مہاجرین کی تعریف: کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آقا ﷺ کے حکم سے جن مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی انہیں مہاجرین‘‘ کہا جاتا ہے۔

مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز: مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز یہ تھا کہ★انہوں نے سب سےپہلے اسلام قبول کیا★ان کی سب سے بڑی سعادت یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت اور دیگر رشتہ دار بھی ان ہی میں تھے★ انہوں نے پیارے آقاﷺ کا اس وقت ساتھ دیا جب کفار ہر طرح سے آپﷺ کے مخالف ہوچکے تھے ★انصار کو بھی ان ہی مہاجرین کے سبب اسلام کی دولت نصیب ہوئی★انصار کو اسلام کی تعلیمات دینے والے بھی یہی مہاجرین تھے★انصار کی آپس کی دشمنیاں ان ہی کے سبب ختم ہوئیں۔

ہجرت کرنے والے چند صحابہ کرام کا ذکر: جن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ہجرت کی ان میں چند مشہور صحابہ کے نام ذکر کیے جا رہے ہیں: مسلمانوں کے پہلے خلیفہ صدیق اکبر، دوسرے خلیفہ حضرت عمر، تیسرے خلیفہ حضرت عثمان اور چوتھے خلیفہ حضرت مولا علی تھے ان کے علاوہ حضرت طلحہ، حضرت عبد الرحمٰن، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔

مہاجرین کی فضیلت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں مہاجرین کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

حضور کی مہاجرین سے محبت:

1۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجرین کے لیے قیامت والے دن سونے کے منبر پر ہوں گے، وہ ان پر بیٹھیں گے اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔ (صحیح ابن حبان، 9/191، حدیث: 7218)

2۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجرین دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہوں گے۔ (معجم کبیر، 2/313، حدیث: 2302)

3۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا آپ کو میری امت کی اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ جماعت مہاجرین کی ہے۔ وہ روز قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ دربان ان سے پوچھے گا: آیا تمہارا حساب و کتاب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب لیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر رہیں، سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ (‏‏‏‏داخل ہو کر) عام لوگوں کے داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے۔ (مستدرک، 2/387، حدیث: 2436)

سبحان اللہ! صحابہ کرام کی کیا شان ہے اے کاش ہم بھی ان کی سیرت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے والے بن جائیں۔

اللہ پاک کی صحابہ کرام پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہمارے بے حساب مغفرت ہو۔


اسلام میں ہجرت کا مطلب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے۔

مہاجرین صحابہ ان صحابہ کرام کو کہا جاتا ہے جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی انہوں نے اسلام کی خاطر اپنا گھر مال دولت اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا اور مدینہ جا کر آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسلامی معاشرے کی بنیاد مضبوط کی۔

قرآن کریم میں مہاجرین کا ذکر:

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ-وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ(۴۱) (پ 14، النحل: 41) ترجمہ کنز الایمان: اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار چھوڑے مظلوم ہو کر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے۔

مشہور مہاجرین صحابہ کے چند نام: حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام وغیرہ ہیں۔

آقا جان علیہ الصلاۃ والسلام کی مہاجرین سے محبت: آقا جان حضرت محمد ﷺ کو اپنے مہاجر صحابہ کرام سے بہت محبت تھی کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے اپنے گھر مال اور وطن کو چھوڑ دیا تھا۔

ایک موقع پر نبی کریم ﷺ نے مہاجرین کے حق میں دعا فرمائی: اللّهمّ اغفر للمهاجرين اے اللہ! مہاجرین کی مغفرت فرما۔

اسی طرح آپ ﷺ مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرماتے تھے اور ان کی عزت و تکریم کا خاص خیال رکھتے تھے۔

مہاجرین کی قربانیوں کو آپ ﷺ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، کیونکہ انہوں نے اسلام کی خاطر ہر قسم کی تکلیف برداشت کی۔

فقرا مہاجرین کی جنت میں سبقت: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین مالدار لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

مہاجرین کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی كريم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! مہاجرین کی مغفرت فرما، انصار کی مغفرت فرما۔ (بخاری،1/165، حدیث: 428 ملخصاً)

مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہمیں یہ مختصر اسباق ملتے ہیں: 1۔ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہر چیز پر مقدم رکھنا 2۔ دین کی خاطر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا 3۔ مشکلات میں صبر اور استقامت اختیار کرنا 4۔ بر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا 5۔ مسلمانوں کے ساتھ اخوت، محبت اور تعاون کرنا 6۔ دنیا سے زیادہ آخرت کی کامیابی کو اہم سمجھنا۔

مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم ہمیں ایمان، اخلاص قربانی صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کا درس دیتے ہیں۔

