا بعض اوقات کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی صورت میں اس شخص کا اچھائی اور بھلائی پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور کئی بدگمانیوں کا شکار ہو جاتا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم انصاف کرنے والے اور امانتدار بنیں کسی کی سادگی کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ اگرکسی کام کسی بات کی ضرورت محسوس کریں تو اس کی رہنمائی فرما دیں۔

آج کل کے جدید دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انکا فائدہ اٹھانا بہت ہی عام ہو گیا ہے فیک کالز اور لنک کے ذریعے لوگوں کے بینک اکاؤنٹ ہیک کر کے ان کے مال پر ناحق قبضہ کر لیا جاتا ہے لوگوں سے جھوٹ بول کر ان سے رقم وصول کی جاتی ہے انہیں مختلف طریقوں سے پریشان کیا جاتا ہے۔


زندگی کے معاملات یعنی کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور رہن سہن وغیرہ میں بے جا تکلفات اور اسراف سے بچنے کا نام سادگی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اسے اچھے اخلاق، ہمدردی اور انصاف کا درس دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سادہ مزاج، بھروسہ کرنے والے اور نرم دل ہوتے ہیں، لیکن بعض لوگ ان کی سادگی کو کمزوری سمجھ کر ان سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

افسوس! آج کے دور میں کچھ لوگ ایسے بھولے بھالے لوگوں کی سادگی کو ان کی نادانی سمجھ لیتے ہیں اور اپنے فائدے کے لیے انہیں دھوکہ دیتے ہیں۔ کسی کے بھولے پن یا سادگی کا ناجائز فائدہ اٹھانا ایک بدترین اخلاقی عیب اور اللہ پاک کی نافرمانی ہے، اور یہ اسلام کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔

قرآن پاک ہماری اس بارے میں رہنمائی فرماتا ہے ‎اسلام ہمیں دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک، دیانت داری اور انصاف قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ ارشاد فرماتا ہے:‎ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (پ 5، النساء: 29) ترجمہ: اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ- (پ 5، النساء: 58) ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔

ان آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہمیں امانت داری، انصاف اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ کسی کی سادگی یا بھروسے کا غلط فائدہ اٹھانا ناجائز ہے۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی ہے: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، 1/16، حدیث: 11)

اور ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:‎مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ (مسلم، ص 1394، حدیث: 6580)

ان احادیثِ مبارکہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام دھوکہ، ظلم اور کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے سے منع کرتا ہے۔

جب کوئی شخص ہم پر اندھا اعتماد کرتا ہے تو وہ ہمیں اپنا امین بنا لیتا ہے، اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کے بھروسے کی حفاظت کریں۔ اگر کوئی شخص سادہ مزاج یا دنیا داری کی چالاکیوں سے ناواقف ہو تو ہمیں اس کا مددگار بننا چاہیے، نہ کہ اس کی سادگی سے فائدہ اٹھائیں۔ دنیا کی وقتی چالاکی شاید لوگوں کی نظروں میں کامیابی سمجھی جائے، مگر اللہ تعالیٰ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کے ہاں ہر انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی، امانت داری اور اچھے اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنے والا بنائے۔