دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام 25ستمبر 2026ء کو سویڈن اسٹاک
ہوم
(Stockholm,
Sweden) کے
مقامی کمیونٹی سینٹرمیں عظیم الشان ”گرینڈ فیملی اجتماع 2026ء“کا انعقاد کیا
گیا جس میں سویڈن، اسکاٹ ہوم، یورپ اور یوکےمیں مقیم عاشقانِ رسول نے کثیر تعداد
میں شرکت کی۔ اجتماع کے مرکزی اور روح پرور سیشن سے مفتی محمد قاسم عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خصوصی بیان فرمایاجس کا بنیادی محور ”دین
اسلام، معاشرتی اصلاح، تربیتِ اولاد، خانگی سکون اور دینی تعلیم کی اہمیت“
تھا۔
تلاوت
و نعت سے عظیم الشان اجتماع کا انعقاد ہواجبکہ شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم
عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے ”دینِ اسلام اور ایمان کا تقاضا“ کے
موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کہ اسلام ایک
مکمل دین ہے، پیدائش سے لے کر موت تک انسان جن جن احوال سے گزرتا ہے، اللہ تعالیٰ
نے اس دین میں ہر شے کے بارے میں تفصیلی رہنمائی عطافرمائی اور
اللہ کا کروڑ ہا کروڑ احسان کے اس نے ہمیں عظیم ہستی کے ذریعے سے دین کامل عطا
فرمایا، ان عظیم ہستی کو اللہ پاک نے تمام جہان کے لئے رحمت بناکر بھیجا۔ہر مسلمان
کو ایمانی تقاضے پورا کرتے ہوئے اسلامی عقائد، قبر و آخرت اور جنت و دوزخ کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی عقائد کا علم ہونا چاہیئے، ہر مسلمان کو نفس کی
پیروی کرنے کے بجائے اللہ و رسول کی اطاعت میں گزارنی چاہیئے جس نے بُری خواہشات
سے اپنی نفس کو بچالیا تو بے شک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ مفتی صاحب نے شرکا کو
اسلام کے تمام ارکان بالخصوص نماز کو پابندی سے ادا کرنے کی ترغیب دلائی۔
بعدازاں
نگران شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری نے دینی
و دنیاوی تعلیم کے تقابل پر ایک سبق آموز واقعہ پیش کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز
کیا۔واقعہ پیش کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے کہا کہ ایک شخص نے بیوی کے اصرار کے
باوجود اپنے پہلے تین بیٹوں کو صرف دنیاوی اعلیٰ تعلیم دلوا کر آفیسرز اور پروفیشنلز
بنایا جبکہ بیوی کی خواہش پر چوتھے بیٹے کو عالم و حافظِ قرآن بنایا، جب ماں کی
حکمتِ عملی سے باپ کے رویے کا امتحان لیا گیا تو صرف دنیاوی تعلیم یافتہ تینوں بڑے
بیٹوں نے باپ کو برا بھلا کہا اور گالیاں دیں جبکہ چوتھے عالم بیٹے نے اسلام
پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے ماں کو صبر، معافی اور باپ کے احترام و حقوق کا
درس دیا۔ پردے کے پیچھے چھپے والد نے یہ منظر دیکھ کر زار و قطار روتے ہوئے
پچھتاوے کا اظہار کیا کہ کاش اس نے تمام بچوں کو دین اور قرآن کی تعلیم دی ہوتی۔
مولانا
عمران عطاری نے یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی خانگی زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے
کہا کہ ستمبر 2026ء کے موجودہ دور میں مال و دولت، گاڑیوں اور آسائشوں کے باوجود
گھروں میں سکون، محبت اور اتفاق کا نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ شوہر، بیوی
اور بچوں کے درمیان باہمی ناچاقیاں اور شکایتیں عام ہیں۔ گھر کا ماحول صرف اسی صورت امن کا گہوارہ بن
سکتا ہے جب پورا خاندان شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھلے اور ایک دوسرے کے شرعی حقوق
ادا کرے۔
ادب و
احترام پر گفتگو کرتے ہوئے بیان میں دیہات کی تین عورتوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا
گیا کہ انجینئر اور ڈاکٹر بیٹے کی مائیں صرف عہدوں پر فخر کرتی رہیں جبکہ تیسری
عورت کے عالم بیٹے نے پہنچتے ہی ماں کا مٹکہ اپنے سر پر اٹھایا اور ہاتھ پکڑ کر
چلاجس پر ماں نے فخر سے کہا کہ ”میرا بیٹا
عالم بن رہا ہے“۔
بیان
میں والدین کی ذمہ داری پر کلام کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اولاد کی اچھی تربیت کا حق
شادی کے لیے نیک و دین دار عورت کے انتخاب سے شروع ہو جاتا ہے۔ ارشاداتِ باری تعالیٰ ہے کہ حضرت لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ کی بیٹے کو نصیحتوں اور سورۃ
التحریم کی چھٹی آیت کی روشنی میں واضح کیا گیا کہ ہر شخص پر اپنے اور اپنے اہل و
عیال کو جہنم کی آگ سے بچانا فرض ہے۔
اس کے
علاوہ نگرانِ شوریٰ نے بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار، میاں بیوی کے حقوق اور
خانگی نظام، والدین کی اطاعت اور اطاعت کا صلہ، رزق حلال کمانے اور اپنے گھروں میں
مکتبۃ المدینہ کی کتابوں سے درس شروع کرنے کے حوالے سے رہنمائی کی اور ترغیب
دلائی۔
بیانات
کے بعد سویڈن میں فیضان آن لائن اکیڈمی سے درس ِنظامی (عالم کورس) اور دیگر
کورسز کرنے والے اسٹوڈنٹس کو Certificate اور تحائف دیئے گئے۔
اختتام
پر دعا مانگی گئی اور صلوۃ وسلام بھی پڑھا گیا۔
سیدنا
شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃُ اللہِ علیہ کے
سالانہ عرس کے موقع پر بڑی گیارہویں شریف منانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے زیر اہتمام 22 ستمبر 2026ء کو
فیضانِ مدینہ مسجد ویمبلی (Wembley)
برطانیہ میں سنتوں بھرے اجتماع
کا انعقاد کیا گیا جس میں قرب و جوار کے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
نگرانِ
شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ
العالی نے سنتوں بھرا بیان کیا اور سیدنا غوث پاک رحمۃُ اللہِ علیہ کی سیرت پر گفتگو کی۔نگران
شوریٰ نے شرکا کوغوث پاک کی سیرت اپنانے، علم دین حاصل کرنے اور دینی ماحول سے
وابستہ رہتے ہوئے نمازوں کی پابندی کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کا ذہن دیا۔
آخر میں
امتِ مسلمہ کی خیر و سلامتی کے لئے دعا کی گئی اور صلوۃ و سلام پر اجتماع کا
اختتام ہوا۔
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت شہاب، ہند (ویسٹ بنگال)
اللہ رب العزت
نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے خصوصی کرم سے انبیائے کرام کو مبعوث
فرمایا۔ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی ہمارے پیارے