مہاجرین کی تعریف: مہاجر ہجرت سے بنا ہے، اصطلاح میں مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر آقا جان عالم ﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنا گھر، مال، وطن سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

چند مہاجرین کے نام: ہجرت کرنے والے صحابہ کرام علیہم الرضوان میں حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور آپ کی زوجہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل تھے۔

مہاجرین کی بیماری پر نبی ﷺ کا دعا کرنا: مہاجرین ہجرتِ مدینہ کے بعد بیمار ہو گئے کیونکہ وہ مکّہ کی آب و ہوا کے عادی تھے تو مدینہ کا ماحول ان کے لئے بالکل نیا تھا اور حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہو گئے تو نبی ﷺ اپنے صحابہ کی یہ حالت دیکھ کر تڑپ اٹھے اور ان کے لئے دعا کی: اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح پیدا کر دے جیسے مکہ کی محبت ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے۔ (بخاری، 1/621، حدیث: 1889)

اللہ پاک قرآن پاک میں مہاجرین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ:100)ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں۔

انصار و مہاجرین میں رشتۂ اخوّت: حضور اکرمﷺ نے خیال فرمایا کہ انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کرکے ان کو بھائی بھائی بنا دیا جائے تا کہ مہاجرین کے دلوں سے اپنی تنہائی اور بے کسی کا احساس دور ہوجائے اور ایک دوسرے کے مددگار بن جانے سے مہاجرین کے ذریعۂ معاش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ چنانچہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور پاک ﷺ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا، اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 45 یا 50 تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے انصار کو مخاطب کرکے فرمایا: یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں۔ پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو کو بلا کر فرماتے گئے: یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔ حضور انور ﷺ کے ارشاد فرماتے ہی یہ بھائی چارہ بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا۔

چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں! اس لئے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے۔ حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کی اس مخلصانہ پیشکش کو سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شکریہ کے ساتھ کہا: اللہ یہ سب مال و متاع آپ کو مبارک فرمائے! مجھے تو آپ صرف بازار کا راستہ بتا دیجئے! انہوں نے مدینہ کے مشہور بازار قینقاع کا راستہ بتا دیا۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بازار گئے، کچھ گھی اور پنیر خرید کر شام تک بیچتے رہے۔ اسی طرح ہر روز وہ بازار جاتے رہے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے میں کافی مالدار ہوگئے۔ (بخاری، 2/ 554، حدیث: 3780)

فقرا مہاجرین کے لئے خوشخبری: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین، ان کے مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

قربان جائیے! پیارے مکی مدنی آقا ﷺ کا مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا تاکہ ان کے لئے ذریعہ معاش کا مسئلہ حل ہو اور آقا جان ﷺ کا فقرا مہاجرین کو تسلی دینا، خود بہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آقا ﷺ مہاجرین سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن و احادیث کی روشنی سے آقا جان ﷺ کی مہاجرین سے محبت کا ثبوت ملتا ہے اور حضور کے ان کے لئے بھائی چارہ قائم کرنے اور ان مہاجرین کے لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرنے سے بھی آپ ﷺ کی اپنے مہاجرین سے محبّت کا اظہار ہوتا ہے۔


17 ستمبر  2026ء کوعاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ملتان میں فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز ( شفٹ مدنی 2) کے مدرسین کا ماہانہ مدنی مشورہ منعقد ہوا۔

مدنی مشورے میں ڈویژن تعلیمی امور کے ذمہ دار مولانا محمد آصف عطاری مدنی نے مدرسین کو متعدد اہم نکات فراہم کیےجن میں سے بعض یہ ہیں:٭قوتِ برداشت٭تدریسی کمیوں پر دفاعی سوچ اور ترقی والی سوچ کے درمیان فرق٭اصلاح کے پیشہ ورانہ انداز اور پیشہ ور مدرس بننے کے فارمولے ۔

علاوہ ازیں مولانا محمد آصف عطاری مدنی نے نماز ڈے، اپڈیٹ شدہ قاعدہ کی پریزینٹیشن اور اکیڈمی کے دیگر اہم امور پر گفتگو کی نیز اسلامی بھائیوں کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے۔

نشست کے اختتام پر وہاں موجود تمام مدرسین نے تعلیمی و تدریسی کاموں میں مزید بہتری لانے کے لیے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ:مولانا وقار یعقوب عطاری مدنی برانچ منیجر شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 


شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت 18 ستمبر 2026ء کو لاڑکانہ میں اہم مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا  جس میں صوبائی، ڈویژن اور ٹاؤن سطح کے ذمہ دارا اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

مدنی مشورے میں نگرانِ شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں غلام الیاس عطاری نے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کو دینی امور کے حوالے سے چند اہم باتیں بتائیں۔

