محمد
لقمان(درجہ دار الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی،کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کےعظیم پیغمبر تھے جنہیں ایک قوم کی ہدایت کے لیے مبعوث
فرمایا گیا۔ آپ نے اپنی قوم کو اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت اور برائیوں سے بچنے کی
دعوت دی ، مگر انہوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور انہوں نے آپ کی نبوت کا انکار کیا
۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ پاک میں صبر، توبہ، دعا اور اللہ تعالیٰ کی
بے پناہ رحمت کی بہترین مثال کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی توبہ کو پسند فرماتا ہے اور مشکل وقت میں ان کی مدد
فرماتا ہے ۔
(1)دعوتِ قوم اور انکار:حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلایا، لیکن انہوں نے انکار کیا۔
تاہم جب عذاب کی نشانی ظاہر ہوئی تو وہ ایمان لے آئے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس:
98)
(2) قوم کو چھوڑ کر جانا اور آزمائش:حضرت یونس
علیہ السلام اپنی قوم سے ناراض ہو کر بغیر اللہ کے حکم کے نکل گئے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا
کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو
بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
(3) مچھلی کے پیٹ میں جانا:جب کشتی میں
قرعہ اندازی ہوئی تو انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا:
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (سورۃ الصفت:141،142)
(4)توبہ اور دعا:مچھلی کے
پیٹ کے اندھیروں میں حضرت یونس نے اللہ سے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی:
" لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
یہ دعا
قرآن میں توبہ اور رجوع الی اللہ کی عظیم مثال ہے۔
(5) نجات اور اللہ کی رحمت:اللہ تعالیٰ
نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں نجات دی:
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء:88)
حضرت یونس
علیہ السلام کے واقعے سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں
صبر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ قائم رکھیں، اپنی غلطیوں پر فوراً توبہ کریں اور
اخلاص کے ساتھ دعا مانگیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی فریاد سنتا ہے اور انہیں
مشکلات، پریشانیوں اور غموں سے نجات عطا فرماتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان، عاجزی اور
رجوع الی اللہ کی خوبصورت مثال ہے۔
Dawateislami