آقا محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا، اسی نظریے
کو عقیدۂ ختم نبوت کہا جاتا ہے۔
عقیدۂ ختمِ
نبوت فقط ایک عام عقیدہ یا فروعی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے ایمان کی اساس اور
بنیاد ہے، اور ضروریات دین میں شامل ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ
جو شخص مدینے کے تاجدار، محمد عربی ﷺ کو آخری نبی نہ مانے یا اس میں ذرہ برابر بھی
شک کرے، وہ کافر و مرتد ہے۔ اللہ نے نبوت و رسالت کا دروازہ پیارے آقا ﷺ پر ہمیشہ
کے لیے بند فرما دیا ہے اور خاتم الانبیاء کا درخشاں تاج ہمارے پیارے نبی حضرت
محمد مصطفیٰ ﷺ کے سر مبارک پر سجا دیا گیا ہے۔
تاجدار انبیاء
محمد مصطفیٰ ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، یہ عقیدہ
ہمیں قرآن و حدیث سے صراحتاً ملتا ہے۔
قرآن کریم میں
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب:
40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
چونکہ عقیدۂ ختمِ
نبوت ہمارے ایمان کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین مسئلہ ہے اور تمام فرضوں سے
بڑھ کر اس کا جاننا اور ماننا فرض ہے، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے
عہد مبارک سے ہی اس عقیدے کی حفاظت کی سعی ہوتی رہی ہے، اور آج تک علمائے کرام اس
کی محافظت اور اشاعت کے لیے کوشاں ہیں۔ اگر علمائے اہل سنت کا ذکر کیا جائے تو
سینکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں لاکھوں علمائے اہل سنت نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی پہرے داری
کی ہے۔ اگر ان سب کا ذکر کیا جائے تو کئی ضخیم کتابیں مرتب ہو جائیں گی، اور تاریخ
میں ایسی کئی ضخیم کتابیں ان علمائے اہل سنت کے شاندار تذکروں سے بھری پڑی ہیں۔ ہم
یہاں چند علمائے اہل سنت کا مختصر ذکر کرتے ہیں جنہوں نے عقیدۂ ختمِ نبوت پر پہرے
داری کا حق ادا فرمایا اور ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے آخری دم تک برسر پیکار
رہے:
1۔ مولانا غلام دستگیر قصوری: انگریز دورِ حکومت میں مرزا
غلام احمد قادیانی نے کبھی مجدد اور کبھی مسیح ہونے کا دعویٰ کیا، اور بالآخر اس
نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ بھی کر دیا۔ اس جھوٹے مدعی نبوت کے خلاف سب سے پہلا فتویٰ
سنی عالم حضرت غلام دستگیر قصوری علیہ الرحمہ نے جاری کیا۔ آپ نے اپنی ایمانی
فراست سے اس فتنے کو ابتدا ہی میں بھانپ لیا اور اس کی سرکوبی کے لیے روزِ اول سے
ہی سرگرمِ عمل رہے۔
2۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان: محافظِ ختمِ
نبوت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان نے ناموس رسالت اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کی
پاسبانی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے مرزا قادیانی کی تکفیر و تردید میں ایسے
مدلل فتاویٰ جاری کیے جنہیں برصغیر پاک و ہند میں بےپناہ اہمیت دی گئی اور آج بھی
یہ فتاویٰ مسلمہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے اس فتنے سے مسلمانوں کے
ایمان کی حفاظت کے لیے تقریباً دس اہم کتب بھی تصنیف فرمائیں۔ فتاویٰ رضویہ میں
قادیانیوں کے خلاف کئی فتاویٰ موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت نے اپنی پوری زندگی ناموسِ
رسالت کی حفاظت کے لیے وقف کر دی۔
3۔ حضرت پیر مہر علی شاہ: حضرت پیر مہر علی شاہ نے قادیانیت کی
تردید اور تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کے لیے مشہور زمانہ کتاب شمس الھدایہ تصنیف
فرمائی۔ اس کے علاوہ آپ نے قادیانیوں کو مناظرے کے ایسے شاندار چیلنج دیے کہ آج تک
قادیانی طبقہ ان کا جواب دینے سے عاجز ہے۔
4۔ پیر جماعت علی شاہ: امیرِ ملت حضرت پیر جماعت علی شاہ نے
مرزا اور اس کے ساتھیوں کو مناظرہ و مباہلہ کی دعوت دی اور للکار کر فرمایا (جس کا
مفہوم یہ ہے): وہ جو چاہے کہے، میں مباہلے کے لیے تیار ہوں کیونکہ میرا نبی سچا ہے
اور مرزا جھوٹا ہے۔ اور جلد ہی اللہ رب العزت ہمیں اس جھوٹے دجال سے نجات عطا
فرمائے گا۔ اسی رات مرزا غلام احمد قادیانی ہیضے کے مرض میں مبتلا ہوا اور اگلی
صبح بیت الخلاء میں واصل جہنم ہو گیا۔ گویا اللہ والوں کی زبان سے نکلی ہوئی بات
حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی۔
5۔ امیر المجاہدین خادم حسین رضوی: خادم حسین
رضوی علیہ الرحمہ ماضی قریب کی وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تمام زندگی حضور ﷺ
کی ناموس پر پہرہ دیا۔ انہوں نے تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت پر اپنا تن، من، دھن اور
اولاد سب نچھاور کر دیا۔ انہوں نے اس موضوع پر کئی کتب لکھیں، بیانات کیے، اور اسی
سلسلے میں کئی بار ظلم و تشدد کا شکار بھی ہوئے، مگر آخری سانس تک اس عقیدے کی
ترویج و اشاعت اور تحفظ کرتے رہے۔
6۔ امیرِ اہلِ سنت ابو بلال محمد الیاس عطار قادری: موجودہ
دور میں تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت پر کمال حکمت عملی کے ساتھ بڑے پیمانے پر کام کرنے
والے علمائے اہل سنت میں ایک انتہائی اہم نام امیر اہل سنت الیاس عطار قادری کا
ہے۔ آپ نے اپنے بے شمار بیانات اور مدنی مذاکروں کے ذریعے اس عقیدے کی پختگی کا
سامان کیا اور بد مذہبوں نیز منکرین ختمِ نبوت کا بھرپور رد فرمایا۔ آپ نے امت کو
ایک دلنشین نعرہ عطا کیا: محمد مصطفیٰ ﷺ سب سے آخری نبی۔ الحمد للہ! یہ نعرہ اس
قدر مقبول ہوا کہ آج بچے بچے کی زبان پر جاری نظر آتا ہے۔ اپنی اس حکمت عملی کے
ذریعے آپ نے نہ جانے کتنے گھروں تک اس اہم عقیدے کی روشنی پہنچا دی اور لاکھوں
مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنے۔ اللہ رب العزت انہیں سلامت رکھے۔
جس
طرح ہر دور میں جھوٹے مدعیانِ نبوت سر اٹھاتے رہے ہیں، بالکل اسی طرح ہر دور میں
اس فتنے کو کچلنے اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی مرد
مجاہد اور علمائے اہلِ سنت موجود رہے ہیں، جنہوں نے اپنی بے پناہ کوششوں، حکمت
عملی اور جان و مال کو حضور ﷺ کے قدموں میں نچھاور کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی
حفاظت فرمائی۔ کسی نے اپنی تحریروں سے، کسی نے فتاویٰ سے، کسی نے نعتیہ کلام سے،
کسی نے مناظرے و مباہلے کے چیلنج سے، اور کسی نے نیکی کی دعوت دے کر اس عقیدے کی
بھرپور صراحت فرمائی۔ غرض ہر عالم دین نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بے مثال
خدمات انجام دی ہیں۔
ان
میں سے چند مشہور نام: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان، مولانا غلام قادر بھیروی،
مولانا اصغر علی روحی، پیر مہر علی شاہ، مولانا حشمت علی، قاضی سلطان محمود،
مولانا محمد حامد رضا بریلوی، خواجہ ضیاء الدین سیالوی، مولانا سید نعیم الدین
مراد آبادی، محدث اعظم پاکستان، مفتی غلام مرتضیٰ، شیر اسلام مفتی محمد عنایت
اللہ، قاضی فضل الدین، غازی ممتاز قادری، اور مفتی ضیاء احمد قادری قابل ذکر ہیں۔
اللہ رب العزت
ہمیں اور ہماری نسلوں کو عقیدۂ ختمِ نبوت کا سچا محافظ بنائے اور ہمیں تا دمِ مرگ
اس عقیدے پر ثابت قدم رکھے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
نہیں
ہے اور نہ ہوگا بعد آقا کے نبی کوئی
وہ
ہیں شاہِ رسل، ختمِ نبوت اس کو کہتے ہیں
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت فیاض، مظفر گڑھ
عقیدہ
ختمِ نبوت سے مراد: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے سلسلہ نبوت حضور علیہ
السلام پر ختم فرما دیا کہ حضور کے زمانے میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ عقیدہ
ختمِ نبوت ایسا عقیدہ ہے کہ جس کا ثبوت قرآن مجید کی نص قطعی، احادیث متواترہ اور
اجماع امت سے ثابت ہے۔ یہ عقیدہ ضروریاتِ دین سے ہے، اس کا انکار کرنے والا یا اس
میں ادنیٰ شک کرنے والا کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
تحفظِ
عقیدہ ختمِ نبوت: مسلمانوں
کا ختمِ نبوت سے متعلق عقیدہ اس قدر واضح اور دوٹوک ہے کہ اس عقیدے میں جب کبھی
کسی نے رخنہ ڈالنے کی کوشش کی، مسلمانوں نے اس کے کفر و ارتداد میں شک نہ کیا اور
اس عقیدہ کی حفاظت کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا کر جانوں کے نذرانے پیش کئے۔اسلام کے
ہر دور میں اہلِ حق نے جھوٹے دعویداروں اور ختمِ نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والے ہر زمانے
میں پیدا ہو رہے ہیں اور ہر زمانہ میں ان کی سرکوبی کی جاتی رہی ہے۔ اگر ہم چودہ
سو سالوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ جس نے بھی جھوٹا دعویٰ نبوت
کیا تو اسکا انجام عبرتناک ہوا۔
ہر سال 7
ستمبر کو یومِ تحفظِ ختمِ نبوت منایا جاتا ہے۔ اس عقیدے کی اہمیت کو اجاگر کرنے
اور گھر گھر تک پہنچانے میں ہر زمانے کے علما نے نمایاں کردار ادا کیا۔7 ستمبر
1974ء وہ عظیم دن تھا جس دن علمائے کرام کی قربانیوں اور عظیم محنتوں اور کاوشوں
کی بدولت ختمِ نبوت کے غداروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ کچھ علمائے کرام کا
تذکرہ اور ان کی قربانیاں زیرِ نظر ہیں۔تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت میں بہت سے علمائے
دین نے حق کا کردار ادا کیا جن میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
اعلیٰ
حضرت:جب
قادیانیوں نے عقیدہ ختمِ نبوت پر حملہ کیا تو عاشقِ ماہِ رسالت امام احمد رضا خان
نے خبر دی وہ دریا بہائے کہ قادیانی کی جھوٹی نبوت اس میں غرق ہو گئی۔ عقیدہ ختمِ
نبوت کے تحفظ میں آپ علیہ الرحمہ کی خدمات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا
جاتا ہے۔نثر میں اور نظم میں۔ اعلیٰ حضرت نے ختمِ نبوت کے اثبات میں متعدد فتاویٰ
تحریر کئے۔ پانچ رسائل بھی تحریر فرمائے ہیں ان کے نام درج ذیل ہیں:
(1) جزاء اللہ
عدوہ باباہ ختم النبوۃ (2) السوء والعقاب علی المسیح الکذاب(3) قہر الدیان علی مرتد
بقادیان (4) المبین ختم النبیین (5) الجزار الدیان علی المرتد القادیان۔
المبین
ختم النبیین: یہ
رسالہ مبارکہ 1326ھ میں اس سوال کے جواب کہ لفظ النبی کا اطلاق اشتقاقی ہے یا غیر
اشتقاقی؟ ان کے جواب میں معتبر دلائل میں النبی کا اشتقاقی ہونا ثابت کیا اور اس
کے مرکز کو جائز بتایا۔
اعلیٰ حضرت
بطور نظم ارشاد فرماتے ہیں:
نہ
رکھی گل کے جوشِ حسن نے گلشن میں جا باقی
چٹکتا
پھر کہاں غنچہ کوئی باغِ رسالت کا
فتحِ
بابِ نبوت پہ بےحد درود
ختمِ
دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
ختمِ نبوت پر
جب سن 1900 کے اندر مختلف انداز میں وار کیا گیا تو 1953ء سے 1974ء تک بہت سے علمائے
کرام پیش پیش رہے جن میں سر فہرست:علامہ عبد الحامد بدایونی، علامہ ابو الحسنات
سید احمد قادری، مولانا عبد الستار نیازی، علامہ سید خلیل احمد برکاتی جیسے اور
مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ عبد المصطفیٰ ازہری، شارح بخاری مفتی سید محمد
مرتضیٰ شامل ہیں۔
شاہ
احمد نورانی: مولانا
شاہ احمد نورانی کا کردار تحریک ختمِ نبوت میں مثالی رہا ہے۔ آپ تحریک ختمِ نبوت 1953
اور 1974 میں شامل رہے اور تقریباً 600 قادیانیوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ آپ
نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ہی
پاکستان کے قانون میں مسلمان کی تعریف کو شامل کرنے اور ریاست کا سرکاری مذہب
اسلام قرار دینے کا مطالبہ کیا جس کو تسلیم کیا گیا۔
اور آپ ہی کی
کاوشوں کی بدولت ختمِ نبوت پر ایمان برقرار رہا، یوں ہی صدر اور وزیراعظم کے حلف
میں بھی ختمِ نبوت پر ایمان کو شرط قرار دیا گیا۔یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے
کہ ایک دین پر مر مٹنے والا اور حضور علیہ السلام کا سچا عاشق جب دین کے ناموس کی
بات سنتا ہے تو اس کا خون جوش مارتا ہے اور وہ دین پر اٹھائی گئی انگلی خود دیکھنا
تو دور کی بات اس کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے یہ تو ایک عام مسلمان کی غیرت کی بات ہے
تو علمائے اہلسنت کی غیرت کا کیا مقام ہوگا جن کی بدولت اسلام کا جھنڈا لہراتا ہوا
نظر آتا ہے۔ اسی لیے تو اعلیٰ حضرت نے فرمایا تھا:
وہ
رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے
چارہ جوئی کا وار ہے کہ یہ وار آر سے پار ہے
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت محمد طارق، سراجاً منیرا
گجرات
مسلمانوں کا
واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں آپ کے زمانے میں
یا آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا حضور خاتم النبیین ﷺ کا آخری نبی
ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ اور تابعین تبع تابعین سلف و صالحین
علمائے کاملین اور مسلمین کا اجماع اور اتفاق ہے اگر کوئی حضور کو آخری نبی نہ
مانے یا حضور کے آخری نبی ہونے میں ذرا برابر بھی شک کرے یا طرح طرح کے بہانے بنا
کر حضور کے بعد کسی اور کو بھی نبی مانے تو وہ کافر و مرتد ہو کر دائرہ اسلام سے
نکل جاتا ہے۔
خداوند قدوس
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب:
40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
علمائے حق اہل
سنت نے اس بات کا تحریر و تقریر،درس و تدریس،نظم و نثر ہر انداز میں رد کیا اور
نقلی عقلی دلائل کی روشنی میں اس کا کافر و مرتد اور بدترین جھوٹا ہونا ثابت کیا
مرزا قادیانی کے رد اور عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمائے کرام کی تحریری
خدمات میں سے چند ایک یہ ہیں:
مجددِ دین ملت
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ: (سال وفات1921)نے عقیدہ ختم نبوت کے
تحفظ میں 1899 میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902 میں السوء والعقاب علی
المسیح الکذاب، 1905 میں قہر الدیان علی مرتد بقادیان،1908 میں المبین ختم النبین
اور 1921 میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی تحریر
فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دی یہ پانچو رسائل فتاوی رضویہ جلد 14
اور 15 میں موجود ہیں۔
حضرت علامہ
مفتی غلام رسول نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ:(سال وفات: 1903) نے 1893 میں عربی رسالہ
الہام الصحیح فی اثبات حیات المسیح تحریر فرما کر مرزا قادیانی کے باتیں عقائد کا
دلائل کے ساتھ رد فرمایا۔
حضرت علامہ
قاضی فضل احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1896 میں کتاب فضل رحمانی بجواب اوہام
غلام قادیانی سمیت چار کتابیں لکھ کر مرزا قادیانی کے باطل الہامات کا پردہ چاک
کیا۔
حدیث مبارکہ
میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا عنقریب میری امت میں 30 کذاب ہوں گے اور ان میں سے
ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ جنتی ہے حالانکہ میں حاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی
نہیں ہے۔ (ابوداود،4/132، حدیث: 4252)
حضرت جابر بن
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمام رسولوں
کا قائد ہوں اور یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میں تمام پیغمبروں کا خاتم ہوں اور
یہ بات بطور فخر نہیں کہتا اور میں سب سے پہلی شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلے
شفاعت قبول کیا گیا ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر ارشاد نہیں فرماتا۔ (معجم اوسط، 1/63،
حدیث: 17)
اے عاشقان
رسول! اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کیجئے، میرے شیخ طریقت، امیر اہلسنت دامت
برکاتہم العالیہ کی کتاب کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب خود بھی پڑھئے اور
دوسروں کو بھی پڑھنے کا ذہن دیجئے، عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کیلئے اپنی کوششوں کو
تیز کر دیجئے، اپنی اولاد،اپنے گھر والوں اور جہاں تک آپ سے ہو سکے اس عقیدے کو
اچھے انداز سے پہنچائیے۔ اپنے پیارے اور آخری نبی ﷺ سے اپنی محبت کو مزید بڑھائیے،
قادیانیوں کے ہتھکنڈوں سے بچیے، احادیث طیبہ کے مطابق یہ فتنوں کا دروازہ بند نہیں
ہوگا، آج قادیانیت کا فتنہ ہے تو کل کوئی اور فتنہ اٹھے گا، لہذا عقیدے کے حوالے
سے اپنا اور نسلوں کا تحفظ کیجئے اور دعوت اسلامی کے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لیجئے۔
اللہ پاک ہمیں
اور ہماری نسلوں کو ہر طرح کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت عرفان،سراجا منیرا گجرات
میرے کریم رب کا
یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے پیارے حبیب مکے مدینے کے تاجدار ﷺ کی
چوکھٹ کی غلامی عطا فرمائی اور ایمان جیسی عظیم نعمت سے نوازا دین اسلام کی پوری
عمارت ہماری جان اور ہمارا ایمان صرف اور صرف ایک ہی بنیادی عقیدے پر قائم ہے اور
وہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے پیارے آقا محمد مصطفٰی ﷺ کائنات کے سب سے آخری نبی ہیں آپ
ﷺ کے بعد اب کائنات میں کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا یہ کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ اس
عقیدے کو قرآن پاک خود ثابت کرتا ہے چنانچہ باری تعالیٰ سورۃ الاحزاب میں ارشاد
فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ
النَّبِیّٖنَؕ-
(پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
صحابہ
کرام کا کردار: تاریخ
گواہ ہے کہ اس عقیدے کا دفاع کوئی نیا کام نہیں بلکہ اس کا آغاز تو خود صحابہ کرام
علیہم الرضوان نے اپنے پاکیزہ خون سے کیا تھا جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا
دعویٰ کر کے مسلمانوں کو بہکانا چاہا تو خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
نے ذرا بھی دیر نہیں کی اور اس فتنۂ ارتداد کو کچلنے کے لیے معرکۂ یمامہ کا حکم
دے دیا۔ (عقیدہ ختمِ نبوت، ص 18 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) صحابہ نے اپنی جانیں قربان
کر کے یہ ثابت کیا کہ ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
علمائے
اہلِ سنت کا تاریخی کردار: پھر جب برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کے
اشاروں پر مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کا جال پھیلایا تو علمائے
اہل سنت دیوار چین بن کر کھڑے ہو گئے مجدد ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ
علیہ نے اپنے قلم سے اس قادیانی دجل کے پردے چاک کیے اور شرعی اصولوں کی روشنی میں
یہ مہر تصدیق ثبت کی کہ حضور ﷺ کی ختمِ نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے ہی خارج ہے۔