اس کے علاوہ فیضانِ صحابیات کی تعداد میں اضافہ کرنے، ٹیلی تھون کی ریکوری کے عمل کو مکمل کرنے اور اسلامی بہنوں کے دینی کاموں کے لیے نئی جگہیں فراہم کرنے سے متعلق آئندہ کے اہداف طے کیے گئے۔(رپورٹ: طاہر اقبال عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں دعوتِ اسلامی کے تحت 15 ستمبر 2026ء کو گھوٹکی (سکھر) میں مدنی مشورے کا انعقاد کیا گیا اور فیضانِ صحابیات کے لیے جگہ کا وزٹ کیا گیا۔

اس اہم مدنی مشورے میں نگرانِ شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں غلام الیاس عطاری نے ڈسٹرکٹ و تحصیل ذمہ داران، ڈسٹرکٹ نگران اور سٹی نگران کو تفصیلی نکات کے حوالے سے رہنمائی کی۔

مشورے کے دوران محارم کے حلقے لگانے، ماہانہ کارکردگی کو بروقت سسٹم میں انٹر کرنے، اور فیضانِ صحابیات و ہفتہ وار اجتماعات کی تعداد میں اضافہ کرنے کے حوالے سے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کی ذہن سازی کی گئی۔(رپورٹ: طاہر اقبال عطاری شعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


28 ستمبر 2026ء کو دعاشقانِ رسول کی دینی تحریک عوتِ اسلامی کے تحت مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی فضیل رضا عطاری نے ڈسٹرکٹ عمرکوٹ کا خصوصی دورہ کیا جہاں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے اُن سے ملاقات کی۔

دورے کے دوران ڈسٹرکٹ عمرکوٹ کے ذمہ دار اسلامی بھائیوں کے لیے ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں رکنِ شوریٰ حاجی فضیل رضا عطاری نے دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں کے ذریعے دینِ متین کی خدمت کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ترغیب دلائی اور انہیں مختلف پھولوں سے نوازا۔

اس موقع پر رکنِ شوریٰ حاجی فضیل رضا عطاری کی شعبہ جات کے ذمہ داران اور دیگر اسلامی بھائیوں سے بھی ملاقات ہوئی نیز رکنِ شوریٰ نے اُن کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دینی خدمات کو اخلاص، محبت اور استقامت کے ساتھ جاری رکھنے کا ذہن دیا۔(کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دنیا بھر میں ہر سال 23 ستمبر کو International Day of Sign Languages (عالمی یومِ اشاروں کی زبان) منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد اشاروں کی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرنا، سماعت سے محروم افراد کے لیے مؤثر رابطے کے مواقع پیدا کرنا اور معاشرے میں ان کی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔

اس موقع پر دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے خصوصی افراد تک دینی تعلیمات، اسلامی معلومات اور اصلاحی پیغامات پہنچانے کے لیے مختلف خدمات انجام دی جا رہی ہیں:

ترجمانی کا خصوصی انتظام: دینی اجتماعات، مدنی مذاکروں اور مختلف پروگرامز میں اشاروں کی زبان میں ترجمانی کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ سماعت سے محروم افراد بھی دینی بیانات سے استفادہ کر سکیں۔

اشاروں کی زبان میں دینی کُتُب و رسائل: خصوصی افراد کی دینی رہنمائی کے لیے کُتُب و رسائل شائع کیے گئے ہیں جن میں ”باتصویر نماز کا طریقہ(حصہ اول و دوم) “،”باتصویر وضو کا طریقہ“، ”باتصویر حج و عمرہ کا طریقہ“ اور باتصویر کلام ”نور والا آیا ہے“شامل ہیں۔ ان مطبوعات میں ضروری دینی احکام کو تصاویر اور اشاروں کی زبان کے ذریعے آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

اشاروں کی زبان سیکھنے کے کورسز: عام افراد کے لیے 7 دن پر مشتمل ”اشاروں کی زبان کورس“ کروایا جاتا ہے جس میں روزمرہ زندگی کے ایک ہزار (1,000) سے زائد اشارے سکھائے جاتے ہیں اور شرکا کو سرٹیفکیٹ دیئے جاتے ہیں تاکہ وہ اشاروں کی زبان سیکھ کر خصوصی افراد سے مؤثر انداز میں رابطہ کرسکیں ۔ اسی طرح دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی بوائز کے ذریعے ایک ماہ کا آن لائن اشاروں کی زبان کورس بھی کروایا جاتا ہے جس کے اختتام پر شرکا کو سرٹیفکیٹ فراہم کیا جاتا ہے یوں گھر بیٹھے اشاروں کی زبان سیکھنے کے مواقع بھی میسر آتے ہیں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور موبائل ایپ: Special Persons Dawateislami کے نام سے یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ویب سائٹ پر 5 ہزار سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ نیز، اسپیشل پرسنز موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بھی خصوصی افراد کے لیے دینی مواد فراہم کیا جا رہا ہے نیز اسپیشل پرسنز موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے بھی خصوصی افراد کے لیے دینی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔(رپورٹ: سید عمیر عطاری نگرانِ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

