19 ستمبر 2026ء بمطابق 07 ربیع الآخر 1448ھ
کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے عاشقانِ رسول کی ایک بڑی
تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور
بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم میں نعت شریف پیش کر کے کیا گیا جس کے بعد سوال و جواب کا
سلسلہ شروع ہوا نیز شرکا نے مختلف دینی، شرعی اور تنظیمی موضوعات پر سوالات پیش کیے۔
مدنی مذاکرے کے دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ
رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد
فرمائے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے شرکا کی دینی، اخلاقی
اور تنظیمی تربیت کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے بھی نوازا۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: حضور غوث ِاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بہت زیادہ اللہ پاک کا ذِکر کرنے
والے،راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والے اور اچھی صفات اور عادات والے تھے ،ہم ان صفات و عادات کو کیسے اپنا سکتے ہیں ؟
جواب: دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیں گے، مکتبۃ
المدینہ سے نیک اعمال کا رسالہ لے کراس کے مطابق زندگی گزاریں گے، روزانہ
اپنے اعمال کا جائزہ لے کر اپنے ہاں کے نیک اعمال ذمہ دار کو ہر مہینے کی پہلی
تاریخ کو نیک اعمال کا رسالہ جمع کرواتے رہیں گے تو اچھی اچھی عادات اور نیکیوں کا
جذبہ اپنے اندر پائیں گے ۔ ان شاء اللہ
الکریم
سوال: فیضان آن لائن
اکیڈمی میں بذریعہ انٹرنیٹ پڑھنے والے اپنے استاد (Teacher) سے دُور ہوتے
ہیں، وہ اپنے استاد کا ادب کس طرح کر سکتے ہیں؟
جواب: اُستادصاحب جو اچھی اچھی باتیں بتائیں ،ان پر عمل
کریں،اُن کی غیر موجودگی میں بھی مذاق نہ اُڑائیں اور نہ ہی کسی طرح کی بے ادبی کریں ۔کسی سے استادصاحب کی بُرائی نہ کریں ، اگر استاد صاحب
کی کوئی بات پسند نہ آئے تو کسی سے بھی اس
کا تذکرہ نہ کریں،بہت ساری باتیں وقت کے ساتھ سمجھ میں آتی ہیں ، ادب کے ساتھ استاد کے سامنے صرف ہاتھ
باندھنا ہی ادب نہیں اور بھی صورتیں
ہیں،جتنا ادب کریں گے اُتنا زیادہ فائدہ ہو گیا ۔با ادب بانصیب ۔
سوال: دعوتِ اسلامی
کا معنی ٰ کیا ہے ؟
جواب: دعوت معنی
بُلانا ،دعوتِ اسلامی کا
معنی ہے اسلام کی طرف بُلانا،اسلام کے اصولوں کی طرف، عبادات اور اسلامی آداب کی طرف بلانا، دعوت دینا سب اس
میں شامل ہے ۔ عملی طور پر دعوتِ اسلامی کے معنی سمجھ آ بھی رہے ہیں ،ہزاروں غیر
مسلم دعوتِ اسلامی کی برکت سے مسلمان ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے نمازی، نمازی بن گئے ہیں ،بے شمار بھٹکے ہوئے راہِ راست پر
آگئے ہیں،گناہوں سے توبہ کرکےنیکیوں کے راستے پرچل پڑے ہیں ۔یوں دعوتِ اسلامی اِسْمِ بَامُسَمٰی ہے(یعنی جیسااس دِینی تنظیم کا نام ہے،دعوتِ اسلامی والے اِسی طرح دینی کام کر بھی رہے
ہیں) مدنی چینل پر بھی اورآپ کے اپنے علاقوں میں
بھی نظر آ جاتا ہو گا کہ ماشاءاللہ الکریم
دعوتِ اسلامی والے اسلام پر عمل کر رہے
ہوتے ہیں ۔
سوال: خوداعتمادی(Self-confidence) اور تکبر کے درمیان
کیافرق ہے؟ تربیت کے دوران بچوں کو تکبر سے بچاتے ہوئے خود اعتمادی اپنانا کیسے سکھایا جائے؟
جواب: خود
اعتمادی (Self-confidence) کا مطلب یہ
ہے کہ اپنے آپ پر اتنا اعتماد ہونا کہ مَیں یہ کام کر سکتا ہوں،جوکر نے والا کام ہو وہ کر سکتا ہو تو ڈرے نہیں ۔یہ سمجھنا کہ مَیں یہ کام کر ہی نہیں سکتا،
والدین یا دیگر لوگوں کا کہنا کہ تم یہ کام کر ہی نہیں سکتے، بعض استاد بھی نادانی
میں کہتے ہوں گے جس سے بچہ احساس ِکمتری(Inferiority Complex) کا شکار ہو جاتا ہو گا
