دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام 25ستمبر 2026ء کو سویڈن اسٹاک
ہوم
(Stockholm,
Sweden) کے
مقامی کمیونٹی سینٹرمیں عظیم الشان ”گرینڈ فیملی اجتماع 2026ء“کا انعقاد کیا
گیا جس میں سویڈن، اسکاٹ ہوم، یورپ اور یوکےمیں مقیم عاشقانِ رسول نے کثیر تعداد
میں شرکت کی۔ اجتماع کے مرکزی اور روح پرور سیشن سے مفتی محمد قاسم عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی اور نگرانِ شوریٰ مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے خصوصی بیان فرمایاجس کا بنیادی محور ”دین
اسلام، معاشرتی اصلاح، تربیتِ اولاد، خانگی سکون اور دینی تعلیم کی اہمیت“
تھا۔
تلاوت
و نعت سے عظیم الشان اجتماع کا انعقاد ہواجبکہ شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم
عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے ”دینِ اسلام اور ایمان کا تقاضا“ کے
موضوع پر سنتوں بھرا بیان کیا۔بیان کرتے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا کہ اسلام ایک
مکمل دین ہے، پیدائش سے لے کر موت تک انسان جن جن احوال سے گزرتا ہے، اللہ تعالیٰ
نے اس دین میں ہر شے کے بارے میں تفصیلی رہنمائی عطافرمائی اور
اللہ کا کروڑ ہا کروڑ احسان کے اس نے ہمیں عظیم ہستی کے ذریعے سے دین کامل عطا
فرمایا، ان عظیم ہستی کو اللہ پاک نے تمام جہان کے لئے رحمت بناکر بھیجا۔ہر مسلمان
کو ایمانی تقاضے پورا کرتے ہوئے اسلامی عقائد، قبر و آخرت اور جنت و دوزخ کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی عقائد کا علم ہونا چاہیئے، ہر مسلمان کو نفس کی
پیروی کرنے کے بجائے اللہ و رسول کی اطاعت میں گزارنی چاہیئے جس نے بُری خواہشات
سے اپنی نفس کو بچالیا تو بے شک جنت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔ مفتی صاحب نے شرکا کو
اسلام کے تمام ارکان بالخصوص نماز کو پابندی سے ادا کرنے کی ترغیب دلائی۔
بعدازاں
نگران شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری نے دینی
و دنیاوی تعلیم کے تقابل پر ایک سبق آموز واقعہ پیش کرتے ہوئے اپنے بیان کا آغاز
کیا۔واقعہ پیش کرتے ہوئے نگران شوریٰ نے کہا کہ ایک شخص نے بیوی کے اصرار کے
باوجود اپنے پہلے تین بیٹوں کو صرف دنیاوی اعلیٰ تعلیم دلوا کر آفیسرز اور پروفیشنلز
بنایا جبکہ بیوی کی خواہش پر چوتھے بیٹے کو عالم و حافظِ قرآن بنایا، جب ماں کی
حکمتِ عملی سے باپ کے رویے کا امتحان لیا گیا تو صرف دنیاوی تعلیم یافتہ تینوں بڑے
بیٹوں نے باپ کو برا بھلا کہا اور گالیاں دیں جبکہ چوتھے عالم بیٹے نے اسلام
پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے ماں کو صبر، معافی اور باپ کے احترام و حقوق کا
درس دیا۔ پردے کے پیچھے چھپے والد نے یہ منظر دیکھ کر زار و قطار روتے ہوئے
پچھتاوے کا اظہار کیا کہ کاش اس نے تمام بچوں کو دین اور قرآن کی تعلیم دی ہوتی۔
مولانا
عمران عطاری نے یورپی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی خانگی زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے
کہا کہ ستمبر 2026ء کے موجودہ دور میں مال و دولت، گاڑیوں اور آسائشوں کے باوجود
گھروں میں سکون، محبت اور اتفاق کا نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ شوہر، بیوی
اور بچوں کے درمیان باہمی ناچاقیاں اور شکایتیں عام ہیں۔ گھر کا ماحول صرف اسی صورت امن کا گہوارہ بن
سکتا ہے جب پورا خاندان شریعت و سنت کے سانچے میں ڈھلے اور ایک دوسرے کے شرعی حقوق
ادا کرے۔
ادب و
احترام پر گفتگو کرتے ہوئے بیان میں دیہات کی تین عورتوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا
گیا کہ انجینئر اور ڈاکٹر بیٹے کی مائیں صرف عہدوں پر فخر کرتی رہیں جبکہ تیسری
عورت کے عالم بیٹے نے پہنچتے ہی ماں کا مٹکہ اپنے سر پر اٹھایا اور ہاتھ پکڑ کر
چلاجس پر ماں نے فخر سے کہا کہ ”میرا بیٹا
عالم بن رہا ہے“۔
بیان
میں والدین کی ذمہ داری پر کلام کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اولاد کی اچھی تربیت کا حق
شادی کے لیے نیک و دین دار عورت کے انتخاب سے شروع ہو جاتا ہے۔ ارشاداتِ باری تعالیٰ ہے کہ حضرت لقمان رحمۃُ اللہِ علیہ کی بیٹے کو نصیحتوں اور سورۃ
التحریم کی چھٹی آیت کی روشنی میں واضح کیا گیا کہ ہر شخص پر اپنے اور اپنے اہل و
عیال کو جہنم کی آگ سے بچانا فرض ہے۔
اس کے
علاوہ نگرانِ شوریٰ نے بچوں کی تربیت میں ماں کا کردار، میاں بیوی کے حقوق اور
خانگی نظام، والدین کی اطاعت اور اطاعت کا صلہ، رزق حلال کمانے اور اپنے گھروں میں
مکتبۃ المدینہ کی کتابوں سے درس شروع کرنے کے حوالے سے رہنمائی کی اور ترغیب
دلائی۔
بیانات
کے بعد سویڈن میں فیضان آن لائن اکیڈمی سے درس ِنظامی (عالم کورس) اور دیگر
کورسز کرنے والے اسٹوڈنٹس کو Certificate اور تحائف دیئے گئے۔
اختتام
پر دعا مانگی گئی اور صلوۃ وسلام بھی پڑھا گیا۔
Dawateislami