ضیاء
المصطفیٰ قادری(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ
فیضانِ عثمان غنی ،کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
کے پیارے نبی حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق چند قرآنی آیات کریمہ درج ذیل ہیں:
(1) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ
نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ
انبیاء، آیت 87)
(2) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ
نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ ( سورۃ انبیاء، آیت 88)
(3) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصافات:139،140)
(4) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ
بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورۃ
الصافات، آیت 143-144)
(5) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔ (سورۃ القلم، آیت 48)
(1) دعائے یونس علیہ السلام کی فضیلت:عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
دَعْوَةُ ذِي النُّونِ إِذْ دَعَا وَهُوَ فِي بَطْنِ الْحُوتِ:لَا إِلٰهَ إِلَّا
أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ،فَإِنَّهُ لَمْ يَدْعُ بِهَا
رَجُلٌ مُسْلِمٌ فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ۔ترجمہ:نبی
کریم ﷺ نے فرمایا:مچھلی والے (یونس علیہ السلام) کی دعا جب انہوں نے مچھلی کے پیٹ
میں کی:تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک مجھ سے قصور ہواکوئی مسلمان کسی
بھی حاجت میں یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔( جامع ترمذی،
حدیث: 3505 ،حسن صحیح)
(2) حضرت یونس علیہ السلام کی تواضع
و شان: لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ
يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّىترجمہ:کسی بندے کے لیے
جائز نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں۔( صحیح بخاری، حدیث: 3413
صحیح مسلم، حدیث: 2377)
(3) نبی کریم ﷺ کا حضرت یونس علیہ
السلام سے نسبت فرمانا: مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ
يَقُولَ: إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّىترجمہ:کسی شخص کو یہ نہیں
کہنا چاہیے کہ میں یونس بن متیٰ سے افضل ہوں۔( صحیح بخاری، حدیث: 4604)
Dawateislami