(فتاویٰ رضویہ، 15/40) آپ نے اس فتنے کا جواب اپنی کتب کے ذریعے بھی دیا۔
اسی دور میں
مناظر اسلام پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ نے سن 1900ء میں اپنی شہرہ
آفاق تصنیف سیف چشتیائی کے ذریعے اس کذاب کی علمی جڑیں کاٹ دیں۔ (عقیدہ ختمِ نبوت،
ص 24) اس کڑی علمی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ سن 1974ء میں قائد ملت مولانا شاہ احمد
نورانی صدیقی اور دیگر اکابرینِ اہلسنت کی شب و روز کی پارلیمانی تحریک کے باعث
پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو سرکاری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔
موجودہ
دور اور دعوت اسلامی کا کردار: آج کے اس ڈیجیٹل اور internet
کے پرفتن دور میں جہاں سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانا بہت آسان ہو چکا ہے، بانی
دعوت اسلامی امیر اہل سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کا
کردار تاریخ کا ایک سنہری باب ہے آپ نے اس عقیدے کے تحفظ کو صرف بڑی بڑی کتابوں تک
محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے مدنی مذاکروں کے ذریعے عام مسلمانوں خصوصاً ماؤں بہنوں
اور نئی نسل کے دلوں میں آخری نبی ﷺ کی ایسی محبت پیدا کر دی ہے کہ آج دعوت اسلامی
کا بچہ بچہ فخر سے محمد مصطفٰی ﷺ سب سے آخری نبی کا نعرہ لگاتا ہے امیر اہل سنت نے
نئی نسل کے نظریاتی دفاع کے لیے جامعات المدینہ اور مدارس المدینہ کا ایک ایسا
عظیم الشان نظام قائم کر دیا ہے جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات کو عقیدہ ختمِ نبوت کی
فکری تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی علمی شعبے المدینۃ العلمیۃ نے عقیدہ ختم
نبوت اور عقیدہ ختمِ نبوت اور صدر الشریعہ جیسے عام فہم آسان اور مدلل رسائل لکھ
کر گھر گھر پہنچائے ہیں تاکہ ہر مسلمان کا ایمان محفوظ رہ سکے۔
خلاصہ یہ ہے
کہ صحابہ کے دور سے لے کر آج تک علمائے اہل سنت اور دعوت اسلامی نے تاجدار ختمِ
نبوت ﷺ کی چوکھٹ کی پاسبانی کا حق ادا کیا ہے اللہ پاک ہمیں مرتے دم تک اس پاکیزہ
عقیدے کا سچا خادم اور پکا پہریدار رکھے۔
خاتم
خیر رسل یعنی وہ مہر منیر جس
کے آگے ہر ستارے کی ضیا جاتی رہی
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت اصغر،سراجاً منیرا گجرات
مسلمانوں کا
واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے زمانے
میں یا آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔
ختمِ نبوت سے
مراد یہ ماننا ہے کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضور ﷺ ’’ آخری نبی ‘‘ ہیں۔ یعنی اللہ نے
حضور کی ذات پر سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دیا۔ حضور کے زمانہ میں یا اس کے بعد
قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ (بہار شریعت، 1/23)
ختمِ نبوت کا
عقیدہ قرآن کریم سے ثابت ہے، چنانچہ فرمان باری تعالی ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ
النَّبِیّٖنَؕ-
(پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
اس آیت مبارکہ
کی تفسیر میں لکھا ہے: اللہ نے سرور دو عالم ﷺ پر سلسلۂ نبوت کو ختم فرما دیا، اب
آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نبوت میں آپ کے ساتھ شریک ہے۔ (تفسیر
ابن کثیر، 6/391)
حضرت ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری مثال اور مجھ سے
پہلے انبیائے کرام علیہم السلام کی مثال اس شخص کی طرح ہے، جس نے بہت حسین و جمیل
ایک گھر بنایا۔ مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی، لوگ اس کے گرد گھومنے
لگے اور تعجب سے یہ کہنے لگے کہ اس نے یہ اینٹ کیوں نہ رکھی؟ پھرآپ نے ارشاد
فرمایا: میں(قصرِ نبوت کی)وہ اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔ (مسلم،ص 965، حدیث:5959)
سیدی اعلیٰ
حضرت، امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ان 13 صدیوں کی تحقیقات
کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: خاتم النّبیّٖن کا معنی ہے: آخر الانبیاء یعنی
(سب سے آخری نبی کہ) حضور ﷺ کے ساتھ یا آپ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوّت ملنی محال
ہے۔ آیت کے اس معنی میں کسی قسم کی تاویل یا تخصیص کرنا (یعنی اپنی مرضی کے معنیٰ
نکالنا) کفر ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 14/333 ملخصاً)
1۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی: برصغیر پاک و ہند میں امام احمد رضا خان
رحمۃ اللہ علیہ نے منکرین ختمِ نبوت اور قادیانیت کا رد فرمایا۔
اہم
تصانیف اور فتاویٰ:امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے قادیانیت کے
خلاف ٹھوس علمی دلائل پر مبنی کئی کتب اور رسائل تصنیف کیے جن میں سے چند درج ذیل
ہیں:
جزاء
اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ: یہ رسالہ 1317ھ میں تصنیف کیا گیا اور
بعد ازاں فتاویٰ رضویہ (جلد 15) کا حصہ بنا۔ اس میں عقیدہ ختمِ نبوت کے اثبات پر
ایک سو بیس (120) احادیث اور منکرین کی تکفیر یعنی کافر ہونے پر جلیل القدر ائمہ
کی تیس (30) تصریحات جمع فرمائی۔
المبین
ختم النبیین:یہ
رسالہ1326ھ میں ایک خاص سوال کے جواب میں لکھا گیا تھا۔ اس رسالے میں لفظ خاتم النبیین
کے قرآنی و لغوی مفہوم کو دلائل کے ساتھ واضح کیا گیا۔
2۔حجۃ
الاسلام علامہ مفتی حامد رضا خان بریلوی: عقیدہ ختمِ نبوت اور رد
قادیانیت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
الصارم
الربانی علی اسراف القادیانی، حجۃ الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان بریلوی
رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مشہور و مستند تصنیف ہے جو 1898ء میں قادیانیت کی تردید میں
لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب قادیانی مذہب کے باطل عقائد کا علمی اور مدلل جواب فراہم
کرتی ہے۔ اس میں 143 احادیث مبارکہ بیان کی گئی ہیں۔
3۔حضرت
پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی: آپ رحمۃ اللہ علیہ نے مرزا غلام احمد
قادیانی کے جھوٹے دعووں اور فتنہ قادیانیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور تحریر و تقریر
کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کا بھرپور دفاع کیا۔
مناظرہ:
جب
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی نبوت کے جھوٹے دعوے کیے تو پیر مہر علی شاہ رحمۃ
اللہ علیہ نے لاہور کی شاہی مسجد میں اس کو مناظرے کا چیلنج دیا پیر مہر علی شاہ
رحمۃ اللہ علیہ مقررہ تاریخ پر شاہی مسجد لاہور پہنچے اور مرزا قادیانی کا انتظار
کیا لیکن مرزا قادیانی خوفزدہ ہو کر وہاں نہ پہنچا۔
ختمِ نبوت کے
تحفظ اور تردیدِ قادیانیت کے لیے آپ کی تحریریں آج بھی بنیادی حوالہ مانی جاتی
ہیں۔
سیف
چشتیائی: یہ
کتاب 1902ء میں قادیانیت کے رد اور ختمِ نبوت کے اثبات میں ایک ناقابل تردید
شاہکار ہے۔ اس میں آیتِ ختمِ نبوت پر بحث کی گئی ہے۔
آپ رحمۃ اللہ
علیہ نے اس وقت کے جید علما کو ساتھ ملا کر مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے
دائرہ اسلام سے خارج ہونے (کافر ہونے) کا واضح فتویٰ جاری کیا۔
4۔
مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان: آپ رحمۃ اللہ
علیہ نے تصحیح یقین بر ختم النبیین لکھ کر خاتم النبیین کے معنی و مفہوم میں
تبدیلی کرنے والے مرزا قادیانی اور اس کے پیرو کاروں کا رد کیا۔
5۔
حضرت مفتی محمد امین قادری: عقیدہ ختم نبوت اس کتاب میں بنیادی
طور پر ختمِ نبوت کے عقیدے پر بحث کی گئی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے علمائے کرام کی
کتب و رسائل جمع کر کے اس کو دوبارہ چھاپا اور اس کا نام عقیدہ ختم النبوۃ ہی
رکھا۔ آپ کی حیات مبارکہ میں اس کی 6 جلدیں پوری ہوچکی تھی۔ اب تک اس کی 16 جلدیں
چھپ پر منظر عام پر آچکی ہیں۔
آج کے اس دور
میں امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے بچے بچے کو یہ نعرہ یاد کروا دیا ہے۔
محمد
مصطفےٰ سب سے آخری نبی احمد
مجتبےٰ سب سے آخری نبی
اللہ پاک ہمیں
مرتے دم تک عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ کرنے اور اس عقیدے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق
عطا فرمائے۔
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت ندیم یوسف،فیضان رضا کراچی
ہمارے پیارے
آقا ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں۔ جو آپ کو آخری نبی نہ مانے یا آپ کے آخری نبی
ہونے میں شک کرے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیات ظاہری
میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور آپ کے وصال ظاہری کے بعد بھی کئی لوگوں
نے نبوت کے جھوٹے دعوے کیے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی بھی شامل ہے۔ اس فتنے کے
رد میں علمائے اہل سنت نے عظیم کردار ادا کیا۔
حضرت
امام احمد رضا خان: آپ نے ختمِ نبوت کے موضوع پر کئی رسائل اور فتاویٰ
لکھ کر عوام کو خبردار کیا کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ کے مشہور رسائل ’’جزاء
اللہ عدوّہ باباء ختم النّبوّۃ‘‘، ’’السّوء والعقاب علی المسیح الکذّاب‘‘، ’’قہر
الدّیّان علی مرتدّ بقادیان‘‘، ’’المبین ختم النّبیّین‘‘ اور ’’الجراز الدّیّانی
علی المرتدّ القادیانی‘‘ فتاویٰ رضویہ میں موجود ہیں۔
مفتی
امجد علی اعظمی: آپ
نے اپنی مشہور کتاب ’’بہار شریعت‘‘ میں عقائد اہل سنت بیان کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ
نبوت کو واضح فرمایا اور مسلمانوں کی عقیدتی رہنمائی کی۔
حجۃ
الاسلام علامہ مفتی محمد حامد رضا خان: آپ نے ’’الصارم الربانی علی
اسراف القادیانی‘‘ تحریر فرما کر مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے باطل عقائد
کو بے نقاب کیا۔ یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں شامل ہے۔
حضرت
پیر مہر علی شاہ:
آپ نے قادیانیت کے رد میں ’’ہدایۃ الرسول‘‘، ’’شمس الہدایۃ فی اثبات حیاۃ المسیح‘‘
اور ’’سیف چشتیائی‘‘ جیسی کتب تصنیف فرمائیں اور قادیانی نظریات کا علمی رد کیا۔
آئین
پاکستان اور قادیانی: قیامِ پاکستان کے بعد قادیانیوں نے اپنے باطل مذہب
کی اشاعت شروع کی تو 1953ء میں مسلمانانِ پاکستان نے علامہ ابو الحسنات سید محمد
احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحریک تحفظ ختمِ نبوت چلائی۔ بعد ازاں
1974ء میں علمائے اہل سنت نے دوبارہ اس مسئلے پر آواز اٹھائی۔ کئی علما و مشائخ نے
قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ بالآخر قومی اسمبلی میں یہ مسئلہ زیرِ بحث آیا
اور متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی یہ قانون بھی طے
پایا کہ وہ خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتے اور نہ ہی اسلامی شعائر استعمال کر سکتے
ہیں۔
تحفظ
ختمِ نبوت میں دعوت اسلامی کا کردار: آج کے دور میں دعوت اسلامی ختمِ نبوت کے
تحفظ اور فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ بانی دعوت اسلامی حضرت ابو
بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے مدنی مذاکروں، تحریروں
اور دینی سرگرمیوں کے ذریعے مسلمانوں میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کو اجاگر
فرمایا۔ آپ کی کوششوں کے ذریعے بچوں، بڑوں سب کی زبان پر یہ نعرہ جاری ہے:
محمد
مصطفیٰ: سب سے آخری نبی سید
الانبیاء: سب سے آخری نبی
مزید یہ کہ
المدینۃ العلمیہ نے اس موضوع سے متعلق طلبہ و عوام کے لیے کتابیں شائع کی ہیں۔ نیز
مدنی چینل، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام عام کیا
جا رہا ہے۔ مفتی دعوت اسلامی مفتی قاسم عطاری کے اس موضوع پر بیانات بھی موجود
ہیں۔ الحمدللہ دعوت اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
الحمدللہ
علمائے اہل سنت نے ہر دور میں عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، عملی اور
فکری خدمات انجام دیں۔ ان کی یہ جدوجہد امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت عبدالخالق،فیضان آمنہ کراچی
مقام یمامہ سے
لے کر آج تک ہر مسلمان تحفظ ختمِ نبوت کے عظیم مشن میں اپنے حصہ کی شمع جلا رہا
ہے۔ بالخصوص علمائے اہلسنت کی قربانیاں بہت نمایاں ہیں،علمائے اہلسنت نے ہمیشہ
کبھی قلم کے ذریعے ختمِ نبوت کا تحفظ کیا تو کبھی عملی میدان میں نکل کر ختمِ نبوت