کہ مَیں تو نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک کے بھروسے پر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کی
جائے، جو کرنے والے کام ہیں ،جو وہ کر سکتا ہے ،اس سے پیچھے نہ ہٹے اور بھر پور
کوشش کرے اور بھرو سہ اللہ پاک پر اور اس کی مدد پر رکھے ۔تکبر تو باطنی امراض میں
سے ایک خطرناک مرض ہے اور عام ہے۔ تکبر کا معنیٰ ہے
کسی کو اپنے آپ سے گھٹیا(کمتر)سمجھنا۔خود اعتمادی اور تکبر دونوں الگ چیزیں ہیں ۔
سوال:ختمِ قادریہ شریف
مختلف کتابوں میں الگ الگ انداز سے لکھا ہو تا ہے، اس میں ہمیں کیسے معلوم ہو کہ کون
سا درست ہے ؟
جواب: ان میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو تو سبھی درست ہیں ۔یہ
بزرگوں سے چلا آ رہا ہے ۔کسی مُستند عالم
کی کتاب میں لکھا ہو تو اس پر عمل کریں ۔مکتبۃ المدینہ کی کتاب مدنی
پنج سورہ میں بھی ختمِ
قادریہ لکھا ہوا ہے۔اس کی کئی برکتیں ہیں ۔اچھے عقیدے اور اللہ پاک کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے اس کو پڑھنے سے بندے کے کام
بن جاتے ہیں ۔
سوال: UK میں 3دن
کا اجتماع ہو رہا ہے ،شرکائے اجتماع کو کچھ مدنی پھول عطا فرما دیں ؟
جواب: ہرحال میں نماز کی پابندی کریں ،نمازوں میں بہت سُستی پائی
جاتی ہے ۔ نماز نہیں آتی تو سیکھنی ہے ،اَب تو بہت آسانیاں ہو گئی ہیں ۔آن لائن
سیکھ سکتے ہیں ۔قرآن پاک بھی سیکھنا بہت ضروری ہے
،دنیا کی کئی ڈِگریاں تو حاصل کر لی جائیں مگر قرآن ِپاک دیکھ کر بھی نہ پڑھنا آئے
تو یہ بدنصیبی ہے ۔اللہ پاک نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔دولت اور
ڈِگریاں جمع کرنا منع نہیں ہے مگر جو بھی کر نا ہے جائز و حلال طریقے سے اور
اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے تحت کرنا ہے ۔ ہم اللہ پاک کی نافرمانی کے لیے دنیا میں نہیں آئے ۔جو اللہ پاک کی نافرمانی کر رہے ہیں ،ربّ کی ناراضی کی صورت میں ان کا انجام اچھا نہیں ہے
۔جتنا ہمارے اختیار میں ہے، نیکیاں کرنی ہیں گناہوں سے تو بچنا ہی بچنا ہے ،اگر
کوئی گناہ کر رہا ہے تو فوراً اس سے توبہ کرنی اور مکمل چھوڑنا ہے۔ یہ نہیں کہ
گناہ آہستہ آہستہ چھوڑوں گا ۔نیکیاں کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے تو ہم اچھے
مسلمان رہیں گے ۔اللہ کریم کے اولیائے
کرام مثلاً حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد آج کل ہم منا رہے ہیں ،یہ کہیں کے بادشاہ نہیں تھے مگر ہمارے دل کے
بادشاہ ہیں ،آج بھی ان کی عقیدت ہمارے دل میں ہے، مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ
انہوں نے اللہ پاک کی فرمانبرداری کی تو آج بھی ہم ان کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔اپنے
اخلاق کو بھی اچھا کرنا ہے ۔اجتماع کے بعد قافلوں میں بھی سفر کریں ،3 دن کے قافلے
میں تو سفر ضرور کریں ۔
سوال: موت کو کس طرح
یاد کیا جائے ؟
جواب: مثال کے طور پر
ایک ماہی گیر(یعنی مچھلیاں
پکڑنے والے/Fisherman)نے رسی کے ساتھ
ایک کانٹا دریا میں ڈالا تو اسے ایک مچھلی نے نگل لیا ،ماہی گیر جس وقت چاہے اسے
دریا سے نکال لے گا۔ اسی طرح ہم میں سے ہر ایک نے موت
کا کانٹا نگل لیا ہے ۔یہ رسی کسی
اور کے ہاتھ میں ہے، جس دن وہ رسی کھینچے گا ،ہم دھڑام سے گِریں گے اور قبر میں جا
پڑیں گے ۔اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ،ہمیں ہر وہ کام کرنے کی توفیق عطا
فرمائے جو اللہ کریم کو راضی کرنے والا ہو۔
سوال: اِس ہفتے
کارِسالہ ”بے
ادبی کی سزا
‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی
؟
دعوتِ اسلامی کے شعبہ فلکیات کے مطابق سورج سال
میں دو مرتبہ (21 مارچ اور 23 ستمبر) کو شمال اور جنوب کے درمیان یعنی خطِ استواء (Equator) پر آتا ہے۔ لہٰذا ان دو ایام میں نجومی اعتبار سے دنیا بھر میں دن اور رات بالکل برابر
