قرآنِ مجید
میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ نہایت عقیدت اور عبرت انگیز انداز میں کیا گیا
ہے، اور آپ کو قرآن میں "ذوالنون" (مچھلی والے) کے لقب سے بھی پکارا گیا
ہے۔ آپ کا واقعہ صبر، توبہ اور اللہ کی رحمت کی بہترین مثال ہے،قرآنِ پاک کی کل 6
سورتوں (النساء، الانعام، یونس، الانبیاء، الصافات، اور القلم) میں آپ کا ذکر
مختلف حوالوں سے آیا ہے۔جیسا کہ :
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء: آیت نمبر 87 )
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء آیت نمبر : 88 )
فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ
یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اگایا۔ اور ہم نے
اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔ (سورۃ الانبیاء آیت نمبر
: 145 تا 148)
احادیث
مبارکہ :(1)کسی بندے کے لیے یہ کہنا لائق نہیں (یا جس نے یہ کہا) کہ میں یونس بن
متّٰی سے بہتر ہوں (تو اس نے جھوٹ کہا)۔( صحیح البخاری،جلد 4، صفحہ 160، حدیث نمبر
3395)
(2)مچھلی
والے (یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی تھی وہ ' لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ' ہے۔ کوئی بھی مسلمان مرد جب بھی
اپنے کسی معاملے کے لیے اس کے ذریعے دعا کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول
فرمائے گا"۔(جامع ترمذی ، جلد 05 ، صفحہ نمبر 529 ، حدیث نمبر 3505)
امام رازی
فرماتے ہیں کہ:اہلسنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ انبیاء کرام گناہوں سے معصوم ہوتے
ہیں۔ لہٰذا حضرت یونس علیہ السلام کا اپنی قوم کو چھوڑ کر جانا کوئی معصیت (گناہ)
نہیں تھا، بلکہ وہ ایک اجتہادی امر تھا جس میں انہوں نے سمجھا کہ اللہ کی طرف سے
عذاب کا وعدہ آ چکا ہے تو اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ نے ان پر جو سختی کی
(مچھلی کے پیٹ کی)، وہ سزا کے طور پر نہیں تھی بلکہ ان کے عالی مقام کے مطابق ایک
تنبیہ تھی"۔(تفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)،جلد 22، صفحہ نمبر 178سورۃ الانبیاء،
آیت نمبر 87 )
اعلی حضرت
فرماتے ہیں کہ :حضرت یونس علیہ السلام نے سمندر کی گہرائی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی
میں جو تسبیح فرمائی، وہ محض مصیبت سے نجات کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ وہ مقامِ
استغراق (اللہ کی ذات میں گم ہو جانا) تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا تھا
کہ وہ یونس کے لیے قید خانہ نہیں بلکہ جائے عبادت (مسجد) بنے۔ پس وہ تسبیح ایسی
قبول ہوئی کہ قیامت تک کے لیے ہر بے چین اور مصیبت زدہ مسلمان کے لیے جائے پناہ بن
گئی۔(ملفوظات اعلیحضرت ، جلد چہارم ، صفحہ نمبر 482)
Dawateislami