پہ پہرا دیا اپنی جان،مال،عزت آبرو سب فدا کردی تحفظ ختمِ نبوت پر،قید و بند کی
صعوبتیں برداشت کیں شہدا کی لاشیں اٹھائیں اپنے قلم متحرک کئے جن کے بارے میں میرے
آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: قیامت کے دن علمائے کرام کی سیاہی اور شہیدوں
کے خون کو تولا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: علمائے کرام کی سیاہی شہیدوں کے خون پر
غالب آجائے گی۔
اس ضمن میں
امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ فتویٰ ارشاد فرمایا: من طلب
منہ علامۃ فقد کفر لقول النبی ﷺ لا نبی بعدی (مناقب امام
اعظم، ص 159)
امام اہل سنت
امام احمد رضا خان بریلوی کا کلکِ رضا تحفظ ختمِ نبوت میں کچھ یوں متحرک ہوا کہ:
محمد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنی کتا بعدد دانہائےریگ و ستارہائے
آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سمٰوٰت و ارض و حاملانِ عرش گواہ
ہیں اور خود عرش عظیم کا مالک گواہ ہےوکفیٰ باللہ شھیدًا کہ حضور پر نور ﷺ ہی آخری
نبی و رسول ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ،15/589)
پیر مہر علی
شاہ صاحب نے جب فتنۂ قادیانیت کے خلاف عملی میدان میں آکر علم جہاد بلند فرمایا تو
کچھ مخلص ساتھیوں نے مشورہ دیا کہ حضور! آپ کا کام تو پیری مریدی کرنا ہے میدان
میں نکلنا نہیں۔اس پر تاجدار گولڑہ نے تاریخی جواب دیا کہ: حضور ﷺ کی عزت پر حملہ
ہو جائے اور مہر علی حجرے میں بیٹھ کر پیری مریدی کرتا رہے،ایسی بےغیرت فقیری ہم
سے نہیں ہو سکتی! (ملفوظات مہریہ،ص 118)
مولانا عبد
الستار خان نیازی نے جامعہ مسجد وزیر خان کو ہیڈ کوارٹر بنا کر وہاں سے تحریک ختمِ
نبوت کا آغاز فرمایا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جب ایک انٹرویو کے دوران
صحافی نے سوال کیا کہ مولانا آپ کی عمر کتنی ہے تو آپ نے فرمایا نیازی کی عمر تو
وہی ہے جو اپنے آقا ﷺ کی تحفظ ختمِ نبوت میں جیل میں گزاری باقی تو شرمندگی ہے ان
کے ساتھ دیگر علمائے اہلِ سنت کا کردار بھی تحفظ ختمِ نبوت میں پیش پیش رہا ہزاروں
علما نے اپنے جان و مال کو قربان کرنے میں دریغ نہ کیا بالآخر 7 ستمبر 1974 وہ دن
آیا جب 10ہزار شہدا کے خون سے آئین تحفظ ختمِ نبوت سینچا گیا اور علامہ شاہ احمد نورانی
صدیقی نے اپنے خونِ صدیقی سے وفا کرتے ہوئے اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم
اقلیت قرار دلوا کر سنتِ صدیقی ادا فرمائی۔
اسی طرح امیر
المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے بزرگوں کے نقشِ قدم پر
چلتے ہوئے اس مشن کی خاطر گراں قدر قربانی پیش کی اور دنیا کو بتایا کہ جب تک اس
زمین پر ایک بھی حق گو سنی موجود ہے ختمِ نبوت پہ پہرا ہوتا رہے گا۔
آپ فرمایا
کرتے تھے: عقیدہ ختمِ نبوت ایمان کا جز نہیں بلکہ بنیاد ہے، اسی بنیاد پر عمارتِ
ایمان کھڑی ہے۔
پختہ
ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق
ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
آج رات کاہنہ نو لاہور سے ہفتہ وار اجتماع میں حاجی
یعفور رضا عطاری بیان فرمائیں گے
تبلیغِ
قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ”دعوتِ اسلامی“ کے زیرِ اہتمام ہر
جمعرات کی طرح آج رات مؤرخہ یکم اکتوبر 2026ء کو بھی دنیا بھر میں ہفتہ وار سنتوں بھرے
اجتماعات کا باقاعدہ انعقاد کیا جا رہا ہے۔ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت
پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں قائم مدنی
مراکِز و مساجد میں ہزاروں مقامات پر ان اجتماعات کا اہتمام کیا جائے گا جن میں
لاکھوں عاشقانِ رسول شرکت کر یں گے۔
اجتماعات
کا باقاعدہ آغاز نمازِ مغرب کے بعد تلاوتِ کلامِ پاک اور سرورِ کائنات صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں نعت خوانی سے ہوگا۔تلاوت و نعت کے
بعد دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور دیگر مبلغین دعوت اسلامی
مخصوص دینی، اصلاحی اور اخلاقی موضوعات پر سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
تفصیلات
کے مطابق آج رات مدنی مرکز فیضان مدینہ کاہنہ نو فیروز پور روڈ لاہور سے مدنی چینل
پر براہِ راست (LIVE) نشر
ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں رات 8:30بجے رکن شوریٰ حاجی یعفور
رضا عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
اس کے
علاوہ مدنی مرکز فیضان مدینہ شیخوپورہ میں رکن شوریٰ حاجی منصور عطاری،
مرکزی جامع مسجد نوری پھلروان میں رکن شوریٰ مولانا حاجی عقیل عطاری مدنی
اور جامع مسجد محمد علی چوموہنی، انوارہ، چٹاگانگ بنگلہ دیش میں رکن شوریٰ عبد
المبین عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔
تمام
عاشقانِ رسول سے گزارش ہے کہ آج رات دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں
خود بھی شرکت فرمائیں اور دوسروں کو بھی ساتھ لانے کی نیت کریں۔
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت محمد اشرف، 137 روڈ سمندری
اللہ تعالیٰ
نے حضرت محمد ﷺ کو تمام انسانیت کے لیے آخری نبی اور رسول بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ
ﷺ پر نبوت و رسالت کا سلسلہ مکمل ہوا اور قیامت تک کسی نئے نبی کے آنے کی گنجائش
باقی نہ رہی۔ اسلام کا یہ عقیدہ ختمِ نبوت کہلاتا ہے، جو قرآن مجید، احادیث نبویہ
اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے۔ جو شخص آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کی نبوت کا
دعویٰ کرے یا کسی کو نبی مانے، وہ اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کا منکر ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ
22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
تاریخ اسلام
میں جب بھی کسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا یا عقیدۂ ختمِ نبوت پر حملہ کرنے کی
کوشش کی، علمائے اہل سنت نے دلائل، تعلیم، تبلیغ اور عملی جدوجہد کے ذریعے اس
عقیدے کا بھرپور دفاع کیا۔ چنانچہ تحفظ ختمِ نبوت کے لیے علمائے اہل سنت کی خدمات
نہایت عظیم اور قابلِ قدر ہیں۔
مرزا قادیانی
کے رد میں فتویٰ دینے والے اولین علما میں سے مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی غلام