ہوتے ہیں یعنی 12 گھنٹے کا دن اور 12 گھنٹے
کی رات ہوتی ہے۔
شعبہ فلکیات کی تفصیلات کے مطابق:
٭سورج 6 ماہ (21 مارچ سے 23 ستمبر تک) شمالی دنیا
میں رہتا ہے۔ اس دوران پاکستان سمیت شمالی دنیا میں دن بڑے، راتیں چھوٹی اور گرمی
کا موسم ہوتا ہے۔
٭جب سورج 6 ماہ (23 ستمبر
سے 21 مارچ تک) جنوبی دنیا میں
جاتا ہے، تو اس وقت جنوبی دنیا کے دن بڑے، راتیں چھوٹی اور گرمی کا موسم ہوتا ہے۔(رپورٹ: شعبہ فلکیات دعوتِ اسلامی، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
دکھیاری امت کی خیرخواہی کا جذبہ رکھنے والے دعوتِ
اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے زیرِ اہتمام مدنی مرکز فیضانِ مدینہ انصاری چوک
ملتان، پنجاب میں 3 دن کا ”روحانی علاج کورس“ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
ہو گیا۔
تفصیلی معلومات کے مطابق یہ کورس 26، 27 اور 28
ستمبر 2026ء کو منعقد کیا گیا تھا جس میں
شعبہ روحانی علاج کے معلم محمد شبیر عطاری نے شرکت کرنے والے اسلامی بھائیوں کی
مختلف اہم موضوعات پر رہنمائی کی۔
دکھیاری امت کی خیرخواہی کا جذبہ رکھنے والے دعوتِ
اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے زیرِ اہتمام مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ڈیرہ غازی خان
میں 3 دن پر مشتمل ”روحانی علاج کورس“ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔
معلومات کے مطابق یہ کورس 26، 27 اور 28 ستمبر
2026ء کو منعقد کیا گیا تھا جس میں شعبہ
روحانی علاج کے معلم انور سعید عطاری نے شرکت کرنے والے اسلامی بھائیوں کی مختلف
اہم موضوعات پر رہنمائی کی۔
کورس کے دوران معلم انور سعید عطاری نے خصوصاً
تعویذات لکھنے کے طریقۂ کار، دم کرنے / کاٹ کرنے کے طریقوں سمیت ضروری احتیاطوں
پر روشنی ڈالی جبکہ شعبہ روحانی علاج کی نئی اپڈیٹس سے متعلق بھی اہم گفتگو کی۔اس
3 دن کے کورس میں ڈی جی خان ڈویژن کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اسلامی
بھائیوں نے شرکت کی ۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر
، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
اوکاڑہ کی گیلانی والی مسجد ، سندھی محلہ میں ”دعائے
شفا اجتماع“ کا انعقاد
دعوتِ اسلامی کے شعبہ روحانی علاج کے تحت اوکاڑہ
میں واقع گیلانی والی مسجد (سندھی محلہ گلی نمبر 2 نزد سرور
چوک) میں ”دعائے شفا اجتماع“
کا انعقاد کیا گیا جس میں اہل محلہ اور مقامی دوکانداروں نے شرکت کی ۔
تفصیلات کے مطابق 8 ستمبر 2026ء کو منعقد ہونے
والے اس اجتماع کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعت خوانی سے کیا گیاجس کے
بعد شعبے کے صوبائی ذمہ دار مولانا محمد انیس عطاری مدنی نے ”دعا کی فضیلت“
کے موضوع پر بیان کیا اور حاضرین کو دعوتِ اسلامی کے دینی و فلاحی کاموں میں عملی
طور پر حصہ لینے کی ترغیب دلائی۔
بیان کے بعد باجماعت نمازِ حاجات ادا کی گئی اور
اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا جبکہ دعا
کے اختتام پر اجتماع میں آنے والے پریشان حال اسلامی بھائیوں کے مسائل کے حل اور
روحانی علاج کے لیے استخارہ کیا گیا نیز تعویذاتِ عطاریہ بھی تقسیم کیے گئے۔
اس موقع پر تمام اسلامی بھائیوں کو بالخصوص
دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع، ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں باقاعدگی سے شرکت کرنے
اور قافلوں میں سفر کرنے کی دعوت پیش کی گئی جس پر حاضرین نے اچھی اچھی نیتوں کا اظہار کیا۔ (رپورٹ: سمیر علی عطاری اسسٹنٹ منیجر ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
امیرِ اہلِ سنت کے ساتھ حج و عمرہ کی سعادت پانے
والوں کے لیے 3 دن کے اجتماع کا انعقاد
شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ
اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ کے ساتھ
حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والوں کے لیے دعوتِ اسلامی کے شعبہ محبتیں بڑھاؤ کے
تحت 3 دن کا سنتوں بھرا اجتماع منعقد کیا
جا رہا ہے۔
مختلف
ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ اجتماع 8، 9 اور 10 اکتوبر 2026ء کو (ان
شاء اللہ الکریم) بروز جمعرات بعد
نمازِ ظہر سے ہفتے تک عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ، کراچی میں منعقد ہوگا۔
اس اجتماعِ پاک میں ”چل مدینہ“ ہونے کے
ثبوت فراہم کرنے والے عاشقانِ رسول امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے
ملاقات کا ٹوکن حاصل کر سکیں گے۔
نوٹ: جن کے پاس امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی یادگار تحریر موجود
ہو، وہ ساتھ لائیں اور دیگر عاشقانِ رسول کے ہمراہ وقت کی پابندی کے ساتھ شرکت فرمائیں۔
پیارے
آقاومولاحضرت محمد مصطفی ﷺ کی مہاجرین سے محبت بے مثال تھی۔آپ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کر
کے آنے والے بے گھر اور مظلوم صحابہ کرام کو مدینہ میں اپنایا۔ ان کے زخموں پر
مرہم رکھا انہیں اپنے اہل خانہ جیسا پیار دیا اور معاشی استحکام کے لیے انصار کے
ساتھ ان کا بھائی چارہ کروایا۔ آپ ﷺ کی مہاجرین سے محبت کے چند نمایاں پہلو درج
ذیل ہیں:
رشتہ
اخوت کا قیام: ہجرت
کے بعد مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ نے انصار مہاجرین کے درمیان (مواخات) بھائی چارہ قائم
کی۔ہر مہاجر کو اپنے انصار کا بھائی بنایا جنہوں نے اپنی جائیداد اور دولت میں
انہیں برابر کا شریک کیا۔
مالی
اور جذباتی کفالت: مہاجرین اپنا سب کچھ مکہ چھوڑ آئے تھے آپ ﷺ نے ان
کی بہترین نگہداشت فرمائی اور مختلف غزوات میں غنیمت کا مال سب سے پہلے مہاجرین کے
ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص فرمایا۔
خصوصی
دعائیں اور فضائل: حضور ﷺ مہاجرین کی قربانیوں کی بےحد قدر فرماتے تھے
اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں فرماتے تھے۔
مقام
قربت: مدینے
میں آپ ﷺ نے مہاجرین کو اپنے سب سے زیادہ قریب رکھا کیونکہ انہوں نے دین کی خاطر
اپنا گھر کاروبار اور شہر سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے
قربان کر دیا تھا۔
قرآن مجید میں
مہاجرین سے حضور ﷺ کی شفقت محبت اور ان کی قربانیوں کے اعتراف کو مختلف مقامات پر
بیان کیا گیا ہے نیز اللہ پاک نے انصار مدینہ کو بھی حکم دیا کہ وہ مہاجرین سے
محبت کریں۔
حضور ﷺ کی
مہاجروں سے محبت اور ان کی تکریم کو واضح کرنے والی آیت درج ذیل ہے:
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ
اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ
اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
یعنی مال
غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کیے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی یہ مال ان فقیر
مہاجروں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اور ان کے گھروں اور
مالوں پر کفار مکہ نے قبضہ کر لیا اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کا فضل
یعنی آخرت کاثواب اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اپنی جان و مال سے دین کی حمایت میں
اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں وہی ایمان اور اخلاص میں سچے ہیں۔ (خازن،
4/248)
حضرت قتادہ
رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان مہاجرین نے گھر مال اور کنبے اللہ تعالیٰ اور نبی
کریم ﷺ کی محبت میں چھوڑ اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدتوں اور سختیوں کو
گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں۔ان کی حالتیں یہاں تک
پہنچی کہ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھتے تھے اور سردیوں میں کپڑا نہ ہونے کی
باعث گڑھوں اور غاروں میں گزارا کرتے تھے۔ (خازن، 4/248)
اسی طرح بہت
سی حدیث مبارکہ سے بھی حضور ﷺ کی مہاجرین سے محبت ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:فقراء
مہاجرین مالداروں سے 40 سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)
دوسری حدیث
میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر
لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن 500 برس کے برابر ہے۔ (ابوداود،
3/452، حدیث: 3000)
ہمارے نبی
حضرت محمد ﷺ کی صحابہ سے محبت بے مثال تھی بالخصوص مہاجرین سے محبت بے مثال تھی آپ
ﷺ صحابہ کے ساتھ دلجوئی فرماتے تھے آپ مہاجرین کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کی مدد
بھی فرماتے تھے آپ ﷺ مہاجرین کے ساتھ ہر طرح کا تعاون فرماتے جب مہاجرین ہجرت کرکے
مکہ سے مدینہ کی طرف آئے تو ان کے پاس مال و دولت نہ تھا اور آپ نے اس وقت ان کی
مالی مدد بھی فرمائی آپ ﷺ نے انصار و مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنایا۔
تو انصار نے
آدھی دولت اور جائیداد مہاجرین کے حوالے کردی آپ مہاجرین کے گھروں میں تشریف لے
جاتے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے آپ نے مہاجرین کے مصائب وآلام پر انہیں صبر
اور شکر کی تلقین فرمائی اور ان کے لیے خصوصی دعائیں کیں آپ ﷺ مہاجرین کو مجلس میں
اپنا قرب عطا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا کرتے تھے صحابہ کرام
رضی اللہ عنہم کی عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان کرنا اللہ تعالی کی سنت ہے تمام
مہاجرین صحابہ سے محبت کرنا کمال ایمان کی نشانی ہے آپ ﷺ نے انصار صحابہ کرام کو
مہاجرین صحابہ کرام کے ساتھ اخوت، محبت ایثار کا مظاہرہ کرنے کا حکم دیا مہاجر
صحابہ کرام اپنا سارا مال و دولت چھوڑ کر حضور ﷺ کی مدد کے لیے آئے تھے اور حضور ﷺ
کی مدد کرنا اللہ کے دین کی مدد کرنا ہے۔ اور ان کے اس عمل سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں
بھی دین کی خدمت کرنی چاہیے۔
اللہ پاک قرآن
پاک میں ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا
مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
حضرت عبد الله
بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقرا مہاجرین
مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے تنگدست
مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے
نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود،
3/452، حدیث: 3000)
اس سے ہمیں
سیکھنے کو یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں آپس میں مل جل کر رہنا چاہیے اور مصیبت میں
دوسروں کی مدد کرنی چاہیے جس طرح انصار و مہاجریں آپس میں مل جل کر رہتے تھے اور
وہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور دین پر عمل پیرا ہوتے والے تھے سب کچھ اللہ و
رسول پر فدا کرنے والے تھے۔
حضور اکرم ﷺ کی
محبت کا عالم تو کیا ہے ہر ذی شعور فرد سمجھ سکتا ہے۔تو پھر جو خوش نصیب آپکے سایہ
اقدس میں زندگی گزارتے ہونگے ان کے ساتھ محبت کا عالم کیا ہوگا صحابہ تو وہ خوش
نصیب ہستیاں ہیں۔جو ایمان کی حالت میں آپ کے دیدار سے مشرف ہوئے تو اس سلسلے میں
مہاجرین کے ساتھ محبت کی چند جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔
حضرت محمد ﷺ اپنے
صحابہ خصوصاً مہاجرین سے محبت اور ان کا باہمی تعلق اسلامی تاریخ میں ایک انتہائی
اہم اور روشن باب ہے۔ مہاجرین وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا
گھر، مال سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
حضور اکرم ﷺ مہاجرین
سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ اس محبت کا اندازہ آیات کریمہ اور احادیث نبوی ﷺ سے
بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ
قرآن مجید فرقان حمید میں مہاجرین کی فضیلت کو اس طرح بیان فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ
الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ
یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ
رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
ان کی فضیلت
کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقرا
مہاجرین مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)
دوسری حدیث
میں حضور نے فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم
مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن
پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)
ان احادیث و آیات
سے تو مہاجرین کی فضیلت معلوم ہوگئی۔اب دیگر واقعات بھی پڑھتے ہیں۔
1)مواخات
مدینہ: مدینہ
ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مہاجرین وانصار کے درمیان ایک مثالی رشتہ قائم کیا۔ ہر
مہاجر صحابی کو ایک انصاری صحابی کا دینی بھائی بنادیا۔
اس محبت کی
انتہا یہ تھی کہ انصار نے اپنے گھر اور جائیدادیں مہاجرین کے ساتھ خوشی خوشی بانٹ
لیے۔
2)بے
مثال قدر دانی: حضور
اکرم ﷺ مہاجرین کی قربانیوں کو بہت سراہتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اسلام میں ہجرت کا
ثواب اپنی جگہ بہت بلند ہے اور آپ اکثر ان کی تکالیف پر تسلی اور حوصلہ افزائی
فرماتے تھے۔
3)خاص
تعلق اور قربت: آپ
کی مجلس میں مہاجرین صحابہ کو ایک خاص قربت اور خاص مقام حاصل تھا۔ آپ ﷺ ان سے
انتہائی شفقت اورمحبت کا معاملہ فرماتے تھے۔
4)خصوصی
دعائیں: حضور
ﷺ نے مختلف مقامات پر ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔
ان تمام
واقعات کو پڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ حضور جان عالم ﷺ نے مہاجرین سے کس قدر محبت
فرمائی۔ ساتھ ہی ان کی فضیلت میں احادیث ارشاد فرمائیں۔یہاں تک کہ قرآن مجید فرقان
حمید میں مہاجرین کے فضائل ارشاد فرما دئیے گئے۔
جن صحابہ کرام
علیہم الرضوان نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی ان کو مہاجر صحابہ کہا جاتا ہے۔ ہجرت
کرنے والے صحابۂ کرام بڑی فضیلت والے ہیں کہ ان کے لئے بڑے اجر کا وعدہ ہے حضور ﷺ
نے ان کو بےحساب جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: کیا تم میری امت کے اس
گروہ کو جانتے ہو جوسب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا؟ میں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ اور
اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مہاجرین جنت
کے دروازے کے پاس آ کر اسے کھلوانا چاہیں گے تو جنت کے خازن ان سے کہیں گے: کیا آپ
سے حساب لے لیا گیا ہے؟ وہ کہیں گے:ہم سے کس چیز کا حساب لیا جائے گا حالانکہ اللہ
تعالیٰ کی راہ میں ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر تھیں حتّٰی کہ اسی حال میں ہمارا
انتقال ہو گیا۔ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں کہ ان کے لئے (جنت کا دروازہ) کھول دیاجائے
گا تو وہ دوسرے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے 40 سال تک جنت میں قیلولہ کریں
گے۔ (مستدرک، 2/387، حدیث: 2436) سبحان
اللہ
معلوم ہوا
مہاجر صحابہ کرام چالیس سال پہلے بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونگے
پیارے آقا ﷺ نے
پیارے مہاجر صحابہ کو ایک اور جگہ جنت کی خوشخبری سنائی فرمایا: اے تنگدست مہاجرین