شعبہ مدنی کورسز  دعوتِ اسلامی کے تحت 28 ستمبر 2026ء کو جامع مسجد مدنی کچی لعل بستی (دوبئی، تحصیل علی پور، ضلع مظفرگڑھ) میں 7 دن کے رہائشی ”فیضانِ نماز کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

کورس کے دوران وہاں موجود تمام عاشقانِ رسول کو نماز کے فرائض و واجبات اور اس کے چند ضروری مسائل سکھائے گئے نیز انہیں دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہتے ہوئے دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب بھی دلائی۔

اس موقع پر شعبہ مدنی کورسز کے جائزہ ذمہ دار مولانا محمد بلال عطاری مدنی نے ”صحابہ کرام کی قربانیاں“کے موضوع پر بیان کرتے ہوئے حاضرین کی رہنمائی کی۔(رپورٹ: مولانا غلام یسین عطاری، معلم مدنی شعبہ مدنی کورسز ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے تحت 7 ستمبر 2026ء کو جامع مسجد صابریہ ،محلہ سلیم ٹاؤن، پاکپتن میں ”دعائے شفا اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا جس میں اہل محلہ نے شرکت کی۔

اجتماع کا آغاز تلاوتِ قرآن اور نعت خوانی سے ہوا جس کے بعد شعبے کے صوبائی ذمہ دار مولانا محمد انیس عطاری مدنی نے ”دعا کی فضیلت“ کے موضوع پر بیان کیا اور حاضرین کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں عملی طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔

بیان کے بعد باجماعت نمازِ حاجات ادا کی گئی اور اجتماعی دعا کروائی گئی جبکہ ”دعائے شفا اجتماع“ کے اختتام پر آنے والے پریشان حال اسلامی بھائیوں کو تعویذاتِ عطاریہ دیئے گئے نیز اُن کے مسائل کے حل اور روحانی علاج کے لیے استخارہ بھی کیا گیا۔

اس موقع پر حاضرین کو بالخصوص دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع و ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں شرکت کی ترغیب دلائی گئی اور قافلوں میں سفر کرنے کی دعوت دی گئی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)

شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت جامع مسجد نورِ مدینہ اروپ ٹاؤن، گوجرانوالہ میں 3 دن پر مشتمل (21، 22 اور 23 اگست 2026ء کو) روحانی علاج کورس کا انعقاد کیا گیا جس میں گوجرانوالہ ڈویژن کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اسلامی بھائیوں نے شرکت کی۔

کورس کے دوران شعبہ روحانی علاج کے معلم محمد عاطف عطاری نے مختلف اہم موضوعات پر شرکا کی رہنمائی کی جس میں انہوں نے تعویذات لکھنے کے طریقۂ کار، دم کرنے و کاٹ کرنے کے طریقوں اور اس سلسلے میں ضروری احتیاطوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے علاوہ معلم محمد عاطف عطاری نے شرکا کو شعبے کی نئی اپڈیٹس سے بھی آگاہ کیا۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے شعبہ امام مساجد کے تحت 23 ستمبر 2026ء کو بعد نمازِ ظہر مدنی مرکز فیضانِ مدینہ اپر چھتر مظفرآباد کشمیرمیں ”ائمہ و خطبا کورس“ کا اہتمام کیا گیا۔

اس کورس میں دارالافتاءاہلسنت کے مفتی محمد نوید چشتی عطاری مدنی نے ائمہ کرام و خطبا حضرات کی تربیت و رہنمائی کرتے ہوئے انہیں معاشرے میں دینی و اخلاقی اقدار کو عام کرنے، حسنِ اخلاق و ملنساری اپنانے اور نمازیوں کی انفرادی کوشش کے ذریعے تربیت و اصلاح کرنے کے حوالے سے اہم نکات پر توجہ دلائی۔

اس کورس میں علاقے کے مختلف ائمہ صاحبان، شعبہ امام مساجد کے صوبائی و ڈویژن ذمہ داران، ڈویژن نگران میرپور کشمیر اور دیگر اہم تنظیمی ذمہ داران نے شرکت کی۔(رپورٹ:مولانا محمد عابد عطاری مدنی معاون رکن شوری حاجی محمد عقیل عطاری مدنی ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)