دستگیر نقشبندی حنفی قصوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے رد پر 1883ء میں تحقیقات دستگیریہ فی ردّ ہفوات براہینیہ ، 1886ء
میں رجم الشّیاطین بردّ اغلوطات البراھین اور 1896ء میں مرزا قادیانی کے ایک اشتہار کے
جواب میں فتح رحمانی بہ دفع کید کادیانی لکھ کر مرزا قادیانی کے کفریات عوام و خواص کے
سامنے بیان کئے اور مرزا قادیانی کو اسلام سے خارج قرار دیا۔
حضرت علامہ
مفتی غلام رسول نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1893ء میں عربی رسالہ الالھام الصّحیح فی اثبات حیات المسیح تحریر فرما کر مرزاقادیانی کے باطل عقائد کا
دلائل کے ساتھ رد فرمایا۔
حجۃ الاسلام
حضرت علّامہ مفتی محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1943ء) نے 1898ء
میں رسالہ الصّارم الرّبّانی علی اسراف
القادیانی لکھ کر مرزا قادیانی اور اس کے
خلیفہ کے مکر و فریب کھول کر رکھ دئیے، یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں موجود ہے۔
مجدد دین و
ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1921ء) نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النّبوۃ ، 1902ء میں السّوٓء والعقاب علٰی المسیح الکذّاب ، 1905ء
میں قہر الدّیّان علٰی مرتدٍّ بقادیان ، 1908ء
میں المبین ختم النّبیّین اور 1921ء میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدّیّانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ
دیں۔ یہ پانچوں رسائل فتاویٰ رضویہ (رضا فاؤنڈیشن لاہور) جلد 14 اور 15 میں موجود
ہیں۔
قیام پاکستان
کے بعد قادیانیوں نے بڑے زور و شور سے اپنے باطل مذہب کی ترویج و اشاعت شروع کی تو
1953ء میں غیرت مند و باشعور مسلمانان پاکستان نے علّامہ ابوالحسنات سیّد محمد
احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پرچم بلند کیا، قادیانیوں
کی شرانگیزی سے کئی علمائے کرام کو سزائیں ہوئیں جبکہ 10ہزار کے قریب مسلمان شہیدہوئے۔
اللہ پاک ہمیں
اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں انکا خوب فیضان عطا فرمائے۔
آمین
تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت محمد عارف،گہوگا سیالکوٹ
عقیدہ ختمِ
نبوت سے مراد ہے کہ نبوت کا سلسلہ نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گیا ہے آپ اللہ کے آخری
نبی ہیں،آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جو یہ سمجھے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہوگا
وہ کافر ہے یہ عقیدہ اسلام کا بنیادی اصول ہے اور ضروریات دین میں سے ہے۔
احادیث مبارکہ
میں یہ عقیدہ تواتر اور نہایت وضاحت سے بیان ہوا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں آخری نبی
ہوں میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ (مسلم، ص 1006،
حدیث : 6218)
قرآن مجید میں
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ
وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب:
40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
علمائے
کرام کا کردار:
مفتی
غلام دستگیر قصوری: جب 19ویں صدی کے آخر میں ضلع گورداسپور ہند کے رہنے
والے کذاب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا اعلان کیا اور اسے ثابت کرنے کے
لیے خاتم النبیین کے معنی اپنی مرضی سے کیے تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو رد کرتے
ہوئے اس کی کتاب براہین احمدیہ کے رد میں 1883 میں اپنی ایک کتاب تحقیقات دستگیریہ
فی رد ہفوات براہینیہ تحریر فرمائی۔ 1886 میں رجم الشیاطین برد اغلوطات البراہین
تحریر کی۔ 1896 میں مرزا قادیانی کافر کے
ایک اشتہار کے جواب میں فتح رحمانی بہ دفع کید قادیانی لکھ کر مرزا کے کفریات عوام
و خواص کے سامنے بیان کیے اور مرزا قادیانی کافر کو اسلام سے خارج قرار دیا۔
امام
احمد رضا خان:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں جزاء اللہ عدوہ باباہ
ختم النبوۃ، 1902ء میں السوء و العقاب علی المسیح الکذاب اور 1905 ء میں قہرالدیانی
علی مرتد بقادیانی اور 1908 ء میں المبین ختم النبیین تحریر فرمائی اور 1921 میں
اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی مرتد القادیانی تحریر فرمائی یہ رسائل
فتاوی رضویہ جلد 14 اور 15 میں ہیں۔
علامہ
خادم حسین رضوی: آپ
رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ اور اس کے پرچار کے حوالے سے نہایت اہم
کردار ادا کیا آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی خطابت اور تقاریر کے ذریعے عوام میں ختمِ
نبوت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور عوام کو اس بنیادی عقیدے کی دفاع کے لیے منظم اور
متحرک کیا آپ نے ایک ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا بنیادی مقصد نظامِ مصطفیٰ ﷺ کا
نفاذ اور عقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ تھا انہوں نے عوام میں تاجدار ختمِ نبوت کا نعرہ
عام کیا۔
مولانا
محمد الیاس عطار قادری:آپ دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے بیانات اور مدنی
مذاکروں میں واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ عقیدہ ختمِ نبوت دین کی اساس ہے
اس کا انکار کفر ہے اور اس کے منکر دائرہ اسلام سے خارج ہیں آپ کی تنظیم دعوتِ
اسلامی دنیا بھر میں عقیدہ ختمِ نبوت پر شعور و آگاہی فراہم کررہی ہے تاکہ نوجوان نسل
اس سے جڑی رہے،
ان تمام
واقعات سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ کی ختمِ نبوت پر پہرہ دینا
چاہیے اور اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ
سے دعا ہے کہ ہمیں بھی علمائے کرام کا فیض نصیب فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کے خاتم
النبیین ہونے کو تمام لوگوں میں عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں سیدھے راستے
پہ چلائے اور ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے اور ہماری ہمارے والدین اساتذہ
کرام پیر و مرشد سب کی بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین
Dawateislami