کے گروہ!تمہیں بشارت ہو،قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن
پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452،
حديث: 3000)
ان کی شان میں
خود اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ
دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا
لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ
مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ
الثَّوَابِ(۱۹۵)
(پ 4، اٰل عمران: 195) ترجمہ: جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے
گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں ستایا گیا اورانہوں نے جہاد کیا اور
قتل کردیے گئے تو میں ضرور ان کے سب گناہ ان سے مٹا دوں گا اور ضرور انہیں ایسے
باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (یہ) اللہ کی بارگاہ سے اجر ہے
اور اللہ ہی کے پاس اچھا ثواب ہے۔
ہمارےپیارے
نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت بےمثال تھی بالخصوص
مہاجرین سے محبت بے مثال تھی۔
مہاجرین
صحابہ کرام کون ہیں؟ مہاجرین صحابہ کرام وہ پاک ہستیاں ہیں جنہوں نے
کلمہ طیبہ پڑھنے اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں ظلم ستم برداشت کیا اور پھر
اللہ و رسول کے حکم سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ یوں وہ اپنے گھر، مال، جائیدادیں
اور اپنے خاندان کو بھی اللہ و رسول کی رضا کے لئے چھو ڑ گئے۔ اسلام کے لئے ایسی
ایسی قربانیاں پیش کیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
آقا حضور جان
عالم ﷺ کی اپنے ان صحابہ کرم سے محبت کا انداز بھی نرالہ ہے، حضور سید عالم ﷺ مہاجرین
کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کی مدد بھی فرماتے۔ جب مہاجرین ہجرت کرکے مکہ پاک سے
مدینہ طیبہ کی طرف آئے تو ان کے پاس مال و دولت نہ تھا اور آپ ﷺ نے انصار و
مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔
انصاری صحابہ
کرم نے بھی قربانی و ایثار کی ایسی مثال قائم کی کہ تاریخ انسانی میں کہیں ایسی
مثال نہیں ملتی جیسا کہ انصار صحابہ کرم نے آدھی دولت اور جائیداد مہاجرین کے
حوالے کردیں یہاں تک کہ اگر کسی انصاری صحابی کے نکاح میں دو بیویاں تھی تو ان نے
ایک کو طلاق دی کہ اس کے مہاجر صحابی بھائی سے نکاح کر سکے اور اس کا گھر آباد ہو۔
آپ ﷺ مہاجرین
کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے آپ ﷺ نے مہاجرین کو
مصائب و مشکلات پر صبر و شکر کرنے کی تلقین فرمائی اور ان کے لیے خصوصی دعائیں
فرماتے۔
صحابہ کرام کی
عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان کرنا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سنت ہے۔ مہاجر
صحابہ کرام کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ
الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ
یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ
رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
یہاں پر ایک
غور طلب بات ہے کہ ان مہاجر صحابہ کرام میں ہمارے خلفائے راشدین بھی ہیں اللہ پاک
نے تو ان کی شان میں فرما یا کہ میرے محبوب کے یہ غلام اللہ پاک کا فضل چاہنے والے
اور سچے ہیں۔ پتا یہ چلا جو ان نفوس قدسیہ کے بارے میں اپنی زبانوں کو دراز کرتے
ہیں وہ اپنے ایمان کی خیر فرمائیں کیونکہ یہ تو قرآن پاک کی مخالفت کر رہے ہیں۔
حضرت عبد الله
بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقرا مہا جرین
مالداروں سےچالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
ایک مقام پر ارشاد
فرمایا: اے میرے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور
کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس
کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)
حضرت جابر سے
روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے
دیکھایا میرے دیکھنے والے کو دیکھا۔ (ترمذی، 5/461، حدیث: 3884)
ان سارے
واقعات سےپتا چلتا ہے اور ہمیں سیکھنے کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں آپس میں مل جل کر
رہنا چاہیے اور مسلمانوں میں ایک دوسروں کی مدد کرنی چاہیے جس طرح انصار و مہاجریں
آپس میں مل جل کر رہتے تھے اور وہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور دین پر عمل
پیرا ہونے والے تھے سب کچھ اللہ و رسول پر فدا کرنے والے تھے۔
حضور کی
مہاجرین سے محبت از بنت محمد عرفان، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
جب مکہ مکرمہ
میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم ﷺ
نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس موقع پر جو مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ آئے،
انہیں مہاجرین کہا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مہاجرین سے بے پناہ محبت فرمائی اور ان
کی ہر ممکن مدد کی۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس محبت کی واضح جھلک نظر آتی
ہے۔
مہاجرین
کا مقام قرآن کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مہاجرین
کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا
مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
حضور
ﷺ کی مہاجرین سے محبت کی جھلکیاں:
نبی کریم ﷺ کو
مہاجرین سے گہری محبت تھی۔ آپ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلا کام مہاجرین اور انصار
کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا کیا۔ اس عمل کو مؤاخات کہا جاتا ہے۔
مؤاخات
مدینہ: آپ
ﷺ نے مہاجرین کو انصار کے ساتھ بھائی بنایا تاکہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک
ہوں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی
مثال اس کی بہترین مثال ہے جہاں انصار نے اپنے مال تک مہاجرین کے لیے پیش کر دیئے۔یہ
عمل اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ مہاجرین کو کبھی تنہائی یا محرومی
کا احساس نہ ہو۔
نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے۔ (ابوداود، 3/7، حدیث:
2481)
ایک اور حدیث
میں فرمایا: اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا،
اور اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی کو اختیار
کروں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
یہ فرمان جہاں
انصار کے ساتھ حضور ﷺ کی محبت کا مظہر ہے وہیں مہاجرین کے لیے خصوصی شفقت بھی واضح
کرتا ہے۔
مہاجرین
کی کفالت اور مدد: حضور ﷺ مہاجرین کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے تھے۔
جو مہاجر غریب ہوتے، آپ ﷺ ان کے لیے بیت المال سے مدد فرماتے۔ اہل صفہ بھی انہی
مہاجرین میں سے تھے جن کے پاس نہ گھر تھا نہ مال اور حضور ﷺ خود ان کی خبر گیری
فرماتے تھے۔
مہاجرین
کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین: آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو بار بار مہاجرین
کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ
کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ)
کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہوگا۔ (ابوداود،
4/283، حدیث: 4658)
یہ تعلیم
مہاجرین کے مقام کو مزید واضح کرتی ہے۔
مہاجرین
کی قربانیاں: مہاجرین
نے اپنے گھربار جائیداد اور رشتہ دار سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر چھوڑ
دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیاں تاریخ
اسلام کا روشن باب ہیں۔
Dawateislami